BN

ارشاد احمد عارف

چومکھی


عمران خان کے لیے مشکلات بہت ہیں۔ مخالف سیاستدانوں کی مزاحمت کو کڑے احتساب کے عمل سے غیر موثر کیا جا سکتا ہے مگر مُنہ زور بیورو کریسی‘ ٹیکس خور صنعت کار و تاجر اور ترقیاتی فنڈز کے نام پر دیہاڑیاں لگانے اور اپنے اپنے حلقہ میں مرضی کے پٹواری‘ تھانیدار اور ڈی پی او تعینات کرانے کے عادی عوامی نمائندوں کامقابلہ؟ اپنے دعوئوں اور وعدوں پر عمل کریں تو یہ بلائیں آڑے آتی ہیں‘ نہ کریں تو عوام‘ میڈیا‘ انصافی کارکن اور سیاسی مخالفین مذاق اڑاتے ہیں۔ ؎ دوگونہ عذاب
هفته 13 اکتوبر 2018ء

ہوش کے ناخن

جمعه 12 اکتوبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی موجودہ نیب سے دشمنی قابل فہم ہے کہ ان دنوں لاہور اور کراچی میں دونوں جماعتوں کے بڑے بڑے لیڈر اس قومی ادارے کی زد میں ہیں اور ایسے ایسوں کی طلبی ہو رہی ہے کہ جن کے روبرو نیب کے سربراہ کورنش بجا لاتے تھے۔ انہیں خود بھی یقین نہیں آ رہا کہ یہ کیا اور کیوں ہو رہا ہے ؎ ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں کتاب مبین میں اسے دنوں کا الٹ پھیر قرار دیا گیا ہے۔ نیب سے حسن سلوک احتساب کی
مزید پڑھیے


عفوو درگزر یا احتساب

جمعرات 11 اکتوبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
انقلاب کے بعد ایرانی حکومت نے شاہ کے وفاداروں اور عوام دشمن سرگرمیوں میں ملوث سابقہ حکومتی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا، گرفتاریاں ہوئیں اور سرسری سماعت کی عدالتوں کے ذریعے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں سنائی گئیں تو ایک اخبار نویس نے آیت اللہ خمینی سے دوران انٹرویو سوال کیا کہ آپ اپنے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بجائے عفو و درگزر سے کام کیوں نہیں لیتے؟ آپ کے جدامجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فتح مکہ کے بعد عام معافی کا اعلان کیا تھا مگر آپ نے جیل
مزید پڑھیے


تیری میری اک جندڑی

منگل 09 اکتوبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
میاں شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) سے زیادہ پیپلز پارٹی تکلیف میں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سے لے کر سید خورشید شاہ تک ہر خوردو کلاں نے مذمت کی‘ بات قابل فہم ہے اگر میاں شہباز شریف ایسا نسبتاً بہتر امیج کا حکمران قانون کی گرفت میں آ گیا تو جن کی شہرت ہی مسٹر ٹین پرسنٹ سے شروع‘ مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ پہ ختم‘ وہ کیوں کر بچ رہیں گے‘ بکرے کی ماں کب تک خیر منائیگی۔ میاں شہباز شریف پر الزام اختیارات سے تجاوز‘ اداروں میں مداخلت اور من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کا ہے‘
مزید پڑھیے


تھا یقین کہ …

اتوار 07 اکتوبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
میاں شہباز شریف کی گرفتاری سے رانا مشہود کا وہ دعویٰ تو باطل ثابت ہو گیا کہ ’’ شریف خاندان کے خلاف مقدمات اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کا نتیجہ ہیں اور میاں شہباز شریف کی کوششوں سے اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی دور ہو چکی‘ چھوٹے میاں صاحب کے وزیر اعظم نہ بننے پر مقتدر حلقے پچھتاوے کا شکار ہیں اور اگلے دو چار ماہ میں مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے‘‘۔ بجا کہ شریف خاندان کے بیورو کریسی‘ سیاسی اشرافیہ اور دیگر حلقوں سے روابط گہرے ہیں‘ جوڑ توڑ کی صلاحیت بے پناہ ہے اور
مزید پڑھیے


