BN

آصف محمود



امریکہ پیچھے کیوں ہٹا؟


ٹرمپ کا آگ اگلتا لہجہ اتنا متوازن کیسے ہو گیا اور امریکہ نے جوابی حملے کی بجائے اقوال زریں سنانے پر اکتفا کیسے کر لیا؟ کیا یہ جنگ پر آمادہ ایران کی قوت تھی جس نے امریکہ کو پسپا کر دیا ؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ٹرمپ کی افتاد طبع پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کا تدبر غالب آ گیا ہے تو اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ایران کی فوجی طاقت امریکہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اس وقت صدام حسین کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فوج تھی۔ اس کا جو
جمعه 10 جنوری 2020ء

امریکہ رے امریکہ ! تیری کون سی کل سیدھی؟

منگل 07 جنوری 2020ء
آصف محمود
ایران امریکہ تنازع کی بڑھتی حدت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پڑھے تو رچرڈ ریویز یاد آگئے، نیویارک یونیورسٹی سکول آف لاء کے ڈین نے کہا تھا:’’ہم امریکی اپنی رہنمائی کے حوالے سے بے ہودہ اور واہیات باتیں علی الاعلان کرتے ہیں‘‘۔اسی سفاک رویے کی شرح بیان کرتے ہوئے ولیم بلم نے اپنی کتاب’’ کلنگ ہوپس،یو ایس ملٹری اینڈ سی آئی اے انٹر ونشنز سنس ورلڈ وار ٹو‘‘میں لکھا :’’بات یہ نہیں ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اس لیے بے رحم ہے کیونکہ اس کی قیادت بے رحم ہے۔معاملہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما اس لیے بے رحم
مزید پڑھیے


کیا ایران اور امریکہ میں جنگ ہو سکتی ہے؟

اتوار 05 جنوری 2020ء
آصف محمود
کیا ایران اور امریکہ میں جنگ ہو سکتی ہے؟ چند سال قبل میرے مطابق اس کا جواب نفی میں تھا، آج اس سوال کا جواب ’’ ہاں ‘‘ ہے۔ جن عوامل نے امریکہ کو اس تصادم سے روک رکھا تھا ،ان میں اب وہ شدت نہیں رہی کہ امریکہ کو کسی مہم جوئی سے روک سکیں۔ایران کے جس ممکنہ اقدام سے امریکہ خائف ہوا کرتا تھا اب ہو سکتا ہے امریکہ خود یہ چاہتا ہو ایران وہ قدم اٹھا ہی لے۔طاقت کا توازن ہی نہیں ، پورا منظر نامہ بدل چکا ہے اور انتہائی خوفناک طوفان خطے کی طرف بڑھ
مزید پڑھیے


امریکہ، برادران اسلام اور امت

هفته 04 جنوری 2020ء
آصف محمود
ایرانی جنرل قاسم سلمانی امریکی حملے میں جاں بحق ہو گئے ، بہت افسوس ہوا لیکن دریچہ دل پر ایک سوال نے بھی دستک دی ۔ سوال یہ ہے کہ قاسم سلمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟ امریکہ کی ایک تاریخ ہے ۔اس تاریخ کے ورق ورق سے لہو ٹپک رہا ہے۔ معلوم انسانی تاریخ کے سارے فاتحین کے ہاتھوں تاراج بستیوں کے مقتولین ایک طرف رکھ دیں تب بھی مریکہ کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔امریکہ مغرب کے جمہوری نظام کے بارے اقبال کے اس شعر کی شرح ہے کہ ’’ چہرہ روشن اندروں چنگیز
مزید پڑھیے


یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی؟

جمعه 03 جنوری 2020ء
آصف محمود
اگر آپ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ 2019 ء میں آپ کتنی لائبریریوں میں گئے ، وہاں کتنے گھنٹے گزارے اور اس پورے سال میں آپ نے کتنی کتب کا مطالعہ کیا تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ افتخار عارف جیسے اسیر عشق نے کہا تھا: عجب گھڑی تھی، کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی۔ برادرم احمد اعجاز نے ایک دن پوچھا : کچھ سمجھ آئی افتخار عارف کیا کہہ گئے ہیں؟کچھ سوال پر غور کیا ، تھوڑا شعر پر ، دن ڈھل چکا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ جنگل ہٹ پر شام
مزید پڑھیے




