BN

محمد اظہارالحق



دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے


حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟ اس نے کہا میرے پاس دو درہم ہیں حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا یہ تین درہم ہو جائیں گے۔ جا کر شہر سے ان تین درہم کی روٹیاں لے آئو۔ اسے تین درہم کی تین روٹیاں ملیں۔ راستے میں سوچنے لگا کہ حضرت ؑ نے تو ایک درہم دیا۔ میرے دو درہم ہیں۔ روٹیاں تین ہیں۔ مجھے گھاٹا پڑے گا۔ چنانچہ اس نے راستے
جمعرات 18 جولائی 2019ء

روک سکتے ہو تو روک لو

منگل 16 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
یہ میں ابتدا ہی میں واضح کر دوں کہ میرا دین، ایمان، وطن، قبیلہ، خاندان، زبان، ایک ہے صرف ایک۔ اور وہ ہے پیسہ! وہ جو لطیفہ مشہور ہے کہ تاجر کو نزع کے وقت سب کلمہ پڑھنے کی تلقین کر رہے تھے اور وہ ایک ہی بات کہے جا رہا تھا کہ دکان کا تالا چیک کرو۔ دکان کا تالا چیک کرو۔ تو وہ محض لطیفہ نہیں‘ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ حقیقت کیا ہے؟ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت ہے نہ آئن سٹائن بننے کی!حقیقت یہ ہے کہ میرا اوڑھنا بچھونا پیسہ
مزید پڑھیے


اقدار کی جنگ

اتوار 14 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
ایک کتاب کی تلاش تھی۔ لائبریری میں ڈھونڈی تو مل گئی۔ دو نسخے تھے۔ اتفاق سے ممبران نے دونوں لے رکھے تھے۔ ایک نسخہ اپنے لئے محفوظ کرا لیا۔ جس کا مطلب تھا کہ باری آنے پر مطلع کیا جائوں گا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ای میل موصول ہوئی کہ کتاب واپس آ چکی ہے فلاں تاریخ تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر تب تک لائبریری جا کر ایشو نہ کرائی تو کسی اور منتظر رکن کو دے دی جائے گی۔ دوسرے دن لائبریری پہنچ گیا۔ رہائش گاہ سے لائبریری کا پیدل فاصلہ بیس پچیس منٹ کا ہے۔ ایک مخصوص الماری
مزید پڑھیے


ت سے تکّبر اور ت سے تاجر

هفته 13 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
دونوں کو قید کر دیا گیا ایک دبلا پتلا تھا۔ دن میں ایک وقت کھانا کھانے والا۔ دوسرا فربہ تھا۔ پیٹو! سب کا خیال تھا کہ یہ جو دبلا پتلا سوکھا سڑا ہے زنداں نہیں برداشت کر پائے گا مگر معاملہ الٹ ہوا۔ موٹے تازے آدمی کا جیل کے نپے تُلے کھانے پر گزارہ نہ ہو سکا، چل بسا۔ صحت مند وہ نہیں ہوتا جو بسیار خور ہو! اوپر گوشت اور اندر چربی کی تہیں ہوں۔ جسم غبارے کی طرح پھولا ہوا ہو۔ صحت مند وہ ہوتا ہے جس کا بدن چھریرا ہو۔ سریع الحرکت ہو۔ وزن اٹھا سکے۔ بات بات پر
مزید پڑھیے


جیسا بھی ہے اپنا تو ہے

جمعرات 11 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
یہ لکمبا ہے۔ سڈنی کے اندر ایک ڈھاکہ‘ ایک قاہرہ‘ ایک لاہور۔ سامنے میز پر نہاری ہے‘ پائے ہیں! اچار والے چنے ہیں۔ پوریاں اور پراٹھے ہیں۔ تانبے کے گلاس میں میٹھی لسّی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لئے سڈنی کو اور سڈنی کے لکمبا کو بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ بڑے مراحل سے گزرنا پڑا۔ یہ سفر دو سو تیس سال پہلے شروع ہوا۔ انگریز‘ امریکہ کھو بیٹھے تھے۔ اب نئی کالونیوں کی تلاش تھی قیدیوں کے لئے ایک نئے ’’کالا پانی‘‘ کی ضرورت تھی۔ ایک منجھے ہوئے جہاز ران آرتھر فلپ کو گیارہ بحری جہازوں کا بیڑہ دیا گیا۔ اس میں
مزید پڑھیے




