BN

ارشاد محمود



ٹرمپ عمران خان ملاقات زیادہ دور کی بات نہیں


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہمارے وزیراعظم عمران خا ن کی طرح رجائیت پسند ، دبنگ اور یوٹرن کی ماہر شخصیت ہیں۔گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ میں پاکستان کی نئی قیادت سے جلد ملاقات کا منتظر ہوں۔ یہ ملاقات اب زیادہ دور کی بات نہیں۔اسی سانس میں ٹرمپ نے امریکا کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے اسے درست اقدام قراردیا۔انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے استحکام کے لیے روس، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کو کردارادا کرنا چاہیے نہ کہ
جمعه 04 جنوری 2019ء

کوہالہ ہائیڈل پاور منصوبہ بھی نہ شروع ہوسکا

پیر 31 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
دارالحکومت مظفرآباد میں گزشتہ چند ماہ سے شہری کوہا لہ ہائیڈل پاور منصوبے کے موجودہ ڈیزائن کو تبدیل کرانے کے لیے احتجاجی مہم چلارہے ہیں۔ڈھائی بلین امریکی ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے اس منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز دسمبر 2018 ء تک شروع ہونا تھا جو عوامی احتجاج کے باعث تعطل کا شکار ہے۔ یاد رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت براہ راست سرمایہ کاری کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ناقص منصوبہ بندی ، واپڈا اور مقامی حکام کی غفلت اور پیشہ ورانہ استعداد میں کمی کے باعث چینی تعمیراتی کمپنی Three Gorges Corporation,
مزید پڑھیے


اور پھر میاں نوازشریف جیل چلے گئے

جمعه 28 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
میاں محمد نوازشریف کے جیل چلے جانے کا دکھ نون لیگ والوں کی طرح مجھے بھی بہت ہے۔ وہ اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہے۔اسی کی دہائی سے ایک ہنگامہ شب وروز برپا رہا اورمحمد نواز شریف کا ڈنکا لگ بھگ چالیس برس تک بجتارہا۔ اب قیدی نمبر 4470 کو دیکھ کر دل خوف سے لرز اٹھتاہے۔ ان کا مقدمہ حتمی طور پر کیا رخ اختیار کرے گا ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔عدالت سے ریلیف ملنے کا امکان بھی روشن ہے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے اجلاسوں کی روئیداد سن او رپڑھ کر محسوس ہوتاہے کہ آصف علی
مزید پڑھیے


آج بے نظیر بھٹو بہت یادآئیں

پیر 24 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
لیاقت باغ راولپنڈی کے بغلی دروازے سے کل گزر ہوا تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر دیکھ کر ٹھٹھر گیا۔ دسمبر کی ایک سرد شام تھی لیاقت باغ کے جلسے سے خطاب کے بعد محترمہ گھرلوٹ رہی تھیں کہ بے رحم قاتلوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور ان کی روح مالک حقیقی سے جاملی۔ ان کی شہادت نے ملک بھر میں کہرام مچا دیا۔ آہ و زاری میں دوست دشمن کی تمیز نہ رہی۔ ہر آنکھ نم اور چار سوماتم برپا تھا۔ حالیہ تاریخ میںغالباً یہ واحد سانحہ تھا جس نے اہل پاکستان کو اس قدر سوگوار کیا ۔شہادت
مزید پڑھیے


وزیراعظم عمران خان کی جیل

جمعه 21 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
قرائن سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ جیلوں کے دروازے چوپٹ کھلنے کو ہیں۔وزیراعظم عمران خان کاکرپشن کے مرتکب افراد کو حوالات میں بند کرنے کا خواب پورا ہوتا نظر آرہاہے۔چنانچہ پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ کے بجائے بھونچال کی کیفیت میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے۔ آصف علی زرداری لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکے ہیں۔ حکمران جماعت کو وہ کم اور اداروں کو زیادہ لتاڑ رہے ہیں ۔میاں محمد نوازشریف کے گرد بھی گھیرا تنگ ہوچکا ۔ بعید نہیں کہ وہ ایک بار پھر اگلے ہفتے پس دیوار زنداں سدھار جائیں۔شہباز شریف اور سعد رفیق پہلے ہی زیر
مزید پڑھیے




