BN

احمد اعجاز


بلاول کا دورہ جنوبی پنجاب


بلاول زرداری کاجنوبی پنجاب کے مختلف شہروں کا حالیہ دورہ سیاسی سطح پر کوئی ہلچل مچا سکا کہ نہیں ؟اس پہلو کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔پہلا سوال تو یہ ہے کہ بلاول زرداری نے ہنگامی نوعیت کا دورہ کیوں کیا؟اس ضمن میں آصف علی زرداری کی حکمتِ عملی کا اظہار سامنے آتا ہے۔یہ آصف علی زرداری کی پالیسی ہے۔یہ جگہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں محسوس کی گئی اور یوں بلوچستان سے بعض پُرانے چہروں کو پارٹی میں لایا گیا اور پھر وہی طریقہ کار جنوبی پنجاب میں ملحوظ رکھا گیا۔ ملتان اورڈیرہ غازی خان ڈویژن میں پیپلزپارٹی
جمعرات 16  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

قبل از وقت انتخابات کا معاملہ

اتوار 12  ستمبر 2021ء
احمد اعجاز
وفاقی دارلحکومت میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا حکومت جلد انتخابات کروانا چاہتی ہے؟ لیکن اس سوال کا تشفی جواب کہیں سے سامنے نہیں آرہا۔جب کسی سوال کا تشفی جواب سامنے نہ آسکے تو سوال ازخود دَم توڑ جاتا ہے۔ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ سوال کا وہ وقت نہیں تھا۔ہر سوال کا وقت ہوتا ہے۔وقت کی منڈیر سے لیا گیا سوال ہی اپنا تشفی جواب رکھتا ہے ۔تو کیا مذکورہ سوال اگلے سوال کی ساعتوں میں دَبنے کا انتظار کررہا ہے؟میرا خیال ہے کہ یہ سوال دَب جائے گا،مگر مَیں تذبذب کا شکار بھی ضرور
مزید پڑھیے


حکومت اور اپوزیشن کے تین سال

اتوار 05  ستمبر 2021ء
احمد اعجاز
پچیس جولائی دوہزا ر اَٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرکے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ’’جشن ‘‘برپا کرچکی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی ’’کامیابیو ں ‘‘کی داستان سنائی،اپنی بائیس برس پر محیط’’جدوجہد‘‘کی یادیں تازہ کیں۔ملک’’ لوٹنے‘‘والوں کو لتاڑا اور احتساب کے قصے سنائے۔ اپنے اقتدار کے دور میں حاصل کی گئی ’’کامیابیوں‘‘پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کی ’’انتھک محنت اور مسلسل کام‘‘کی تعریف کی ، وزیرِ تعلیم کو یکساں نصاب مُرتب کرنے کی ’’داد‘‘ دی۔اور اپنے’’ ویژن‘‘ کا اظہار
مزید پڑھیے


حکومت اور اپوزیشن کے تین سال

منگل 31  اگست 2021ء
احمد اعجاز
پچیس جولائی دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرکے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میںجشن برپا کرچکی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی کامیابیو ں کی داستان سنائی،اپنی بائیس برس پر جدوجہدکی یادیں تازہ کیں۔ملک لوٹنیوالوں کو لتاڑااور احتساب کے قصے سنائے۔اپنے اقتدار کے دور میں حاصل کی گئی کامیابیوںپر اطمینان کااظہار کیا۔پنجاب کے وزیراعلیٰ کے کام کی تعریف کی، صوبائی وزیرِ تعلیم کو یکساں نصاب مُرتب کرنے کی ’’داد‘‘ دی۔اور اپنے ’’ویژن‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ موبائل فونز کی وجہ سے جنسی
مزید پڑھیے


ہجوم کا بوجھ

هفته 28  اگست 2021ء
احمد اعجاز
مینارِ پاکستان پر خاتون کو ہجوم نے گھیر لیا۔ خاتون نے مردوں کے ہجوم کو خود بلایایا ہجوم پہلے سے موجود تھا؟اگر خاتون نے ہجوم کو خود دعوت دی تھی تو سوال یہ ہے کہ ہجوم اُس کی اُور کیوں کھنچا چلا آیا؟جو پہلو اہمیت کا حامل ہے ،وہ محض یہ کہ ہجوم نے اُس کو گھیرا ۔چلیں !مان لیتے ہیں کہ مردوں کے ہجوم کو خاتون نے خود دعوت دی تھی،تو کیا ہجوم کی جانب سے طاقت کے اظہار کا یہ پہلا واقعہ ہے؟ سیالکوٹ کے دوبھائی ہجوم کے ہاتھوں بے دردی سے ماردیے گئے تھے،مشال خان ہجوم کے
مزید پڑھیے



