اسداللہ خان


وغیرہ وغیرہ


عبداللہ طارق سہیل صاحب سے فارمیٹ مستعار لے کر آج چند الگ الگ موضوعات پہ مختصر رائے کا اظہار حاضر ہے ۔ صحافت کرتے کرتے اگر کوئی کسی سیاسی جماعت کا ترجمان بن جائے تو اسے صحافت چھوڑ دینی چاہیے اور سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لینی چاہیے۔ مشاہد حسین سید، شیر ی رحمن ، حسین حقانی ، مشتاق منہاس اور دیگر کئی لوگوں نے صحافت چھوڑی اور سیاست کی راہ لی ۔ایسا کرنے کا حق کسی کو بھی حاصل ہے لیکن صحافت کا لبادہ اوڑھ کر سیاسی چالیں چلنے کے لیے آزادی اظہار کی اجازت طلب کرنا صحافت
جمعرات 17  ستمبر 2020ء

سوسائٹی میں بچا کیا ہے ؟

هفته 12  ستمبر 2020ء
اسداللہ خان
سوسائٹی کریش کر گئی ہے ۔بنیادی انسانی قدریں عنقا ہو گئی ہیں۔پچھلے پچاس سال میں ہم نے ایک نسل نہیں ریوڑ تیار کیا ہے۔صرف ریوڑ بھی ہوتا تو غنیمت تھی، وحشی اور درندہ صفتوں کا ریوڑ ہماری بستیوں پر قابض ہے ۔ یا ہماری بستیاں ہی جنگلوں کے جیسی ہیں یا ہمارے اندر کوئی جانور سا رہتا ہے اس سوسائٹی میں کیا کچھ نہیں ہو چکا ہے ۔سندھ میں اندھی ڈالفن مچھلی کا ریپ کرنے والی قوم، پنجاب کے دیہاتوں میں باڑے میں بندھے جانوروں سے اپنی ہوس کی پیاس بجھانے والی قوم اور تازہ قبروں میں دفن
مزید پڑھیے


آئی جی پنجاب کی تبدیلی ، کون کہاں غلط؟

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
اسداللہ خان
غلط آئی جی پنجاب نے بھی کیا اور کچھ حکومت نے بھی ۔ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے تو اعلانِ بغاوت ہی کردیا، ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دفتر آنا اور کام کرنا چھوڑ دیا۔ وزیر اعلی عثمان بزدار سے ملنے گئے تو سادہ کپڑوں میں ،پیغام انہوں نے یہ دیا کہ صاحب یونیفارم اب تبھی پہنوں گا جب سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو ہٹایا جائے گا۔عثمان بزدار یہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھے کیوں کہ شیخ عمر کی تعیناتی کا فیصلہ براہ راست اسلام آبادسے ہوا تھا، لہذا آئی جی پی شعیب دستگیر نے
مزید پڑھیے


پچپن منٹ نہیں دو سال کی تاخیر

هفته 05  ستمبر 2020ء
اسداللہ خان
ایک منٹ کیا ہوتا ہے؟ایک منٹ یعنی 60 سیکنڈز۔ ایک سیکنڈ میں ایک ہزار ملی سیکنڈز ہوتے ہیں اور دس لاکھ مائیکرو سیکنڈز ۔یوں 60 سیکنڈز میں ہوئے 6 کروڑ مائیکرو سیکنڈز۔ مائیکرو سیکنڈ ایک لمحہ ہوتا ہے، لمحہ زندگی بدل سکتا ہے۔ لمحہ ایک خیال کا نام ہے جو مائیکرو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دماغ میں آتا ہے اور دھماکہ کر کے چلا جاتا ہے ۔یہ لمحہ زندگی بدل سکتا ہے ، زندگی لے سکتا ہے ، زندگی بخش سکتا ہے۔لمحہ خیال بن کر کسی آنکھ پر آ جائے تو اشارے سے کسی کی جان نکال دے۔رحمن فارس
مزید پڑھیے


اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو ۔۔۔

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
اسداللہ خان
نواز شریف مشکل میں ہیں ،انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کریں یا جیل جانے کا خوف خود پہ طاری رکھیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ اپنے خلاف آنے والے فیصلوں میں اپیل کا حق استعمال کر کے سرخرو ہونے کے امکان کو زندہ رکھیں یا پھرغیر حاضر رہ کر اپیل کا حق کھو دیں اور باقی کی زندگی ایک مجرم اور مفرور کی حیثیت سے گزاریں۔ نواز شریف اگر واپس نہیں آتے تو کیا ہو گا؟ ان کے مقدمات اور سیاست کو کیا نقصان پہنچے گا ؟ چلیے پہلے اسی کا ایک جائزہ لے لیتے ہیں۔
مزید پڑھیے



