محمد اظہارالحق

مولانا کے دفاع میں

منگل 14  اگست 2018ء
مولانا فضل الرحمن پر مخالفین منافقت کا بہتان تراشتے ہیں۔ مخالفت کا حق کسی سے بھی چھینا نہیں جا سکتا۔ مگر منافقت کا الزام لگانا ناانصافی ہے۔ مولانا کا ماضی اس حقیقت پر شاہد ہے کہ انہوں نے منافقت سے کام کبھی نہیں کیا۔ سب جانتے ہیں کہ مولانا کا اور ان کے بزرگوں کا تعلق ایک ایسی مذہبی جماعت سے تھا جو قیام پاکستان کی مخالف تھی۔ مسلم لیگ کے مقابلے میں ان کے بزرگوں کی جماعت نے کانگرس کا ساتھ دیا تھا۔ مولانا اسی پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی برس رکن رہے، ان کے بزرگوں نے جس کی مخالفت کی
مزید پڑھیے


سیاست میں انسانیت ڈھونڈنے کا ہنر

هفته 11  اگست 2018ء
اکتا جاتے ہیں۔سیاست کے موضوع پر کالم پڑھ پڑھ کر پڑھنے والوں کی ناک میں دم آ جاتا ہے۔ مان لیا، سیاسی موضوعات پر سب اپنے اپنے اسلوب سے لکھتے ہیں۔ کچھ کے اسالیب بہت مقبول ہیں مگر موضوع تو وہی رہتے ہیں۔ وہی عمران خان، وہی زرداری، وہ انگلی لہراتی ہوئی، وہی ہیٹ، وہی شہزادی، وہی اس کا بے وقعت میاں جس نے شناخت سسرال میں گم کردی۔ فنا فی السسرال ہوگیا۔ تاریخ میں نام اور مقام بنا گیا۔ جب بھی دوسرے موضوعات پر کالم لکھا فیڈ بیک، کئی گنا زیادہ آیا۔ بچے، بچوں کی معصومیت، سماجی رشتے جو مدہم ہوتے
مزید پڑھیے


لُوٹا ہوا پِزا اور سوئمبر

جمعرات 09  اگست 2018ء
جو اپنے خریدے گئے پزا کی حفاظت نہ کرسکا، وہ ملک کی حفاظت خاک کرے گا؟ اول تو عمران خان کو ایسی حرکت کرنا نہیں چاہیے تھی۔ خدا کے بندے! تم ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہو۔ تبدیلی کا نعرہ لگا رہے ہو۔ عوام نے تم پر اعتماد کیا ہے۔ ووٹ ڈالے ہیں۔ تم متوقع وزیراعظم ہو۔ دنیا بھر کی نظریں تم پر ہیں۔ ایک ایک نقل و حرکت کا جائزہ لیا جارہا ہے اور حالت تمہاری یہ ہے کہ پزا لینے کے لیے رات گئے خود نکل کھڑے ہوئے۔ وہ بھی تن تنہا۔ پھر اگر عمران خان سے یہ حماقت سرزد
مزید پڑھیے


ایک ایک رمق۔ ایک ایک قطمیر کا علم سب کو ہے

منگل 07  اگست 2018ء

نہیں! ایسانہیں! سب کچھ متکبر انسانوں کے اختیار میں نہیں! ایسا ہوتا تو کارخانہ عالم چل سکتا نہ جزا اور سزا کی ضرورت پیش آتی!

مدت ہوئی بزرگوں سے سنا تھا کہ دیانت داروں کی نیک نامی فضائوں میں خوشبو کی طرح بکھیر دی جاتی ہے۔ کیا عجب اس پر فرشتے مامور ہوں! بدنیت ‘ مفاد پرست اور زر پوش لاکھ پردے تانیں‘بری شہرت کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ نیکی چھپتی ہے نہ بدی! کاش طاقت ور اس اٹل حقیقت کو سمجھ سکتے!!

معیشت دان کہتے ہیں کہ اُبھرے پیٹ کی طرح افراط زر
مزید پڑھیے


تینوں رقص کرنے لگے

اتوار 05  اگست 2018ء
سب سے پہلے یہ خبر قاضی حسین احمد نے جنرل حمید گل کو دی۔ حمید گل بھاگے بھاگے جنرل ضیاء الحق کے پاس گئے۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی ضیاء الحق سے لپٹ گئے۔ ’’سر! مبارک ہو! مبارک ہو! لگتا ہے ہمارے آپ کے خواب کی تعبیر پھلنے پھولنے کو ہے۔‘‘ یہ تینوں مقدس ہستیاں ساری عمر اس متبرک کوشش میں مصروف رہیں کہ ایک تو افغانستان اور پاکستان ایک ہو جائیں‘ دوسرے دنیا بھر کے مسلمان پاکستان آ کر بس جائیں۔ ویسے تو یہ اعزاز مشرق وسطیٰ بالخصوص جزیرہ نمائے عرب کو ملنا چاہیے تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان بلاروک ٹوک
مزید پڑھیے


