BN

ارشاد احمد عارف


متحدہ مسلم لیگ۔مینڈکوں کی پنسیری


لاہور کے اخبار نویس میجر(ر) رشید وڑائچ سے بخوبی واقف ہیں‘ وہی میجر(رشید) جنہوں نے اپنے گھر کے باہر ’’مٹ جائیگی مخلوق تو انصاف کرو گے‘‘ کا جہازی سائن بورڈ آویزاں کر کے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کو نواز شریف حکومت کے خاتمے کی ترغیب دی‘ زندگی نے جنرل آصف نواز سے وفا نہ کی تو میجر (ر) رشید مرحوم کی یہ خواہش 1993ء میں غلام اسحق خان نے پوری کی‘ میجر صاحب مزے کے آدمی تھے۔ انہوں نے ایک جماعت بھی بنا رکھی تھی‘ حزب اللہ‘ جس کے خود چیئرمین‘ صدر‘ سیکرٹری جنرل کرتا دھرتا سب
اتوار 19 جولائی 2020ء

جدوجہد آزادی میں ہندو اکثریت کا کردار

جمعه 17 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
مولانا غلام رسول مہر نے اپنی سوانح حیات میں قیام پاکستان سے قبل تحریک آزادی میں کانگریسی قیادت اور انتہا پسند ہندو اکثریت کی ذہنیت کی تصویر کشی کی ہے جو ان دانشوروں ‘ تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں کے لئے مشعل راہ ہے جو آج بھی نظریہ پاکستان کی حقانیت کے منکر اور بھارت کی محبت میں مبتلا ہیں‘مہر صاحب لکھتے ہیں۔ میں نے جب صحافت شروع کی تو تحریک عدم تعاون اور ترک موالات عروج پر تھے۔ میں نے ان تحریکوں میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ میں نے صحافت میں ابتدا ہی سے مسائل سلجھا کر پیش کرنے کی طرح
مزید پڑھیے


پریشانی کس بات کی؟

جمعرات 16 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
بلا شبہ معاشی محاذ پر موجودہ حکومت کوئی کارنامہ انجام دینا تو درکنار‘ سابقہ قومی شرح نمو کو بھی برقرار نہیں رکھ سکی‘ کورونا نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور گھٹنوں کے بل جامد معیشت زمین بوس ہو گئی‘ لیکن کئی محاذوں پر اس کی کارگزاری کم از کم سابقہ حکمرانوں سے بہتر بلکہ بہت بہتر ہے۔ پاکستان اکیلا ملک نہیں جو معاشی بدحالی کا شکار ہے‘ امریکہ اور بھارت کا حال بھی پتلا ہے‘ ایک ذرۂ بے نشاں (کورونا وائرس) نے ان دونوں کے کس بل نکال دیے ہیں‘ ٹرمپ نے افغانستان کو تباہ کرنے کی دھمکی
مزید پڑھیے


’’میں جرنلسٹ ہو ہی گیا‘‘

منگل 14 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
’’اسی سال( 21ء میں) روس میں ایسا زبردست قحط پڑا جس کی مثال ملنا مشکل ہے‘ بھوک نے لاکھوں آدمیوں کو اپنے پنجہ میں جکڑ لیا تھا اور لاکھوں فاقہ سے مر چکے تھے۔ یورپ کے اخبارات بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ اس ہولناک تباہ ہی کے حالات شائع کر رہے تھے۔ روس کو غیر ملکی امداد دینے کے کئی غیر ملکی منصوبے بھی بنائے جا رہے تھے‘ ایک منصوبہ کا محرک ہومر تھا۔ میکسم گورکی روس میں ایک بڑی تحریک چلا رہا تھا اور اس کے موثر بیانات پوری دنیا کو ہلا دے رہے تھے۔ اسی زمانہ میں یہ
مزید پڑھیے


یہ خون خاک نشیناں تھا‘ رزق خاک ہوا

اتوار 12 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
سانحہ بلدیہ ٹائون‘ عزیر بلوچ اور نثار مورائی کے حوالے سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ حکومت سندھ نے جاری کی تو میڈیا پر بحث یہ شروع ہو گئی کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے جو رپورٹیں قومی اسمبلی میں لہرائی تھیں وہ اصلی ہیں یا حکومت سندھ کی جاری کردہ؟دونوں کے نفس مضمون میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ علی زیدی کی بیان کردہ رپورٹوں میں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ محترمہ فریال تالپور سمیت پیپلز پارٹی کے کئی رہنمائوں کے نام شامل ہیں جو عزیر بلوچ کی سرپرستی کرتے
مزید پڑھیے



