BN

آصف محمود


ارطغرل ۔۔ اسلام یا ترک قوم پرستی؟


ترک ڈرامے ارطغرل نے دلوں کے تار ہلا دیے ، اب نظروں میں کچھ جچتا ہی نہیں۔سوال مگر یہ ہے اس ڈرامے کا بنیادی مقصد کیا تھا ؟یہ ترک سماج کو سیکولرزم سے واپس اسلام کی جانب لانے کی ایک کوشش ہے یا یہ ترک قوم پرستی کا ایک ایسا ایڈ ونچر ہے جس کے مخاطب مسلمان معاشرے ہیں اور جس کا مقصد ان معاشروں کو لا شعوری طور پر یہ باور کرانا ہے کہ اسلام کی نشاہ ثانیہ کا ایک ہی راستہ ہے کہ عظیم روایات کی حامل ترک قوم کی قیادت قبول کر لی جائے؟اس ڈرامے کے شاہکار
منگل 24 دسمبر 2019ء

آئین شکنی ۔۔۔ ایک سماجی مطالعہ

هفته 21 دسمبر 2019ء
آصف محمود
تفصیلی فیصلہ اور اس پر رد عمل ،اکبر آباد کے میر صاحب یاد آ گئے: لکھتے ر قعہ، لکھے گئے دفتر شوق نے بات کیا بڑھائی ہے اصولی بحث اب پس منظر میں جا چکی ہے اور خلط مبحث پر دفتر لکھے جا رہے ہیں۔ اس لیے میں اس کے سماجی پہلو پر ایک رقعہ لکھنا چاہتا ہوں۔سوال یہ ہے معاشرہ آئین کے باب میں کتنا حساس ہے اور دستور کی حرمت کا تصور جو آئین میں تو پوری شدت کے ساتھ درج ہے کیا سماج میں بھی اسی طرح اپنا وجود رکھتا ہے؟یہ سوال ہتھیلی پر رکھ
مزید پڑھیے


پرویز مشرف کیس ۔۔۔ حکومت سادہ بہت ہے یا چالاک بہت؟

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
آصف محمود
پرویز مشرف کیس کا فیصلہ آ چکا ہے اور میرے جیسا طالب علم بیٹھا سوچ رہا ہے کہ وفاقی حکومت کہاں کھڑی ہے؟ اس کے معاملات طفلان ِ خود معاملہ کے ہاتھ آ گئے ہیں یا اس کے گر گ باراں دیدہ کمال چالاکی سے وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں؟حکومت نا اہل بہت ہے یا ہشیار بہت؟ پاکستان کی تاریخ میں اتنی کنفیوزڈ حکومت شاید ہی کبھی آئی ہو جسے خود معلوم نہ ہو اس کی سمت کیا ہے اور اس نے کرنا کیا ہے۔ہائی ٹریزن ایکٹ 1973ء کے مطابق آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ قائم کرنے کا
مزید پڑھیے


او آئی سی ، عرب لیگ اور عجم لیگ

منگل 17 دسمبر 2019ء
آصف محمود
او آئی سی کی موجودگی میں اگر عرب لیگ کام کر سکتی ہے تو عجم لیگ کیوں نہیں بن سکتی؟ یہ سوال میں کسی امر واقع یا کوالالمپور کانفرنس کی بنیاد پر نہیں اٹھا رہا ، اسے اسلامی فقہ کے ’’ اہل الرائے‘‘ کی علمی روایت کی اتباع کی ایک کوشش سمجھا جائے۔ ممالک جب الائنس بناتے ہیں تو اس کے مختلف عوامل ہوتے ہیں ۔مذہب ان میں سے ایک عامل ضرور ہے لیکن وہ واحد عامل نہیں۔ علاقائی مفادات ، تزویراتی مفادات اور معاشی ترجیحات بھی صف بندی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔اقوام عالم مل جاتی ہیں تو
مزید پڑھیے


طفیل الرحمن ہاشمی ۔۔۔کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے

هفته 14 دسمبر 2019ء
آصف محمود
رات مری میں برف اترتی رہی ، صبح سفیدی اوڑھے وادی کے سحر میں کھویا تھا کہ خبر ملی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایک طالب علم کا قتل ہو گیا ہے۔برفزار کا رنگ گویا سرخ ہو گیا اور دل لہو سے بھر گیا۔سید طفیل الرحمن ہاشمی ، کیا خوبصورت نوجوان تھا۔ میں زندگی سے بھر پور اس جوان رعنا کی ہنستی مسکراتی تصویر کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔ دور کہیں برفزاروں میں اس کی ماں کی آنکھوں میں کتنے ہی سپنے ہوں گے اور باپ کے کتنے ہی ارمان ہوں گے جو اس خوبصورت وجود کے ساتھ دفن
مزید پڑھیے



