ارشاد احمد عارف

خشک حکمرانی

منگل 14  اگست 2018ء
نو منتخب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس انفرادیت کا حامل رہا۔ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے حلف نہ اٹھانے اور عوامی تحریک برپا کرنے کی سعی رائیگاں گئی۔ اپوزیشن نے ارکانِ اسمبلی کو کالی پٹیاں باندھ کر شرکت کی ترغیب دی مگر جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ(ن) کے کسی رکن نے بھی مان کر نہ دیا۔ جن احباب کا خیال تھا کہ پہلے اجلاس میں مشتعل اپوزیشن تحریک انصاف کا تیا پانچہ کر دے گی اور عمران خان کے اڑیں گے پرزے، انہیں مایوسی ہوئی، ہونی تھی کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی میں سے کوئی بھی جمہوری نظام
مزید پڑھیے


دھاندلی

اتوار 05  اگست 2018ء
غلام عباس پیپلز پارٹی کے جیالے تھے برسوں قبل عمران خان کو پیارے ہو گئے۔ کل کونسل آف نیشنل افیئرز کی ہفتہ وار نشست میں انہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف اور میاں نواز شریف دور کے وزیر قانون زاہد حامد کے صاحبزادے علی زاہد کے بالمقابل انتخابی معرکے کی کتھا سنائی۔ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی سے مل کر پورے ملک میں الیکشن چوری ہونے کا شور مچا رہی ہے اور مورد الزام خلائی مخلوق کو ٹھہرایا جا رہا ہے مگر غلام عباس نے ریٹرننگ افسروں کے دستخطوں سے جاری ہونے والی دستاویزات دکھا کر ثابت کیا کہ
مزید پڑھیے


مودی اور موذی مرض

جمعه 03  اگست 2018ء
تحریک انصاف نے اچھا کیا‘حلف برداری کی تقریب سادگی سے کرنے کا اعلان کر دیا۔ تام جھام سے زیادہ خرابی یہ نظر آ رہی تھی کہ عمران خان کے اردگرد موجود بعض لنڈے کے لبرلز ان سے وہ غلطی نہ کرا دیں جو نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی صورت میں میاں نواز شریف سے ہوئی اور ستم رسیدہ کشمیریوں کے علاوہ پاکستانی عوام کے دل و دماغ کو چھلنی کر گئی۔ پاکستان بھارت سے دوستانہ تعلقات کا خواہش مند ہے‘ قائد اعظمؒ نے پاک و ہند روابط کو امریکہ ‘کینیڈا تعلقات سے تشبیہ دی تھی‘ وہ
مزید پڑھیے


سیاست کے بدلتے تقاضے

جمعرات 02  اگست 2018ء
دھاندلی کے الزامات تو اب قصہ ماضی ہیں‘ مسلم لیگ(ن) پیپلز پارٹی‘ ایم ایم اے اور ایم کیو ایم نے تحفظات کے باوجود جب اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ کر لیا تو دھاندلی اب وہ لکیر ہے جو سانپ کے نکل جانے کے بعد دیوانے پیٹتے ہیں۔ ؎ خیال زلف دوتا میں نصیر پیٹا کر گیا ہے سانپ نکل تو لکیر پیٹا کر مسلم لیگ ن ابتدائی لغزش کے بعد سنبھل گئی اور اس نے احتجاجی تحریک کے اعلان پر نظرثانی کے علاوہ سیانوں کی یہ بات بھی مان لی کہ پنجاب میں حکومت سازی کی خام خیالی میں
مزید پڑھیے


غلطی کی گنجائش نشتہ

منگل 31 جولائی 2018ء
مولانا فضل الرحمن کی تجویز اس قدر غیر حقیقت پسندانہ تھی کہ اپنے منتخب اراکین کے علاوہ جماعت اسلامی کی خوشدلانہ تائید و حمایت حاصل نہ کرسکی۔ پیپلزپارٹی نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا، نام نہاد اے پی سی میں شریک نہ ہوئی، مسلم لیگ ن کی قیادت زمینی حقائق کا اندازہ کئے بغیر شریک ہو گئی مگر جلد اسے ادراک ہوا کہ جو لوگ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے خرچ کر کے منتخب ہوئے وہ اسمبلیوں کے بائیکاٹ اور نئے سرے سے انتخابی اکھاڑے میں اترنے پر آمادہ نہیں۔2014ء میں عمران خان نے ایک سال بعد استعفوں کی کال دی تو
مزید پڑھیے