5جولائی …درست تجزیہ

جمعه 10 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
5جولائی آیا اور گزر گیا‘ ہر سال پانچ جولائی کو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے ‘سیاسی کارکن اور صحافتی عُشاق یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں‘ اسی روز 1977ء کے انتخاب میں بدترین دھاندلی سے وجود میں آنے والی ایک سیاسی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی سپہ سالار جنرل محمد ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا‘ ضیاء الحق منتخب حکمران تھا نہ اس نے اقتدار سنبھالنے سے قبل عوام سے روی کپڑا مکان کی فراہمی اور جمہوری اقدار و روایات کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا‘لیکن اسلام ہمارا مذہب‘ جمہوریت ہماری سیاست‘ سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت
مزید پڑھیے


نظرے خوش گزرے

منگل 07 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
سیاست پرلکھنے سے بہتر ہے انسان شاعروں‘ ادیبوں کے لطیفوں سے جی بہلائے سو اردو زبان کے معروف شعرا‘ ادیبوں اور آئن سٹائن جیسے سائنس دانوں کے چند لطیفے نذر قارئین ہیں۔ ایک روز مرزا اسد اللہ غالب سے ملنے ان کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے کہ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ دستر خوان بچھا اور کھانا آ گیا‘ برتن تو بہت زیادہ تھے لیکن کھانانہایت قلیل تھا۔ مرزا نے مسکرا کر اپنے دوستوں سے کہا: ’’اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجیے تو میرا دستر خوان یزید کا دسترخوان معلوم ہوتا ہے اور جو کھانے کی مقدار کو
مزید پڑھیے


بُت شکن اُٹھ گئے باقی جو رہے بُت گر ہیں

جمعه 03 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
اقتدار سنبھالتے ہی قومی اقتصادی کونسل میں عاطف میاں کی شمولیت‘ چند ہفتے قبل قومی اقلیتی کمشن میں بلاوجہ قادیانی رکن کی نمائندگی اور اب اسلام آباد میں ہندوئوں کے مندر کی سرکاری خرچے پر تعمیر؟ریاست مدینہ کے علمبردار یہ کس راستے پر چل نکلے ۔ ؎ ہاتھ بے زور ہیں الحادسے دل خوگر ہیں اُمتی باعث رسوائی پیغمبرؐ ہیں بت شکن اُٹھ گئے‘ باقی جو رہے بُت گر ہیں تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں بادہ اَشام نئے‘بادہ نیا‘ خُم بھی نئے حرمِ کعبہ نیا‘ بُت بھی نئے‘ تم بھی نئے پاکستان جدید طرز کی مسلم جمہوری ریاست ہے‘ جہاں اقلیتوں
مزید پڑھیے


مائنس ون؟

جمعرات 02 جولائی 2020ء
ارشاد احمد عارف
کیا عمران خان کسی دبائو میں ہے؟اسامہ بن لادن کی شہادت کا ذکر اور مائنس ون کی تکرار ؟کیا یہ محض سبقت لسانی ہے‘ زبان کا پھسلنا؟ یا ایک چالاک سیاستدان کا سوچا سمجھا‘انداز بیاں؟دیوانہ بکار خویش ہشیار۔ عمران خان نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران ایبٹ آباد واقعہ کا ذکر کیا تو کسی کو اُمید نہ تھی کہ وہ امریکہ کو اُسامہ بن لادن کی شہادت کا ذمہ دار قرار دے کر کسی نئی بحث کا دروازہ کھولیں گے‘ اُسامہ بن لادن آج بھی امریکیوں کے لئے ڈرائونا خواب ہے‘ عمران خان سے پہلے پاکستانی سربراہ ریاست و حکومت
مزید پڑھیے


بجٹ منظور۔ اب اگست کا انتظار

منگل 30 جون 2020ء
ارشاد احمد عارف
ذہین اور دانشور قانون دان اے کے بروہی 1950ء کی دہائی میں بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر تھے‘ حکومت پاکستان نے انہیں خصوصی پیغام بھیجا اور ہدائت کی کہ وہ بذات خود یہ پیغام وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو پہنچائیں‘بروہی صاحب نے وزیر اعظم ہائوس سے رابطہ کیا‘ نہرو نے انہیں پارلیمنٹ ہائوس میں واقع اپنے چیمبر میں بلا لیا‘ وقت مقررہ پر پاکستانی ہائی کمشنر پارلیمنٹ ہائوس پہنچے تو پتہ چلا کہ اجلاس جاری ہے‘ وزیر اعظم شریک ہیں اور انہوں نے بروہی صاحب کو انتظار کرنے کے لئے کہا ہے‘ بروہی صاحب مرحوم بتایا کرتے تھے کہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں