BN

احسان الرحمٰن


’’کھلی چھوٹ ‘‘


یہ دو فروری 2002ء کا سرد دن تھاجب رحیم یار خان کے نواحی علاقے بستی رانجھے خان میں تہرے قتل کی اندوہناک واردات ہوئی ،تھانے میں درج رپورٹ کے مطابق چار سگے بھائیوں نے غیرت کے نام پراپنی بہن سلمیٰ اور ہمسائے کے پڑوسی عبدالقادراور اسکے بیٹے کو قتل کر دیا تھا،تہرے قتل کا واقعہ چھوٹا تو نہ تھاپھر ایسے واقعات میں ملزمان بھاگتے بھی کم ہی ہیں اس لئے پولیس کو ملزمان کی گرفتار ی میں زیادہ تگ و دو نہ کرنی پڑی ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی مقدمہ چلنے لگا معاملہ تہر ے قتل کا تھا
منگل 07 جولائی 2020ء

عہد منور

پیر 29 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
منظرکسی شادی کی تقریب کا تھا ،لوگ صاف ستھرے اجلے معطر لباس میں ترتیب سے لگی کرسیوں پر بیٹھے تھے نکاح کا آغاز ہوا چاہتا تھا کہ ایک پاٹ دار آواز گونجی ’’ٹھہریئے گا مولوی صاحب!‘‘ سب کی نظریں یک دم اس آواز کے ماخذ ایک دبلے پتلے لڑکے پر مرکوز ہوگئیں ،کھلتا ہوا گندمی رنگ ،کھڑے ناک نقشے پتلے پتلے ہونٹ بیضوی چہرے پر نرم رواں گواہی دے رہی تھیں کہ ابھی حال ہی میں لڑکپن کی سرحد عبور کی گئی ہے ۔ ’’یہ شادی نہیں ہوسکتی ‘‘ اس نے گویا بم پھاڑ دیا، ایک ساتھ کئی آوازیں اٹھیں ہائیں
مزید پڑھیے


’’ شدھی تحریک۔۔ ایک او ر پاکستان‘‘

جمعرات 25 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
مجھے نہیںعلم کہ عبدالصمد بچ سکا ہوگا یااسکی نبض ڈوب چکی ہوگی شائدوہ بچ کر اسپتال میں اپنے گھاؤ بھرنے کا انتظار کررہا ہوجو اسے صرف اس بناپر لگے کہ اسکا نام رام سنگھ ہے اور نہ وہ مندر میںگھنٹے بجاتا ہے اورنہ ان کی طرح کسی دیوی دیوتا کی پو جا کرتا ہے اسکا دین دھرم الگ ہے وہ مسلمان ہے اور ’’غلطی‘‘ سے بھارت کاشہری ہے ، اس نوجوان کی ڈوبتی ہوئی نبض اور اکھڑتی سانسوں کے ساتھ دیئے گئے بیان کی وڈیو سوشل میڈیا پر چکراتی پھر رہی ہے وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا
مزید پڑھیے


’’اقوام متحدہ کی اندھیر نگری‘‘

پیر 22 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک ہڈحرام راجہ ہوا کرتا تھا ،اسکی نظررعایا کی فلاح کے بجائے ان کی جیبوں اور کھیتوں کھلیانوں پر ہوا کرتی تھی،راج نیتی اس سے ہوتی نہ تھی سارا دن موج مستیوں میں گزرتا اورپھر دربار میںسانڈ کی طرح پڑارہتا۔ وہ ریاست کا راجہ بھی تھا اور قاضی القضاۃ بھی پھر اسے انصاف کرنے کا ہیضہ بھی تھا اسی لئے لامحالہ تنازعات بھی اسکے علم میں لائے جاتے اور راجہ صاحب وہ انصاف کرتے کہ لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے ، راجہ جی کو عجیب قسم کے احکامات دینے کا بھی شوق تھا ایک دن
مزید پڑھیے


’’ووہانی لاک ڈاؤن اور مختارا ‘‘

هفته 20 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
تین روز سے گھر کے کمرے میں مقید ہوں کوئی ملنے آتا ہے نہ میں آنے دیتاہوںتین وقت بیگم ہاتھوں میں حفاظتی دستانے اورمنہ پر ماسک لگائے ڈسپوزیبل برتنوں کے میں کھانا اور ناشتہ لے کر اس احتیاط سے آتی ہے کہ چھ فٹ سے کم کا فاصلہ حائل نہ ہو‘مجھے تیرہ جون کی صبح ٹوٹتے بدن اور ہلکے بخار کی جکڑ نے احساس دلادیا تھا کہ مختاریا گل ودھ گئی اے ۔۔۔ لیکن میں نے خود کو تسلی دی کہ رات یخ پانی پینے کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ہے اور بخار کا سبب بھی وہی یخ بستہ
مزید پڑھیے



