BN

احمد اعجاز


خوشاب کا ضمنی الیکشن اور دونوں پارٹیاں


خوشاب کے صوبائی حلقہ پی پی چوراسی کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی ہے۔اس کامیابی کو میاں شہباز شریف نے میاں نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا ووٹ قراردیا ہے۔اس اَمر سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی کہ اس حلقے میں پی ایم ایل این بطور پارٹی اپنا ووٹ بینک رکھتی ہے۔مگر محض پارٹی ووٹ بینک سے اس حلقے سے الیکشن نہ ماضی میں جیتاجاتارہا ،نہ ہی اب ایسا ممکن ہواہے۔یہ حلقہ پنجاب کے دیگر دیہی حلقوں جیسی ساخت رکھتا ہے ،یہاں کا سیاسی کلچر تین طرح کے ووٹ(شخصی،برادری و دھڑا بندی اور پارٹی)سے ترتیب
هفته 08 مئی 2021ء

این اے 249:ہارجیت کا جائزہ

پیر 03 مئی 2021ء
احمد اعجاز
اُنتیس اپریل کو ہونے والا ،این اے 249کا ضمنی الیکشن کئی حوالوں سے اہمیت رکھتا ہے۔یہاں کل ووٹرز کی تعداد تین لاکھ اُنتالیس ہزار پانچ سو اکانوے تھی جبکہ جن ووٹرز نے ووٹ ڈلا،اُن کی تعداد تہتر ہزارچارسواکہتر تھی۔اس طرح لگ بھگ اکیس فیصد ووٹرز نے ووٹ ڈالا۔ووٹ نہ ڈالنے والوں نے ایسا کیوں کیا؟ا س کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔جیسا کہ سیاسی جماعتوں اور آزاد اُمیدواروں سے ووٹرز کا دِل اُوب جانا،ماضی کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے ووٹرز کی مایوسی میں اضافہ ہونا،موجودہ نمائندوں کا خود کو اہل ثابت کرنے کے بہتر دعوے نہ کرسکنا،ووٹرز کا یہ احساس
مزید پڑھیے


حلقہ این اے 249،کیا ہونے جارہا ہے؟

جمعرات 29 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
آج کے ضمنی الیکشن کا جائزہ لینے سے قبل حلقہ کی ساخت اورحلقہ کی انتخابی تاریخ کو سمجھنا ازحد ضروری ہے ۔ دوہزار سترہ کی حلقہ بندی سے قبل دوہزار دو سے دوہزار تیرہ کے انتخابات تک ،موجودہ حلقہ این اے 249 دوحلقوں این اے 239اور این اے 240کے حصوں پر مشتمل تھا۔این اے 240کا لگ بھگ چالیس فیصد حصہ اور این اے 239کاساٹھ فیصد حصہ ،مل کر دوہزار اَٹھارہ کے الیکشن میں 249بنا تھا۔دوہزار دو سے پیچھے یعنی اُنیس سو پچاسی سے اُنیس سوستانوے تک یہ حلقہ این اے 184کانوے فیصد اور این اے 185کادس فیصد حصے
مزید پڑھیے


ہم نہیں سیکھیں گے!

پیر 26 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
یہ گھڑی موت کی ہے۔پاکستان اور بھارت کے عوام ایمبولینسوں میں ،ہسپتالوں کے مرکزی دروازوں اورکورونا وارڈ ز میں ،گھروں کے تاریک کمروں میں اور ہسپتالوں کی طرف دوڑتی ہوئی حالت میں مَر رہے ہیں اور بہت ہی بے بسی سے مَر رہے ہیں۔کہیں آکسیجن نہیں ،کہیں وینٹی لیٹر نہیں،کہیں ہسپتالوں میں خالی بیڈ نہیں،کہیں فارمیسی میں دوائیاں نہیں۔مگر میڈیکل سٹورز ماسک سے بھرے پڑے ہیں ،حتیٰ کہ گلی محلوں میں ماسک بیچنے والوں کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں ،یہ ارزاں ہیں اور دسترس میں بھی،مگرکورونا کی لپیٹ میں آئے ہوئے جب چنگے بھلے ہوتے ہیںتو ماسک لگانے کا تردّد
مزید پڑھیے


موسمِ خوش رنگ اورعجائب خانہ

هفته 24 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
’’موسمِ خوش رنگ‘‘زندگی کی پیشانی پر لکھی تحریروں کی کتاب ہے اور ’’عجائب خانہ‘‘دُنیا کی دلچسپ ،علمی وفکری ،چشم دیدہ ونادیدہ حقیقتوں کی کتاب ہے۔یوں دونوں کتابیں’’زندگی‘‘کا پیش لفظ ہیں۔’’موسمِ خو ش رنگ ‘‘کے مصنف شاہد صدیقی ہیں جبکہ ’’عجائب خانہ‘‘کے لکھاری عرفان جاوید ہیں۔ہر دوشخصیات منفرد ادبی وعلمی تاثر رکھتی ہیں اور ملکی ادبی منظر نامے میں اپنے سنجیدہ کام کی بدولت نیک شہرت کی حامل ہیں۔’’موسمِ خوش رنگ‘‘ تاریخ کی تلاش کا سفر ہے۔یہ سفر بھنبھور سے ہوتا ہوا، ٹیکسلا، روہتاس، صادق گڑھ،بنگال، ڈھاکا، مانچسٹر، بہاول پور،کراچی اور دریائے سندھ تک محیط ہے۔منصور ملنگی کی آواز میں سسی
مزید پڑھیے



اطمینان

منگل 20 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
جولائی دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار میں آئے تین برس کا عرصہ ہونے کو ہے۔اس مُدت میں کئی موڑ ایسے آئے ،جہاں حکومت کو یہ ثابت کرنا تھا کہ اِن پر عوام کے اعتماد کافیصلہ دُرست تھا۔مگر حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ۔اس عرصہ میں حکومت عوام کے مسائل پر قابو پاتی، لیکن یہ اپنی توانائی اپنے لیے نئے مسائل پیدا کرنے پر صَرف کرتی پائی گئی ۔ ماضی کی حکومتیں عوامی مسائل سے پہلو تہی کرکے مخالفین کے محاسبہ پر زور دیتی رہیں ،موجودہ حکومت
مزید پڑھیے


جہانگیر ترین کے پاس سیاسی غلطی کی گنجائش نہیں!

پیر 12 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
اس وقت سیاسی منظرنامے میں جہانگیر ترین گہرے نقوش کے ساتھ موجود ہیں۔جہانگیر ترین اپوزیشن جماعتوں خصوصی طورپر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے اُمید کی کرن اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔تیس کے قریب صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان ،جو جہانگیر ترین کی طاقت ہونے کا احساس دلارہے ہیں ،ایک لحاظ سے عمران خان کے طرزِ حکومت و طرزِ سیاست میں بے پناہ خامیوں اور کمزوریوں کا اظہاریہ بھی ہے۔وزیرِ اعظم بننے کے بعد عمران خان صاحب کا قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں پوری طرح شرکت اوراپنے اراکین اسمبلی
مزید پڑھیے


بے بسی کاگِدھ

جمعرات 08 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
عجیب دِن ہیں،بے بسی کا گِدھ ہمہ وقت ٹھونگے مارتارہتا ہے۔بے بسی نے خوف کو جنم دیا ہے،خوف بھی،وسوسوں میں لپٹا ہوا۔بے بسی میں وسوسے ہوتے ہیں اور وسوسے انسان کے دُشمن ہیں۔وباء کا اثرپھیلتا جارہا ہے،یہاںبہ ظاہر سال بھر پہلے وباء پھوٹی ،مگر بے بسی اور خوف سے تو یوں معلوم پڑتا ہے کہ اس ملک پر تہتر برس سے وبا کا قبضہ ہے۔ہرلحظہ بے بسی اور خوف میں لپٹا ہوا۔یہ عجیب دِن ہر ایک کے لیے نہیں ،یہ محض بے بس لوگوں کے لیے ہیں،جن کی کوئی شناخت ہے ،رائے نہ سماجی حیثیت۔جن کا ہونا،نہ ہونااورکہنا ،نہ کہنا
مزید پڑھیے


کورونا کی تیسری لہر اور ہمارے روّیے

منگل 06 اپریل 2021ء
احمد اعجاز
ہمارے ہاں کورونا وبا ء کا پہلا مریض چھبیس فروری دوہزار بیس کو سامنے آیا تھا۔یوں یہ وباء لگ بھگ تیرہ ماہ سے موجود ہے ۔پہلی لہر میں شدت مئی اور جون دوہزار بیس میں آئی تھی ،جولائی کا مہینہ بھی مشکل تھا۔ بعدازاں آہستہ بہ آہستہ اس کا زور ٹوٹنا شروع ہوا اور اگلے دوایک ماہ تو یوں محسوس ہوا کہ وباء پر مکمل قابو پایاجاچکا ہے ،مگر پھر دوسری لہر شروع ہوگئی ۔دوسری لہر کو پہلی لہر سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ،مگر اس کا دورانیہ کم تھا،ابھی دوسری لہر کا زور ٹوٹا ہی تھا کہ تیسری
مزید پڑھیے


لکیر کھنچنا کیوں ضروری ہے؟

پیر 29 مارچ 2021ء
احمد اعجاز
حالیہ سینیٹ انتخابات سے جمہوری اقدار بُری طرح پامال ہوئی ہیں۔مقامِ افسوس ہے کہ جمہوریت کی عزت پر وار خود کو جمہوری و سیاسی کہنے والوں کی جانب سے کیے گئے ہیں ۔یوسف رضا گیلانی کا سینیٹر بننا،صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ بننا اور پھر یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننا ،سب کا سب غیر جمہوری انداز سے ہوا۔ہر طرف سے اپنی اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے جو حربے استعمال کیے گئے ،وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کا محض ایک ہی بیانیہ ہے ،جس کو ’’جیت کا بیانیہ‘‘کہا جاسکتا ہے۔جیت
مزید پڑھیے








اہم خبریں