BN

ارشاد احمد عارف


’’40علمی نشستیں‘‘


خلافت نے ملوکیت کا روپ دھارا اور مسجد و مکتب میں بھی ملوک و سلاطین ظلِ الٰہی پکارے جانے لگے تو خانوادہ نبوتؐ کے تربیت یافتہ علماء و صلحا نے اپنی الگ دنیا بسا لی، سیاست اور روحانیت دو متوازی دھاروں کی صورت الگ الگ رواں دواں،مسلمانوں کی سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو اپنے اقتدار کی شبِ تاریک کو طول دینے کے لیے ریاستی سرمائے، قبائلی عصبیتوں، مکارانہ چالوں اور ظالمانہ تدبیروں کو استعمال کرنے کے ہنر سے آشنا اور دجل و فریب، ترغیب و تحریص وحشت و درندگی کے جملہ اسالیب برتنے کے خوگر
منگل 20  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

اچانک سیلاب‘ غیر متوقع بارشیں

اتوار 28  اگست 2022ء
ارشاد احمد عارف
شدید‘ لگاتار اور تباہ کن بارشوں اور سیلابی ریلوں سے خیبرپختونخوا‘ سرائیکی وسیب‘ سندھ اور بلوچستان میں قیامت صغریٰ برپا ہے‘ ایک ہزار سے زائد انسان‘ ہزاروں جانور‘ لاکھوں ایکڑ رقبے پر موجود فصلیں‘ باغات اور ہزاروں کچے پکے مکانات‘ دکانیں اس آفت کی نذر ہو چکے‘ کئی بستیاں‘ قصبے صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور سڑکوں‘ پلوں‘ ہیڈورکس کا نقصان سوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں (جن کا کام ہی مستقل بنیادوں پر قدرتی آفات سے نمٹنا ہے) کے ہاتھ پائوں پھول چکے ہیں اور جے ایس بروکریج کی ریسرچ کے مطابق 2010ء
مزید پڑھیے


پاکستان اور تاریخی روایت

منگل 23  اگست 2022ء
یوسف عرفان
جنگ آزادی 1857ء تحریک پاکستان کی خشت اول ہے۔ پاکستان کے حصول کی بنیاد 1857ء تا 1900ء کے حالات‘ واقعات اور معاملات نے رکھ دی تھی۔ اس بنیاد کا بیج سرسید احمد خان کی علی گڑھ تحریک نے رکھاجو بعدازاں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام 1906ء اور قیام پاکستان 14 اگست 1947ء کی صورت میں تکمیلی منازل تک پہنچی۔ قائداعظم نے قیام پاکستان کے وقت بجا فرمایا تھا کہ پاکستان علی گڑھ یونیورسٹی کے میدان میں بنا ہے۔ یعنی علی گڑھ کے فارغ التحصیل طلباء اور اساتذہ نے تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا ۔یہ حقیقت ہے کہ
مزید پڑھیے


دوغلا پن (2)

جمعرات 11  اگست 2022ء
ارشاد احمد عارف
بھارت کی پوسٹنگ کے دوران کچھ افسوس واقعات بھی پیش آئے جن کو یاد کر کے آج بھی دل خراب ہوتا ہے۔ان میں نئی دہلی کے تاج ہوٹل میں 2006ء کی ایک شام ایک بھارتی اخبار کا سیمینار آج بھی یاد آتا ہے۔جس میں پوری دنیا سے چیدہ چیدہ سیاسی رہنما بلائے گئے تھے۔برطانیہ سے سابق وزیر اعظم جان میجر ‘ اردن سے ملکہ نور اور پاکستان سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین اور عمران خان تھے۔سیمینار سے کچھ دن پہلے پاکستان ہائی کمیشن کے لوگ یہ دیکھ کر حیران و پریشان رہ گئے کہ ایئر پورٹ سے
مزید پڑھیے


دوغلا پن

منگل 09  اگست 2022ء
ارشاد احمد عارف
ڈاک سے کتابوں کا بنڈل ملا‘ کھولا تو علامہ عبدالستار عاصم نے رائے ریاض حسین کی خود نوشت ’’رائے عامہ‘‘ اور صابر رضا کا مجموعہ کلام ’’بے صوت رنگوں کا شور‘‘ ارسال کیا تھا۔صابر رضا کی شاعری خوب ہے‘ حالات کا نوحہ مگر سچ کہنے کی امنگ‘ ترنگ: جو خون دے کے ملی‘ وہ زمین میری ہے وہ جس میں سانپ پلے‘ آستین میری ہے جو آج تک نہ بکی وہ زبان رکھتا ہوں جو آج تک نہ جھکی وہ جبین میری ہے ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیے ؎ عجیب پاگل مرے قبیلے کے لوگ ہیں جو بھٹکتے پھرتے ہیں تیرگی میں گنوا کے
مزید پڑھیے



