BN

احسان الرحمٰن


’’ووہانی لاک ڈاؤن اور مختارا ‘‘


تین روز سے گھر کے کمرے میں مقید ہوں کوئی ملنے آتا ہے نہ میں آنے دیتاہوںتین وقت بیگم ہاتھوں میں حفاظتی دستانے اورمنہ پر ماسک لگائے ڈسپوزیبل برتنوں کے میں کھانا اور ناشتہ لے کر اس احتیاط سے آتی ہے کہ چھ فٹ سے کم کا فاصلہ حائل نہ ہو‘مجھے تیرہ جون کی صبح ٹوٹتے بدن اور ہلکے بخار کی جکڑ نے احساس دلادیا تھا کہ مختاریا گل ودھ گئی اے ۔۔۔ لیکن میں نے خود کو تسلی دی کہ رات یخ پانی پینے کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ہے اور بخار کا سبب بھی وہی یخ بستہ
هفته 20 جون 2020ء

’’قبائلی منتظر ہیں …‘‘

جمعرات 18 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
منا ن خان کے لہجے میں اداسیاں بول رہی تھیں اوراسکی آنکھیں بھر آئی تھیں وہ کہنے لگا’’ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہہ ہمیں اس طرح دربد ر ہونا پڑے گا … آپ یقین نہیں کرو گے کہ یہ سامنے جتنا بڑا ہوٹل ہے ناں اس سے بڑا توہمارا مہمان خانہ تھا ‘‘۔ اسلام آباد میں رینٹ اے کار کا کاروبار کرنے والا چوبیس سالہ منان خان شمالی وزیرستان کا رہنے والا اور دو بیٹیوں کا باپ ہے چھ برس قبل وہ اٹھارہ برس کا کڑیل جوان اور تین ماہ کا دولہا تھا جب اسے اس حالت میں
مزید پڑھیے


عسکری قیادت کا سرپرائز دورۂ کابل

هفته 13 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
25دسمبر 2015ء کے دن کابل ائیرپورٹ پر لینڈکرنے والے بھارتی ترنگے کے رنگوں میں رنگی وی وی آئی پی بوئنگ طیارے کی دم بتا رہی تھی کہ اس میں کوئی اہم شخصیت ہی سوار ہوسکتی ہے مشاق ہوا باز نے طیارے کو آہستہ ہستہ نیچے لانا شروع کیا پھرکچھ ہی دیر میں بوئنگ 747کابل ائیرپورٹ کے رن وے پر لینڈ کرکے رک چکا تھا ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مسکراتے ہوئے برآمد ہوچکے تھے ، کرسمس کے دن مودی کا یہ ایک روزہ غیر اعلانیہ دورہ تھا، انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کی اس نئی بلڈنگ پر پہنچادیا
مزید پڑھیے


ایسے ہوتے ہیں حکمران، یہ ہوتا ہے احتساب

پیر 08 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
اسے دربار نہیں کہا جاسکتا کہ دربار تو بادشاہوں کے ہوتے ہیں اور وہ بادشاہ ہی تو نہ تھا بادشاہ ہوتا تو بھری مجلس میں کوئی کھڑا ہو کر اس کے اثاثے کی بابت سوال پوچھنے کی جرأت کرتا؟وہ ہمدرد غم گسار عادل اور خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے والا حاکم تھا اور اسکی حکومت ایک دو شہروں کی تک کی نہ تھی وہ بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم تھا اور حاکم بھی ایسا کہ ایک بار مسجد میں کھانا کھاتے ہوئے کسی اجنبی مسافر کو ساتھ شریک کیا جوکھانے میں رکھے گھی کے برتن
مزید پڑھیے


’’کہیں سے تو آغاز ہو‘‘

جمعه 05 جون 2020ء
احسان الرحمٰن
میرے سامنے اسکرین پر چیختی چنگھاڑتی مریم اورنگزیب صاحبہ ہیں جن کے منہ سے اک بس جھاگ نہیں اڑ رہی مجھے اپنا بچپن یاد آگیا جب کبھی سہ پہر میں گھر کے آنگن میں اسکول کا کام کرتے ہوئے مداری کی ڈگڈگی کی آواز سنائی دیتی اور میں بھاگ کر باہر پہنچتا تومیلے لباس میں پکے رنگ والا مداری ریچھ کی رسی تھامے تماشے کی تیاری کر رہا ہوتا اس کے ساتھ عموما ایک چھوٹا بچہ بھی ہوتا تھا جو بیک وقت اسکا شاگرد معاون اور خزانچی بھی ہوتاتھا اس کا کام کرتب سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسکی
مزید پڑھیے



