BN

احمد جمال نظامی


جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں


نورل چانڈیو لاڑکانہ میں اپنے اہلخانہ کیساتھ سیلاب متاثرین کیمپ میں گزر بسر کررہا ہے‘ گزشتہ روز اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی‘جس نے سیلاب متاثرین کی امداد کے حوالے سے حکومت سندھ پر ہونیوالی تمام تر تنقید کو درست ثابت کردیا جبکہ حکومت سندھ کے تمام دعوے زمین بوس ہو کر رہ گئے۔نورل چانڈیو نے اپنے بچے فروخت کرنے کیلئے صدائیں لگانا شروع کردیں‘وہ با آواز بلند لوگوں کو پکارتا رہا کہ میں اپنے بچے فروخت کررہا ہوں‘میرے بچے لے لو‘ کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے‘روٹی کیلئے پیسے نہیں‘ کھانے کیلئے پیسے دے دو یا کھانا دے
اتوار 25  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

پاکستان کا المیہ!

هفته 24  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
ناجانے کب سحر ہوگی! ناجانے کب؟ اک نسل اس امید میں بجھ گئی‘دوسری تگ ودوکے مرحلے میں کبھی داخل تو کبھی نا امیدی کی رسم کفر کا شکار ہوجاتی ہے‘کیوں نہ ہو؟ اس کا مقابلہ براہ راست مافیا سے ہے۔بیورو کریسی سے لیکر اشرافیہ اور حکمران اشرافیہ کیا کسی مافیا سے کم ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے عام آدمی کے 75سال بیت گئے‘اس دوران کئی لیڈر ابھرے‘انہوں نے امیدسحر دکھائی‘ خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے متلاشی پروانوں کی مانند ان کے پیچھے چل دئیے مگر کہیں کچھ تبدیل نہ ہوسکا۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہی
مزید پڑھیے


حکمرانو! اب بس بھی کرو

اتوار 18  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
جیسے ہی خبر نظر سے گزری‘دل للچایا‘محنت کی جستجو ابھری‘ خواہش پر دم نکلا‘دفعتا خانہ دل سے صدا اٹھی:دل ہے شب سوختہ سو اے امید...تو ندا سی کہاں سے آتی ہے!! محترم اشرف شریف کے ایک کالم کی سطر دماغ میں ابھری’’وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر نے کاروبار میں اپنا لوہا منوایا ‘‘-آپ سوچتے ہونگے کہ خبر کیا ہے؟ فوربز کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں مزید 234 افراد ارب پتی بن گئے‘ ان افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں‘ متذکرہ خبر پر جاگتی آنکھوں کے سپنے دیکھنے میں مشغول تھاکہ یاد آیا وطن عزیز میں
مزید پڑھیے


اصل امتحان!!

هفته 17  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
میجر جنرل سکندر مرزا وطن عزیز پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل تھے‘ان کے دادا نوابزادہ منصور علی مرزا بنگال کے آخری نواب تھے‘ نواب سراج الدولہ کیساتھ میر جعفر نے غداری کی تھی‘ جس کے نتیجہ میں انہیں زندگی اور تخت دونوں سے ہاتھ دھونا پڑا‘ میجر جنرل سکندر مرزا میر جعفر کی اولاد میں سے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں ملک کا پہلا سیکرٹری دفاع مقرر کردیا گیا۔سکندر مرزا کی ایوب خان سے بہت زیادہ دوستی تھی۔ مشرقی پاکستان سے مہاجرین کی محفوظ منتقلی میں ناکامی پر بریگیڈیر ایوب خان کیخلاف کورٹ مارشل کا فیصلہ کیا گیا لیکن
مزید پڑھیے


اعمال کا نتیجہ!

