ارشاد محمود



لمبی ہے غم کی شام پر مگر شام ہی تو ہے


گزشتہ کالم میں پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی تو احباب نے جوابی تبرہ بازی میں طعنہ دیا کہ تبدیلی سرکار کو لانے والے کاروان کے ہمرکاب تبدیلی کا ڈھول پیٹنے اور وطن عزیز کی تقدیر بدلنے کی نوید سنانے والوں میں آپ بھی پیش پیش تھے۔ بہت سے سیاسی کارکنوں ہی نہیں بلکہ لیڈروں کا بھی خیال ہے کہ میڈیا کا مکو ٹھپاگیا لہٰذا وہ حکومت گرانے یا کم ازکم اسے ناکام ثابت کرنے پر تلا ہواہے۔ ایک خام خیالی یہ بھی ہے کہ نون لیگ نے خزانے کی تجوری کھول دی ہے لہٰذا راتوں
پیر 08 اپریل 2019ء

جناب وزیراعظم: اب اتنا نہ رلاؤ

پیر 01 اپریل 2019ء
ارشاد محمود
تحریک انصاف کی حکومت کا ہنی مون پریڈ تمام ہوچکا۔ کارکردگی دکھانے اور عوام کو راحت پہنچانے کا مرحلہ شروع ہوچکاہے۔ حالیہ چند ماہ کے دوران عمومی طورپر غیر مقبول حکومتی فیصلوں پر شہریوں نے احتجاج یا ناراضی کا اظہار کرنے سے گریز کیا ۔ حکومت کو معاملات سمجھنے اور رفتہ رفتہ ایسے اقدامات کرنے جو ملک کو ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جائیں کا بھرپور موقع دیاگیا۔لیکن اب رفتہ رفتہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا نظر آرہاہے۔ ہوش ربا مہنگائی کا طوفان امنڈ آیا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں پر صارفین کی چیخوں نے ساتویں آسمان پر
مزید پڑھیے


اور اب لبریشن فرنٹ پر بھی پابندی

پیر 25 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
جماعت اسلامی کے بعد جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ بھارتی سرکار رفتہ رفتہ دیگر سیاسی جماعتوں اورلیڈروں کے گرد بھی شکنجہ کس رہی ہے۔ سیّد علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق بھی مسلسل زیر عتاب ہیں۔ریاستی اسمبلی تحلیل کرکے گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی بائیس برس قبل عسکریت سے لاتعلقی کا اعلان کرچکی ہے۔باوجود اس کے جماعت اسلامی کے دو سو سے زائد لیڈر اور کارکن زیر حراست ہیں ۔ ان کے تعلیمی ادارے بند اور پارٹی کے دفاتر سیل دیے گئے ۔ جناب یاسین ملک کی لیڈرشپ میں لبریشن
مزید پڑھیے


پانی کے لیے ترسنے پر مجبورمیرپور

پیر 18 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
4500 میگاواٹ سے زائد بجلی کی صلاحیت کے حامل میگا ہائیڈرو پاور منصوبے آزاد جموں و کشمیر کے اندر حالیہ چند مہینوں میں گرما گرم بحث و مباحثہ کا موضوع بنے ۔ ان منصوبوں کے خلاف مظفرآباد کے کچھ شہریوں نے لاہور میں واپڈا کے صدر دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔ دوسری جانب ان منصوبوں کے ماحولیات اثرات،ناقص ڈیزائن اور طویل عرصے سے واٹر یوجز چارجز یا رائلٹی کے نرخ طے نہ کرنے اور بجلی کے منصوبے شروع کرنے سے قبل باضابطہ معاہدہ نہ کرنے کے طرزعمل نے حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان پائی
مزید پڑھیے


پاکستان پر قدرت مہربان ہورہی ہے

پیر 11 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
اگرچہ گزشتہ چند ہفتے پاک بھارت تناؤ کی نذر ہوگئے لیکن اس دوران پاکستان کی ہیت مقتدرہ کو سرجوڑ کر بیٹھنا پڑا۔انہیں طویل عرصہ سے گومگوں کی پالیسی سے نکل کر اہم اسٹرٹیجک فیصلے کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان نے بطور ریاست اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا عزم پوری قوت سے دہرایا۔اگرچہ ایسے اعلانات پہلے بھی بہت کیے جاچکے لیکن اب کی بار محسوس ہوتاہے کہ حکومت، عسکری لیڈرشپ، سیاسی پارٹیاں اور سماج کی قوت برداشت جواب دے چکی اور وہ کالعدم تنظیموں کا وجو دمزید گوارا کرنے کو
مزید پڑھیے




