BN

اثر چوہان


’’تیز گاؔم، فضل اُلرحمن صاحب / تیز گامؔ ایکسپریس‘‘


معزز قارئین!۔ گام ؔ ۔ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں ’’ پائوں،ؔ قدمؔ اور وہ مسافت ؔجو چلنے میں دونوں پائوں کے درمیان رہے۔ لگامؔ کو بھی گام ؔ ہی کہتے ہیں اور سُست رفتار گھوڑے کو بھی ‘‘ ۔ ’’ تیز گام ‘‘ کے معنی ہیں ’’ جلدی جلدی قدم اُٹھانے والا‘‘۔ انگریزی لفظ "March" کے معنی ہیں ’’ نپی تُلی فوجی چال سے چلنا‘‘۔ فضل اُلرحمن صاحب کے بزرگ انگریزی زبان سے سخت نفرت کرتے رہے ہیں لیکن، 28 جولائی 2019ء کو کوئٹہ میں (بقول اُن کے ) اُنہوں نے اپنی جمعیت عُلماء
هفته 02 نومبر 2019ء

فضل اُلرحمن صاحب کا طبلِ ؔجنگ اور "Toll Tax"

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ آخری اطلاعات آنے تک امیر جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ ؔکے شُرکاء نے 28 اکتوبر کی شب پنجاب کے تاریخی شہر ’’ مدینۃ اُلاولیاء ‘‘ ۔ملتان میں پڑائو ڈال دِیا تھا ۔ اُستاد شاعر حضرت داغ ؔدہلوی کے دَر پر بھی ، اُن کے یارو ںنے پڑائو ڈالا تھا تو، اُنہوں نے نہ جانے کسے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ مجھ کو وحشی سمجھ کے ، یاروںؔ نے ! میرے در پر، پڑائو، ڈال دِیا! خبر کے مطابق ’’شُرکائے آزادی مارچ ‘‘ نے ملتان میں بہاولپور کے "Bypass" کے
مزید پڑھیے


دوستوں کی یادیں ؔاور پاکستان میں چراغاںؔ!

منگل 29 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ یوں تو، میرے مرحوم دوست ، تحریک ِ پاکستان کے کارکن ، مرزا شجاع اُلدّین بیگ کی سالگرہ اُن کے بیٹے، چیئرمین "P.E.M.R.A" پروفیسر ، مرزا محمد سلیم بیگ لاہور میں اپنی والدہ صاحبہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ مناتے ہیں لیکن، مَیں بھی کبھی کبھی لاہور اور اسلام آباد میں محمد سلیم بیگ کی موجودگی میں ، اپنے مُخلص دوست کی سالگرہ منا لیتا ہُوں ۔تین دِن قبل لاہور میں میرے ڈیرے پر یہی اہتمام تھا۔ جہاں دوستوں نے ، قائداعظمؒ کے بچے کھچے پاکستان میں تحریک پاکستان کے مخالفین ’’ کانگریسی مولویت کی باقیات‘‘
مزید پڑھیے


"Containerization of The Politics?"

پیر 28 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
26 اکتوبر کو اسلام آباد میں دو (پاکستانی) افغان لیڈروں، وزیر دفاع پاکستان جناب پرویز خٹک اور ’’ جمعیت عُلماء اسلام‘‘ (فضل اُلرحمن گروپ) کے اکرم درانی صاحب نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے کہا کہ ’’31 اکتوبر ،کو آزادی ماؔرچ (کا) احتجاج اسلام آباد "Red Zone" اور "D-Chowk" میں نہیں ہوگا۔ بلکہ ’’اتوار بازاؔر۔ پشاور موؔڑ‘‘ پر ہوگا۔ مَیں اِسے ’’راضی نامہ ‘‘ ہی کہوں گا ، ’’ مُک مُکا‘‘ ہر گز نہیں کہوں گا!۔ اگر یہ ’’ راضی نامہ‘‘ واقعی خلوص دِل سے ہُوا ہے تو اِس کا خیر مقدم کیوں نہ کِیا جائے؟
مزید پڑھیے


تحریک ِ آزادؔی کشمیر اور بے وفا پاؔکستانی سیاستدان؟

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
4 اکتوبر کو ، برادرِ عزیز سیّد ارشاد احمد عارف نے اپنے کالم ’’ طلوع‘‘ میں ، امیر جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ ) کی طرف سے 27 اکتوبر کو ( آج کے دِن) اسلام آباد تک آزادی مارچ کے فیصلے/ اعلان پر تنقید کرتے ہُوئے لکھا تھا کہ’’27 اکتوبر تو وہ منحوس دِن ہے جب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کے راجا ہری سنگھ نے کشمیری عوام ، سے غداری کرتے ہُوئے جعلی دستاویز پر دستخط کئے اور بھارت نے اپنی فوج بھیج کر ریاست پر قبضہ کرلِیا۔ اِسی لئے ہر سال 27 اکتوبر کو
مزید پڑھیے