ایک گمبھیر معاملہ

منگل 09 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
بچی گلی میں کھیل رہی تھی۔ گھر والے بے نیاز تھے۔ آئے دن اغوا کی خبریں پڑھنے اور سننے کے باوجود کسی نے فکر نہیں کی کہ باہر جا کر اسے دیکھے یا واپس گھر بلائے یا کسی بڑے کو، کسی ملازم کو، باہر کھڑا کرے کہ جب تک بچی کھیل رہی ہے، اس کا دھیان رکھے! بچی اغوا ہو گئی۔ ڈھنڈیا پڑی۔ مسجدوں سے اعلان کرائے گئے۔ پھر پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائی گئی۔ تھانے پر دبائو ڈالا اور ڈلوایاگیا ۔ فرض کیجئے بچی مل گی۔ اغوا کار پکڑا گیا۔ اب یہاں معاملے کے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔
مزید پڑھیے


دو پاکستان!مگر کب تک؟؟

هفته 06 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
سپاہی غلام قاسم‘ نائک شیر زمان‘ سپاہی طیب‘ سپاہی زہیب اور صوبیدار صادق نے اس دن بھی کچے گھروں میں کھیلتے اپنے بچوں کو یاد کیا تھا۔ نماز کے بعد اس دن بھی اپنی فتح کی دعا مانگی تھی۔ اس دن بھی شہادت کی آرزو کی تھی۔ پھر دھماکہ ہوا۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ لوہے کے ٹکڑے ہوا میں اڑ اڑ کر برسنے لگے۔ آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ صوبیدار صادق کی میت نیلم کے علاقے جورا کو روانہ ہوئی۔ سپاہی طیب کا جسد خاکی خوشاب بھیجا گیا۔ نائک شیر زمان کی لاش ضلع کرک کے گائوں شمہ شکی کی طرف
مزید پڑھیے


آگ اور گھر کا چراغ

جمعرات 04 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
دوستوں سے قطع تعلق کر سکتے ہیں۔ رشتہ داروں سے نہیں! دور رہنے کی جتنی بھی کوشش کریں۔ موت اور خوشی کے مواقع پر ملنا ہی پڑتا ہے۔ ساتھ بیٹھنا ہی پڑتا ہے۔ پڑوسی‘ رشتہ دار نہیں ہوتے مگر پڑوسیوں سے بھی جان چھڑانا ناممکن ہے۔ گھر بیچ کر دوسرے محلے‘ دوسرے شہر دوسرے ملک کو ہجرت کر جائیں گے۔ مگر ملک کو کہاں لے جائیں گے؟ کچھ عرصہ ہوا اس کالم نگار نے ایک تحریر میں دعا کی تھی اور قدرت کی منت زاری کہ افغانستان کو اٹھا کر امریکہ لے جائے یا یورپ کی بے شک کوئی امیر ریاست
مزید پڑھیے


عقل مند چور یا دیانت دار جھلاّ۔؟

منگل 02 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
وزیراعظم سے ملاقات کرنا، سیاست دانوں کے لئے شجر ممنوعہ نہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان اگر ملے ہیں تو گناہ نہیں سرزد کیا۔ نہ ہی وزیراعظم کے لئے مناسب ہے کہ کسی کو ملنے سے انکار کریں۔ ہاں ! اگر ثناء اللہ کا یہ الزام درست ہے کہ ’’لیگی ارکان کو توڑنے کے لئے خزانے کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‘‘ اور ’’وزیراعظم ہائوس میں لوٹا کریسی کے لئے خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے‘‘ تو یہ یقیناً قابل مذمت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر گزشتہ حکومتوں کی طرح ترغیب و تحریص کا دام بچھاتی ہے اور فنڈز
مزید پڑھیے


گرم کپڑوں کا صندوق مت کھولنا

اتوار 30 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
سہ پہر ابھی نہیں ہوئی مگر کالی گھٹا نے جُھٹپٹے کا سماں پیدا کر رکھا ہے۔ قطرہ قطرہ بارش بے لباس درختوں کی ٹہنیوں سے ہوتی ہوئی‘ زمین پر گر رہی ہے۔ سڑک پر دور دور تک کوئی ذی روح نہیں! کبھی کبھی کوئی گاڑی زناٹے سے گزرتی ہے اس کے بعد پھر سناٹا چھا جاتا ہے۔ یہ گیند جسے ہم کرہ ارض کہتے ہیں‘ عجائبات کی زنبیل ہے۔ کبھی ایک عجوبہ نکلتا ہے‘ کبھی دوسرا‘ الاسکا سے لے کر نیوزی لینڈ تک۔ سائبیریا سے لے کر جزائر انڈیمان تک۔ کینیڈا کے انتہائی شمال سے لے کر چلّی کے جنوبی کونے
مزید پڑھیے