اتوار 11  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
شب تاریکی اور ظلم شب بیداری! دفعتاً دھواں سا اٹھا‘ کسی دل جلے کی گور کی مانند وجود بے حس پر عجب کیفیت طاری ہوگئی۔ تاریکی میں ہاتھ موبائل پر پڑا‘کچھ اشعار نظروں سے گزرے اور پھر کیا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ پردہ سکرین پر کئی واقعات دہر چل نکلے اور کہیں کا کہیں پہنچا دیا۔سوچ کے زاویوں پر قابو نہ ہونے کی کیفیت ایسی مماثلت کا نمونہ ہوتی ہے‘کتنے شاعر گزرے‘بڑا نام کمایا‘آج تک شہرت کی بلندیوں پر ستاروں کی مانند چمک دمک رہے ہیں۔ سوال اٹھا:صدیوں کی محرومیوں و مظالم کو کیسے چند سطروں میں
مزید پڑھیے



پنجاب حکومت گرائیں یا بنائیں؟

هفته 10  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
سچ کی تلاش اور جھوٹ کا فریب صدیوں پر محیط ہے‘بقول جون ایلیا ’’ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک...بات نہیں کہی گئی‘بات نہیں سنی گئی‘‘-تاریخ گواہ ہے کہ جس نے سچ بات کہی اور حق سچ پر ڈٹ گیا‘وہ نہ صرف تاریخ رقم کرنے میں کامیاب رہا بلکہ تاریخی کامیابیاں اس کی شجاعت کی محتاج رہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کو صحیح طرح اردو بھی بولنا نہیں آتی تھی مگر وہ سچ بولتے تھے۔ گویا تاریخ آج بھی ان کو سلام پیش کرتی ہے۔ سچ‘جھوٹ اور بہادری میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
مزید پڑھیے


قائد کے سپاہی‘ اسیر ختم نبوت…بشیر نظامی مرحوم

اتوار 04  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
چند سال قبل معروف دفاعی تجزیہ نگار اور تحریک پاکستان کے رہنما میاں عبدالباری مرحوم کے صاحبزادے میجر (ر)معین باری مرحوم کا انٹرویو کیا‘معین باری مرحوم پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور اقتدار کے دوران رکن قومی اسمبلی رہے‘ معین باری مرحوم نے اپنے انٹرویو میں کچھ تحریک پاکستان کے واقعات شامل کروانے کیلئے پاکستان ٹائمز کے کافی پرانے اخبار کا تراشہ دیا۔ اخبار میں ان کا مضمون ادارتی صفحے پر موجود تھا‘ مضمون میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کے دورہ پنجاب کا تفصیلی ذکر تھا کہ جب قائد اعظم پنجاب کے دورے پر نکلے
مزید پڑھیے


2010ء سیلاب کمیشن اور حالیہ ذمہ داران

هفته 03  ستمبر 2022ء
احمد جمال نظامی
قیام پاکستان کے بعد 1950ئ‘ 1956‘ 1957‘ 1973‘ 1976ء ‘ 1978ء ‘ 1988‘ 1992 اور 2010ء میں خطرناک سیلاب آئے‘برصغیر کے اس خطے میں 1922ء سے اب تک تباہ کن سیلاب آتے رہے ہیں‘یہ سیلاب، پنجاب اور سندھ کے دریاؤں میں طغیانی پیدا ہونے اور اس سے متعلقہ ندی نالوں اور دیگر گزرگاہوں کو نقصانات سے دو چار کرتے آرہے ہیں۔کے پی کے‘بلوچستان‘ فاٹا‘ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پنجاب کے بیشتر علاقوں میں ان دریاؤں کے علاوہ پہاڑوں کی برفوں سے پگل کر آنے والا پانی تباہی کا اصل موجب ٹھہرتا ہے۔انڈس کی پٹی جیسے جہلم اور چناب
مزید پڑھیے


چھ گھنٹے

اتوار 28  اگست 2022ء
احمد جمال نظامی
ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کے پیروں تلے زمین کھسک رہی تھی، چٹان کے ٹیلے پر کھڑے اس خاندان کے پانچوں افراد 6 گھنٹے زندگی و موت کی کشمکش میں دعائیں کرتے رہے، تھوڑے فاصلے پر بٹگرام کے مقامی لوگوں کا جم غفیر بے چینی اور شدید اضطراب میں اپنے قدم کبھی دائیں تو کبھی بائیں جانب بڑھا رہا تھا، بے بسی، چیخ و پکار نے قیامت خیز ماحول کا منظر قائم کر رکھا تھا، لوگ یا اللہ خیر، استغفرْللہ، یااللہ مدد، اللہ اکبر اور کلمہ طیبہ کا با آواز بلند ورد کر رہے تھے، چٹان پر موجود خاندان
مزید پڑھیے








اہم خبریں