’’27 اکتوبر 1958ء ۔ اُلّو ۔ ؔرات کے شہبازؔ؟‘‘

هفته 26 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ آج 26 اکتوبر ہے ۔ کل 27 اکتوبر ہوگا ، جب آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان سمیت دُنیا بھر میں آباد کشمیری اور پاکستانی فرزندان و دُختران ، حسب ِروایت ’’مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر ‘‘پر بھارت کے قبضے کی یاد سوگ اور احتجاج کے طور پر یوم سیاہ منائیں گے ۔ اِس موضوع پر کل بات کریں گے، لیکن، آج مَیں پختہ عُمر کے پاکستانیوں کی یاددہانی اور نئی نسل کی آگاہی کے لئے 27 اکتوبر 1958ء کا تذکرہ کروں گا اور اُس سے پہلے 7اکتوبر 1958ء کا ۔ 7 اکتوبر 1958ء کو
مزید پڑھیے


نواز شریفؔ، زرداریؔ صاحبان!"Health is Wealth"

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
اردو زبان کی ایک ضرب اُلمِثل کے مطابق ’’ جان ہے تو جہان ہے ، ’’ یعنی اگر رُوحِ زندگی ہے تو ، دُنیا کا سب کچھ ہے ۔ اُستاد شاعر میر تقی میر ؔنے نہ جانے اپنے کس پیارےؔ کو مخاطب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ … مِیرعَمد اً بھی ، کوئی مرتا ہے؟ جان ؔ ہے تو، جہانؔ ہے پیارے! معزز قارئین!۔ موت برحق ہے ۔ ہر اِنسان کو ( ہر جاندار کو بھی ) ایک نہ ایک دِن مرنا ہوتا ہے لیکن، مرزا اسد اللہ خان غالبؔ نے شاید اپنے دَور کے مُغل (شاعر) بادشاہ بہادر شاہ ظفر
مزید پڑھیے


بی اماؔںؒ، مادرِ ؔملّت ؒ، مادرِ جمہورؔیت اور آپی جی ؔ!‘‘

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
آج 23 اکتوبر ہے ۔ آج سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ، بیگم نصرت بھٹو کی آٹھویں برسی ہے۔ 23 اکتوبر 2011ء کو جب دُبئی میں علیل ؔبیگم نصرت بھٹو کا انتقال ہُوا تھا تو، اُن کے پاس ’’ پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ کا عہدہ ؔنہیں تھا اور نہ ہی پارٹی کا کوئی عہدیداؔر؟۔ 23 اکتوبر2015ء کو بھٹو مرحوم کے ’’روحانی فرزند‘‘ ۔ آصف علی زرداری ، صدرِ پاکستان تھے اور اُنہوں نے بیگم نصرت بھٹو کی چوتھی برسی پر اپنی خوش دامنؔ کو ’’مادرِ جمہوریت‘‘ کا خطاب دِیا تھا۔ معزز قارئین!۔ مؤرخین کے مطابق چھٹی صدی قبل از مسیح یونان
مزید پڑھیے


’’بارگاہِ بری سرؔکارؒ میں اور متفرقاؔت ِ اسلام آباد!‘‘

منگل 22 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ لاہور میں میرے والدین اور بڑی بیگم اختر بانو چوہان کی قبریں ہیں اور اسلام آباد میں چھوٹی بیگم نجمہ اثر چوہان کی ۔ اِس لحاظ سے مَیں سالہا سال سے لاہور میں حضرت داتا گنج بخش سیّد علی ہجویریؒ اور اسلام آباد میں سیّد شاہ عبداُللطیف کاظمی ، قادریؒ کی کفالت میں زندگی بسر کر رہا ہُوں ۔ تین روز پہلے مَیں نے اپنی بیٹی عاصمہ ، اُس کے شوہر معظم ریاض چودھری اور بیٹے علی امام کے ساتھ اسلام آباد میں سیکٹر "H-8" کے قبرستان میں نجمہ اثر چوہان کی قبر پر حاضری دِی تو،
مزید پڑھیے


’’آزادی مارؔچ میں ، قائداعظمؒ زندہؔ باد کا نعرہ؟‘‘

پیر 21 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ مجھے نہیں معلوم کہ امیر جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ) کی قیادت میں( ضرب اُلمِثل کے مطابق) آزادیؔ مارچ کا اونٹؔ کس کروٹ بیٹھے گا؟۔ وضعداری کے تقاضے کے تحت فضل اُلرحمن صاحب نے اپنی جمعیت کے دوسرے لیڈروں عبداُلغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود اور امجد خان صاحبان کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ ( ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات میں فضل اُلرحمن صاحب نے اپنی یہ شرط دُہرائی ہے کہ ’’ (عمران خان کی ) حکومت پہلے مستعفی ہو ، ہم پھر مذاکرات کریں گے!‘‘۔ 20 اکتوبر
مزید پڑھیے