ووٹرز کا امتحان کب تک؟

جمعرات 12  اگست 2021ء
احمد اعجاز
اس وقت پی ایم ایل( این) شدید دبائو میں ہے اگرچہ قیادت یہ تاثر دے رہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔مگر ایسا نہیں۔اس وقت جس دبائو کا مسلم لیگ ن کو سامنا ہے ،یہ پانامہ سیکنڈل کا نتیجہ ہے۔پانامہ سیکنڈل کے نتیجے میں پی ایم ایل این کی دوہزار تیرہ میں قائم ہونے والی حکومت نے اپنی مُدت تو پوری کی ،مگر میاں نوازشریف بطور وزیرِ اعظم اپنی مُدت پوری نہ کرسکے۔اگر دوہزار سولہ میں جب پانامہ سیکنڈل سامنے آیا تھا،پی ایم ایل این کی حکومت ختم ہوجاتی تو اس وقت یہ دبائو کا شکار بھی نہ
مزید پڑھیے


آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور سیاسی پارٹیاں

جمعرات 29 جولائی 2021ء
احمد اعجاز
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں ایک بار پھر تاریخ دہرائی گئی۔یہاں انتخابات کی تاریخ یہ ہے کہ مرکز میں جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے ،وہی کامیاب ٹھہرتی ہے،یا پھر جیت اُس جماعت کے حصہ میں آتی ہے ،جس کو مرکز میں برسرِ اقتدار حکومت کی جانب سے حمایت ہوتی ہے۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ووٹرز ایسا کیوں کرتے ہیں؟ووٹرز کو مرکز کی حمایت یافتہ جماعت کے ایم ایل اے کا اُمیدوار یہ باور کرواتا ہے کہ مجھے اگر ووٹ نہ دیا گیا تو یہاں ترقیاتی کام ہوسکیں گے اور نہ تمہاری نوکریاں لگ سکیں گی۔
مزید پڑھیے


پانچ بجے کی نمکین چائے!!

جمعرات 15 جولائی 2021ء
احمد اعجاز
مَیں جو دوپہر ایک بجے سے سویا ہواہوتا تھا، ماں ساڑھے چار سے پانچ کے بیچ جگادیتی۔مَیں چارپائی سے اُٹھ کر غسل خانہ تک جانے میں ذرا بھی دیر نہ کرتا، نہانے میں بھی زیادہ وقت نہ لگاتا،نہا چکتاتو اُس چارپائی پر جا بیٹھتا،جس کو ماں نے کمرے کی دیوار کی چھائوں میں رکھا ہواہوتا، جہاں پہلے ہی میرا باپ بیٹھا ہوتا۔ماں مجھے گلاس پانی کا دیتی،ماں کو میری اس عادت کی بابت بہ خوبی معلوم تھا کہ نہانے کے بعد گلاس پانی کا پیتا ہوں۔مَیں پانی پی کر خالی گلاس واپس کرنے کی بجائے ،قریبی دُکان پر جانے کے
مزید پڑھیے


آصف علی زرداری اور نوازشریف

هفته 10 جولائی 2021ء
احمد اعجاز
آصف علی زرداری وہیل چیئر پر بیٹھ کر عدالت تک پہنچنا چاہتے ہیں ،میاں نوازشریف فی الحال ملک واپس آکر عدالت نہیں جانا چاہتے۔ یہاں دونوں شخصیات کا موازنہ نہیں ،مگر دونوں کے اندازِ سیاست میں امتیاز کا اظہارضرور ہے۔آصف علی زرداری کافی کمزور ہو چکے ہیں اور چلنے پھرنے میں دِقت محسوس کرتے ہیں ،میاں نواز شریف صحت مند ہیں اور سیر و تفریح کرتے پائے جاتے ہیں۔ آصف علی زرداری ملک میں رہ کر سیاست کرنا چاہتے ہیں اور موجودہ سیاسی نظام میں رہ کراس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ،جبکہ میاں نواز شریف ملک سے باہر بیٹھ
مزید پڑھیے


ایک ٹک ٹاکر

هفته 03 جولائی 2021ء
احمد اعجاز
گذشتہ روز حریم شاہ سے متعلق ایک خبر نشر ہوئی،جس میں ٹک ٹاک اسٹار برہم دکھائی دی کہ اُس کے بار ے غیر مصدقہ اور من گھڑت باتیں عام کی جارہی ہیں،مجھے یہ خبر پڑھ کر قطعی حیرت نہیں ہوئی۔ایک ایسی ٹک ٹاکر جو من گھڑت خبروں کی تشہیر کی بنیاد پر اِن رہنے کا ہنر رکھتی ہو،اُس کو کیسی برہمی؟تاہم حریم شاہ ایک بارپھر خبروں میں چھائی پڑی ہے ،حالیہ عرصہ میں خبروں میں نمایاں ہونے کی شروعات،شادی کی خبر سے ہوئی ،جب حریم شاہ نے دعویٰ کیا کہ اُس کی شادی ہوچکی ہے اور اُس کے شوہر پیپلزپارٹی
مزید پڑھیے








اہم خبریں