BN

محمد اظہارالحق

الیس الصبح بقریب

اتوار 19  اگست 2018ء
(1) چوں چراغ لالہ سوزم درخیابان شما اے جوانان عجم! جانِ من و جانِ شما اے جوانان عجم! اپنی اور تمہاری جان کی قسم! میں تمہارے باغ میں گل لالہ کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں۔ مہرومہ دیدم‘ نگاہم برتراز پروین گزشت رخیتم طرحِ حرم درکافرستانِ شما سورج اور چاند کو دیکھا۔ پھر میری نظر ستاروں کے جھرمٹ سے آگے گئی۔ یوں میں نے تمہارے کفرستان میں حرم کی بنیاد رکھی۔ فکر رنگینم کند نذر تہی دستان شرق پارۂ لعلی کہ دارم از بدخشانِ شما تمہارے بدخشان سے جو لعل کا ٹکڑا میرے پاس ہے اسے میری رنگین سوچ مشرق کے مفلسوں کی نذر کر رہی ہے۔ می
مزید پڑھیے


فکری شجرہ نسب

هفته 18  اگست 2018ء
احتساب کرنے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ نیب کو کوئی چیک کر رہا ہے یا نہیں؟ ایف آئی اے کے اوپر کون ہے؟ آڈیٹر جنرل کا آڈٹ وزارت خزانہ نے کرنا ہوتا تھا۔ آخری مرتبہ کب ہوا؟ 2000ء کے ایکٹ کے بعد وزارت خزانہ بھی اس کام سے فارغ ہو چکی۔ پولیس کے تھانوں میں کبھی کسی نے جا کر پڑتال کی ہے کہ کتنی شکایتیں، کتنی فریادیں، کتنی ایف آئی آر درج ہوئیں، ان پر کیا کام ہوا، ان کا کیا انجام ہوا۔ اتنے عرصہ میں کتنے سائل آئے؟ ایک ادارہ ایسا بھی ہے جو ان سب سے اوپر ہے۔ یہ آل اِ
مزید پڑھیے


وادیٔ قیس سلامت ہے تو انشاء اللہ

جمعرات 16  اگست 2018ء
بہت ملک دیکھے۔ بہت سمندر پار کئے۔ جزیروں سے لطف اٹھایا۔ کیا کیا ولایتیں ہیں جو بحرالکاہل اور اوقیانوس کے کناروں پر آباد ہیں۔ بحیرۂ روم کے ساحلوں پر بہشت کے ٹکڑے یوں پڑے ہیں جیسے شال پر ستارے ٹانکے گئے ہیں۔ اور کیسے کیسے شہر۔ چھلکتے بازار۔ کوچے جیسے الف لیلیٰ کی داستانوں میں پھیلی گلیاں! کھڑکیوں پر ریشمی پردے۔ پردوں کے پیچھے پریاں۔ مگر جہاں گیا، اجنبی ٹھہرا۔ کہیں پوچھا گیا، پاسپورٹ کہاں ہے؟ کہیں ویزا چیک کیا گیا۔ کہیں سوال کیا گیا، کہاں کے ہو؟ جوتے اتروائے گئے۔ کہیں بازو پھیلانے کو کہا گیا۔ اس کرۂ ارض پر‘ اس سیارے
مزید پڑھیے


مولانا کے دفاع میں

منگل 14  اگست 2018ء
مولانا فضل الرحمن پر مخالفین منافقت کا بہتان تراشتے ہیں۔ مخالفت کا حق کسی سے بھی چھینا نہیں جا سکتا۔ مگر منافقت کا الزام لگانا ناانصافی ہے۔ مولانا کا ماضی اس حقیقت پر شاہد ہے کہ انہوں نے منافقت سے کام کبھی نہیں کیا۔ سب جانتے ہیں کہ مولانا کا اور ان کے بزرگوں کا تعلق ایک ایسی مذہبی جماعت سے تھا جو قیام پاکستان کی مخالف تھی۔ مسلم لیگ کے مقابلے میں ان کے بزرگوں کی جماعت نے کانگرس کا ساتھ دیا تھا۔ مولانا اسی پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی برس رکن رہے، ان کے بزرگوں نے جس کی مخالفت کی
مزید پڑھیے


سیاست میں انسانیت ڈھونڈنے کا ہنر

هفته 11  اگست 2018ء
اکتا جاتے ہیں۔سیاست کے موضوع پر کالم پڑھ پڑھ کر پڑھنے والوں کی ناک میں دم آ جاتا ہے۔ مان لیا، سیاسی موضوعات پر سب اپنے اپنے اسلوب سے لکھتے ہیں۔ کچھ کے اسالیب بہت مقبول ہیں مگر موضوع تو وہی رہتے ہیں۔ وہی عمران خان، وہی زرداری، وہ انگلی لہراتی ہوئی، وہی ہیٹ، وہی شہزادی، وہی اس کا بے وقعت میاں جس نے شناخت سسرال میں گم کردی۔ فنا فی السسرال ہوگیا۔ تاریخ میں نام اور مقام بنا گیا۔ جب بھی دوسرے موضوعات پر کالم لکھا فیڈ بیک، کئی گنا زیادہ آیا۔ بچے، بچوں کی معصومیت، سماجی رشتے جو مدہم ہوتے
مزید پڑھیے


