Common frontend top

اشرف شریف


معاشی بحالی کی کچھ سنجیدہ کوشش درکار ہے


اکنامک ریفارمز کی اس بار ریاست اور حکمران اشرافیہ کو ضرورت پڑ گئی ہے‘ اس لئے امید رکھیں معاشی بحالی کا ایجنڈا اتفاق رائے سے طے ہو جائے گا‘ ڈر یہ ہے کہ عام آدمی کی پارلیمنٹ اور فیصلہ سازی کے دیگر فورمز میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے ریفارمز کا بوجھ پہلے سے افلاس کی زد میں آئے طبقات پر نہ ڈال دیا جائے۔ ایسا ہوا تو غریب مر جائے گا لیکن جینا حکمران اشرافیہ کے لئے بھی ناممکن ہو جائے گا۔ اس لئے بچت‘ شفافیت‘ آمدن میں اضافہ اور قرض اتارنے کے تمام مراحل میں بالائی طبقات
هفته 16 مارچ 2024ء مزید پڑھیے

ماحولیاتی خرابی: شہری کہاں جائیں؟

بدھ 13 مارچ 2024ء
اشرف شریف
پرندہ ہونے میں ایک آسانی ہے کہ جہاں ماحول رہنے کے قابل نہ ہو وہاں سے ہجرت کر جاو۔ایک مسکن کی بات ہے ،وہ کسی پہاڑ کی گھاٹی، ندی کی قربت ، جنگل کے کونے اور ویرانے میں کھڑے کیکر پر بنایا جا سکتا ہے۔مسئلہ ہم انسانوں کے لئے بن گیا ہے کہ جن شہروں کو ہزاروں برس تک عالیشان عمارتوں، باغات ، شاہراوں ، تعلیمی اداروں اور شفا خانوں سے بسایا اب وہاں سانس لینا دوبھر ہو گیا ہے۔ پانی کی کمی اور بجلی کے تعطل کے ساتھ اب شہر ہر وقت دھوئیں سے بھرے رہتے ہیں۔ستم یہ کہ
مزید پڑھیے


انتخابی نتائج کے تنازعات سے متعلق پارلیمنٹ کا کردار

اتوار 10 مارچ 2024ء
اشرف شریف
ایک مہینہ ہو چکا ، عام انتخابات ہوئے ۔الیکشن کمیشن کی طرح نئی پارلیمنٹ بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں دلچسپی لیتی نظر نہیں آ رہی۔تنازعات بڑھنے کا اندیشہ ہے لیکن متعلقہ فورمز کوئی حل نہیں نکال رہے۔برسوں سے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی باتیں کرنے والے وہ طریقہ اختیار نہیں کر رہے جو مغربی ممالک کی مثالی پارلیمینٹس بروئے کار لا کر داخلی تنازعات طے کرتی ہیں ۔جیتنے اور ہارنے والے سیاسی استحکام کے لئے ایک غیر سیاسی ادارے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے عام
مزید پڑھیے


بھٹو کیس: عدلیہ نے داغ دھو دیا

هفته 09 مارچ 2024ء
اشرف شریف
عدالت کو پچاس سال لگے غلطی کا اعتراف کرنے میں۔اس دوران تاریخ لکھنے والوں نے کتنے ہزار بار پاکستانی عدلیہ کی مصلحتوں کے نوحے لکھے۔کروڑوں پاکستانی اسے ناحق موت اور انصاف کا قتل کہتے رہے لیکن چند ججوں نے اپنے ہاتھ خون سے رنگنے میں کوئی عار محسوس نہ کیا۔بھٹو صاحب کا خون انصاف انصاف پکارتا رہا ۔گیارہ سال ہوئے جب صدر آصف زرداری نے بھٹو کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا، گیارہ سال بعد تب اس تاریخی ریفرنس پر معزز سپریم کورٹ کی رائے آئی جب آصف زرداری دوبارہ صدر بننے والے ہیں۔مجھے بھٹو خاندان کے
مزید پڑھیے


قصہ فلم میں کام ملنے کا

بدھ 06 مارچ 2024ء
اشرف شریف
لاہور کی دشمن داریوں پر حالیہ کالموں کی اشاعت پر پڑھنے والوں کا ردعمل حیران کن رہا، یہ بات سچ لگی کہ سانپ، فقیر اور بدمعاش کی زندگی ہمیشہ لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہتی ہے۔ میرے کالج دور کے استاد اور فیس بک کی مشہور بزلہ سنج شخصیت غلام ربانی صاحب نے محمد خان ڈاکو پر بنی فلم کا ذکر کیا۔ ذکر کیا ہوا میری یادوں میں ایک کہانی زندہ ہو گئی۔ انٹر میں میری دوستی شافی سے ہوئی۔ شافی کے خاندان کا ایک میڈیکل سٹور ڈیفنس کے عادل ہسپتال کے بالکل سامنے تھا۔ ایک روز مجھ سے پوچھا: فلم
مزید پڑھیے