آگ کا کھیل ۔۔۔

اتوار 31 مئی 2020ء
احسان الرحمٰن
لشکریوں میں وہ سفید ریش بوڑھا بھی تھا جو بھی اسے دیکھتا احترام سے پیش آتا اورتعظیم دیتا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی معززاور اہم شخص ہے وہ اسکے آرام کا حتی المقدور خیال رکھ رہے تھے لیکن سفر تو سفر ہوتا ہے ان تکالیف کی وجہ سے ہی وہ اسے ساتھ لے جانے کے میں ہچکچا رہے تھے راستہ طویل اور مہم خطرناک تھی ۔سفری صعوبتوں کا تقاضہ تھا کہ لشکر میںشامل افراد تنومند اور صحت مند ہوں لیکن یہ سفید ریش انصاری بھلا کس طرح رک سکتا تھا اس نے آقائے نامدارﷺ کا یہ قول سن رکھا
مزید پڑھیے


تر نوالہ مت بنیں

بدھ 27 مئی 2020ء
احسان الرحمٰن
انکل عبدالرحمٰن نے کبھی احتیاط کی نہ پرہیزکیااور ان کی یہی بے احتیاطی انہیں ہم سے دور لے گئی وہ پردیس میں وینٹیلیٹر پر مشینی سانسیں لیتے رہے اور ان کے بیٹے عاطف اور فرحان دیار غیر میں بے بسی سے بھل بھل اشک بہاتے رہے ،عبدالرحمٰن انکل رشتے میں میرے خالو اور گاؤں کے ڈاکٹر صاحب تھے ،وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹرتو نہیں تھے لیکن پیرا میڈیکل اسٹاف میں تھے کھانسی نزلہ بخار کا علاج کرلیا کرتے تھے ، کوہاٹ کے ٹانڈا ڈیم سے چندکلومیٹر کے فاصلے پر جبی گاؤں میں ان کی موجودگی کسی
مزید پڑھیے


’’اداس عیدیں ‘‘

اتوار 24 مئی 2020ء
احسان الرحمٰن
مصافحے نہ معانقے ۔۔۔فاصلوں سے منائی جانے والی عید بھی کیا عید ہوئی لیکن پھر بھی عید تو عید ہی ہے۔ فاصلوں سے ہی سہی ہم اپنے پیاروں کو دیکھ تو سکتے ہیں،دل سے قریب رہنے والوں کو وڈیو کال کے ذریعے قریب تو کرسکتے ہیں ،کوئی ماں ہے تو اپنے بوڑھے ہاتھ میں سیل فون کی اسکرین پر بیٹے بیٹی کو دیکھ تو سکتی ہے ،کوئی باپ ہے تو پردیس گئے بیٹے کولیپ ٹاپ کی اسکرین پر عید مبارک کہہ تو سکتا ہے ، بہن بھائی کال ملا کرایک دوسرے کو عید مبارک دے تو سکتے ہیں لیکن جو
مزید پڑھیے


’’بھدی آوازیں۔۔۔‘‘

بدھ 20 مئی 2020ء
احسان الرحمٰن
جب وطن عزیز میں کوئی ڈیم بنانے کی بات کرتا ہے تو میں چونک جاتا ہوں ،مجھے یہ آوازیں کوئل کی کوک اور پٹھانے خان کی پرسوزصحرائی لے سے زیادہ اپیل کرتی ہیں ،ہو سکتاہے کہ آپ کہیں گے کہ یہ کیا بدذوقی ہے لیکن بات ایسی ہی ہے کیوں کہ معاملہ ذوق کا نہیں اس پیاس کے روگ کا ہے جو ہمارا منتظر ہے زرا لہلاتے کھیتوں کی جگہ اڑتی ریت کا تصور کیجئے۔۔۔ خشک نہروں اور کیکٹس یا کیکر کی جھاڑیوں کو تخیل میں لائیں ۔۔۔ تصور تو کیجئے کہ آپ دوستوں میں بیٹھ کر دیسی گندم ،مکئی
مزید پڑھیے


’’چی گویرا کے مرید‘ ‘

اتوار 17 مئی 2020ء
احسان الرحمٰن
ترکی سے درآمد ہونے والے ’’ارطغل‘‘ نے مرچوں کا بھاؤ بڑھا دیا ہے وہ سیکولر ،لبرل دوست جو سر پر ترچھی سرخ ٹوپی جمائے گول گلے کی چی گویرا والی ٹی شرٹ پہنے مسلمانوں پر انتہا پسندی کی پھبتیاںکستے نہیں تھکتے وہ انتہاکی فصیل پر آستینیں چڑھائے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں ، ایک ترک ڈرامے نے ان کی تیوریوں پر بل ڈال دیئے ہیں وہ باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں کسی ’’چی گویرا‘‘ کے مرید کو اس میں میں کشت وخون نظر آرہا ہے او ر کسی کو ثقافت کی عزت تار تا ر ہونے کا خطرہ دکھائی دے
مزید پڑھیے