BN

احسان الرحمٰن


سیاست اور تاریخ کے بھائی


کراچی کا رہنے والا ہو او ر’’بھائی ‘‘ کو نہ جانتا ہو تو آپ حق بجانب ہیں کہ اسکے شہر قائدسے تعلق پر شک کا عدسہ رکھ دیں ،یہ کیسے ممکن ہے کوئی کہے کہ وہ کراچی میں پلا بڑھا ہو اور ’’بھائی ‘‘کو نہ جانتا ہو ۔۔ زیادہ پرانی بات تو نہیں’’ بھائی‘‘ کراچی کے کھڑک سنگھ ہوا کرتے تھے ان کے حکم سے بسوں کے سائلنسرکاربن مونو اکسائیڈ اگلتے اورسڑکوں پر گاڑیوں کامتحرک بوجھ ہوتا زراکسی بات پر بھائی کا متھا پھرتا تو حسب منشاء مکہ چوک عزیز آبادکے قریب بھائی کی والدہ ماجدہ خورشید بیگم صاحبہ کے نام
منگل 25 فروری 2020ء

’’بے حسی کا کمبل‘‘

هفته 22 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
سات مارچ 2010کا دن دنیا کے خوبصورت ترین ملک سوئٹزرلینڈ کے لئے بڑا مختلف تھا ، دنیا کے اس پرامن خطے میں رہنے والے ستانوے لاکھ افراد ایک انوکھے ریفرنڈم میں منفردفیصلہ کرنے جارہے تھے ،دنیا کے بڑے میڈیا ہاؤسز کے نیوز رومز میں اس عجیب ریفرنڈم کا چرچا تھا نیوز چینلز کے میزبان وسطی یورپ کے اس خوبصورت ملک میں اپنے نمائندوں سے اس ریفرنڈم کی بابت پوچھ رہے تھے سوال جواب کر رہے تھے نیوز رپورٹس چلا رہے تھے سوئس عوام کے خیالات جان رہے تھے اور نیوز شو میں ڈسکس کررہے تھے ،بات ہی کچھ ایسی تھی
مزید پڑھیے


’’ترک کاردش‘‘

اتوار 16 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
گاڑی جیسے ہی پٹرول پمپ پر رکی میں نے دروازہ کھولا اور نیچے اتر آیا سڑکیں کیسی ہی ہموار اور سواری کتنی ہی آرام دہ ہو سفر پھر سفر ہی ہوتا ہے ،ترک ڈرائیور جدید مرسڈیز وین چلا رہا تھا لیکن وہ جتنی بھی جدید ہوتی سفرنے تو سفرہی رہنا تھا ،میں گاڑی سے نیچے اترا تو دیگر ساتھی بھی نیچے اتر آئے ہم میں سے اکثر نے قمیض شلوار پہن رکھی تھی ،دیار غیر میںگھٹنوں تک لمبی قمیضیں اور کھلی ڈھلی شلواریں پہلی بار دیکھنے والوں کو دوبارہ مڑ کر دیکھنے پر ضرور مجبور کرتی ہیں ہم وہاں
مزید پڑھیے


’’شیخ رشید کی اداسی‘‘

هفته 15 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
وہ ایک چھوٹی پارٹی کا بڑا سیاست دان ہے،کہنے والے اس پرتانگہ پارٹی کی پھبتی کستے ہیں اسے کوچوان کہتے ہیں لیکن وہ برا نہیں مناتا جوابا کہتا ہے تم لوگوں کی باراتوں سے اچھا یہ تانگہ نہیں جومجھے اقتدار کی شاہراہ پر تو لے آیا،دھیمی چال سے ہی سہی چلتا تو دکھائی دے رہاہے بات غلط بھی نہیںایک شہر اور ایک سیٹ کی پارٹی کے اس سیاستدان کے پاس سالم وفاقی وزارت ہے ،وہ جھنڈے والی گاڑی میں سگار پیتا ہوا راولپنڈی کے امام باڑہ روڈ سے دفتر کے لئے روانہ ہوتا ہے اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے پاس
مزید پڑھیے


’’بلوچستان مان جائے گا۔۔۔‘‘

اتوار 09 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ 2008 ء کی بات ہے جب بلوچستان میں زمین نے کروٹ لی اور آن کی آن میں سینکڑوں گاؤں ملبے کا ڈھیر بن گئے،زخمیوں کا تو شمار ہی کیا جان سے جانے والوں کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی۔ سرو قد درختوں کی وادی زیارت میں کچھ زیادہ ہی تباہی آئی تھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں ڈینو سار اچھلے ہیں ،دوردراز کے گاؤں دیہات سے زخمیوں کو چارپائیوں پرڈال ڈال کر عارضی طور پر بنائے گئے امدادی کیمپوں میں لایا جارہا تھا ،لوگ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے تھے۔ زخمیوںکی آہ و بکا
مزید پڑھیے



