BN

اسداللہ خان



حکومت نواز شریف کوواپس لانا ہی نہیں چاہتی


صاف نظر آتا ہے کہ حکومت پنجاب نواز شریف کو واپس لانے میں سنجیدہ نہیں ، نہ صرف یہ کہ سنجیدہ نہیں بلکہ اپنے اقدامات سے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ وہ واپس نہ آئیں۔ کیا یہی حکومت کے مفاد میں ہے ؟ کیا یہی حکمت عملی ہے ؟ کیا یہی ہے وہ جسے ڈیل نہیں ارینجمنٹ کہتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کی ضمانت دی اور حکم دیا کہ ضمانت میں توسیع درکار ہو تو حکومت پنجاب سے رجوع کیا جائے۔ طریقہ کار یہ طے پایا کہ نواز شریف اپنی میڈیکل رپورٹس
هفته 22 فروری 2020ء

مریم کی تین درخواستیں ، پانچ سوال

جمعرات 20 فروری 2020ء
اسداللہ خان
نواز شریف بضد ہیں کہ مریم لندن نہیں آئیں گی تو آپریشن نہیں کرائوں گا، شہباز شریف بضدہیں کہ بھائی آپریشن نہیں کرائیں گے تو پاکستان واپس نہیں جائوں گااور مریم بضد ہیں کہ باہر نہیں جانے دیا جائے گا تو ابو صحت یاب نہیں ہوں گے۔ پاکستان پر سب سے زیادہ بار حکومت کرنے والے شریف خاندان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ریاست اور قانون ضد پر نہیں چلتے ۔ مریم نواز کے کیس میں کئی تکنیکی پہلو ہیں جو ان کے بیرون ملک جانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
مزید پڑھیے


ووٹ کا حق

هفته 15 فروری 2020ء
اسداللہ خان
جناب خورشید ندیم’’جمہوری کلچر کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر محو گفتگو تھے۔اپنے مخصوص دھیمے اور مدبرانہ انداز میں فصاحت کے ساتھ انہوں نے پہلے معاشرے کی تعریف کی ،پھر ریاست کی ،پھر کلچر کی، پھر جمہوریت کی اور پھر جمہوری کلچر کی۔ اپنے مخصوص دلنشین انداز میں انہوں نے سمجھایا کہ ریاست کا ادارہ کیوں وجود میں آیا ، قوانین کی ضرورت کیوں پڑی ، انسان قوانین کے تابع کیوں ہیں اور یہ کہ جمہوری نظام اور ریاست اور جمہور کا آپس میں کیا تعلق ہوتا ہے ۔ مختصر گفتگو کے بعد سوال وجواب کی نشست ہوئی تو بحث
مزید پڑھیے


جوتیوں سمیت آنکھوں میں اترے ہوئے لوگ

جمعرات 13 فروری 2020ء
اسداللہ خان
’’اگر کسی صوبے میں ترقی ہو رہی ہے تو وہ سندھ ہے ‘‘۔ حیرت ہے یہ جملہ کہتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کی زبان لڑکھڑائی ، نہ آنکھ شرمائی ۔ نہ چہرے پر کوئی گھبراہٹ کے آثار ، نہ سندھ کے محروم ووٹرز کے ناراض ہونے کا خوف۔ اردو کا ایک محاورہ ہے ، جوتیوں سمیت آنکھوں میں اترنا ، ہمارے سیاستدانوں کو اس میں ملکہ حاصل ہے ۔سندھ کو چھوڑیئے پہلے کراچی کی بات کیجئے، جسے چیف جسٹس آف پاکستان نے میگا پرابلم سٹی قرار دیا ہے ۔ پانی کی فراہمی ، سیوریج اور نکاسی ٔ
مزید پڑھیے


This is a Funny World

هفته 08 فروری 2020ء
اسداللہ خان
وقت بدلتا ہے تو بہت کچھ بدل جاتا ہے یہاں تک کہ الفاظ اور اصطلاحات کے معانی بھی۔زمانوں کاسفر قوموں کی ترجیحات بدلتا ہے تو مصلحت اور مفادات، اصول اور سچائی کی پرچھائیاں بن جاتی ہیں جو اپنے اصل سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے باوجود مہذب دنیا منافقت کا لبادہ اوڑھے رکھتی ہے اور مہذب کہلوانے پر مصر رہتی ہے ، ہم تیسری دنیا کے باشندے مجبور ہیں کہ ان کی بتائی گئی Deffinitions کے مطابق بے معنی الفاظ سے اپنے دفترسیاہ کرتے رہیںحتیٰ کہ مقدر بھی۔ حقیقت میں دیکھیں تو ماضی
مزید پڑھیے




