BN

ارشاد احمد عارف



جس معرکے میں مُلّا ہوں غازی


31اکتوبر دور نہیں‘ اکرم درانی‘ مولانا مفتی کفائت اللہ اور دیگر رہنما اب تک دھرنے اور لاک ڈائون کو حتمی قرار دے رہے ہیں مگر مولانا فضل الرحمن قومی و بین الاقوامی میڈیا اور مغربی سفارت کاروں کے روبرو صرف لانگ مارچ کی بات کر رہے ہیں ۔دھرنے اور لاک ڈائون کو وہ میڈیا کی اختراع قرار دیتے ہیں‘ مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومتی ترجمان کی طرف سے لانگ مارچ کی مشروط اجازت دینے کے بیان پر محتاط ردعمل دیا‘ کہا کہ ہم قانون کے دائرے میں رہ کر لانگ مارچ کریں گے‘ دھرنا اور لاک ڈائون کے ذکر سے
جمعرات 24 اکتوبر 2019ء

کھیل ختم‘ پیسہ ہضم

منگل 22 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کو یہ کریڈٹ تو جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی ریاست اور سیاست کے بیانئے سے مسئلہ کشمیر‘ کرپشن اور احتساب کو بے دخل کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کی جگہ مولانا کا آزادی مارچ اور دھرنا زیر بحث ہے اور کرپشن و احتساب کا ذکر صرف عمران خان کی تقریروں میں ملتا ہے‘ میڈیا پر لانگ مارچ اور دھرنے کا چرچا ہے۔ نجی محفلوں میں موضوع گفتگو اب سرینگر ‘ صورہ اور شوپیاں کی صورت حال نہیں ‘ اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کی تیاریاں اور مسلم لیگ ن و پیپلز پارٹی کی نیمے دروں‘ نیمے
مزید پڑھیے


یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہو کر

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کو ناراض نہیں خوش ہونا چاہیے‘ حکمران بالآخر اُن سے رابطے اور بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہیں‘ مذاکراتی کمیٹی کے ذریعے صرف بات چیت نہیں وزیر اعظم عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے مابین ٹیلی فونک گفتگو ہو گی‘ حزب اختلاف کی ایک جماعت کو جس کے پارلیمنٹ میں درجن بھر ارکان ہیں اور کیا چاہیے؟ مولانا کی سیاسی اہمیت حکومت نے تسلیم کر لی۔ عمران خان مولانا کا نام سننے کے روادار نہ تھے‘ اب بات کرنے پر آمادہ ہیں‘ خدا نے چاہا تو معقول مطالبات بھی مانے جائیں گے اور سودے بازی کے حق
مزید پڑھیے


مسلم لیگ۔ میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال

منگل 15 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کی احتجاجی تحریک حکومت اور اصل ہدف یعنی عمران خان کے حقیقی پشت پناہوں پر کتنی اثر انداز ہوتی ہے؟ درست اندازہ 27اکتوبر کے اردگرد ہو گا‘ ابھی لبوں اور چائے کے کپ کے درمیان خاصہ فاصلہ ہے۔ مسلم (ن) البتہ منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ اجلاس پر اجلاس ہو رہے ہیں اور نامہ و پیام جاری ہے مگر نتیجہ؟ کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ ویسے تو پورا ملک ہی منیر نیازی کے بقول آسیب کی زد میں ہے کیا حکومت اور کیا اپوزیشن ؟ہر شعبے میں حرکت تیز تر ہے
مزید پڑھیے


عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
جسم میں ٹریکر نصب ‘ عوامی اجتماع سے خطاب اور پاکستان کے بارے میں اظہار خیال پر قدغن‘ رات کو گھر سے نکلنے پر پابندی اور سوشل و ریگولر میڈیا پر کچھ کہنے‘ بولنے کی ممانعت۔یہ توہین آمیز سلوک وہ شخص خوش دلی سے برداشت کر رہا ہے جس کے کارکن الطاف حسین کی ایک چنگھاڑ پر کراچی میں کشت و خون کا بازار گرم کرتے تو حکومت‘ پولیس اور بسا اوقات رینجرز بھی تماشہ دیکھنے کے سوا کچھ نہ کر پاتی۔2014ء میں عمران خان کے دھرنے کے ہنگام ایک ٹی وی چینل پر لائیو پروگرام میں شرکاء اس بات
مزید پڑھیے




