BN

اشرف شریف


سیاسی قالین کے نیچے چھپا گند


جنرل پرویز مشرف کا دور ختم ہونے کے قریب تھا۔جنرل تنویر نقوی کا ترتیب دیا گیا مقامی حکومتوں کا نظام فعال تھا ۔فوجی حکومت اس کا کریڈٹ لیتی تھی۔ انٹیلی جنس ادارے کے اعلیٰ ترین عہدیداروں میں سے ایک نے پوچھا کیا آپ مجھے نئے بلدیاتی نظام میں خواتین کی نمائندگی کے سماجی پہلوئوں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں انہیں وہ کچھ بتائوں جو دیگر ذرائع سے ان تک نہیں پہنچ رہا تھا۔ میں نے کچھ پوائنٹ تحریری شکل میں فراہم کر دئیے۔ میں نے بتایا کہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا
پیر 28  ستمبر 2020ء

پی ڈی ایم کی بنیاد کیا ہے ؟

هفته 26  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
اپنی سوانح حیات میںبے نظیر بھٹو کہتی ہیں: سیاست کس قدر عجیب چیز ہے۔ 5فروری 1981ء کو پاکستان جمہوری پارٹی کے نصراللہ خان ترکی ٹوپی پہنے میری والدہ کے دائیں طرف بیٹھے‘ اصغر خان کی معتدل مزاج تحریک استقلال کے بھرے ہوئے چہرے والے خورشید قصوری ان کے نمائندے کے طور پر میرے بالمقابل براجمان تھے۔ جمعیت علمائے اسلام کے باریش رہنما کمرے میں ایک طرف تھے اور دوسری طرف بائیں بازو کی ایک چھوٹی سی جماعت کے رہنما فتح یاب علی خان۔ تقریباً 20کے قریب افراد تھے جن میں سے اکثر سابقہ پاکستان قومی اتحاد کے رہنما تھے۔ ایک مرحلے
مزید پڑھیے


ایک تاجر کا جمہوری کاروبار

بدھ 23  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
اگر کوئی نوازشریف سے پوری طرح واقف نہ ہو تو اے پی سی سے ان کے خطاب کو ایک ایسے عظیم رہنما کے خیالات تصور کرے گا جو جمہوریت کی بالادستی کے لیے اپنی جان‘ مال اور اولاد قربان کرنے کا عزم رکھتا ہو۔ جناب شہباز شریف اور مریم نواز نے جس طرح نوازشریف کی تقریر کو ایک تاریخ ساز واقعہ بنا کر پیش کیا اور ن لیگی رہنما جس طرح واہ واہ کر رہے ہیں اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف فوج سے زیادہ طاقتور ہیں۔ایک دن پہلے شہباز شریف بلاول بھٹو اور چھوٹے مولانا آرمی چیف
مزید پڑھیے


سی سی پی او لاہور کی آڑ میں پنجاب دشمنی

پیر 21  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
ایک صاحب ہیں‘ آپ کہہ سکتے ہیں وہ ایک موٹیویشنل لکھاری ہیں‘ کہانیاں گھڑتے ہیں۔ اصل ہدف تاریخ کے حقائق پیش کرنا نہیں بلکہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے فرضی اور جھوٹے واقعات کا استعمال ہے۔ مدت سے انہیں پڑھنا چھوڑ رکھا ہے۔ لکھنے والا جب تیل مالش والا بن جائے تو اسے کون پڑھے گا۔چند روز پہلے موصوف نے ایک کالم لکھا۔ برادرم عامر خاکوانی نے ایک پر مغز جواب دیا لیکن ایک پنجابی کے طور پر مجھے موصوف کی تحریر نے کسی اور حوالے سے متوجہ کیا
مزید پڑھیے


ہم کیا ہیں؛ انپڑھوں کی منڈی

بدھ 16  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کا آغاز ہوچکا ،دفتر آتے ہوئے گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج رائے ونڈ روڈ کے بچوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی ،ان کی صحت و سلامتی کے لئے بے ساختہ دعا نکلی۔دھیان تعلیمی ناکامیوں اور حکومتوں کی کوتاہی کی طرف ہو گیا۔کچھ منصوبوں کے بارے پڑھا ،کچھ کا حشر نشر ہوتے خود دیکھا ۔تعلیم بالغاں سے لے کر نئی روشنی سکول اور پھر مسجد سکول جیسی کتنی ہی سکیمیں آئیں جن کے لیے عالمی اداروں نے فنڈز فراہم کئے۔ ان تمام منصوبوں کو سابق حکومتوںنے اپنے سیاسی مقا صدکے طور پر استعمال کیا۔
مزید پڑھیے