کشمیر کیسے آزاد ہو گا؟

جمعرات 06 فروری 2020ء
اسداللہ خان
سمجھا جاتا ہے کہ ممکنہ طور پر کشمیر کا مسئلہ ان پانچ طریقوں سے حل ہو سکتا ہے ۔ -1 بات چیت کے ذریعے /-2 اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے/ -3 جہاد کے ذریعے/-4 خانہ جنگی کے ذریعے /-5 پاک بھارت جنگ کے ذریعے آئیے دیکھتے ہیں کہ بظاہر ان طریقوں سے کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟با ت چیت کا عمل بند ہوئے برس ہا برس گزر گئے ،بھارت کسی مسئلے پر پاکستان سے بات کرنا ہی نہیں چاہتا ، کشمیر پر تو بالکل نہیں۔جب بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوئے تھے
مزید پڑھیے


شہزاد اکبر سے چند سوال

هفته 01 فروری 2020ء
اسداللہ خان

پریس کانفرنسز کے ماہر بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک اور پریس کانفرنس میں پانچ نئے دعوے کیے ہیں۔ -1 نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے ٹھیکیدار نے کک بیکس کی مد میں چودھری شوگر ملز کے اکائونٹس میں 560 ملین روپے منتقل کیے جو مریم نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ -2 چودھری شوگر ملز کے اثاثوں کی مالیت 6 ارب روپے ہے جبکہ 1991ء میں جب یہ قائم کی گئی تھی تو اس کی مالیت صرف 13 لاکھ روپے تھی۔فرضی قرضوں جعلی ٹی ٹیز اور براہ راست کک بیکس کے ذریعے چودھری شوگر ملز نے ترقی کی۔ -3 اسحاق ڈار
مزید پڑھیے


ارطغرل، تیتوش اور کردوغلو

جمعرات 30 جنوری 2020ء
اسداللہ خان
پہلا منظر: شہنشاہ سازشیوں میں گھر گیا ہے ۔بغاوتیں سر اٹھا رہی ہیں ، اصل سازشیوں تک پہنچنے میں اسے مشکلات کا سامنا ہے ، قریبی ساتھی نا اہل ہیں ، اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لیے انہوں نے شہنشاہ کے سینئر وزیر کی جھوٹی سچی چارج شیٹ اس کے سامنے پیش کر دی ہے۔ شہنشاہ کنفیوژڈ ہے ،کمزور اور نا اہل قریبی شخص کی بات مان کر قابل اعتماد وزیر کو ہٹا دے یا قابل اعتماد وزیر کو بچا لے اور اپنے نا اہل دست راست کو تبدیل کر دے ۔ کنفیوژن کئی روز سے چل رہی ہے
مزید پڑھیے


انہیں گراں فروشی کی اجازت ہے کیا؟

هفته 25 جنوری 2020ء
اسداللہ خان
آٹا مہنگا ہونے پر پریشان مت ہوئیے صاحب!چھوٹی دکان سے خریدتے ہوئے آپ کو تکلیف ہو رہی ہے تو بڑے سٹور سے خرید لیجئے، مہنگا اور ناقص آٹا خرید کر بھی آپ کی تسلی رہے گی۔ہوتا یوں ہے کہ حکومت ایک نام نہاد سرکاری ریٹ لسٹ جاری کرتی ہے۔گوشت ، انڈے ، چینی، چاول ، دالیں ، سبزیاں اور پھل، سب کے نرخ مقرر کیے جاتے ہیں۔پھراس ریٹ لسٹ کا اطلاق کرانے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیاں گلی محلوں میں گشت شروع کرتی ہیں ۔مجموعی طورپر توچھوٹے اور غریب دکاندار اس سرکاری حکم نامے کی پابندی کر ہی رہے ہوتے
مزید پڑھیے


مصنوعی بحران اصل بحران میں تبدیل ہو گیا تو؟

جمعرات 23 جنوری 2020ء
اسداللہ خان
ہم سٹیٹ آف ڈینائل میں ہیں ۔گندم اور آٹے کے بحران کو ذخیرہ اندوزوں کی شرارت قرار دے کر مطمئن بیٹھے ہیں۔حقائق سے نظریں چرا کر سمجھ رہیں ہیں، طوفان گزر جائے گا۔ چھاپہ مار مہم کے دوران چند فلور ملیں سیل کر کے سمجھ رہے حالات پر قابو پا لیا گیا ہے ۔ بحران آیا نہیں ہے جناب آنے والا ہے ۔ پچھلے سال گندم کی پیداوار کا ہدف 27 ملین ٹن مقرر کیا گیا ۔مختلف وجوہات کی بنا پر یہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکااور9.2 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت ہونے والی گندم کی پیداوار 4.9 فیصد کم
مزید پڑھیے