وکلاء ڈاکٹر تصادم۔۔۔۔ایک سماجی مطالعہ

جمعه 13 دسمبر 2019ء
آصف محمود
کیا قانون دانوںمیںسے ڈیڑھ دو درجن بزرگ بھی ایسے نہ تھے جو کہہ اٹھتے وکلاء نے ظلم کیا ہے اور کیا ڈاکٹرز میں سے نصف درجن پروفیسرزبھی ایسے نہیں جونوجوان ڈاکٹرز کو سمجھاتے کہ اپنے اخلاقی وجود کو تھامو ، تم مسیحائی کے منصب سے گرتے جا رہے ہو؟فریقین کو تو چھوڑیے سماج کا رد عمل دیکھ لیجیے ، غیض و غضب میں بھری آوازیں ، اتنی ہی نامعقول ، اتنی ہی غیر متوازن ، اتنی ہی ناشائستہ۔پورے طبقے کو گالی، سارے شعبے کو دشنام۔اس معاشرے کو ہوکیا گیا ہے؟ کیا اسے کسی شیطان نے چھو لیا ہے کہ گلی
مزید پڑھیے


بی آر ٹی ۔۔۔جنوں تبدیلیِ موسم کا تقریروں کی حد تک ہے

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
آصف محمود
بی آر ٹی کے طلسم ہوش ربا کی حقیقت کیا ہے؟ یہ محض ستائیس کلومیٹر کی ایک سڑک ہے یا یہ پرستانوں کو جاتی کوئی کہکشاں ہے جہاں کسی آدم زاد کا گزر نہیں اور پورے چاند کی راتوں میں جہاں پری بدیع الجمال اپنی سہیلیوں کے ساتھ اترتی ہے ،وادی پشاور کے اس حیرت کدے کو دیکھ کر قہقہے لگاتی ہے اور پھر ملکہ پربت کے اس پار سیف الملوک کو خبر دینے چلی جاتی ہے کہ اے آدم زاد!برفزاروں سے اتر کر ذرا اس حیرت کدے کو تو دیکھ، بائولا ہو جائے گا؟اب تو اس پری وش کا
مزید پڑھیے


نظریاتی بحث فکری عیاشی کے سوا کچھ نہیں

منگل 10 دسمبر 2019ء
آصف محمود
نظریاتی بحثیں اب دنیا میں غیر متعلق ہوتی جا رہی ہیں۔ہمارے جیسے فکری اور معاشی طور پر پسماندہ معاشروں میں مگر آج بھی یہ کاروبار عروج پر ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ آج کا نوجوان جس چاند ماری کو نظریہ سمجھتا ہے یہ چند اہل ہنر کی فکری عیاشی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک زمانہ تھا ، میں نے بھی ان مباحث میں پوری قوت سے شرکت کی تھی لیکن میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ساری بحث فکری افلاس ، شعوری پسماندگی اور استحصال کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہمارا اصل مسئلہ کچھ اور ہے ،
مزید پڑھیے


مراعات کا کورم کیوں نہیں ٹوٹتا؟

اتوار 08 دسمبر 2019ء
آصف محمود
قومی اسمبلی میں آئے روز کورم ٹوٹ جاتا ہے ، سوال یہ ہے کہ معزز اراکین اسمبلی کی مراعات کا کورم کیوں نہیں ٹوٹتا؟عرفان ستار نے کہا تھا : رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا ، بے بسی کے لیے ایک تازہ غزل۔ہمیں تو شعر کہنا بھی نہیں آتا ، ہم میر صاحب ہی کو یاد کر سکتے ہیں: ’’روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی روزگا ر ہے اپنا ‘ــ‘ کیا آپ کو معلوم ہے معاشی بحران سے دوچار یہ غریب قوم اپنے اراکین قومی اسمبلی کی
مزید پڑھیے


قومی اسمبلی کی کارکردگی کیا ہے؟

هفته 07 دسمبر 2019ء
آصف محمود
یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ قومی اسمبلی کے ، جہاں بہت سے نہ بکنے والے ، نہ جھکنے والے ، کردار کے غازی اور بے داغ ماضی اکٹھے تشریف فرما ہوتے ہیں ، ایک دن کے اجلاس پر اوسطا اس غریب قوم کو چار سو لاکھ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے اتنے بھاری رقم خرچ کرنے کے بعد کیا کوئی ایسا فورم موجود ہے جہاں عوام یہ سوال پوچھ سکیں اے نیک بختو ! اتنے پیسے برباد کرنے کے بعد ذرا بتائو تو سہی تمہاری کارکردگی کیا ہے؟ آج بھی ، جب میں
مزید پڑھیے