BN

ارشاد احمد عارف


ہوش رُبا‘اندیشے


ہوش امپریل کالج لندن کی رپورٹ پر یقین کرنا درکنار‘پڑھنے کو دل نہیں کرتا‘جو ہوشربا اندیشے رپورٹ میں ظاہر کئے گئے‘ ان کے بارے میں سوچ کر کلیجہ مُنہ کو آتا‘انسان کا دل‘ دماغ اور ہمت سب جواب دے جاتے ہیں‘ ویسے بھی گوروں کی بات پر آنکھیں بند کر کے ایمان لانا اپنا وطیرہ نہیں‘ کہ یہ ناہنجار نڈر‘ باہمت پاکستانیوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے اعداد و شمار کا جال بچھاتے اور ہم سادہ لوح بآسانی پھنس جاتے ہیں لیکن وفاقی وزیر اسد عمر نے کورونا کے پھیلائو کی جو تصویر کشی کی وہ بھی کم ہولناک
منگل 16 جون 2020ء

’’باشعور عوام‘‘ ’’دور اندیش حکمران‘‘

اتوار 14 جون 2020ء
ارشاد احمد عارف
کورونا نے اس کلشیے کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے کہ اس ملک کے عوام تو ماشاء اللہ بہت اچھے ہیں‘باشعور‘ دیانتدار‘ خدا ترس‘ جفاکش اور ایثار پیشہ بس اسے ڈھنگ کا رہنما اور حکمران نہیں ملاجو اسے کندن بنا پاتا۔ عمران خان کے بارے میں اپوزیشن اور جو بھی کہے‘ اب تک اس پر کرپشن کا الزام لگا سکی ہے نہ اقربا پروری کا مرتکب قرار دینے کے قابل ‘کورونا نے پوری دنیا کو دن میں تارے دکھائے اور ہر عام و خاص کو جتلایا کہ اس کے سامنے طاقتور و کمزور‘ امیر و غریب سب برابر
مزید پڑھیے


گاہے گاہے باز خواں…

جمعه 12 جون 2020ء
ارشاد احمد عارف
موضوعات کی تکرار سے بہتر ہے انسان کتابوں کا مطالعہ کرے‘ مجھے اہل علم و فضل کی خود نوشت سوانح عمریاں متاثر کرتی ہیں۔ کتابوں کے ذخیرے سے علامہ محمد اسد کی روڈ ٹو مکّہ نکالی اور اسلام کی طرف اُن کے سفر کا حصہ پڑھنا شروع کر دیا‘ کورونا کی بوریت سے بچنے کے لئے چند اقتباسات سے آپ بھی مستفید ہوں۔ ’’ٹرین کئی کئی بار چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں پر رکی‘ سانولی صورت والے لڑکے اور بچے جن کے جسم پر پھٹے ہوئے کپڑے تھے۔ ادھر ادھر اچھل کود کر رہے تھے اور مسافروں کے ہاتھ انجیر‘اُبلے ہوئے انڈے اور
مزید پڑھیے


میری بُکل دے وچ چور

جمعرات 11 جون 2020ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان کی نیت پر کسی کو شک ہے نہ ارادوں پر شبہ‘ نتیجہ مگر اس کی ہر مثبت کوشش کا اُلٹا ہی برآمد ہوتا ہے‘ کیا ستاروں میں خرابی ہے یا مخالفین واقعی اتنے طاقتور و بارسوخ کہ اس کے ہر اقدام کو ناکامی میں بدل دیتے ہیں؟۔میری طرح اور بھی بہت سے لوگ آج کل یہی سوچتے ہیں؟ دنیا بھر میں پٹرول کوڑیوں کے بھائو بک رہا ہے‘ آئل کمپنیوں کو خریدار نہیں مل رہے مگر پاکستان میں یہ دوگنی قیمت پر دستیاب نہیں۔کسی کو تین گنا قیمت پر مل جائے تو وہ شکرانے کے نفل پڑھ کر
مزید پڑھیے


مفت خوری کی وکالت

منگل 09 جون 2020ء
ارشاد احمد عارف
پاکستان سٹیل ملز کے دس ہزار کارکنوں کی بے روزگاری واقعی سنجیدہ معاملہ ہے۔ ایک ترقی پذیر ملک میں جہاں روزگار کے مواقع محدود اور غربت و افلاس ملک کے طول و عرض میںموجود ہے دس ہزار لوگوں کی ملازمت سے برطرفی پر کون رنجیدہ نہ ہو گا‘ ہونا چاہیے مگر یہ دس ہزار کارکن ماہانہ تنخواہ اور مراعات کے عوض کرتے کیا ہیں؟ محنت‘مزدوری اور قومی ترقی کے عمل میں شراکت؟کچھ بھی نہیں‘2015ء سے گھروں میں بیٹھے ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے کارکن کے طور پر زندہ باد ‘مردہ باد کے نعرے لگانے میں مگن‘ ہزاروں لازماً جزوقتی
مزید پڑھیے