’’قدموں کی تحریک‘‘

جمعرات 06 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
میںکراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے سینئررپورٹر کی حیثیت سے شہر بھر میں بھاگا بھاگا پھرتا تھا،ٹی وی چینلز میں کسی بھی رپورٹر کی کہنے کو تو ذمہ داری (beat) طے ہوتی ہے لیکن بوقت ضرورت اسے سب کچھ ہی کرنا پڑتا ہے پانچ فروری 2018ء کو یوم یکجہتی کشمیر کے لئے مجھے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں منقسم کسی کشمیری خاندان پر نیوز رپورٹ بنانے کے لئے کہا گیا،راولپنڈی اسلام آباد میں یہ کام کراچی کی نسبت آسان ہے کراچی میں کشمیری خاندان آباد تو ہیں لیکن ایسے کسی خاندان کی تلاش جو آدھا یہاں او ر
مزید پڑھیے


’’پوری دال ہی کالی ہے۔۔۔‘‘

هفته 01 فروری 2020ء
احسان الرحمٰن
قائد اعظم کے لئے اپنی جان نہیں پاکستان ضروری تھاانہوں نے اپنی بیماری کی خبر چھپا دی اور جدوجہد جاری رکھی جس کے بعد پاکستان تو مل گیا لیکن ابھی بہت سے مراحل باقی تھے بٹوارے کے بعدپاکستان کے حصے میں آنے والے وسائل میں ڈنڈی ماری جارہی تھی ،مالی طور پر پاکستان قلاش تھا دفاتر میں پیپر پن کی جگہ ببول کے کانٹے استعمال ہو رہے تھے اوپر سے فساد بلوے شروع ہوچکے تھے،لٹے پٹے مہاجروں اور کٹی پھٹی لاشوں سے بھری ریل گاڑیاں آرہی تھیںمہاجرین کو ٹھہرانے کا انتظام بمشکل ہو رہا تھا پھر مملکت چلانی تھی ملک
مزید پڑھیے


’’بھارت کو یوم جمہوریہ مبارک‘‘

اتوار 26 جنوری 2020ء
احسان الرحمٰن
میں نے سیل فون کے کیمرے سے تصویر بنانی چاہی تو ساتھ بیٹھے دوست نے پہلو میں کہنی سے ٹہوکا دیتے ہوئے آنکھوں کے اشارے سے منع کر دیا میں حیران ہو گیا کہ آخر یہ کون سی ایسی میٹنگ ہے کہ جس میں تصویربنانے کی اجازت بھی نہیں او ر وہ بھی کراچی پریس کلب میں ، میں نے دیکھا کہ وہاں سب کے فون جیبوں میں تھے میںنے بھی اپنا سیل فون جیب میں ڈال لیا او ر سامنے بیٹھی بزرگ شخصیت کی جانب متوجہ ہو گیا،گندمی باریش چہرہ اور سر پر ٹوپی ،یہ جماعت اسلامی ہند کے
مزید پڑھیے


’’انکار‘‘

جمعرات 23 جنوری 2020ء
احسان الرحمٰن
چوبیس دسمبر 2019ء بھارت کے جزیروںنکوبار کی پانڈویچری یونیورسٹی کے لئے بڑا خاص دن تھا،یونیورسٹی کی انتظامیہ بڑی متحرک تھی اوروہاں انتظامات سے لگ رہا تھا کہ آج یہاں کوئی خاص تقریب ہے یونیورسٹی سے عموما پولیس اور سکیورٹی اہلکار دور ہی رہتے ہیں ،آج یونیورسٹی میں کانووکیشن تھا ،امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والوں کو بھارت کے صدررام ناتھ کوندو نے اپنے ہاتھوں سے گولڈ میڈل پہناناتھے یہ کسی بھی طالب علم کی زندگی کا بہترین لمحہ ہوتا ہے جسے وہ کیمرے کی مدد سے محفوظ کر کے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے،پانڈویچری یونیورسٹی کے طلباء بھی ان
مزید پڑھیے


’’میجر جنرل آصف غفور ۔۔۔ماننا ہوگا‘‘

اتوار 19 جنوری 2020ء
احسان الرحمٰن
پاکستان کے کسی بھی نیوز چینل کا اسائمنٹ ایڈیٹر دفتر میں کام کا آغاز کرتے ہی سب سے پہلے افواج پاکستان کی ویب سائٹ پر جاتا ہے یا پھر آئی ایس پی آر کے رپورٹرسے اسکا پہلا سوال یہی ہوتا ہے…’’ہاں بھئی !کچھ ہے تو نہیں ؟‘‘ اس مختصر سوال کا مطلب افواج پاکستان کے ترجمان ادارے کی کسی ممکنہ نیوز کانفرنس پریس بریفنگ یااس ادارے کی جاری ہونے والی کسی خبر کے بارے میں جاننا ہوتا ہے کہ اگر ایسی کوئی سرگرمی ہو تو وہ کیمرا مین، فوٹو گرافر اور رپورٹر کو وہاں جانے کے لئے ابھی سے پابند کر
مزید پڑھیے