یہ این آر او نہیں تو کیا ہے ؟

هفته 29  اگست 2020ء
اسداللہ خان
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے تجویز کیا گیا نیب ترمیمی بل این آر او کی درخواست نہیں تو اور کیا ہے ؟ پورا بل نہ بھی پڑھیے آپ صرف چند نکات پڑھ کے دیکھ لیجئے ، صاف نظر آئے گا کہ دونوں بڑی پارٹیز کی طرف سے یہ تجاویز چند شخصیات کو بچانے کی کوشش ہیں اور اگر حکومت یہ تجاویز مان لیتی ہے ، بل پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتا ہے تو نہ صرف شریف خاندان کے کیسز ختم کرنا نہایت آسان ہو جائے گا بلکہ آصف علی زرداری پر چلنے والے جعلی اکائونٹس ریفرنسزمیں
مزید پڑھیے


کراچی کا اب یہی حل بچا ہے

جمعرات 27  اگست 2020ء
اسداللہ خان
کراچی کو جنگی بنیادوں پر بنائے گئے بڑے منصوبے کے بغیرٹھیک کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ حکمرانوں سے اس کے علاوہ دوسرے جملوں کی توقع نہیں کہ ہم کیا کریں بارش ہی غیر متوقع طور پہ زیادہ ہوئی ہے ۔سعید غنی صاحب نے زخموں پہ مزید نمک چھڑکنے کے لیے کراچی کے ان چندکلومیٹرزکی سڑکوں کا دورہ کر کے ویڈیو بنائی اور پوسٹ کی جہاں پانی کھڑا ہوا نہیں تھا۔ ستر فیصد کے قریب وہ شہر جہاں لوگ کمر تک ڈوبے ہوئے تھے وہاں جانے کی انہیں توفیق نہ ہوئی۔ سوشل میڈیا پہ وہ کلپ وائرل رہے جس میں لوگ
مزید پڑھیے


ہمارے دماغ لکھاری کے ہاتھ میں ہیں

هفته 22  اگست 2020ء
اسداللہ خان
شوکت صدیقی کے مشہور ناول جانگلوس کا کردارلالی جیل سے بھاگنے اور مجرم ہونے کے باوجود بھلا محسوس ہوتا ہے اور ہر قدم پر پڑھنے والے کی ہمدردی سمیٹتا رہتا ہے ۔ قاری کی خواہش رہتی ہے وہ کسی مصیبت میں نہ پڑے اور اس کے راستے آسان ہوتے رہیں۔ منٹو کے مشہور افسانے ہتک کی کردار سوگندھی اگرچہ جسم فروش ہے لیکن مجال ہے پڑھنے والا اس کی جسم فروشی کو بُرا سمجھے اور اس سے نفرت کرے بلکہ الٹا اس سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے ۔ہسپانوی ڈرامہ سیریل منی ہائسٹ کا پروفیسرہیرو معلوم ہوتا ہے باوجود اس کے
مزید پڑھیے


دو سالہ کارکردگی کا جائزہ

جمعرات 20  اگست 2020ء
اسداللہ خان
امید کے دھاگے سے بندھا تحریک انصاف کا کارکن خود کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے مثبت پہلوئوں کی تلاش میں لگا رہتا ہے ۔ مباحثوں کی نشست میں کچھ دلائل دہرا دہرا کے دیے جاتے ہیں ۔ مثلا کہا جاتا ہے کہ عمران خان ماضی کے حکمرانوں کی طرح کرپٹ نہیں ہیں، بتایا جاتا ہے کہ تیس سال کی خرابیاں دور کرنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے ، دلیل دی جاتی ہے کہ عمران خان پانچ نہیں اگلے بیس سال کا منصوبہ بنا کر کام کر رہے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مافیاز
مزید پڑھیے


نیب حملے سے مریم نے تین پیغام دیے

هفته 15  اگست 2020ء
اسداللہ خان
جیسے چوبیس سال پہلے سپریم کورٹ پر ہونے والا حملہ آج بھی طعنہ بن کر مسلم لیگ ن کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے بالکل ویسے ہی پتھروں سے بھرے پلاسٹک بیگز ہمیشہ مریم نواز کے سیاسی رویے کا اظہار بن کر ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔لہذا میں اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرسکتا کہ مریم نواز نے نیب دفتر کے باہر اپنی طاقت کا اظہار کر کے سیاسی فائدہ حاصل کیا۔ البتہ مریم نواز اپنے اس عمل کے ذریعے تین طرح کے پیغامات دینے میں کامیاب رہی ہیں ۔ ایک پیغام انہوںنے مولانا فضل الرحمن کو دیا کہ مزاحمت
مزید پڑھیے