مودی سرکار کو پہلادھچکا

جمعه 14 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس کے ہاتھوںہونے والی عبرت ناک شکست نے بھارتی سیاست میں زبردست بھونچال پیداکردیا ہے۔ ناقابل شکست بی جے پی حکومت زخم خوردہ ہے اور اس کی مسلسل انتخابی فتوحات کا سحر قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس ایک بار پھر ابھر رہی ہے۔وہ ایک متبادل لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیںجو ایک ایسے بیانیہ رکھتاہے جسے بھارت کے طول وعرض میںتمام مذاہب کے پیروکاروں میں قبولیت مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے اور قومی دھارے
مزید پڑھیے


اورگلگت بلتستان صوبہ نہ بن سکا؟

پیر 10 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
گلگت بلتستان کی رائے عامہ اور سیاستدان غم وغصے سے لال پیلے ہورہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے انہیںدغادیا۔پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا لولی پاپ دیا ۔عین وقت پر د م دبا کر بھاگ گئی۔گزشتہ روز گلگت بلتستان اسمبلی میں دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ کشمیری لیڈرشپ کو خوب بے نقط سنائیں۔ وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا: کشمیریوں کے حق میں کسی نے ریلی نکالی تو اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے؟ مزید کہتے ہیں کہ ہمیں کشمیریوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگاورنہ وہ بعض نہیں آئیں گے۔ پیپلزپارٹی کے گلگت بلتستان کے لیڈروں نے
مزید پڑھیے


تین ماہ بہت ہوتے ہیں وزیراعظم صاحب

جمعه 07 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
حکومت کو اپوزیشن، میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا سینگوں پر اٹھاچکاہے۔ تین ماہ کی کارکردگی اور بعدازاں سرکار کی طرف سے کیے جانے والے اعلانات نے عوام کو زیادہ پسند نہیں کیا۔خاص طو ر پر ڈالر کی طوفانی اڑان نے کاروباری طبقات اور شہریوں کے کس بل نکال دیئے۔مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھا کہ حکومتی کارکردگی اس میں دب گئی۔ شہریوں کے لیے حکومت کی کارکردگی کا پیمانہ انہیں ملنے والی بجلی ، پانی کے بل اور روزمرہ کی اشیاء کی مناسب نرخوں پر فراوانی ہے۔پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے بھی شہریوں کو ششدر
مزید پڑھیے


نفرت کی دیواریں گرنی چاہئیں

جمعه 30 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
دوست مسلسل اس کرب میں مبتلا ہیں کہ تحریک انصاف حزب اختلاف میں کرتارپور کی طرح کے اقدامات کو غداری قراردیتی تھی لیکن اب امن کی علمبردار کیوں بن گئی؟ محترمہ شیریں مزاری کی ایک تقریر باربار شیئر کی جاتی ہے جس میں واہگہ کی سرحد سے تجارت بھی بندکرانے کی وہ دہائی دیتی ہیں۔ نون لیگ کے لیڈروںکا دکھ دیدنی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے ہر انی شیٹیو کو شک کی نظر سے ہی نہیں دیکھا گیا بلکہ سبوتاژ بھی کیاگیا۔ عرض ہے کہ حضور! وقت اور منظر نامہ بدلتاہے تو سیاسی حکمت عملی بدلنا پڑتی ہے۔ پرانے
مزید پڑھیے


کرتار پورراہداری ایک نئے دور کا آغاز

اتوار 25 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
دریائے راوی کے کنارے واقع سکھوں کا مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اب سکھ یاتریوں کے لیے کھولا جانے والا ہے۔سات دہائیوں کے بعد پاکستان اور بھارت تین کلومیٹر کا راستہ طے کرنے پرآمادہ ہوئے۔ نفرت، انتقام اور تاریخی زیادتیوں کے احساس نے امن ،ترقی اور خوشحالی کی بات کرنے او رمشترکہ ورثے کو بروئے کار لاکر مستقبل میں جھانکے کی صلاح دینے والوں کو احمق اور بسا اوقات غیر محب وطن قراردیاگیا۔ بالاخر دونوں ممالک میں عقل و خرد نے غلبہ پایااور اس مذہبی اور تاریخی مقام کو یاتریوں کے کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند دنوں
مزید پڑھیے