کیا ہم صرف اپنے حصے کے بے وقوف بن سکتے ہیں؟

جمعرات 02 جنوری 2020ء
آصف محمود
کیا آپ کے بچے یا بہن بھائی سکول جاتے ہیں؟جواب ’’ ہاں‘‘ میں ہے تو آئیے چند سوالات پر غور کرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کیا وہ سرکاری سکول میں جاتے ہیں یا پرائیویٹ سکول میں؟ جو مڈل کلاس سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے اس میں سے شاید ہی کسی کا بچہ یا بھائی بہن سرکاری سکول میں جاتے ہوں۔ اب آپ سوچ کر بتائیے سرکاری سکول کی بجائے آپ نے پرائیویٹ سکول کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں داخلے مکمل ہو چکے تھے اور آپ کے بچوں کو وہاں داخلہ
مزید پڑھیے


کیا ہم ایلو پیتھک کا نشہ کر رہے ہیں؟

منگل 31 دسمبر 2019ء
آصف محمود
اسلام آباد میں نہیں ، اب کے جاڑے کی یہ رت دلوں میں اتری ہے۔ خزاں نے مارگلہ کے جنگل کو اور حسین کر دیا ہے۔پت جھڑ کے اس موسم میں ندی کنارے ٹریل فائیو کی پگڈندی پر بکھرے خشک پتوں پر چلتے جائیے ، یہ راستہ فی کس سپرنگ سے آگے پرستانوں کو جاتا ہے۔لوٹتے لوٹتے اس شام کچھ دیر ہو گئی اور سردی سے سر بوجھل سا ہو گیا۔ گھر آ کر لحاف میں گھسا ہی تھا کہ فون بج اٹھا۔غلام علی خان صاحب کی کال تھی، کیسے ہو؟ کہا: ’’ تھوڑی سردی ذرا سا نزلہ ہے‘‘۔ کہنے
مزید پڑھیے


عزیز ہم وطنو ، مر جائو

اتوار 29 دسمبر 2019ء
آصف محمود
ہمارے ہاں بنیادی انسانی حقوق کے اقوال زریں اکثر سنائے جاتے ہیں لیکن اگر میں آپ سے کہوں پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں صحت موجود ہی نہیں اور تعلیم کا ادھورا سا ذکر ہے تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟آئین کی بالا دستی کی بات آپ یقینا کرتے ہوں گے لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آئین کے مطابق نہ مکمل تعلیم آپ کا بنیادی انسانی حق ہے نہ ہی صحت ۔کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جدید ریاست اور اس کے عوام کے درمیان تعلق کی اساس
مزید پڑھیے


کیا آپ نے اپنے بجلی کے بل کو کبھی دیکھا ہے؟

هفته 28 دسمبر 2019ء
آصف محمود
آپ سیاسی ، سفارتی ، تزویراتی اور معاشی امور پر ایک دوسرے کی رہنمائی فرما چکے ہوںتو ایک سادہ سے سوال کا جواب دیجیے۔ سوال یہ ہے کیا کبھی آپ نے اپنے بجلی کے بل کو دیکھا ہے؟کیا آپ کو کچھ خبر ہے اس بل میں بجلی کے استعمال کی قیمت کتنی ہے اور ٹیکس کتنے ہیں اور کیا آپ جانتے ہیں یہ کون کون سے ٹیکس ہیں جو آپ سے وصول کیے جا رہے ہیں؟ یہ ایک بل برادرم عون شیرازی نے شیئر کیا ہے اسی کو دیکھ لیتے ہیں۔یہ ایک غریب کے گھر کا بل ہے جس نے ایک
مزید پڑھیے


ارطغرل ۔۔۔۔ قومیت ، دین اور امت

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
آصف محمود
اب آئیے اس سوال کی جانب کہ ارطغرل میں دین کی بات کی گئی ہے یا ترک قومیت کی؟میرے خیال میں یہ دونوں کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جس میں توازن اپنے کمال پر موجود ہے ۔اس توازن کے حسن کو اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک مسلم سماج میں قومیت اور دین کے باب میں موجود عدم توازن کو نہ سمجھ لیا جائے۔ ایک طرف عرب دنیا ہے جس میں عرب قوم پرستی غالب رہی ہے ۔جمال عبدالناصر نے جب نعرہ لگایا ’’ العزۃ للعرب‘‘ یعنی عزت صرف عربوں کے لیے ہے تو یہ اسی قوم
مزید پڑھیے