یہی شاہکار ہے تیرے ہنر کا؟

بدھ 20 جولائی 2022ء
ارشاد احمد عارف
عرصہ دراز سے یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ ضمنی انتخابات میں ووٹرز حکومت وقت کے امیدوار کو ترجیح دیتے ہیں کہ وہی گلی محلے کے ترقیاتی کام کراتا اور تھانے کچہری کے معاملات نمٹاتا ہے‘ عام انتخابات میں البتہ قومی‘ بین الاقوامی مسائل اور نظریاتی مباحث اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیاسی پنڈت یہ بات بھی زور دے کر کہتے ہیں کہ کامیابی ضمنی انتخابات میں الیکٹ ایبلز کے قدم چومتی اور پولیس و انتظامیہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پنجاب کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے مگر ان سارے بیانیوں کی مٹی پلید کر دی‘ حکومتی وسائل کام
مزید پڑھیے


’’یہ تصور تو ہرگز ہمارا نہیں‘‘

بدھ 25 مئی 2022ء
ارشاد احمد عارف
رات سونے سے قبل ٹی وی چینلز پر پی ٹی آئی رہنمائوں کے گھروں پر پولیس کے کریک ڈائون اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر کے گھر پر پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کی فوٹیج دیکھ کر طبیعت مکدّر ہوئی‘ یہ سوچ کر دماغ چکرایا کہ ہمارے سیاستدانوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور جمہوریت ان کے نزدیک محض حصول اقتدار کا زینہ ہے‘ ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈے سے ایوان اقتدار میں پہنچو اور پھر آئین‘ قانون‘ اقدار و روایات اور سماجی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر وہ سب
مزید پڑھیے


وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا

جمعرات 19 مئی 2022ء
ارشاد احمد عارف
وفاقی دارالحکومت میں سازشوں کا بسیرا روز اول سے ہے اور قیاس آرائیوں کی فراوانی بھی‘ بے یقینی کی جو فصل مگر گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ میں اُگی اورخوب پھلی پھولی وہ ماضی میں شائد و باید۔یہ بے یقینی کا ثمر ہے کہ جو ڈالر فروری میں 174/175پر بآسانی دستیاب تھا اب دو سو روپے میں بھی جس خوش نصیب کو مل جائے وہ پھولا نہیں سماتا‘غضب خدا کا طالبان کے افغانستان میں ڈالر کی قدرو قیمت نوّے پچانوے افغانی سے زیادہ نہیں مگر پاکستان میں دو گنا زائد‘ اقبالؒ نے بے یقینی کو غلامی سے بدتر بتایا
مزید پڑھیے


عمران تو ہو گا

منگل 17 مئی 2022ء
ارشاد احمد عارف
یہ پہلی بار ہے کہ قوم داد دینے کو بے تاب ہے مگر وہ ہر فن مولا پولیٹیکل انجینئر کہیں دکھائی دیتا ہے نہ سنائی‘ جس نے ایک ’’ناتجربہ کار‘‘ اور ’’ناکردہ کار‘‘ حکومت کو رخصت کر کے ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ‘‘اکٹھا کیا ’’بھان متی کا کنبہ جوڑا‘ ‘ اور پاکستان کی حکمرانی سونپ دی۔ اس تجربہ کار کنبے کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ پٹرول کی قیمت بڑھائے یا برقرار رکھے۔ آئی ایم ایف کی مان کر سبسڈیز کا خاتمہ کرے یا سابقہ حکومت کی معاشی پالیسیاں برقرار رکھ
مزید پڑھیے


خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

منگل 10 مئی 2022ء
ارشاد احمد عارف
شدید محاذ آرائی اور ہیجانی کیفیت میں ماننا مشکل ہے مگر حالات پر سیاستدانوں کی گرفت رفتہ رفتہ کمزور پڑ رہی ہے اور جمہوری نظام سے عامۃ الناس کا اعتماد و اعتبار اٹھنے لگا ہے۔ جمہوریت کی یہ قسم صرف پاکستان میں رائج ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن کے سرکردہ رہنما ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں نہ ایک دوسرے سے مکالمہ اور تبادلہ خیال کے روادار۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو پیپلزپارٹی اور اس کی مخالف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مابین شدید سیاسی مخاصمت تھی۔ اپوزیشن ذوالفقار علی بھٹو
مزید پڑھیے








اہم خبریں