لُوٹا ہوا پِزا اور سوئمبر

جمعرات 09  اگست 2018ء
جو اپنے خریدے گئے پزا کی حفاظت نہ کرسکا، وہ ملک کی حفاظت خاک کرے گا؟ اول تو عمران خان کو ایسی حرکت کرنا نہیں چاہیے تھی۔ خدا کے بندے! تم ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہو۔ تبدیلی کا نعرہ لگا رہے ہو۔ عوام نے تم پر اعتماد کیا ہے۔ ووٹ ڈالے ہیں۔ تم متوقع وزیراعظم ہو۔ دنیا بھر کی نظریں تم پر ہیں۔ ایک ایک نقل و حرکت کا جائزہ لیا جارہا ہے اور حالت تمہاری یہ ہے کہ پزا لینے کے لیے رات گئے خود نکل کھڑے ہوئے۔ وہ بھی تن تنہا۔ پھر اگر عمران خان سے یہ حماقت سرزد
مزید پڑھیے


ایک ایک رمق۔ ایک ایک قطمیر کا علم سب کو ہے

منگل 07  اگست 2018ء

نہیں! ایسانہیں! سب کچھ متکبر انسانوں کے اختیار میں نہیں! ایسا ہوتا تو کارخانہ عالم چل سکتا نہ جزا اور سزا کی ضرورت پیش آتی!

مدت ہوئی بزرگوں سے سنا تھا کہ دیانت داروں کی نیک نامی فضائوں میں خوشبو کی طرح بکھیر دی جاتی ہے۔ کیا عجب اس پر فرشتے مامور ہوں! بدنیت ‘ مفاد پرست اور زر پوش لاکھ پردے تانیں‘بری شہرت کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ نیکی چھپتی ہے نہ بدی! کاش طاقت ور اس اٹل حقیقت کو سمجھ سکتے!!

معیشت دان کہتے ہیں کہ اُبھرے پیٹ کی طرح افراط زر
مزید پڑھیے


تینوں رقص کرنے لگے

اتوار 05  اگست 2018ء
سب سے پہلے یہ خبر قاضی حسین احمد نے جنرل حمید گل کو دی۔ حمید گل بھاگے بھاگے جنرل ضیاء الحق کے پاس گئے۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی ضیاء الحق سے لپٹ گئے۔ ’’سر! مبارک ہو! مبارک ہو! لگتا ہے ہمارے آپ کے خواب کی تعبیر پھلنے پھولنے کو ہے۔‘‘ یہ تینوں مقدس ہستیاں ساری عمر اس متبرک کوشش میں مصروف رہیں کہ ایک تو افغانستان اور پاکستان ایک ہو جائیں‘ دوسرے دنیا بھر کے مسلمان پاکستان آ کر بس جائیں۔ ویسے تو یہ اعزاز مشرق وسطیٰ بالخصوص جزیرہ نمائے عرب کو ملنا چاہیے تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان بلاروک ٹوک
مزید پڑھیے


ہرن اور جنگلی درندے

هفته 04  اگست 2018ء
دارالحکومت میں ایک چڑیا گھر ہے جسے مرغزار کہتے ہیں۔ اس چڑیا گھر کے کچھ بچے بھی ہیں، یعنی چھوٹے چھوٹے چڑیا گھر! جو شہر کی مختلف شاہراہوں کے کنارے، گرین ایریاز میں واقع ہیں۔ کسی میں پرندے ہیں، کسی میں دلکش مور اور کہیں خوبصورت معصوم ہرن۔ ان چھوٹے چڑیا گھروں میں سے ایک پر دو روز پہلے کسی جنگلی جانور نے شب خون مارا۔ پانچ ہرن ہلاک کردیئے اور چھٹے کو شدید زخمی۔ اہلکاروں کا خیال ہے کہ یہ جنگلی جانور کتا تھا یا گیدڑ مگر چڑیا گھر کے بڑے افسر کا کہنا تھا کہ یہ کام بھیڑیے ہی کا
مزید پڑھیے


نیلے پانیوں کا رخ کرے نہ کوئی بھی

جمعرات 02  اگست 2018ء
کئی سال کے بعد رشید نے وطن کا پھیرا لگایا۔ آٹھ سالہ بچی ہمراہ تھی۔ بیگم نے دیکھا تو بے ساختہ کہا‘ بالکل اپنی ماں کی کاپی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرا بھائی آیا۔ بچی کو دیکھا اور فتویٰ دیا کہ ہو بہو اپنی دادی کی شکل ہے۔ شام کو ہمارا بیٹا دفتر سے واپس آیا کہنے لگا حمید انکل پر گئی ہے۔ اب ہماری بہو کی باری تھی اس کا خیال تھا کہ بچی میں باپ کی جھلک نظر آتی ہے! مشابہت کے حوالے سے یہ اختلاف آپ نے بارہا نوٹ کیا ہو گا۔ ایک کہتا ہے فلاں شخص
مزید پڑھیے