مصلحتوں سے بندھے نو منتخب وزیر اعظم

پیر 04 مارچ 2024ء
اشرف شریف
پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ ہمیں بجٹ سیشن دیکھنے کے لئے قومی اسمبلی کی گیلری میں مدعو کیا گیا۔ بجٹ پیش کرنا اور اس پر بحث اسمبلی کا سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اراکین اس موقع پر سنجیدگی کے ساتھ اپنی رائے پیش کریں گے۔ جونہی وزیر خزانہ نے تقریر شروع کی مسلم لیگ کی کچھ خواتین نے شور مچاتے ہوئے وزیر خزانہ کا گھیرائو کرنے کی کوشش کی۔اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ احسن اقبال حسب معمول سوٹ میں ملبوس تیز تیز چلے آ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے پاس آ کر انہوں
مزید پڑھیے


پنجاب میں بچیوں کے لئے کھیلوں کی سہولیات کا مسئلہ

بدھ 28 فروری 2024ء
اشرف شریف
بچیوں کے ایک سکول کی تقریب میں ہاکی کے شہرہ آفاق کھلاڑی شہباز سینئر، پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سپر سٹار آل راونڈر عالیہ ریاض اور خاکسار بطور مہمان مدعو تھے۔چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والا یہ سکول اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے پاس کھیلوں کے لئے کشادہ میدان چار دیواری کے اندر موجود ہے ۔میں نے برادرم خالد رسول کو تجویز دی کہ وہ شام کے اوقات میں یہاں لڑکیوں کے لئے سپورٹس اکیڈمی بنا دیں۔ارد گرد ٹاون شپ و گرین ٹاون کے علاقے کی ہزاروں بچیوں کو محفوظ ماحول میں کھیلنے کی
مزید پڑھیے


لاہور کی دشمن داریاں……(5)

منگل 27 فروری 2024ء
اشرف شریف
انیس سو ساٹھ کے لگ بھگ پاکستان میں 750سینما گھر تھے۔ قابل ذکر بات یہ کہ 400سینما صرف پنجاب میں تھے۔ لاہور میں 82سینما فلمیں دکھا رہے تھے‘ لاہور کی فلمی اہمیت کے باعث ہی پاکستانی فلمی صنعت کو لالی ووڈ کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اردو کی کلاسک فلمیں بنائی گئیں لیکن ہمیشہ سے پنجابی سینما زیادہ مقبول رہا۔ پنجابی فلمیں ملنگی‘ ہیر رانجھا ‘ نوکر ووہٹی دا‘ خان چاچا بہت مقبول ہوئیں لیکن پھر گجر‘ جٹ اور بدمعاشوں کے ناموں والی فلمیں بننے لگیں ۔ ایک طرف اچھا شوکر والا فلمی صنعت کی طرف آیا اور پھر
مزید پڑھیے


لاہور کی دشمن داریاں……(4)

پیر 26 فروری 2024ء
اشرف شریف
اس نے دکاندار سے پوچھا کہ یہ شخص کون تھا؟ دکاندار نے کہا کہ آپ لاہور کے نہیں لگتے، یہ جگا بادشاہ تھا، لاہور کا اصل بادشاہ۔ سارے لاہور پر اس کا حکم چلتا ہے۔اس دن سے جگا کی گرفتاری کی کی منصوبہ بندی ہونے لگی ۔جگا گجر اور ریاض گجر ڈی آئی جی چودھری محمد الطاف کی گولی سے ہلاک ہوئے تھے ۔ بعد میں لوگ انھیں الطاف جگا کہنے لگے تھے۔ چودھری محمد الطاف نے میاں نواز شریف کے دور میں احمد مختار اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں میاں محمد شریف کو بھی ہتھکڑی لگائی
مزید پڑھیے


لاہور کی دشمن داریاں……(3)

جمعه 23 فروری 2024ء
اشرف شریف
ان کا کام تھا کہ جواری نہ آتے تو انہیں لایا جاتا۔ دولت مند لوگوں کو پھانس کر لاتے۔ ہارجیت پر کمیشن پاتے۔ تیسرا گروپ لڑنے مرنے والوں کا تھا۔ یہ دراصل استاد کی فوج تھی۔ اس میں بڑے نڈر لوگ تھے۔ پولیس سے مقابلہ، مخالفین سے جھڑپیں، برتری کے معرکے سر کرنا، استاد جس طرف اشارہ کرتا یہ بھوکے شیروں کے طرح اس طرف جھپٹ پڑتے۔ اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لیے استاد نے انگریز پولیس سے گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ تھانوں کے اہلکاروں اور افسروں سے اس کا رابطہ تھا۔ پولیس والے اس سے تنخواہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں