ارشاد احمد عارف


دانائی یاحب الوطنی کا امتحان


بدھ کی شام دھرنا کے شرکاء سے مولانا فضل الرحمن کا خطاب اندرونی ہیجان‘ اضطراب اور مایوسی کا شاہکار تھا‘ تقریر میں ربط مفقود تھا اور مزاج پر برہمی کا غلبہ۔ سبب وہ خود جانتے ہیں یا ان کے قریبی ساتھی‘ اتحادیوں نے انہیں مایوس کیا اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ مولانا کی شہرت ایک زیرک‘ عملیت پسند اور موقع شناس مذہبی سیاستدان کی ہے۔ وہ اپنے قریبی مسلکی حلقے کے علاوہ کہیں مذہبی معاملات کو سیاسی گفتگو کا موضوع بناتے ہیں نہ مذہبی کارڈ کو استعمال کرنے کاتاثر دیتے ہیں‘ بدھ کی شام
جمعه 08 نومبر 2019ء

تبدیلی

جمعرات 07 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
پاکستان میں تبدیلی آ رہی ہے‘ آہستہ آہستہ خراماں خراماں‘ مشاہدہ مگر وہ کر سکتے ہیں جن کے دل و دماغ پر تعصب کے جالے ہیں نہ آنکھوں میں تنگ نظری کا خمار۔ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان میں پندرہ لاکھ افراد کا ہجوم لانے کی شرلی چھوڑی تو سیاست اور میڈیا کے بڑے بڑے جغادری ایمان لے آئے۔ وہ بھی جنہیں اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام پر یقین نہ پیغمبر آخر الزمانؐ کے فرمودات پر آمناً و صدقناً کہنے کی توفیق‘ مولانا کے اعداد و شمار کو انہوں نے سچ مانا اور ایمان بالغیب کی نادرمثال قائم کی ‘مولانا سے
مزید پڑھیے


سول بالادستی کا جنازہ

اتوار 03 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
کان پک گئے تھے یہ سن سن کر کہ وسطی پنجاب اسٹیبلشمنٹ سے سخت شاکی، بہت ناراض ہے‘ پہلی بار وسطی پنجاب میں بھی فوج کے حوالے سے وہی جذبات جنم لے رہے ہیں جن کا اظہار خیبر پختونخواہ ‘ بلوچستان کے قوم پرست برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں‘ یہ پروپیگنڈا بھی عروج پر تھا کہ پنجاب کے عوام عمران خان کی حکومت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اگر مسلم لیگ نے جرأت نہ دکھائی تو قیادت کے بغیر شتر بے مہار عوامی تحریک جنم لے گی، جو سب کچھ بہا لے جائے
مزید پڑھیے


مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے

جمعه 01 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
قدرت موقع ہر ایک کو عطا کرتی ہے‘ بھر پور فائدہ سب نہیں اٹھاتے‘ قدرت کا اشارہ سمجھنے والے فائدے میں رہتے ہیں۔ 2014ء میں ایک سو چھبیس دن کے دھرنے سے تحریک انصاف کا جان چھڑانا مشکل ہو گیا تھا۔تذبذب سے عمران خان دوچار تھے ڈاکٹر طاہر القادری سیانے نکلے ‘پہلے ہی حالات کا رخ بھانپ کر بھکر میں ہونے والے ایک ضمنی انتخاب میں مصروف ہو گئے‘ ایک موقع دونوں کو قدرت نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی صورت میں فراہم کیا تھا‘ فائدہ نہ اٹھا سکے ‘اب کسی طرف سے فیس سیونگ کی توقع تھی نہ یکطرفہ
مزید پڑھیے


منحصر ’’دھرنے‘‘پہ ہو جس کی اُمید

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملنے والے ریلیف سے شریف خاندان اور مسلم لیگ(ن) کے حوصلے بلند ہوئے ‘مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے وابستہ اُمیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ توقعات یہ وابستہ کی گئی تھیں کہ مولانا ‘سندھ اور بلوچستان سے کم از کم ڈیڑھ دو لاکھ جانثار کارکنوں کے ساتھ جب فاتحانہ پنجاب میں داخل ہوں گے تو بزدار حکومت پر کپکپی طاری ہو جائے گی‘ وہ کوٹ سبزل کے مقام پر کنٹینر لگا کر پرجوش مذہبی کارکنوں کو روکنے کی کوشش کرے گی‘ تصادم ہو گا اور مشتعل کارکن کشتوں کے پشتے لگا دیں
مزید پڑھیے



مفاہمت

منگل 29 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کا کاررواں بالآخر چل پڑا‘ کراچی میں شو اگرچہ متاثر کن نہ تھا اور مسلم لیگ و پیپلز پارٹی کی شرکت علامتی‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز تو خیر ہسپتال میں ہیں اور میاں شہباز شریف تیماری میں مصروف مگر احسن اقبال نے بھی شرکت کی زحمت گوارا نہ کی‘ محمد زبیر پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کی طرح شلجموں سے مٹی جھاڑنے آئے تھے۔ جھاڑ کر چلے گئے۔ پیپلز پارٹی چاہتی تو بلاول بھٹو نہ سہی کسی قابل ذکر لیڈر کو نمائندگی کے لئے بھیج سکتی تھی‘ مگر رضا ربانی آئے‘ جو پیپلز پارٹی میں
مزید پڑھیے


بیماری پر سیاست

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
اللہ تعالیٰ میاں نواز شریف کو صحت عطا فرمائے‘ تادیرسلامت رکھے‘ وہ ایک بڑے خاندان کے سربراہ ہیں‘ ملک کے مقبول عوامی رہنما اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ جس پر 2018ء کے انتخابات میں سوا کروڑ ووٹروں نے اعتماد کیا۔ کسی سیاسی لیڈر کی بیماری پر سیاست نہ ہو؟پاکستان جیسے نیم خواندہ اور سماجی طور پسماندہ معاشرے میں ممکن ہی نہیں‘ یہاں تو مرے ماں باپ کے جنازے اور قبر پر سیاست کا رواج ہے اور لوگ برسوں نہیں عشروں تک ماں باپ‘ دادا‘ نانا کے نام پر ووٹ مانگتے اور مراد پاتے ہیں‘ جذباتی عوام قبر کو ووٹ دینے
مزید پڑھیے


جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
31اکتوبر دور نہیں‘ اکرم درانی‘ مولانا مفتی کفائت اللہ اور دیگر رہنما اب تک دھرنے اور لاک ڈائون کو حتمی قرار دے رہے ہیں مگر مولانا فضل الرحمن قومی و بین الاقوامی میڈیا اور مغربی سفارت کاروں کے روبرو صرف لانگ مارچ کی بات کر رہے ہیں ۔دھرنے اور لاک ڈائون کو وہ میڈیا کی اختراع قرار دیتے ہیں‘ مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومتی ترجمان کی طرف سے لانگ مارچ کی مشروط اجازت دینے کے بیان پر محتاط ردعمل دیا‘ کہا کہ ہم قانون کے دائرے میں رہ کر لانگ مارچ کریں گے‘ دھرنا اور لاک ڈائون کے ذکر سے
مزید پڑھیے


کھیل ختم‘ پیسہ ہضم

منگل 22 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کو یہ کریڈٹ تو جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی ریاست اور سیاست کے بیانئے سے مسئلہ کشمیر‘ کرپشن اور احتساب کو بے دخل کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کی جگہ مولانا کا آزادی مارچ اور دھرنا زیر بحث ہے اور کرپشن و احتساب کا ذکر صرف عمران خان کی تقریروں میں ملتا ہے‘ میڈیا پر لانگ مارچ اور دھرنے کا چرچا ہے۔ نجی محفلوں میں موضوع گفتگو اب سرینگر ‘ صورہ اور شوپیاں کی صورت حال نہیں ‘ اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کی تیاریاں اور مسلم لیگ ن و پیپلز پارٹی کی نیمے دروں‘ نیمے
مزید پڑھیے


یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہو کر

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کو ناراض نہیں خوش ہونا چاہیے‘ حکمران بالآخر اُن سے رابطے اور بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہیں‘ مذاکراتی کمیٹی کے ذریعے صرف بات چیت نہیں وزیر اعظم عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے مابین ٹیلی فونک گفتگو ہو گی‘ حزب اختلاف کی ایک جماعت کو جس کے پارلیمنٹ میں درجن بھر ارکان ہیں اور کیا چاہیے؟ مولانا کی سیاسی اہمیت حکومت نے تسلیم کر لی۔ عمران خان مولانا کا نام سننے کے روادار نہ تھے‘ اب بات کرنے پر آمادہ ہیں‘ خدا نے چاہا تو معقول مطالبات بھی مانے جائیں گے اور سودے بازی کے حق
مزید پڑھیے