کاٹھ کی ہنڈیا

جمعه 05 اکتوبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
پنجاب کے سابق وزیر رانا مشہود کے بیان سے لے کر تجاوزات کے خاتمے کی مہم تک ہر موضوع دامن کو حریفانہ کھینچتا ہے ؎ زفرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جاایں جااست (سر کی مانگ سے پائوں تک جہاں بھی دیکھتا ہوں حسن سراپا دل کے دامن کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے) سیاسی تجاوزات کے خاتمے کی مہم دیر سے چلی مگر کامیابی کی طرف گامزن ہے کچھ قبضہ گیر قانون کی گرفت میں آ چکے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔ رانا مشہود سے بہت دن گزرے ملاقات نہیں ہوئی
مزید پڑھیے


بات چل نکلی ہے

منگل 02 اکتوبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
شاہ محمود قریشی کی جنرل اسمبلی میں تقریر سن کر صرف وہ مایوس ذہن لوگ جل بھن کر رہ گئے پاکستان سے جو متنفر ہیں‘قومی زبان اردو جنہیں بھاتی نہیں اور بھارت کی بدخوئی سن کر جن کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ عام پاکستانی خوش ہے اور طویل عرصہ بعد وہ اپنے آپ پر‘ اپنی پاکستانی شناخت اور قومی زبان پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے اقوام عالم کو باور کرایا کہ ’’ہم ‘‘بھی مُنہ میں زبان رکھتے ہیںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے۔ گونگے ہیں نہ اظہار کے سلیقے سے محروم۔ وہ
مزید پڑھیے


پسپائی کا ریکارڈ

جمعرات 27  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
کوئی نیا ریکارڈ بنانے کا ارادہ ہے کیا؟ یہ جلد بازی ہے، ناقص فیصلہ سازی یا استقامت و پختگی کا فقدان؟ ایک دن فیصلہ ہوتا ہے اور دوسرے چوتھے دن تبدیل۔ جمہوریت میں اپنی ہر غلط سلط بات پر ڈٹ جانا عیب ہے اور غلطی واضح ہونے پر مؤقف تبدیل کرنا خوبی ہے۔ مگر یہ دائم کارآمد نسخہ نہیں، گورنر بلوچستان کے لیے ڈاکٹر جوگیزئی کی نامزدگی سے لے کر ریڈیو پاکستان کی عمارت لیز پر دینے کے فیصلے تک، بار بار پسپائی اور ہر بار جگ ہنسائی؟۔ وزیروں،مشیروں کا تو پتہ نہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں اور عمران
مزید پڑھیے


ایہہ گلاں ہن کرن دیاں نئیں

منگل 25  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
یہ محض خود اعتمادی ہے یا اپوزیشن کو عوام کے سامنے شرمسار کرنے کا سیاسی حربہ؟ حکومت جتنی جلد 2018ء کے عام انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے کمشن سازی پر تیار ہوئی اتنی دیر میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف تو دوران اقتدار اپوزیشن کی بات سننے کے روادار نہ تھے ‘ماننا اور کوئی قدم اٹھانا تو دور کی بات ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا تو میاں نواز شریف نے سنی ان سنی کر دی‘ الزام صرف عمران خان نہیں لگا رہا تھا آصف علی زرداری نے اسے
مزید پڑھیے


جیسے کو تیسا

اتوار 23  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان نے ایک جملے میں بھارت کی اصلیت اور مودی کی ذہنیت کھول کر رکھ دی۔عمران خان نے نریندر مودی کو مذاکرات کی دعوت دی‘ اچھا کیا‘ پاکستان کے مفاہمانہ طرز عمل اور امن پسندانہ رویے کی عکاسی ہوئی۔ اگر خان اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ بھارت مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس کی بات سنے گا تو ایک ہی دن میں یہ خواب چکنا چور گیا۔ برہمن مزاج اور عیارانہ سیاست کو اقبالؒ سمجھے یا قائد اعظمؒ۔ اقبال نے تو سیاست سے بھی آگے سماجی و کاروباری رویوّں اور مذہبی انداز فکر تک برہمن
مزید پڑھیے