یہ ’’اقتدار‘‘ نہیں آساں

هفته 28 جولائی 2018ء
انتخابی نتائج میری توقع کے مطابق ہیں جن لوگوں کا خیال تھا کہ اس ملک کے ستم رسیدہ عوام کی دعائیں قبول ہوں گی نہ تمنائیں بر آئیں گی اور نہ ان کے ووٹ کو عزت ملے گی ‘انہیں مسلم لیگ(ن) کی دوبارہ جیت کا شبہ اور ہنگ پارلیمنٹ کا اندیشہ تھا۔مسلم لیگ (ن) نے اپنی شکست کی پہلی اینٹ اس روز رکھی جب میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کے اسباب ‘کرپشن کے الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے فوج‘ عدلیہ اور خفیہ اداروں کے خلاف مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا اور پارٹی کے اندر کسی کو
مزید پڑھیے


فرض

منگل 24 جولائی 2018ء
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے انتخابی مہم انجام کو پہنچی اور مستونگ‘ پشاور‘ بنوں اور ڈیرہ اسمٰعیل خان کے اندوہناک واقعات کے باوجود انتخابات کے التواکی نوبت نہ آئی۔خدشات بہت تھے اور شکوک و شبہات پیدا کرنے والے فعال و سرگرم مگر بالآخر سب افواہیں اور قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں ۔ 2013ء کی طرح یہ انتخابات نگران حکومتوں نے کرائے ‘جو مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مشاورت سے وجود میں آئیں مگر ان پر تینوں جماعتوں نے اعتراض کیا۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب‘ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اور پیپلز پارٹی وفاقی حکومت و صوبائی
مزید پڑھیے


اندیشہ و خطر

هفته 21 جولائی 2018ء
ایک طرف غضب کا پروپیگنڈا کہ مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر الیکشن جیت کر اقتدار میں آ رہی ہے، دوسری طرف نگران حکومت پر غصہ کہ وہ لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے میں ناکام ہے،آدمی کس بات کومانے۔ مرکز اور پنجاب میں نگران حکومتوں کی تشکیل مسلم لیگ کے مشورے سے ہوئی اور یہ حکومتیں اس فارمولے کے تحت وجود میں آئیں جو 2013ء میں اپنایا گیا۔ پنجاب کی نگران حکومت کو یہ کریڈٹ بہرحال جاتا ہے کہ وہ شریف خاندان کے ہاتھ کی چھڑی، جیب کی گھڑی نہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی تمام تر مسکینی،نرم مزاجی اور
مزید پڑھیے


بنا ہے عیش تجمل حسین خان کے لیے

بدھ 18 جولائی 2018ء
نگران حکومت نے میاں نواز شریف کے مقدمہ کی سماعت اڈیالہ جیل کے بجائے جوڈیشل کمپلیکس میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا‘ اچھا کیا۔ سکیورٹی کا مسئلہ اگرچہ رہے گا اور حکومت کو میاں نواز شریف کی آمدورفت کے دوران خصوصی حفاظتی انتظامات کرنے پڑیں گے‘ جس کا بوجھ قومی خزانے پر پڑیگا ‘لیکن کوئی بات نہیں‘ قومی خزانہ ہے ہی اہم شخصیات پر لٹانے کے لیے ۔اقتدار میں ہوں تو پروٹوکول کا خرچہ اور اپوزیشن میں ہوں یا سنگین مقدمات میں ملوث ‘مہنگی سکیورٹی کا انتظام ریاست کے ذمے ۔ میاں نواز شریف کو کھلی عدالت سے زیادہ دلچسپی
مزید پڑھیے


اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح

پیر 16 جولائی 2018ء
اڈیالہ جیل پہنچنے کے بیس گھنٹے بعد والدہ محترمہ‘ بھائی اور دیگر افراد خانہ سے ملاقات میں میاں صاحب نے وہ ساری شکائتیں کیں جو 1999ء میں اٹک قلعہ اور لانڈھی جیل میں قیام کے دوران ان کی زبان پر تھیں۔ گرمی لگتی ہے‘ مچھر کاٹتے ہیں اور واش روم بدبو دار ہیں۔ دنیا جہان کی سہولتوں سے آراستہ محلات میں بسنے والوں کو نان ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں مخملیں بستر کے بجائے معمولی گدے پر رات بسر کرنی پڑے تو شکایت فطری ہے۔ لیکن ایک لیڈر جس کا دل قومی درد سے معمور اور دماغ سول بالادستی کے
مزید پڑھیے