افغانستان کا تبدیلی کی جانب سفر

پیر 14  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
شاہد خان اس بار طالبان وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے لیکن میں مصروفیات کے باعث وہاں نہ جا سکا تاہم اس دورے کے متعلق چند نکات کا مجھے علم ہو گیا۔ اب انہوں نے دوحہ میں بین الاقوامی مذاکرات کی کچھ اطلاعات دی ہیں۔شاہد خان بہت محبت والے نوجوان ہیں جو باریک جزئیات کو نظر انداز نہیں کرتے ۔اتور کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک تاریخی عمل کا آغاز ہوا ۔چند ماہ قبل جو ناقابل عمل دکھائی دیتا تھا اب روبہ عمل ہے ۔ عالمی طاقتیں کیسے کھیل کھیلتی ہیں۔ پہلے افغانوں نے ایک دوسرے
مزید پڑھیے


اذیت پسندی کیسے کم ہو گی؟

اتوار 13  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
لاہور کے علاقے گجرپورہ میں لنک موٹر وے پر کار سوار خاتون سے زیادتی ہوئی۔وقفے وقفے سے وحشی مزاج ہمارے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔کئی قانونی سوال اٹھے ہیں جن کو دماغ قبول کرنے لگے ہیں ،صدمے سے نکلنے پر سارا سماج سوچ سکتا ہے کہ یہ وقعہ کیوں ہوا اور اسے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پر ہر بار عوامی سطح پر شدید ردعمل آیا۔ حیرت یہ کہ اس ردعمل کی شدت قانون کا حصہ نہیں بن پائی۔ جانے کتنی زینب قتل ہوئیں تو زینب ایکٹ تیار ہوا۔ یہ جو جمہوریت
مزید پڑھیے


قرآن فہمی کا نیا باب

هفته 12  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
قرآنی موضوعات پر کام کی توفیق میسر آتی ہے تو اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت بھی مل جاتی ہے۔ ایک ایک لفظ اعجاز ۔ہر آیت معاملات کی گرہیں کھولتی۔ پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری نے ’’دی ہولی قرآن۔ ’’اے کانٹی نیوس میریکل‘‘ (قرآن۔ ایک اعجاز مسلسل)کے نام سے قرآن پاک کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن فہمی کے لئے انگریزی کو ذریعہ اظہار بنانے کا مقصد عالمی سطح پر قرآنی موضوعات کو پیش کرنا اور اردو سے ناواقف نسل نو کے لئے تفہیم کا اہتمام کرنا تھا۔کتاب کی مقصدیت طے ہونے کے بعد یقینا مصنف کے پیش نظر یہ
مزید پڑھیے


سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کا دوسرا منصوبہ

بدھ 09  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
فواد چودھری اور شیخ رشید کی باتوں کو سنجیدگی کے ایک ہی درجے پر نہیں رکھا جا سکتا مگر ان دنوں تواتر سے دونوں حضرات نے مسلم لیگ ن کے قالین کے نیچے چھپے اختلافات پر بیانات داغے تو مجھے نپولین بونا پارٹ یاد آ گیا۔ نپولین جب فرانس کے اعلیٰ ترین انتظامی ادارے ایگزیکٹو کونسل کافرسٹ ڈائریکٹر بن گیا تو اس کے ذہن میں شہشناہ بننے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگی لیکن اسے انقلابی پارٹی کی جانب سے مزاحمت کا ڈر تھا۔ اسے اندیشہ لاحق ہوا کہ پارٹی اراکین کہیں گے کہ انہوں نے انقلاب فرانس اس لیے تو برپا
مزید پڑھیے


پاور پالٹکس اور جذباتی استحصال

پیر 07  ستمبر 2020ء
اشرف شریف
پاور پالٹکس کی ایک تعریف یہ کی جا سکتی ہے کہ ہمیشہ اس فریق کا ساتھ دیا جائے جو آپ کی طاقت میں اضافے کا باعث بنے۔ اس کا دوسرا مطلب آپ اس فری سٹائل ریسلنگ سے سمجھ سکتے ہیں جہاں رنگ میں بیک وقت پانچ چھ فائٹر موجود ہوتے ہیں‘ کوئی کسی کا اتحادی نہیں ہوتا‘ ہر کوئی ہر کسی کا اتحادی ہو بھی سکتا ہے‘ یاد رہے پاور پالٹکس کا چلن عام ہو جائے تو سیاست اخلاقیات سے محروم ہو جاتی ہے۔ بھارت کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے دو دن پہلے مقبوضہ کشمیر میں انٹر نیٹ اور ٹیلی
مزید پڑھیے








اہم خبریں