BN

ارشاد احمد عارف



مومن کی فراست


آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر مخلص مگر جذباتی سیاسی کارکن ہیں سیز فائر لائن توڑنے کی تجویز ان کے اخلاص اور جذباتیت کی مظہر ہے۔ عمران خان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھی جذباتی فیصلے کرتا ہے مگر پہلے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے اجلاس اور جمعہ کے روز مظفر آباد کے جلسہ عام میں فاروق حیدر کے اکسانے پر وزیر اعظم عمران خان طرح دے گئے‘ سیز فائر لائن توڑنے کے مطالبے پر کہا تو یہ کہ’’ فی الحالی کوئی اس بارے میں نہ سوچے‘ کشمیری عوام میری نیو یارک سے
اتوار 15  ستمبر 2019ء

ڈیل اور کشتی کا بوجھ

جمعه 13  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں اور دونوں طرف سے تردید و وضاحت کے باوجود لوگ یقین کرنے لگے ہیں‘ عمران خان کی حکومت اگر ایک سال کے دوران کچھ نیا کر دکھاتی‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور دوست نوازی و اقربا پوری پر نہ سہی‘ پولیس گردی پر قابو پا لیتی‘ خیبر پختونخوا کی طرح عام آدمی کو تھانے اور پٹوار خانے میں عزت ملتی‘ بغیر رشوت و سفارش لوگوں کے جائز کام ہوتے اور آئے روز پولیس تشدد کا واقعہ منظر عام پر نہ آتا تو کسی کو نواز شریف و زرداری سے دلچسپی ہوتی نہ
مزید پڑھیے


کیا میں قابل عزت ہوں

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
پنجاب پولیس کی کارگزاری اور عوامی شکایات کے حوالے سے میرے دو کالموں پر ردعمل خاصہ خوشگوار رہا‘ سابق پولیس افسر عزیز اللہ خان نے جو اب ماشاء اللہ وکالت کے شعبے سے منسلک ہیں‘ تفصیلی خط میں اپنانقطہ نظر پیش کیا جو ماتحت اہلکاروں کے دل کی آواز ہے۔ لکھتے ہیں: ’’37 سالہ پولیس سروس میں بے تحاشہ واقعات سے واسطہ پڑا ‘عوام کی پولیس سے موروثی نفرت بھی دیکھی اور افسران کا ماتحتوں سے بْرا رویہ بھی دیکھا اور سہا‘اپنی سروس اور تجربہ کی روشنی میں پولیس ڈپارٹمنٹ کی کچھ خامیاں شیئرکر رہا ہوں جس کی وجہ سے عوام
مزید پڑھیے


نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

منگل 10  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
9/11کے بعد پاکستان میں کارگل کے ہیرو جنرل پرویز مشرف کی تو ٹانگیں کانپ رہی تھیں کہ کہیں امریکہ پاکستان پر نہ چڑھ دوڑے مگر ہمارے تھیٹرز میں لطیفے جنم لے رہے تھے۔ امان اللہ سے جو آج کل بستر علالت پر ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے، امریکہ پر حملہ ہوا تو ڈرامے کے دوران ساتھی فنکار نے پوچھا ’’اگر یہ واقعہ پاکستان میں ہوتا تو ہماری حکومت کیا کرتی؟‘‘ امان اللہ نے ترنت جواب دیا، ’’کرنا کیا تھا، ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی‘‘۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔ یہ واقعہ مجھے رحیم یار خان، لاہور اور
مزید پڑھیے


دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے

اتوار 08  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
34میں سے 27وزارتوں کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے ریڈ لیٹر کا اجراء حکومت کی ایک سالہ ناقص کارگزاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مطلب یہ کہ چونتیس میں سے ستائیس یعنی تین چوتھائی سے زائد وزیر نکمے‘ نااہل اور کام چور ہیںجو اپنے ماتحتوں سے کام لے سکے نہ اپنا سکّہ جما سکے۔ اپوزیشن یا میڈیا یہ بات کہے تو حکمرانوں کو مرچیں لگتی ہیں‘منفی پروپیگنڈا قرار دیا جاتا ہے اور تبدیلی کی علمبردار حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام لگتا ہے مگر وزیر اعظم عمران خان اگر ستائیس وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کرتے ہیں
مزید پڑھیے




کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے

جمعه 06  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
صلاح الدین کے قتل عمد پر رحیم یار خاں پولیس اور آر پی او بہاولپور عمران محمود کے بیانات دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ’’پوری دال ہی کالی ہے ‘‘کے غماز ہیں‘ یہ خدا ہی جانتا ہے کہ پولیس افسران و اہلکارقاتل کی پردہ پوشی کر رہے ہیں یا کسی طاقتور ‘ بااثر اور مالدار گینگ کی؟ ع کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے حبیب بنک شاہی روڈ رحیم یار خان کی جس برانچ سے صلاح الدین دوران واردات پکڑا گیا وہ کسی ویرانے میں نہیں۔ صلاح الدین اے ٹی ایم کیبن میں گھسا تو
مزید پڑھیے


سبحان اللہ

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
کوئی مانے نہ مانے احتساب بیورو کریسی اور کاروباری برادری کے روبرو سرنگوں ہو گیا‘ دیکھیں سیاستدانوں کے حضور کب کورنش بجا لاتا ہے؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔ جنرل پرویز مشرف میاں نواز شریف کو ایوان اقتدار سے بے دخل کر کے اسلام آباد کے تخت پر فروکش ہوئے تواپنے سات نکاتی ایجنڈے میں احتساب بلکہ بلا تفریق احتساب کو سرفہرست رکھا۔ اُصول پسند‘ دیانتدار اور دبنگ جنرل سید امجد کو احتساب بیورو کا سربراہ مقرر کیا اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ سید امجد کی شہرت ایسی تھی کہ طاقتور لوگوں کا پتہ پانی ہونے لگا۔ مجھے یاد
مزید پڑھیے


زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد

اتوار 01  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
قوم نے آدھ گھنٹہ گھر‘ دفتر اوردکان سے باہر گزار کر مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کر لیا‘ اگلے جمعہ کوئی اور سرگرمی بہتر ہو گی‘ اگر حکومتی تھنک ٹینک سوچنے سے قاصر ہیں تو اپوزیشن یا میڈیا سے پوچھ لیں‘ یکسانیت نہیں ہونی چاہیے کہ مفید نہیں۔ مگر یہ علامتی اظہار یکجہتی ہے اب کچھ ٹھوس کام نظر آنا چاہیے۔ 5اگست کے بعد سے عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ملک میں ہیں اور سربراہان حکومت و وزراء خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطوں میں مصروف۔ اپوزیشن کا اعتراض درست ہے کہ جموں و کشمیر میں
مزید پڑھیے


مجھ سا جہاں میں کوئی نادان بھی نہ ہو

جمعه 30  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
طارق چودھری نے پتے کی بات کی۔ کہا ’’ایک جنگ بتا دیں جو کسی ریاست نے مضبوط معیشت اورخوشحالی کی بنا پر جیتی ہو‘‘ مشتاق چودھری کے اعزاز میں برادرم حفیظ اللہ نیازی نے عشائیہ کا اہتمام کیا تھا اور مخدوم جاوید ہاشمی و مجیب الرحمن شامی سمیت طارق چودھری ‘ میاں خالد اور مشتاق چودھری کے بیشتراحباب شریک محفل تھے۔ دگرگوںپاکستانی معیشت اور بھارتی جارحیت کے خطرات ایک ساتھ زیر بحث تھے۔ ان دنوں بھارتی شردھالو اور عمران مخالف حلقے ایک ہی بات شد ومد سے کہہ رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی پاکستان کا کیا بنے
مزید پڑھیے


ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘تم کو بھی لے ڈوبیں گے

منگل 27  اگست 2019ء
ارشاد احمد عارف
بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے زمانہ کچھ نہیں کرتا‘ کبھی‘ کسی کے لئے الفاظ چبائے بغیر عمران خان نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو نیو کلیئر پاکستان کے وزیر اعظم اور ایک کروڑ بیس لاکھ کشمیریوں کے ’’سفیر‘‘ کو کہنا چاہیے۔ قوم سے عمران خان کے خطاب میں ٹیپ کا بند یہ تھا ’’کوئی ہمارے ساتھ کھڑا ہو نہ ہو ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘ ہم آخری سانس تک کشمیریوں کا ساتھ دیں گے‘‘ وزیر اعظم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا‘ بین الاقوامی برادری اور طاقتور ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ کو اس کے فرائض یاد
مزید پڑھیے