احسان الرحمٰن


’’حل صرف کرفیو ہے ‘‘


’’ہمارا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بڑے فیصلوں کے لئے بڑا وقت لیتے ہیں ۔۔۔اس وقت بھی بہت دیر کر رہے ہیں ‘‘ شیخ صاحب نے تشویش زدہ لہجے میں خدشات کا اظہار کئے بنا سارے خدشات ظاہر کئے اورلائن کاٹ دی ،شیخ صاحب کی ساری حیاتی وزارت خارجہ میں تھری پیس سوٹ پرٹائی نکٹائی لگا کر مہنگے سگریٹ پیتے ، الفاظ کا محتاط استعمال کرتے اپنا نکتہ نظر سمجھانے کے لئے دوسروں کا نکتہ نظر سمجھتے گزری ہے وہ شدت پسندی کی شدت سے مخالفت کرنے والے سخت گیر افسر کے طور پر جانے جاتے تھے ،انکی
پیر 30 مارچ 2020ء

80 لاکھ کشمیریوں کی آہوں کا نتیجہ

جمعه 27 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
الحمدللہ گھر میں سب کچھ ہی ہے،باورچی خانے میں دس پندرہ دن کا راشن موجود ہے جی چاہتا ہے کافی بنالیتا ہوں چائے کی طلب ہوتی ہے چائے بن جاتی ہے ، ریفریجریٹرمیں سبزیاں ،دودھ، دہی ،گوشت بھی رکھا ہے ،باہررات بھر بارش ہوتی رہی ہے۔ جاتے جاتے جاڑ ا پلٹ آیا ہے۔ لیکن مجھے صبح اپنے غلسخانے میں پانی گرم ملا ،اہلیہ نے رات کسی وقت گیزرچلا دیا تھا،میری خواب گاہ میں روشنی ذرا کم ہوتی ہے لیکن پریشانی نہیں کہ دیواروں سے لگے بجلی کے بلب ایک بٹن سے پورا کمرا روشن کر دیتے ہیں ،رات بچوں نے
مزید پڑھیے


’’وائرس‘‘

هفته 21 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
مولانا فضل الرحمٰن خلیل کاغذات دستاویزات میں تو عالم دین ہیں لیکن ان کی اصل شہرت جہاد افغانستان ہے ان کی ابھی تازہ تازہ مسیں ہی بھیگی تھیں کہ سرحد پار روس کے خلاف جہاد کی صدا نے انہیں میران شاہ کا رخ کرنے پر مجبور کردیا انہوں نے کم عمری میں افغانوں کی اس تحریک مزاحمت میں انکا ساتھ دیا اور بہت کچھ بھگتابھی،جب مجاہدین محبوب سے معتوب ہوئے تو ان پر بھی کٹھن وقت آیا وہ گرفتار کرکے وہاں ڈال دیئے گئے جہاںروشنی بھی نہ پہنچتی تھی ،میری ان سے اچھی یاد اللہ ہے ایک بار ملاقات
مزید پڑھیے


’’تلملاہٹ ۔۔۔‘‘

پیر 16 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
چھریرے بدن کا مالک ونگ کمانڈر نعمان اکرم ایک بہترین ہوا باز تھا شاندار صلاحیتوں کا حامل،اسکا سروس ریکارڈاسکی بہترین پیشہ وارآنہ صلاحیتوں کا گواہ ہے اسے پاک فضائیہ کے سب سے خطرناک اور ’’مہلک‘‘ لڑاکا ایف سولہ طیاروں کے 9اسکواڈرن کی کمان سونپی گئی ،شہید ہوا باز نے یوم آزادی پریڈ کی مشق کے لئے چار دن پہلے پی اے ایف بیس مصحف سرگودھا کے رن وے سے اپنے ایف سولہ کے ساتھ فضا میں چھلانگ لگائی یہ اسکے لئے ایک معمول کی پرواز تھی لیکن یہ پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد تک پہنچتے پہنچتے امتحان بن گئی طیارے میں
مزید پڑھیے


’’ پھالیہ ‘‘

جمعرات 12 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
پھالیہ پہنچ کراحساس ہوا کہ سکندر اعظم یقینی طور پر اپنی بیگمات سے عاجز تھا جووہ گھوڑے کی پشت سے نیچے نہ اترتا اور چڑھائی پر چڑھائی کرتااڑتا چلا جاتا تھااسے اچھا جوڑ ملا ہوتا تو اسکے ہاتھ میں فیلیس کی لگاموں کی جگہ کسی بیگم کاحنائی ہاتھ ہوتالیکن اس ہاتھ کے لئے بھی اسے یہاں آنا تو پڑتابھلاگوری بی بیوں کو مہندی سے ہونے والی مینا کاری کی کیا خبر، اس صورت میں بھی اسے فیلیس کی ضرورت پڑنی تھی اسے شمشیر ،نیزے لہرانے کے بجائے سہراباندھ کر آنا پڑتا اور منظر کچھ یوں ہوتا کہ اسکے یار بیلی
مزید پڑھیے