’’قبائلی منتظر ہیں …‘‘

جمعرات 18 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
منا ن خان کے لہجے میں اداسیاں بول رہی تھیں اوراسکی آنکھیں بھر آئی تھیں وہ کہنے لگا’’ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہہ ہمیں اس طرح دربد ر ہونا پڑے گا … آپ یقین نہیں کرو گے کہ یہ سامنے جتنا بڑا ہوٹل ہے ناں اس سے بڑا توہمارا مہمان خانہ تھا ‘‘۔ اسلام آباد میں رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والا چوبیس سالہ منان خان شمالی وزیرستان کا رہنے والا اور دو بیٹیوں کا باپ ہے چھ برس قبل وہ اٹھارہ برس کا کڑیل جوان اور تین ماہ کا دولہا تھا جب اسے اس حالت میں
مزید پڑھیے


عسکری قیادت کا سرپرائز دورۂ کابل

هفته 13 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
25دسمبر 2015ء کے دن کابل ائیرپورٹ پر لینڈکرنے والے بھارتی ترنگے کے رنگوں میں رنگی وی وی آئی پی بوئنگ طیارے کی دم بتا رہی تھی کہ اس میں کوئی اہم شخصیت ہی سوار ہوسکتی ہے مشاق ہوا باز نے طیارے کو آہستہ ہستہ نیچے لانا شروع کیا پھرکچھ ہی دیر میں بوئنگ 747کابل ائیرپورٹ کے رن وے پر لینڈ کرکے رک چکا تھا ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مسکراتے ہوئے برآمد ہوچکے تھے ، کرسمس کے دن مودی کا یہ ایک روزہ غیر اعلانیہ دورہ تھا، انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کی اس نئی بلڈنگ پر پہنچادیا
مزید پڑھیے


ایسے ہوتے ہیں حکمران، یہ ہوتا ہے احتساب

پیر 08 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
اسے دربار نہیں کہا جاسکتا کہ دربار تو بادشاہوں کے ہوتے ہیں اور وہ بادشاہ ہی تو نہ تھا بادشاہ ہوتا تو بھری مجلس میں کوئی کھڑا ہو کر اس کے اثاثے کی بابت سوال پوچھنے کی جرأت کرتا؟وہ ہمدرد غم گسار عادل اور خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے والا حاکم تھا اور اسکی حکومت ایک دو شہروں کی تک کی نہ تھی وہ بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم تھا اور حاکم بھی ایسا کہ ایک بار مسجد میں کھانا کھاتے ہوئے کسی اجنبی مسافر کو ساتھ شریک کیا جوکھانے میں رکھے گھی کے برتن
مزید پڑھیے


’’کہیں سے تو آغاز ہو‘‘

جمعه 05 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
میرے سامنے اسکرین پر چیختی چنگھاڑتی مریم اورنگزیب صاحبہ ہیں جن کے منہ سے اک بس جھاگ نہیں اڑ رہی مجھے اپنا بچپن یاد آگیا جب کبھی سہ پہر میں گھر کے آنگن میں اسکول کا کام کرتے ہوئے مداری کی ڈگڈگی کی آواز سنائی دیتی اور میں بھاگ کر باہر پہنچتا تومیلے لباس میں پکے رنگ والا مداری ریچھ کی رسی تھامے تماشے کی تیاری کر رہا ہوتا اس کے ساتھ عموما ایک چھوٹا بچہ بھی ہوتا تھا جو بیک وقت اسکا شاگرد معاون اور خزانچی بھی ہوتاتھا اس کا کام کرتب سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسکی
مزید پڑھیے


آگ کا کھیل ۔۔۔

اتوار 31 مئی 2020ء
احسان الرحمٰن
لشکریوں میں وہ سفید ریش بوڑھا بھی تھا جو بھی اسے دیکھتا احترام سے پیش آتا اورتعظیم دیتا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی معززاور اہم شخص ہے وہ اسکے آرام کا حتی المقدور خیال رکھ رہے تھے لیکن سفر تو سفر ہوتا ہے ان تکالیف کی وجہ سے ہی وہ اسے ساتھ لے جانے کے میں ہچکچا رہے تھے راستہ طویل اور مہم خطرناک تھی ۔سفری صعوبتوں کا تقاضہ تھا کہ لشکر میںشامل افراد تنومند اور صحت مند ہوں لیکن یہ سفید ریش انصاری بھلا کس طرح رک سکتا تھا اس نے آقائے نامدارﷺ کا یہ قول سن رکھا
مزید پڑھیے