ارشاد احمد عارف



’’مسلمان‘ مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا‘‘


محدب عدسے کے بغیر نظر نہ آنے والے ایک معمولی جرثومے کرونا وائرس نے اپنی ذہانت‘ بصیرت‘ ہشیاری‘ سائنسی و تکنیکی ایجادات اور جدید حفاظتی انتظامات پر نازاں انسان کو اوقات یاد دلا دی‘ حضرت انسان کی جبلت و سرشت بھی عیاں کی۔ تیسری دنیا میں بسنے والے انسانوں کو تو فرسٹ ورلڈ مہذب سمجھتا نہ مکھی مچھرسے زیادہ اہمیت دیتا ہے‘ خود مذمتی کے مرض میں مبتلا معاشرے کے دانشور بھی دن رات یہی راگ الاپتے ہیں کہ حرص‘ ہوس‘ لالچ‘ خوف اور مفاد خویش تیسری دنیا کے مکینوں کا طرہ امتیاز ہے‘ ترقی یافتہ ممالک کے انسان ہمہ
منگل 17 مارچ 2020ء

خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

اتوار 15 مارچ 2020ء
عا رف نظا می
قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ منظور ہو گیا‘ یہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی طرف پہلا قدم ہے سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے مگر ڈنڈی بھی ماری ۔ طے پایا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا دفتر بہاولپور میں ہو گا اور ایڈیشنل آئی جی پولیس ملتان میں بیٹھے گا ۔ واہگورو کے خالصے یاد آئے ۔ خالصہ کالج کے قیام کا فیصلہ ہوا مگر کالج لاہور میں بنے یا امرتسر میں اس پراختلاف ہو گیا‘ بحث چھڑی توچھڑتی ہی چلی گئی‘ دونوں فریق بضد کہ ان کی مرضی کے شہر میں کالج نہ
مزید پڑھیے


نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

جمعرات 12 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
عورت مارچ تو ہو گیا سیاستدانوں کی طرف سے مارچ میں مارچ کے دعوے رات کی بات ثابت ہوئے ؎ رات کی بات کا مذکور ہی کیا چھوڑیے رات گئی بات گئی تحریک انصاف کی حکومت پہلے سے زیادہ پُر اعتماد‘ مطمئن ہے‘ پیپلز پارٹی اپنے معاملات سلجھانے میں منہمک اور مسلم لیگ (ن) داخلی انتشار پر قابو پانے میں مشغول۔ منگل کے روز مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہلی بار ارکان پارلیمنٹ نے اپنی قیادت پر تنقید کی اور میاں شہباز شریف سے وطن واپسی کا مطالبہ کیا۔ بعض تجزیہ کار اور اینکر ہمیں دو تین
مزید پڑھیے


قابل داد پیش قدمی

منگل 10 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
8مارچ کو عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء کی ثابت قدمی قابل داد ہے، ثابت قدمی نہیں، بلکہ پیش قدمی۔ ناقدین کے تمام دعوئوں، جملہ خدشات کو انہوں نے درست ثابت کیا، حامیوں اور مخالفین پر واضح کر دیا کہ یہ حقوق نسواں کی تحریک ہے نہ پاکستان کے طول و عرض میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف جذباتی ردعمل۔ کاروکاری، ونی اور سوارا کی بے ہودہ رسموں کی مخالفت مطلوب تھی تو مارچ ان جاگیرداروں کے خلاف ہوتا جو جرگوں کی سربراہی اور خواتین کے علاوہ ان کے والدین، بھائیوں، عزیز و اقارب کے خلاف فیصلے فرماتے
مزید پڑھیے


فتنہ

اتوار 08 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
مان لیا کہ پاکستان میں خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں جو ایک جدید مثالی اسلامی‘ جمہوری ریاست میں حاصل ہونے چاہئیں۔ معاشرے میں بیٹے اور بیٹی ‘ بھائی اور بہن کے مابین فرق روا رکھا جاتا ہے۔ شوہر بیویوں سے مثالی سلوک نہیں کرتے۔ بعض پسماندہ علاقوں میں عورت کو پائوں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ بچیوں کو جوان ہونے پر پوچھے بغیر ایسے مرد سے بیاہ دیا جاتا ہے جو انہیں پسند ہوتا ہے نہ تعلیم‘ ذہنی سطح اور شکل و صورت میں ان کے پاسنگ۔ پسند کی شادی کو جرم سمجھ کر باپ‘ بھائی اور رشتے دار حیوانیت پر اُتر
مزید پڑھیے




’’میرا جسم‘ میری مرضی‘‘

جمعه 06 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
پچھلے سال عورت مارچ میں جو بینر نمایاں ہوئے ان پر تحریر نعروں میں سے ‘محتاط اور ذمہ دار پرنٹ میڈیا نے صرف ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کو قابل اشاعت سمجھا‘ باقی نعرے اس قدر لغو‘ غلیظ اور دلآزار تھے کہ عورت مارچ کے علمبردار اور حامی الیکٹرانک میڈیا اور اینکرز کو بھی دکھانے کی جرأت نہ ہوئی‘ بے ہودگی اور غلاظت کا یہ سودا اس بار پھر بکنے کو تیارہے‘ تکنیک البتہ اس بار مختلف اختیار کی گئی ۔ سینٹ میں پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان اور پریس کانفرنسوں میں بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کی حمائت
مزید پڑھیے


ڈالر بھلے یا گائیڈز کیولری

جمعرات 05 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
میجر(ر) آفتاب احمد کی کتاب’’کھیڈن ہار فقیرا‘‘ کا مطالعہ جاری ہے۔ لکھتے ہیں: ’’یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ظفر تم نے ہمیں یہ تو بتایا ہی نہیں کہ معیار کیوں دن بدن گر رہا ہے۔‘‘پریذیڈنٹ سلیکشن بورڈ بریگیڈیئر ظفر حیات سیمینار سے فراغت کے بعد جب اپنے آفس میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کو بورڈ کے اندرونی معاملات پہ تعارف اور تفصیل کے اختتام پر پہنچے تو جنرل ضیاء کو شاید یاد آ گیا کہ وہ مرکزی نقطہ جس کی خاطر انہوں نے یہاں آنے کی دعوت قبول کی تھی اس کا تو پورے فسانے میں کہیں
مزید پڑھیے


کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ!

منگل 03 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
افغانستان کے کٹھ پتلی صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے امریکہ طالبان معاہدے کے مطابق پانچ ہزار طالبان قیدی رہا کرنے سے یہ کہہ کرانکار کر دیا ہے کہ انہوں نے ان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ نہیں کیا‘ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں اشرف غنی شریک تھے نہ فریق‘ کابل میں ان کی حیثیت وہی ہے جوہمارے دیہاتوں میں سردار کے کسی گماشتے کی‘ تین لاکھ سے زائد افغان فوج وجود میں آ چکی ہے مگر موصوف اپنی سکیورٹی کے لئے امریکیوں کے محتاج ہیں‘ حالیہ صدارتی الیکشن کے نتائج کو ڈاکٹر عبداللہ
مزید پڑھیے


افغان باقی‘ کہسار باقی

اتوار 01 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
اکیسویں صدی کی واحد سپر پاور امریکہ کا کا نمائندہ زلمے خلیل زاد عالمی میڈیا اور پچاس ممالک کے عہدیداروں‘ وزراء اور سفیروں کے سامنے افغان طالبان کے رکن ملّا عبدالغنی برادر کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر رہا تھا اور میرے دل و دماغ میں ایک اُلوہی وعدے نے ہلچل مچا رکھی تھی کم من فئۃٍ قلیلۃٍ غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللّٰہ واللّٰہ مع الصابرین۔ (اکثر چھوٹے گروہ‘ بڑی بڑی جماعتوں اور قوموں پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالب آ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) ؎ فضائے بدر
مزید پڑھیے


ہارن کھیڈ فقیرا

جمعه 28 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
میجر آفتاب مزید لکھتے ہیں ’’تم نے جنرل اقبال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا‘‘ جنرل نے اپنی تنی ہوئی بھنوئوں سے کھیلتے ہوئے پوچھا۔ ’’کون سے اقبال؟‘‘ میں نے پوچھا ۔اس وقت آرمی میں اقبال نام کے تین جنرل تھے۔اگرچہ میں سمجھ گیا تھا اس کا اشارہ اپنے سے سینئر پوٹھوہاری پفر جنرل کی طرف تھا جو اس سے سینئر بھی تھے‘خاردار بھی اور نسبتاً اچھی شہرت کے مالک بھی۔ ’’وہ مونچھوں والا اقبال‘‘ لاہوری جنرل خود کلین شیو تھا لیکن اس نے بالائی ہونٹ کے اوپر دائیں بائیں اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہ یقینا چاہتا تھا کہ میں لڑاکا فوج کے ’مونچھوں
مزید پڑھیے