’’واہ رے امریکہ ! تیری کون سی کل سیدھی‘‘

بدھ 11 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
انٹرنیٹ کے سرچ انجن اب بھی آپکو ان رونگٹے کھڑے کر دینے والی تصاویر تک پہنچا سکتے ہیں جس میں سنولائی ہوئی رنگت والے چہرے نفرت کے نیون سائن لگ رہے ہیں، ان کی آنکھوں میں خون اترا دیکھا جا سکتا ہے ،ان کے ہاتھوں میں تلواریں ،خنجر اور ترشول ہیں صاف لگتا ہے کہ یہ ہجوم کہیں ہلہ بولنے جا رہا ہے اس کے بعد کی تصاویر آج بھی مجھے دیکھنے کی ہمت نہیں ،کٹی پھٹی لاشیں ،زندہ جلائے جانے والوں کے کوئلہ بنے بدن ، یہاں وہاں پڑے انسانی گوشت کے لوتھڑے۔۔۔بھارتی گجرات میں مسلم کش فسادات
مزید پڑھیے


’’گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے‘‘

هفته 07 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
فیصلہ ہوچکا تھاوہ بظاہر پرسکون تھا لیکن درحقیقت ایسا نہ تھا یہ بہت مشکل ٹاسک تھااسکا سامنا ان لوگوں سے تھا جنکی پشت پر بڑی طاقتیں تھیں اور اسے اس قوت سے ٹکرانا تھایوں سمجھ لیں کہ وہ براہ راست ان طاقتوں سے لڑنے جارہا تھا ،اسکے سپاٹ چہرے سے اسکے اندر کے اضطراب کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا پھر اسکی تربیت بھی ایسی ہی ہوئی تھی اس میں جلد فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی کمال کی خوبی تھی لیکن اس وقت وہ کسی ٹریننگ سینٹر میںنہ تھا اسکے
مزید پڑھیے


’’امریکہ طالبان معاہدہ،نظر رکھنا ہوگی!‘‘

منگل 03 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
1992 ء دسمبر کے سرد دن تھے جب امریکی جرنیل میک کرسٹل نے افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیا میں ’’بے ضرر‘‘ ہوجانے والے روسی ٹینکوں کے بیرلوںسے جھولتے افغان بچوں کو دیکھا اور حیران ہوگیا کہ یہ کیسی نڈر اور بے خوف قوم ہے ۔ پکتیا میں بہت طویل غاریں ہیں، یہ اتنی لمبی ہیں کہ ان کے اک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹارچ کی روشنی تھک کر گر جاتی ،یہ اسلحہ گوداموں کے طور پر استعمال ہوتی تھیں جنہیں بعد میںافغان مجاہد بیت الخلاء کے طور پر استعمال کرنے لگے پورے افغانستان میں
مزید پڑھیے


’’زنگار‘‘

اتوار 01 مارچ 2020ء
احسان الرحمٰن
عامر خاکوانی صاحب لاہور سے زنگار لئے شہر اقتدار میں وارد ہوئے کہ جنہیں چاہ ہے یہ زنگار شیشے پرمل کر آئینہ بنالے پارلیمنٹ ہاؤس کو جانے والی شاہراہ پر ایک خوبصورت کثیر المنزلہ عمارت میں ہمیں ’’زنگار‘‘ کی دستیابی کی اطلاع ملی اورہم لنگڑاتے ہوئے قدرے تاخیر سے’’زنگارنامہ‘‘ کی تعارفی تقریب میں شرکت کے لئے لنگڑاتے ہوئے پہنچے تو سامنے اسٹیج پر عامر خاکوانی صاحب ،وفاقی وزیر محمدعلی ،معروف کالم نگاربرادر آصف محمود کے ساتھ براجمان دکھائی دیئے چھوٹے ساہال میں سلیقے سے محدود تعداد میں کرسیاں لگی ہوئی تھیںعامر خاکوانی صاحب تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ شرمائے شرمائے
مزید پڑھیے


مستقبل بچائیں

جمعرات 27 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
مجھے آج بھی وہ نوجوان نہیں بھولتا اسکے کپڑے پھاڑ دیئے گئے تھے گلے میں قمیض کی جگہ دھجیاں سی لٹک رہی تھیں اور چہرے پر تشدد کے نشانات تھے اسے بری طرح سے پیٹا گیا تھا دائیں آنکھ یوں سوجھی ہوئی تھی کہ کھلنا مشکل ہورہا تھا ،وہ بیہوش ہونے کو تھا اسے چکر آرہے تھے اور متلی بھی ہورہی تھی ،تھانے کا ایس ایچ او یہ دیکھ کر اسے وہاں لانے والے موبائل افسر پر برس پڑاوہ ڈانٹ رہا تھا کہ اسکی حالت تھانے لانے والی ہے یا اسپتال لے جانے والی ،موبائل افسر نے منمناتے ہوئے کہا
مزید پڑھیے