BN

احمد اعجاز



چودھری نثار علی خان کی یاد میں


میاں نواز شریف اور اُن کی پارٹی نے اپنے ’’خیالی بیانیہ‘‘سے جیسے ہی یوٹرن لیا،بہت سارے لوگوں کو چودھری نثارعلی خان کی یادستانے لگی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اُس وقت پی ایم ایل این چودھری نثارعلی خان کے مشوروں پر عمل کرتی تو آج شہبازشریف ملک کے وزیرِ اعظم ہوتے اور میاں نوازشریف جیل جاتے نہ بیمار پڑتے۔واقعی!چودھری نثارعلی خان کی سیاسی بصیرت بلنددرجہ کی تھی اور میاں نواز شریف نے اُن کے مشوروں پر عمل نہ کرکے اپنا اور پارٹی کاسیاسی نقصان کیا؟اس کے لیے چودھری نثارعلی خان کے طرزِ سیاست کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ اُنیس سوپچاسی
اتوار 12 جنوری 2020ء

امریکا کی ایک اور غلطی

اتوار 05 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
آج کی دُنیا بہ ظاہر بہت مہذب ہوچکی ہے اور تہذیب کا سفر جارہی ہے ،مگر یہ دُنیا جنگوں سے بھی نہیں نکل پارہی ،قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے ۔اگر دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کی شروعات ہی جنگ سے ہوئی تھی ،تب سے اب تک یہ سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا،ابتدا ہی میں چند ایک ممالک پوری طرح جنگوں کی لپیٹ میں آئے اور کسی طور ،وہاں جنگ کے شعلے بجھتے ہوئے پائے نہیں جارہے ۔کوئی دِن نہیں جاتا جب بڑے پیمانے پر انسانوں کے مارنے کے اعلانات نہ کیے جاتے ہوں ۔ایک افسوس ناک پہلو
مزید پڑھیے


میاں نواز شریف کا بیانیہ،ایک مغالطہ

هفته 28 دسمبر 2019ء
احمد اعجاز
پانامہ اسکینڈل کے بعد کہا گیا کہ نوازشریف نظریاتی ہوچکے اور اپنا ایک بیانیہ تشکیل دے چکے ہیں۔نوازشریف کے بیانیہ کے ساتھ ساتھ میاں شہباز شریف اور مریم نواز کے بیانیہ کا بھی چرچا رہا۔میاں نواز شریف کو جیل ہوئی تو سوال اُٹھائے گئے کہ اب اِن کے بیانیہ کو آگے کون بڑھائے گا؟ جواب دیا جاتا رہا،مریم نواز…کہ میاں شہباز شریف کا تو اپنا الگ بیانیہ ہے۔ لیکن میاں نواز شریف ،شہباز شریف اور مریم نواز نے پہلے خاموشی اُوڑھی پھرلندن کا رختِ سفرباندھا ، مریم نواز بدستور خاموش اور باہر جانے کے لیے بے تاب ہیں تواب بھی
مزید پڑھیے


ایک تاثر کی موت

هفته 21 دسمبر 2019ء
احمد اعجاز
جولائی دوہزار اَٹھارہ میں، عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کے وزیرِ اعظم بنتے ہی سیاسی وسماجی سطح پر تین طرح کے تاثرات پائے گئے تھے ۔ اول: یہ الیکٹ ایبلزکی بدولت وزیرِ اعظم بنے ہیں۔دوم:پی ٹی آئی ،کی جیت دھاندلی سے ممکن ہوئی ہے ۔ سوم : انتخابات کا نتیجہ ’’ عوام کی آواز ‘‘ تھا۔ ہر عام انتخابات کے بعدجیتنے والی پارٹی اور منتخب وزیرِ اعظم کے بارے ،اسی نوع کے تاثرات پائے جاتے رہے ہیں۔سماجی و سیاسی سطح پر اس نکتے کو سمجھے بغیر کہ جملہ فیکٹرز کے باوجودانتخابات کے نتائج ’’عوام
مزید پڑھیے


برطانیہ:پانچ برس میں تین عام انتخابات،ہوکیارہاہے؟

هفته 14 دسمبر 2019ء
احمد اعجاز
جون دوہزار سولہ برطانیہ میں ایک ریفرنڈم ہوا،اُس ریفرنڈم کے نتائج میں باون فیصدبرطانوی عوام نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں جبکہ اَڑتالیس فیصدنے مخالفت میں فیصلہ دیاتھا۔ تو یہ قرار پایا کہ اُنتیس مارچ دوہزار اُنیس کو برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا۔مگر یہ بظاہر سادہ سا نظر آنے والا معاملہ سادہ نہیں تھا۔اس ساڑھے تین برس کے عرصہ میں بریگزٹ کی بدولت ڈیوڈ کیمرون اور تھریسامے کو 10ڈائوننگ اسٹریٹ کو چھوڑنا پڑگیا۔جون دوہزار سولہ کے ریفرنڈم کے بعد ڈیوڈ کیمرون جو کہ برطانوی وزیرِ اعظم تھے ،نے فوری بنیادوں پرمستعفی ہونے کا اعلان
مزید پڑھیے




