BN

آصف محمود



کیا ہم بھی ’ ’یہودی سازش‘ ‘کر سکتے ہیں؟


گاہے یوں محسوس ہوتا ہے وطن عزیز کے تمام نیم خواندہ محققین کرام نے ’’ یہودی سازشوں‘‘ پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور اب ان کی باقی ماندہ زندگی کا مقصد یہی ہے کہ اس عظیم تحقیق کی روشنی میں فرزندان حق کو لمحہ لمحہ با خبر رکھیں کہ یہودی وطن عزیز میں کس وقت کون سی سازش کر رہے ہوتے ہیں۔ محققین کرام اپنی تحقیق کی روشنی میں ہر اینٹ کے نیچے سے دس پندرہ سازشیں ہر سہ پہر برآمد فرما کر داد طلب ہوتے ہیں اورصف نعلین میں کھڑا میرے جیسا طالب علم حیرت سے یہی سوچتا
جمعرات 07 نومبر 2019ء

محمود خان اچکزئی کس بات کا احتجاج کر رہے ہیں؟

اتوار 03 نومبر 2019ء
آصف محمود
عمران خان حکومت سے مایوسی اور بے زاری اپنی جگہ لیکن یہ کیسے مان لیا جائے کہ بزرگانِ سیاست جو آزادی مارچ لے کر اسلام آبادمیں پڑائو ڈالے ہیں یہ اب ہمارے مسیحا بن گئے ہیں؟ غلطی ہائے مضامیں کی تصویر بنے ان بزرگان کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ مولانا صاحب کے دائیں جانب محترم محمود خان اچکزئی کھڑے ہیں۔یہ بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف مولانا کے ساتھ ہیں۔یہ منظر دیکھا تو مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے : بدھو میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں گو مشت، خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں سالار ِ جمہوریت محمود
مزید پڑھیے


آزادی مارچ ۔۔۔۔۔کیا ہونے والا ہے؟

هفته 02 نومبر 2019ء
آصف محمود
مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اسلام آباد میں اتر چکا ۔ سوال یہ ہے اب آ گے کیا ہونے والا ہے؟ اس سول پر بات کرنے سے پہلے ایک وضاحت ضروری ہے کہ میرے پاس کبھی بھی ’’ اندر کی خبر‘‘ نہیں ۔خواہش کو خبر بنانے کی ہمت ہے نہ تمنا۔ اس لیے ’’ باخبر ذرائع‘‘ کے لشکروں سے بھی اپنی کوئی راو ہ رسم نہیں۔دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایک تجزیہ ہوتا ہے جو آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں اور اس تجزیے کی صحت پر پورے اعتماد کے باوجود اس میں غلطی کے امکان کی نفی نہیں کر
مزید پڑھیے


مولانا آ رہے ہیں

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
اٹھتی جوانیوں کے دن تھے جب نعرہ گونج رہا تھا: ظالمو! قاضی آ رہا ہے۔ طنطنے اور دبدبے والی وہ جماعت اسلامی تو ’’ صاحب فراش‘‘ ہو کر بستر سے جا لگی ہے اور اب اس کے ’’ غریب محترم‘‘ برائے وزنِ بیت جب بے وزن رجز پڑھتے ہیں تو کوئی بد مزہ بھی نہیں ہوتا ۔اب مولانا فضل الرحمن سراپا حتجاج ہیں اور سماج کی سماعتوں میںآج ایک نیا نعرہ رس گھول رہا ہے : مولانا آ رہا ہے۔میرے جیسے ایک عام شہری کے پیش نظر سوال یہ ہے کہ اقتدار کے حصول یا اقتدار کی تبدیلی کے لیے
مزید پڑھیے


آزادی مارچ ۔۔۔۔۔ایک سماجی مطالعہ

منگل 29 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
آزادی مارچ اس وقت ہماری سیاست کا عنوان بن چکا ہے ۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا اور بہت آنے والے دنوں میں لکھا جائے گا۔ تاہم یہ معاملہ محض سیاسی نہیں ، یہ ایک سماجی معاملہ بھی ہے ۔ بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ یہ معاملہ جوہری طور پر سیاسی ہے ہی نہیں ، یہ ایک سماجی معاملہ ہے۔ اگر چہ اس کا ظہور میدان ِ سیاست میں ہو رہا ہے۔ اس حکومت کا سب سے بڑا چیلنج معیشت ہے نہ امور خارجہ۔اس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے رویوں کا آتش فشاں ہے۔ معاشی
مزید پڑھیے




آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

پیر 28 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا کشمیر اب بھارت کا حصہ بن چکا ہے؟ دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ واردات بھارت نے 2019 ء میں ڈالی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس سوال کا جواب 68 سال پہلے 30 مارچ 1951 ء کو اور پھر نومبر 1956 ء کو دے دیا تھا اور نہایت ہی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ دے دیا تھا۔ یہ بات ہمیں سمجھ لینی چاہیے کہ آرٹیکل 370 کی شان نزول کیا تھی؟ یہ شیخ عبد اللہ کی کشمیر فروشی کی ایک معمولی سی
مزید پڑھیے


سانحہ ساہیوال

هفته 26 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
سانحہ ساہیوال کے ملزمان بری ہوئے تو جسٹس رستم کیانی یاد آئے۔جسٹس صاحب پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ایک روز انہوں نے فیصلہ دیا تو ایک بوڑھی اماں برہم ہو گئیں اور انہوں نے بھری عدالت میں کہہ دیا یہ عدالت نہیں ہے ،یہ انصاف نہیں ہے۔ جسٹس کیانی نے انہیں اپنے پاس بلوا بھیجا اور دکھی لہجے میں کہا ماں جی آپ سے کس نے کہا یہ عدالت ہے ، یہ تو کچہری ہے۔یہاں ہم انصاف دینے نہیںبیٹھے یہاں ہم فائل دیکھ کر فیصلے کرنے بیٹھے ہیں۔جسٹس کیانی کے اس ایک فقرے میں جہان معنی ہوشیدہ
مزید پڑھیے


کیا مولانا بھارتی ایجنٹ ہیں؟

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
کیا مولانا فضل الرحمن بھارتی ایجنٹ ہیں؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا بہت بڑی جسارت ہو گی ۔ مولانا نے ہمیشہ پارلیمانی سیاست کی ہے اوران کا سارا سیاسی سفر ایک کتاب کی طرح ہمارے سامنے رکھا ہے۔ان کا سیاسی بیانیہ اکثر ’’ تہتر کے آئین کے تناظر میں ‘‘ ظہور پذیر ہوتا رہا ، تشدد کی ہر شکل سے دور رہے ، انتہائی مشکل حالات میں اپنے وابستگان کو قومی سیاسی دھارے سے جوڑے رکھا اور پارلیمانی سیاست سے ان کی وابستگی کو ٹوٹنے نہ دیا۔ اب بھی اگر ان کی حب الوطنی پر کوئی
مزید پڑھیے


بڈھے بڈھے جرنیل اور کم سن مولانا

منگل 22 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
ننھے منے مولانا بڈھے بڈھے جرنیلوں پر برس پڑے تو نوح ناروی یاد آئے کہ ’’ ابھی کم سن ہیں ُ‘‘ بگڑ گئے تو کیا ہوا، عمر ہی ایسی ہے۔ لیکن گنجینہِ معنی کا طلسم کھلا تو معلوم ہوا نشانے پر امجد شعیب تھے ۔ منظر لکھنوی نے کہا تھا: کم سنی کیا کم ہے ، اس پر قہر ہے شکی مزاج۔کم سن مولانا نے الزام بھی لگایا تو کتنا نامعتبر؟ ’’ اسرائیل کے ٹکڑوں پر پلنے والے‘‘۔اس ملک میں کسی بھی شریف آدمی پر کیچڑ اچھال دینا کتنا آسان ہے ،جسے سیاسی عصبیت حاصل نہیں ، اس کے
مزید پڑھیے


کیا یہ پولیس ٹھیک ہو سکتی ہے؟

هفته 19 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
سادہ سا سوال ہے : کیا یہ پولیس ٹھیک ہو سکتی ہے ؟ جواب اس بھی سادہ ہے: ہر گز نہیں۔ یہ محض بد گمانی نہیں ، ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پولیس کا یہ ادارہ عوام دوستی ، جرائم کے خاتمے یا انصاف کی فراہمی کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔ اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ قانون کے لبادے میں ایک ایسی فورس تشکیل دی جائے جو ظلم و بربریت اور اپنے طریق واردات سے اس بات کو یقینی بنائے کہ سماج فرماں بردار غلام کی طرح رہنا سیکھ لے اور کسی میں سر اٹھانے کی
مزید پڑھیے