ہرن اور جنگلی درندے

هفته 04  اگست 2018ء
دارالحکومت میں ایک چڑیا گھر ہے جسے مرغزار کہتے ہیں۔ اس چڑیا گھر کے کچھ بچے بھی ہیں، یعنی چھوٹے چھوٹے چڑیا گھر! جو شہر کی مختلف شاہراہوں کے کنارے، گرین ایریاز میں واقع ہیں۔ کسی میں پرندے ہیں، کسی میں دلکش مور اور کہیں خوبصورت معصوم ہرن۔ ان چھوٹے چڑیا گھروں میں سے ایک پر دو روز پہلے کسی جنگلی جانور نے شب خون مارا۔ پانچ ہرن ہلاک کردیئے اور چھٹے کو شدید زخمی۔ اہلکاروں کا خیال ہے کہ یہ جنگلی جانور کتا تھا یا گیدڑ مگر چڑیا گھر کے بڑے افسر کا کہنا تھا کہ یہ کام بھیڑیے ہی کا
مزید پڑھیے


نیلے پانیوں کا رخ کرے نہ کوئی بھی

جمعرات 02  اگست 2018ء
کئی سال کے بعد رشید نے وطن کا پھیرا لگایا۔ آٹھ سالہ بچی ہمراہ تھی۔ بیگم نے دیکھا تو بے ساختہ کہا‘ بالکل اپنی ماں کی کاپی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرا بھائی آیا۔ بچی کو دیکھا اور فتویٰ دیا کہ ہو بہو اپنی دادی کی شکل ہے۔ شام کو ہمارا بیٹا دفتر سے واپس آیا کہنے لگا حمید انکل پر گئی ہے۔ اب ہماری بہو کی باری تھی اس کا خیال تھا کہ بچی میں باپ کی جھلک نظر آتی ہے! مشابہت کے حوالے سے یہ اختلاف آپ نے بارہا نوٹ کیا ہو گا۔ ایک کہتا ہے فلاں شخص
مزید پڑھیے


یہاں تک کہ دجّال ظاہر ہو

منگل 31 جولائی 2018ء
شاعر کا نام یاد نہیں! شعر کا مفہوم یہ تھا کہ تیس برس کے زہد و ریاضت کو ایک نوخیز حسینہ کا حُسن بہا کر لے گیا۔ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی میں(غالباً) سب سے زیادہ پڑھے لکھے سیاست دان ہیں۔ مقابلے کے امتحان میں، ملک بھر میں اوّل آئے ملازمت کرنے سے انکار کر دیا۔ وکالت شروع کی پھر وہ وقت بھی آیا کہ ملک کے گراں ترین وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔ سیاست دان بنے۔ پیپلزپارٹی کے رکن ہوئے وزیر رہے۔ پارٹی کو کسی حال میں نہ چھوڑا۔ پارٹی سے وفاداری اس قدر کہ پوری دنیا نے کرپشن پر آہ
مزید پڑھیے


جناب میاں نواز شریف!ابھی بھی کچھ نہیں گیا

اتوار 29 جولائی 2018ء

نہیں! ایسا نہیں!

ہرگز نہیں!

جو بزرجمہر اپنی پرانی دوا بیچے جا رہے ہیں خدا کے لیے مریض پر رحم کر دیں! اب تو رحم کر دیں!!

ایک ازکار رفتہ تھیوری! یہ کہ نواز شریف کا بیانیہ مضبوط تھا۔ یہ کہ عوام سول بالادستی کے لیے بڑے میاں صاحب کا ساتھ دینے کے لیے تیار تھے یہ کہ شہباز شریف صاحب کا بیانیہ مختلف تھا۔ یہ کہ عوام کنفیوژ ہو گئے اور یوں مسلم لیگ نون ہار گئی!

رحم !رحم! اے ابنائے زمانہ! رحم!اس قوم پر رحم کر دیجیے!

بیانیہ کے لفظ کے ساتھ یہاں جو کچھ ہوا لغت کے قارون مدتوں یاد رکھیں گے
مزید پڑھیے


تین کام جو عمران خان کو پہلے ہفتے میں کردینے چاہئیں

هفته 28 جولائی 2018ء
معاشی گڑھے سے نکلنے کے لیے تو خیر عمران خان کو کچھ طویل المیعاد منصوبوں پر کام کرنا پڑے گا۔ جن میں سے تین اہم ہیں۔ اول: ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ، دوم: درآمدات کے بل میں کمی اور سوم: جن افراد نے گزشتہ عشروں میں قرضے معاف کرائے، (سابق سپیکر فہمیدہ مرزا جیسے بااثر سیاستدان بھی ان میں شامل ہیں) ان سے ان بھاری رقوم کی واپسی۔ مگر تین کام ایسے ہیں جو عمران خان کو حکومت میں آنے کے بعد پہلے ہفتے کے اندر کردینے چاہئیں۔ اول: وزیراعظم ہائوس کو جو دراصل ایک محل نہیں، محلات کا
مزید پڑھیے