چوہے

منگل 16 جولائی 2019ء
احمد اعجاز
پوراگھرچوہوں سے تنگ آیا ہوا تھا۔ یہ ایک رات کی بات ہے ،کچھ مخصوص قسم کی آواز سے ، وہ نیند سے جاگا۔ کچھ دیر تو بستر پرلیٹ کر آوازکاجائزہ لیتارہا،پھر اُٹھ کر لائٹ آن کی۔ کچن کے دروازے پر ایک چوہا موجود تھا،جواگلے ہی لمحے ، نظروں سے اوجھل بھی ہو گیا۔ کچھ دِن تو یہ سوچتے گزرگئے کہ چوہے کو کیسے بھگایا،یا پھر مارا جائے؟ اسی عرصہ میںچوہوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ،رات پڑتے ہی، تین چار چوہے گھر میں دندناتے پھرنے لگ پڑے۔ اب ان کومارنا ضروری ہو چکا تھا۔کئی طریقے آزمائے گئے ،مگر سب بے سود۔ ایک دِن کسی نے
مزید پڑھیے


مرغ کی بانگ

منگل 09 جولائی 2019ء
احمد اعجاز
موریس ،مرغ کا نام ہے۔کورین نامی خاتون ،اس کی مالکہ ہیں۔ اس مرغ کا گھر فرانسیسی جزیرے اولیراں میں ہے۔ موریس کو ایک مقدمے کا سامنا ہے۔ایک جوڑے کو شکایت ہے کہ یہ بہت پُرشور بانگ دیتا ہے۔ اس کی بانگ،اُن کی پُرسکون نیند میں خلل ڈال دیتی ہے۔ عدالت میں اس مقدمے کی پہلی سماعت ہوئی۔موریس عدالت میں پیش ہوا۔ اس سے اظہارِ ہمدردی کے لیے پومپادور ( مرغی) اور ڑاں رینے(مرغ) عدالت میںموجود تھے۔ عدالت میں بھی موریس اُونچی آواز میں بانگ دینے سے باز نہ آیا۔ کورین ،اس موقع پر بولی مرغ کی بانگ دیہی زندگی کی ثقافت ہے۔ عدالت نے
مزید پڑھیے


سفرِ معکوس

منگل 02 جولائی 2019ء
احمد اعجاز
آغاز ہی میںویسٹ اندیز سے ہارنے کے بعد،پاکستانی ٹیم کا ہر میچ اہم میچ بن گیا۔ انگلینڈ سے جیت ممکن ہوئی تو ہر سُو پذیرائی کے ڈھول بج اُٹھے۔ سری لنکا سے میچ بارش کی نذرہوا۔بھارت سے ورلڈ کپ کے میچوں میں ہار کا تسلسل جاری رہا۔ بھارت سے ہارنے سے پہلے دُعائوں کا سلسلہ جاری ہوا۔ بھارت سے پہلے آسٹریلیا سے بھی ہار ہو چکی تھی۔ ایک وقت آیا تو جمع تفریق شروع ہوئی،فلاں ٹیم فلاں سے ہار جائے ،وغیرہ۔ کاش انڈیا ،انگلینڈ کو ہرا دے… نیوزی لینڈ کو ہرا دے… بانوے کے ورلڈ کپ سے مماثلت کا سفرپہلے میچ ہی سے شروع ہو گیا
مزید پڑھیے


کیسے آدمی ہیں؟

منگل 09 اکتوبر 2018ء
احمد اعجاز
سکول والی گلی گاڑیوں کے نیچے دَب چکی تھی۔ نرسری کلاسز کے بچوں کو چھٹی ہوچکی تھی۔ کچھ والدین فٹ پاتھ پر مرکزی گیٹ کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔ ایک شخص سیل فون پر بات کرتاآہستہ آہستہ جارہا تھا،وہ بے خبرتھا کہ پیچھے خاتون آگے نکلنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ خاتون کا بچہ یقینا ، اُسکا منتظر ہو گا۔ مگر وہ شخص فون پرمگن ،دُنیا و مافہیاسے بے خبر ہو چکا تھا۔ حالانکہ خاتون ’’پلیز راستہ دیجیئے‘‘باربارکہتی رہی۔ مَیںاُن دونوں کے پیچھے کچھ فاصلے پر تھا۔ خاتون کی بے بسی دیکھ کر مجھے اُس شخص پر بے حد غصہ آرہا تھا۔ کچھ دیربعددونوں گیٹ کے
مزید پڑھیے


اللہ کریسی چنگیاں

اتوار 09  ستمبر 2018ء
احمد اعجاز
افضل عاجز سے ہمارا رشتہ اُتنا ہی پُرانا ہے،جتنا تھل پُرانا ہے۔ اس کے تخلیق کردہ گیت جب عطاء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی کی درد بھری آواز کا رُوپ دھارتے تو ٹاہلی کی بلند وبالا چوٹیوں پر بیٹھی فاختائوں کے آنسوچھلک پڑتے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے ،جب لوگ پیدل سفر کرتے ،سفید اُجلالباس پہنتے ۔ یہ اُسی زمانے کی بات ہے جب راتیں جاگتی تھیں۔ تب ہمیں معلوم نہیں تھا کہ عطاء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی ،کہاں رہتا ہے اور لطیف جذبوں کا ترجمان شاعرکا گھر کندیاں میں ہے۔البتہ مسافر یہاں سے گزرتے تواُن کے دِل دھڑک اُٹھتے۔ او پھر مَدت بعد
مزید پڑھیے