یہ لنگر خانے

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
پاکستانی سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین قبائلی اورجاگیردارانہ طرز کی مخاصمت نئی بات ہے نہ ایک دوسرے کے ہر فیصلے اور اقدام کو ہدف تنقید بنانے کی روشن انوکھی روائت۔ جمہوری روایات پختہ نہیں اور برداشت کا کلچر عنقا ہے۔ یوں اختلاف اور دشمنی میں حد فاصل کیسے قائم رہے۔ ؟سیلانی لنگر کے ذریعے غریب اور بے آسرا افراد کو کھانا کھلانے پر طعن و تشنیع مگر عمران خان سے دشمنی نہیں ‘اُن خاک نشینوں کی توہین ہے جنہیں ریاست باعزت روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہے اور معاشرہ انہیں تین وقت کا کھانا دینے سے معذور۔ عمران
مزید پڑھیے


طاقتور مافیا‘ کمزور ریاست

منگل 08 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
پاکستان میں مافیاز واقعی ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں‘ یقین نہ آئے تو بلا امتیاز احتساب کے علمبردار ریاستی اداروں اور افراد کی بے بسی دیکھ لیجئے یا پھر چیئرمین نیب جسٹس(ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی دیروزہ پریس کانفرنس اور بدن بولی۔ چند روز پہلے تک جسٹس صاحب کا بیانیہ تھا کہ وہ کیس دیکھتے ہیں‘ فیس نہیں‘ قوم کو یقین دلا رہے تھے کہ زمین پھٹے یا آسمان گرے احتساب کا عمل جاری رہے گا اور وہ کسی کے دبائو میں نہیں آئیں گے۔ اتوار کے روز ہنگامی پریس کانفرنس میں انہوں نے تمام ٹیکس ریفرنس واپس کرنے اور بنک
مزید پڑھیے


پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفترمیں ہے

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
شیخ رشید درست کہتے ہیں‘ مولانا فضل الرحمن کے آگے کنواں ہے پیچھے کھائی‘ جب تک آزادی مارچ کے لئے انہوں نے تاریخ کا اعلان نہ کیا تھا اُن کی بارگیننگ پوزیشن بہت بہتر تھی ‘مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی اپنے کارکنوں کے دبائو میں تھیں اعلیٰ قیادت پریشان تھی اور حکومت حیران کہ کہیں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مولانا کے ساتھ چل نہ پڑیں۔ چند سال پیشتر فواد چودھری نے جنرل پرویز مشرف کی جماعت کو چھوڑنے کا اعلان کیا تو میں نے رفاقت ترک کرنے کا سبب پوچھا‘ بولے جنرل صاحب بادشاہ آدمی ہیں انہوں نے وطن واپسی
مزید پڑھیے


27اکتوبر‘ یوم سیاہ اور مولانا

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ کی سنی نہ پیپلز پارٹی کی مانی اور 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کر دیا۔27اکتوبر کو کشمیری عوام یوم سیاہ طور کے پر مناتے ہیں یہ وہ منحوس دن ہے جب جموں و کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے اپنے عوام سے غداری کی‘ الحاق کی جعلی دستاویز پر دستخط کئے اور بھارت نے فوجیں بھیج کر مسلم اکثریتی ریاست پر قبضہ کیا‘ کشمیری عوام اسی باعث گزشتہ بہتر سال سے دنیا بھر میں 27اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں‘ آج کل کشمیری عوام 1947ء کی طرح بھارتی فوج کے محاصرے میں
مزید پڑھیے


شاباش

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
چونیاں میں بچوں سے زیادتی اور قتل کے ملزم سہیل شہزاد کی گرفتاری پر وزیر اعظم عمران خان کی سردار محمد عثمان بزدار کو شاباش ان سیاسی ناقدین کے لئے مایوسی کا پیغام ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب کی رخصتی کی تاریخ دے چکے ہیں‘ تاریخیں تو خیر یار لوگ عمران خان کے کوچۂ اقتدار سے نکلنے کی بھی دیتے چلے آ رہے ہیں اور غالباً انہی طوطا فال نکالنے والوں نے چکمہ دے کر مولانا فضل الرحمن کو اکتوبر میں اسلام آباد کے لاک ڈائون کی راہ دکھائی‘ زود فہم اور دور اندیش مولانا خوش فہمی کے جال میں
مزید پڑھیے