ارشاد محمود



اوآئی سی کا خاتمہ بالخیر


اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں نائجر میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا ایک ایسااجلاس برپا ہونے کوہے جو اس تنظیم کے عملاً خاتمہ بالخیر پر بھی منتج ہوسکتاہے۔افسوس! اس کا سبب کشمیر بننے جارہاہے۔گزشتہ برس پانچ اگست کو کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان نے بھرپورکوشش کی کہ اوآئی سی وزرائے خارجہ کا خصوصی اجلاس طلب کرکے کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اور بھارتی اقدامات کی مذمت کی جائے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس اجلاس کے انعقاد کے راستے میں روڑے اٹکائے حتیٰ کہ پاکستان کو غیر معمولی طور پر سخت موقف اختیارکرنا
پیر 10 فروری 2020ء

پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر

پیر 03 فروری 2020ء
ارشاد محمود
اس برس پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر اس طرح منایا جارہاہے جیسا کہ 1931ء میں علامہ اقبال کی قیادت میں کشمیر کمیٹی منایاکرتی تھی۔ اس میں جوش وخروش ہے اور ہوش مندی بھی۔ کشمیری کہتے ہیں کہ انہیں غلام بنانے کی دستاویزات پر تاریخ میں تین بار دستخط کیے گئے۔ اٹھارویں صدی کے لگ بھگ وسط میں انہیں انگریزوں نے چند ٹکوں کے عوض فروخت کیا۔ اکتوبر 1947ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کے شعلے پھوٹے اور ریاست جموں وکشمیر کا ایک بڑا حصہ آزادی کی دولت سے ہمکنار ہوا تو بھارتی ا فواج کشمیر پر قابض ہوگئیں۔
مزید پڑھیے


بھارت کی داخلی ٹوٹ پھوٹ

پیر 20 جنوری 2020ء
ارشاد محمود
بی جے پی نے گزشتہ الیکشن میں دوتہائی اکثریت تو حاصل کرلی لیکن بھارت کو زبردست بحران کا شکار کردیا۔ ملک کی ان اساسی نظریاتی اور آئینی بنیادوں کو ہلاکر دیا جن پر ایک کثیر القومی، نسلی اور مذہبی ریاست کی عمارت استوار کی گئی تھی۔آج کی بی جے پی اٹل بہاری واجپائی کی سوچ سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ متصادم نظریے کی پارٹی بن چکی ہے ۔ اس کی مہار آرایس ایس کے ہاتھ میں ہے جو جرائم پیشہ مافیا اور سخت گیر اوراقلیتو ں کے مخالف سرکاری حکام کے گٹھ جوڑسے ملک پر حکومت کرتی ہے۔
مزید پڑھیے


خطرات میں گھرا پاکستان

پیر 13 جنوری 2020ء
ارشاد محمود
مشرق وسطیٰ خاص طورپر ایران اور سعودی عرب جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ جنگ صرف ان دو ممالک یا ایران اور امریکہ تک محدود رہنے والی نہیں بلکہ تمام خلیجی ممالک کو یہ آگ جھلسادے گی۔ ترکی بھی غالباً غیر جانبدار نہیں رہ پائے گا۔ اسرائیل تو پہلے ہی ایران پر حملے کے لیے پرتول رہاہے۔پاکستان کی مشرقی سرحد پر بھارت مسلسل پاکستان کو سبق سکھانے اور آزادکشمیر پر حملہ کرنے بلکہ قبضہ کرنے کے عزائم کا اظہار کررہاہے۔بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج مْکند نرونے دہلی میں کہا کہ پارلیمان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو
مزید پڑھیے


ایران تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے

پیر 06 جنوری 2020ء
ارشاد محمود
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی افسوسناک ہلاکت نے خطے پر جنگ کے سائے لہرا دیئے ہیں۔ایرانی لیڈرشپ دکھی ہے اور سخت غصے میں بھی۔ انہوں نے بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے ۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیاہے۔تازہ امریکی فوجی کمک کویت پہنچ چکی ہے۔ دونوں ممالک بتدریج جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی جنگ ہوگی جو ضروری نہیں کہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود رہے بلکہ اس کا دائرہ پھیل بھی سکتاہے۔ کئی ایک مبصرین کا تجزیہ ہے کہ یہ جنگ تیسری
مزید پڑھیے