سول بالادستی یا اخلاقی برتری

اتوار 07 جون 2020ء
ارشاد احمد عارف
واشنگٹن میں فوج بلانے کے فیصلے کی مخالفت پر اپنے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاگل کتا کہہ کر جھاڑ دیا‘ اب دیکھیں موجودہ وزیر دفاع مارک ایسپر سے کیا سلوک کرتے ہیں؟ایسپر نے دارالحکومت سے نہ صرف فوج واپس بلائی بلکہ نیشنل گارڈ کو مسلح کرنے کے صدارتی حکم کو ماننے سے انکار کر دیا‘2018ء میں جیمز میٹس نے خودسری دکھائی اور ٹرمپ کے احکامات ماننے کے بجائے استعفیٰ دیدیا‘ اب مارک ایسپر کی باری ہے لیکن اس نے صدارتی احکامات سے اختلاف پر استعفیٰ دینے کے بجائے مسترد کر دیا۔ ٹرمپ جیسے
مزید پڑھیے


کورونا اور ٹڈی دل میں پھنسی حکومت

اتوار 31 مئی 2020ء
ارشاد احمد عارف
کورونا پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کو جس عمدگی اور چابکدستی سے باشعورعوام نے ناکام بنایا‘وہ قابل داد نہ سہی ‘بے مثال ضرورہے‘ کورونا کو بازاروں‘دفتروں ‘مذہبی مقامات اور گلیوں سے گھسیٹ کر گھروں میں لانے کی جو تگ و دو ہم نے کی کسی دوسری قوم نے بایدو شاید‘ حکومت نے بھی تنگ آ کر کاروبار کھولا اور ٹرانسپورٹ چلا دی‘ پندرہ مئی سے اب تک عوام کا موج میلہ جاری ہے‘ تاجروں کے من کی مراد پوری ہو رہی ہے اور کورونا کے حوالے سے ایس او پیز پر عملدرآمد توقعات کے عین مطابق عنقا‘ پندرہ روز
مزید پڑھیے


یوم تکبیر پر آمریت اور جمہوریت کی لایعنی بحث

جمعه 29 مئی 2020ء
ارشاد احمد عارف
دو سال سے پاکستان میں یوم تکبیر اس شان و شوکت سے نہیں منایا جاتا جس کا یہ دن حقدار ہے۔ قومی تاریخ میں 28مئی( 1998ء )ہر لحاظ سے قابل فخر اور یادگار دن ہے‘1971ء میں بھارت نے پاکستان کو دولخت کر کے قوم کو احساس جرم میں مبتلا کیا‘ سقوط ڈھاکہ کی خفت مٹانے کے لئے قوم کو اٹھائیس سال انتظار کرنا پڑا‘ بلا شبہ ایٹمی پروگرام کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا‘ ایک قوم پرست رہنما کے طور پر وہ ایٹمی پروگرام کو ملکی دفاع کا ضامن سمجھتے تھے‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان انہی کی دعوت پر پاکستان
مزید پڑھیے


نہ گفتگو سے‘نہ وہ شاعری سے جائیگا

جمعرات 28 مئی 2020ء
ارشاد احمد عارف
چین نے وہی کیا جو ایک آزاد‘خود مختار ‘خود دار اور غیرت مند ریاست کو زیبا ہے‘ بھارت کے حکمرانوں کی خو غلامانہ ہے‘ صرف نریندر مودی نہیں1947ء سے اب تک برسر اقتدار آنے والے تمام حکمرانوں کا یہی وطیرہ رہا‘ کمزور کے گلے پڑ جائو‘ طاقتور سے واسطہ پڑے تو پائوں پکڑو اور جان بچائو‘ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی طرح لداخ کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس کے فوجیوں نے لداخ کی سرحد پر متنازعہ علاقے میں خرمستیاں شروع کر دیں‘ چین نے ایک دو بار وارننگ دی مگر غالباً امریکی شہ پرظبھارتی حکومت نے
مزید پڑھیے


وقت کرتا ہے پرورش برسوں

اتوار 24 مئی 2020ء
ارشاد احمد عارف
دس سال میں چار فضائی حادثے اور ایک ہزار کے قریب جانوں کا ضیاع۔ یہ بطور ریاست پاکستان اور اس کے اداروں سول ایوی ایشن و پی آئی اے کے لئے باعث بدنامی و ندامت ہے‘ دنیا بھر میں ہوائی سفر محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے مگر پاکستان میں غیر محفوظ ہو کر رہ گیا‘ پی آئی اے ایک زمانے میں دنیا کی بہترین ایئر لائن تھی‘1962ء میں ایشیا کے صرف دو ممالک کی ایئر لائنز کے پاس جیٹ طیارے تھے ان میں سے ایک پاکستان تھا‘ دوسرا جاپان۔ جناب فیض احمد فیض نے پی آئی اے کے لئے ’’باکمال
مزید پڑھیے