BN

احسان الرحمٰن


’’کلین چٹ‘‘


پاکستان میں انٹیلی جنس سے وابستہ دو ہی افراد کووہ افسانوی شہرت ملی ہے جو شائد ہی کسی فلم اسٹار کے حصے میں بھی آئی ہو ایک تو جنرل حمید گل مرحوم تھے جن کے بارے میں آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اگر ہم موحد نہ ہوتے تواس وقت حمید گل صاحب کا بت پوج رہے ہوتے اور دوسرے سرخ و سپید چہرے والے پنج پیر کے فربہی مائل میجرعامر ہیں جو کبھی کاکول سے چھریرے بدن پر کلف لگی کڑک وردی اور چمکتے جوتوں کے ساتھ نکلے تھے لیکن کپتانی میں انہیں اپنی وردی
هفته 01  اگست 2020ء

’’پڑی لکڑی ‘‘

پیر 27 جولائی 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ دس اگست1999ء کادن تھاگھڑی کی سوئیاں سوا نوبجا ر رہی تھیں جب پاکستان نیوی کے فرانسیسی ساختہ طیارہ بریگیٹ نے پاک نیوی کے مہران ائیربیس سے اڑان بھری ،طیار ے میں پانچ افسر سمیت سولہ اہلکار سوار تھے ،یہ ایک معمول کی تربیتی مشق تھی ،یہ طیارہ سمندر پر آسمان کی وسعتوں بھارتی سرحد کے قریب لیکن اپنی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے دو لڑاکا جیٹ طیارے تیزی سے پرواز کرتے ہوئے اسکے قریب آئے ان طیاروں کے عزائم جارحانہ تھے لڑاکا جیٹ طیاروں میں سوار بھارتی ائیرفورس کے ہوا بازوںنے اپنے ائیر
مزید پڑھیے


بھارتی میڈیا کی منافقت

جمعه 24 جولائی 2020ء
احسان الرحمٰن
آج کل بڑے دنوں کے بعد بھارتی اور انٹرنیشنل میڈیا نے جماعت الدعوۃکے سربراہ حافظ محمد سعید کو ہیڈلائینز میں لے رکھا ہے اپنی گرفتاری سے پہلے حافظ صاحب ہر دوسرے تیسرے دن بھارتی میڈیا کی ہیڈلائینز میں ہوتے تھے اور یہ معمول کی بات تھی بھارتی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ پروپیگنڈہ آئی ایس آئی اور حافظ محمد سعیدہی کے عنوان سے ہوتا رہا ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد یہ سلسلہ قدرے تھم گیااور پڑوس کے میڈیا کی سب توپوں کا رخ پاکستانی حساس اداروں کی طرف ہوگیا۔دہلی کی جامع مسجد کے باہرکوئی پٹاخہ
مزید پڑھیے


’’کل بھوشن اور حسن اتفاق‘‘

پیر 20 جولائی 2020ء
احسان الرحمٰن
سمجھ نہیں آرہاکہ کل بھوشن جادیو کے لئے ہم اتنے جذباتی اور حساس کیوں ہو رہے ہیں ؟ کیا وہ گیارہ سال کالڑکا ہے جو بسنت میں پتنگیں لوٹتے لوٹتے غلطی سے سرحد پار کر بیٹھا یا وہ سرحدی گاؤں کے کسی اسکول میں پڑھنے والا نوبرس کا بچہ ہے جو کسی خوش رنگ تتلی کے تعاقب میں دوملکوںکے بیچ بچھی تقسیم کی لکیر عبور کر بیٹھا اور اب جیل میں دیوار سے ٹیک لگائے سر نیہوڑے روئے جارہا ہے ۔۔۔کل بھوشن اگرکوئی سادھو سنت ہوتا اور مہا بھارت پڑھ کر شری کٹاس راج مندر دیکھنے کی آشا سے بیکل
مزید پڑھیے


’’بانجھ مٹی ‘‘

جمعرات 16 جولائی 2020ء
احسان الرحمٰن
مجھے ترکی میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا احساس وہی ہوا جواستنبول کے خوبصورت شہر پرفضا میںمنڈلاتے ہوئے کسی بھی طیارے کے مسافر کو ہوتا ہوگا۔آبنائے باسفورس کنارے آباد مسلمانوں کے عظمت رفتہ کی داستان سنانے والے اس شہر میں اترنے سے پہلے ہی دل میںترکوں کی ترکی سے قابل رشک محبت اتر جاتی ہے۔طیارہ لینڈنگ کے لئے جھکائی دیتا نہیں کہ آبنائے باسفورس کے شفاف پانیوں پرمتحرک سرخ نقطے دیکھنے لگتے ہیں۔ اتاترک ائیرپورٹ سے باہر آتے ہی یہ سرخ نقطے چاند ستارے والے ترکی کا پرچم بن جاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی شاہراہ کوئی چوراہا اور کوئی
مزید پڑھیے



’’ وہ سری نگر کی اذاں ‘‘

پیر 13 جولائی 2020ء
احسان الرحمٰن
ایسے پراگندہ ماحول میں کون ان سینہ فگارنوجوانوں کو یاد کرے گا اور کون اس اذان کا ذکر کرے گا جس کی تکمیل کے لئے ایک د و نہیں بائیس زندگیاں وار دی گئیں ،ایک نے شفاف آسما ن تلے رب کبریا کی بڑائی بیان کرنے کے لئے اللہ اکبر کی صدا بلند کی دوسری طرف سے دھائیں کی آواز سے گولی چلی اوراذان دینے والے کا سینہ چھلنی کرگئی لیکن دوسرا سرپھرا کھڑا ہوگیاپہلے نے جہاں سے اذان چھوڑی تھی وہیں سے شروع کی پھر دھائیں دھائیں کی خوفناک آواز سے گولیاں چلیں اور یہ نوجوان بھی حق اداکر
مزید پڑھیے


’’کھلی چھوٹ ‘‘

منگل 07 جولائی 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ دو فروری 2002ء کا سرد دن تھاجب رحیم یار خان کے نواحی علاقے بستی رانجھے خان میں تہرے قتل کی اندوہناک واردات ہوئی ،تھانے میں درج رپورٹ کے مطابق چار سگے بھائیوں نے غیرت کے نام پراپنی بہن سلمیٰ اور ہمسائے کے پڑوسی عبدالقادراور اسکے بیٹے کو قتل کر دیا تھا،تہرے قتل کا واقعہ چھوٹا تو نہ تھاپھر ایسے واقعات میں ملزمان بھاگتے بھی کم ہی ہیں اس لئے پولیس کو ملزمان کی گرفتار ی میں زیادہ تگ و دو نہ کرنی پڑی ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی مقدمہ چلنے لگا معاملہ تہر ے قتل کا تھا
مزید پڑھیے


عہد منور

پیر 29 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
منظرکسی شادی کی تقریب کا تھا ،لوگ صاف ستھرے اجلے معطر لباس میں ترتیب سے لگی کرسیوں پر بیٹھے تھے نکاح کا آغاز ہوا چاہتا تھا کہ ایک پاٹ دار آواز گونجی ’’ٹھہریئے گا مولوی صاحب!‘‘ سب کی نظریں یک دم اس آواز کے ماخذ ایک دبلے پتلے لڑکے پر مرکوز ہوگئیں ،کھلتا ہوا گندمی رنگ ،کھڑے ناک نقشے پتلے پتلے ہونٹ بیضوی چہرے پر نرم رواں گواہی دے رہی تھیں کہ ابھی حال ہی میں لڑکپن کی سرحد عبور کی گئی ہے ۔ ’’یہ شادی نہیں ہوسکتی ‘‘ اس نے گویا بم پھاڑ دیا، ایک ساتھ کئی آوازیں اٹھیں ہائیں
مزید پڑھیے


’’ شدھی تحریک۔۔ ایک او ر پاکستان‘‘

جمعرات 25 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
مجھے نہیںعلم کہ عبدالصمد بچ سکا ہوگا یااسکی نبض ڈوب چکی ہوگی شائدوہ بچ کر اسپتال میں اپنے گھاؤ بھرنے کا انتظار کررہا ہوجو اسے صرف اس بناپر لگے کہ اسکا نام رام سنگھ ہے اور نہ وہ مندر میںگھنٹے بجاتا ہے اورنہ ان کی طرح کسی دیوی دیوتا کی پو جا کرتا ہے اسکا دین دھرم الگ ہے وہ مسلمان ہے اور ’’غلطی‘‘ سے بھارت کاشہری ہے ، اس نوجوان کی ڈوبتی ہوئی نبض اور اکھڑتی سانسوں کے ساتھ دیئے گئے بیان کی وڈیو سوشل میڈیا پر چکراتی پھر رہی ہے وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا
مزید پڑھیے


’’اقوام متحدہ کی اندھیر نگری‘‘

پیر 22 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک ہڈحرام راجہ ہوا کرتا تھا ،اسکی نظررعایا کی فلاح کے بجائے ان کی جیبوں اور کھیتوں کھلیانوں پر ہوا کرتی تھی،راج نیتی اس سے ہوتی نہ تھی سارا دن موج مستیوں میں گزرتا اورپھر دربار میںسانڈ کی طرح پڑارہتا۔ وہ ریاست کا راجہ بھی تھا اور قاضی القضاۃ بھی پھر اسے انصاف کرنے کا ہیضہ بھی تھا اسی لئے لامحالہ تنازعات بھی اسکے علم میں لائے جاتے اور راجہ صاحب وہ انصاف کرتے کہ لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے ، راجہ جی کو عجیب قسم کے احکامات دینے کا بھی شوق تھا ایک دن
مزید پڑھیے