بھارتی شہریت کا نیا قانون اور پاکستان

پیر 23 دسمبر 2019ء
ارشاد محمود
بھارت میں شہریت کے نئے قانون نے کہرام مچا دیا ہے۔ ملک گیر سطح پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ مسلسل دراز ہوتاجارہاہے۔ مسلمان‘ جو اس قانون سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں نہ صرف سراپہ احتجاج ہیں بلکہ انصاف پسند ہندو اور سکھ بھی ان کے ہم آواز ہیں۔ پولیس نے جامعہ ملیہ کے طلبہ پر تشدد کیا تو بھارت کے طول وعرض میں صدائے احتجاج بلند ہوئی۔بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے لاکھوں افراد کے ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس قانون کو مسترد کیا۔گزشتہ چھ برسوں میں وزیراعظم نریندا مودی کی حکومت کے
مزید پڑھیے


یاسین ملک تہاڑ جیل میں

منگل 17 دسمبر 2019ء
ارشاد محمود
تہاڑ جیل جہاں آج یاسین ملک پابندسلاسل ہیں۔ وہاں تہہ خاک مقبول بٹ کا جسد خاکی بھی آرام کررہاہے کہ شہید مرتے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں۔ مقبول بٹ کو 36برس قبل اسی جیل میں راتوں رات پھانسی کے پھندے پر لٹکادیاگیا۔پھانسی کا وہ ہی پھندا یاسین ملک کے گلے میں ڈالنے کے لیے حکمران بی جے پی آج بے چین ہے۔30 برس پرانا ایک مقدمہ ازسر نو چلایاجارہاہے ۔ منصوبہ ہے کہ تحریک آزادی کے اس سرخیل کی آواز کو بھی خاموش کرادیا جائے تاکہ کشمیرمیں آزادی اور حریت کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے۔ اسی
مزید پڑھیے


لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

پیر 02 دسمبر 2019ء
ارشاد محمود
ہفتہ رفتہ میں چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع پر جو ہنگامہ برپا ہواس سے ملک کی جگ ہنسائی خوب ہوئی۔ شکرہے کہ عدالت عظمیٰ نے اسے خوش اسلوبی سے حل کردیا ورنہ ناجانے آج کیا منظرنامہ ہوتا ۔ پاکستان کے شہری اس طرح کے ہنگاموں کے عادی ہیں لیکن دنیا یہ تماشا دیکھ کرگھبراجاتی ہے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان چار برس دوماہ تک وزیراعظم رہے۔ ان کی شہادت کے بعد سات برسوں میں چھ وزراعظم تبدیل ہوئے۔جنر ل محمد ایواب خان نے اقتدارپر شب خون مارا اور دس برس تک بلا شرکت غیرے حکمرانی کا ڈنکا
مزید پڑھیے


کشمیر اب بھی زندہ ہے

پیر 25 نومبر 2019ء
ارشاد محمود
ایک سو بارہ دن گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر کی صورت حال میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئی۔ بھارتی حکومت کا دعوی ہے کہ کرفیو اٹھایاجاچکا ہے۔ باوجود اس کے فوجی محاصرے کی سی کیفیت میں کوئی کمی نہیںآئی۔اگرچہ شہریوں کو گھروں سے نکلنے سے روکا نہیں جاتا لیکن ہر گلی او رمحلے کی نکڑ پر سپاہیوں کی کھڑی ایک ٹولی کرفیو لگانے یا راہگیروں کو زدکوب کرنے کے لیے ہر وقت حکم کی منتظر رہتی ہے۔ انٹرنیٹ تو دور کی بات ہے‘ ایس ایم ایس کرنے کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔ سیاسی اور سماجی لیڈر ابھی تک جیلوں میں
مزید پڑھیے


وہ رہبر ہے کہ رہزن ہے کروں یہ فیصلہ کیسے

پیر 04 نومبر 2019ء
ارشاد محمود
مولانا فضل الرحمان لاؤلشکر سمیت اسلام آباد میں فروکش ہوچکے۔ میڈیا جسے لوگ جبری زباں بندی کا طعنہ دیتے تھے‘دن رات مولانا اور ان کے دھرنے کی کوریج کرتاہے۔ بہت سارے ان کی دانش اور حکمت کے گیت بھی گاتے ہیں۔ حزب اختلاف جماعتوں کے لیڈر بھی مفت کا ہجوم دیکھ کر مولانا کے ساتھ کنٹینر پر چڑھ گئے۔ سیکولر، لبرل ، دائیں اور بائیں بازو کی تفریق مٹا کر مولانا کے دربا ر میں ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز۔ احتجاج کرنا، دھرنا دینا یا پھر تحریکیں چلانا زیادہ مشکل نہیں اصل چیلنج ان سے
مزید پڑھیے