جنگ کا خطرہ ٹلا ہے‘ ختم نہیں ہوا

پیر 04 مارچ 2019ء
ارشاد محمود
بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد جنگ کا خطرہ بڑی حد تک ٹل چکا لیکن کشیدگی نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔لائن آف کنٹرول پر جنگ کاسا سماں ہے۔ بھمبر سے لے کر نیلم ویلی تک کا سارا علاقہ شدید گولہ باری کی زد میں ہے۔ معمر حضرات بتاتے ہیں کہ اس قدر شدت کی فائرنگ اور گولہ باری انہوں نے 1965ء کی جنگ میں بھی سنی نہ دیکھی۔ذرائع ابلاغ کنٹرول لائن کے گردونواح میں بسنے والوں پر گزرنے والی قیامت دکھاتے نہیں مبادہ کئی ملک میں غصہ اور انتقام کی آگ نہ بھڑک اٹھے۔ بھارتی
مزید پڑھیے


اب محمد بن سلمان بھی پاکستان آرہے ہیں

پیر 11 فروری 2019ء
ارشاد محمود
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی رواں ہفتے پاکستان آمدکو غیر معمولی اہمیت کا دورہ سمجھاجارہا ہے۔وہ سعودی عرب میں اس وقت سب سے طاقت ور اورتیزی سے فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمدکرانے والی شخصیت کی شناخت رکھتے ہیں۔پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور اسٹرٹیجک تعلقات کی وہ تجدید کرنے آرہے ہیں۔گزشتہ دس بارہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری آچکی تھی۔ عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں نہ صرف گرم جوشی پیدا ہوئی بلکہ سعودی عرب نے پاکستان کی ڈوبتی ہوئی معیشت
مزید پڑھیے


پاکستان اصل کی طرف لوٹ رہاہے

پیر 28 جنوری 2019ء
ارشاد محمود
گزشتہ چند ہفتوں میں حکومت پاکستان نے متعدد ایسے فیصلے کیے جو پاکستان کی لیڈرشپ اور اس کے اداروں کی خوداعتمادی کے مظہر ہیں۔ سیاحت کے لیے ایئرپورٹ پر پہنچ کر ویزہ حاصل کرنا یا پھر آن لائن ویزہ جاری کرنے جیسے اقدامات کا اعلان غیر معمولی قوت فیصلہ اور اعتماد کی علامت ہے۔ سیاح تو دور کی بات پاکستانیوں کے بیرون ملک دوستوں اور شراکت داروں کے لیے کل تک ویزہ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ امکان ہے کہ اب رفتہ رفتہ ہزاروں نہیں لاکھوں سیاح پاکستان کا رخ کریں گے۔ چند برسوںمیں سیاحت پاکستان کی اکانومی
مزید پڑھیے


سپریم کورٹ کا فیصلہ اور گلگت بلتستان

پیر 21 جنوری 2019ء
ارشاد محمود
سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں پائی جانے والی بحث کو سترہ جنوری کو اپنے تاریخی فیصلے کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دفن کردیا۔ تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا: 1۔گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ 2۔گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائے گی۔ 3۔ا ستصواب رائے کے انعقاد تک حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو حقوق دینے کی پابند ہے۔ 4۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں تاہم گلگت بلتستان کے عوام سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنی
مزید پڑھیے


خطے کابدلتا منظر نامہ

جمعه 11 جنوری 2019ء
ارشاد محمود
افغانستان کے صدر اشرف غنی کے خصوصی نمائندے عمر داؤدزئی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میںاعتراف کیا کہ پاکستان افغانستان میں بحالی امن کے لیے مثبت کردار اداکررہاہے اور پاکستانی رویہ تبدیل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ افغانستان کے امن اور مذاکرات کے حوالے سے ایک پیج پر ہیںاس طرح پاکستان کے ساتھ مختلف امورپر بات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ قبل ازیں افغان حکام تسلیم کرچکے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے سے پہلے نہ صرف انہیں اعتماد میں لیاگیا بلکہ ممتاز افغان سیاستدانوں
مزید پڑھیے