BN

محمد اظہارالحق



مگرمچھ کے آنسو


کیا آپ نے کبھی مگر مچھ دیکھا ہے؟ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہوتا تو اگلا سوال یہ تھا کہ کیا کبھی مگر مچھ کو آنسو بہاتے بھی دیکھا ہے۔ مگر مچھ کے آنسو بہانے کا محاورہ ہمارے ہاں براہ راست انگریزی زبان سے آیا ہے۔ کچھ محاورے فارسی سے بھی آئے ہیں۔ جیسے اپنی شہرۂ آفاق مثنوی ’’سکندرنامہ‘‘ میں نظامی گنجوی کہتے ہیں ؎ کلاغی تگ کبک را گوش کرد تگ خویشتن را فراموش کرد یعنی کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ مذہبی گروہوں نے سیاسی پارٹیوں کا روپ دھارنا چاہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی
اتوار 31 مارچ 2019ء

پاکستان کا مطلب کیا

هفته 30 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
افسوس ہم اپنی بنیاد سے بے خبر ہو چکے۔ ہیہات! ہیہات!ہم اپنی تاریخ بھول گئے۔ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی قوم اپنی وجہ تخلیق فراموش کر بیٹھے؟ نرم ترین لفظ بھی اس عمل کے لیے خودکشی ہے، بنیاد گئی تو دیواریں گریں، دیواریں گریں تو چھت نیچے آ رہی، انجام موت، درد ناک۔ اے غفلت کیش گروہ، اے حال مست بے فکروں کے انبوہ، سوچو کہ وہ دھان پان پتلا دبلا انسان جس نے تپ دق کی پرواہ نہ کی، پاکستان کے لیے دن رات محنت کرتا رہا۔ وہ ایک اکیلا کانگرس سے اور بیک وقت انگریزی استعمار سے
مزید پڑھیے


خوشی کی خبر

جمعرات 28 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
سب سے پہلے خوشی کی یہ خبر صدر ٹرمپ کو وزیراعظم مودی نے ہاٹ لائن پر سنائی۔ صدر ٹرمپ نے اسی وقت اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کو فون کیا۔ یاہو اس وقت اسرائیل کے مذہبی رہنمائوں کے ساتھ خفیہ میٹنگ کر رہا تھا۔ اسے باہر بلا کر بات کرائی گئی۔ یاہو اجلاس میں واپس گیا اور یہودی علماء کو ’’ایک اچھی خبر‘‘ کی مبارک باد دی۔ یہ الگ بات کہ اس نے احتیاطاً خبر کی تفصیل نہ بتائی۔ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں ایک آسٹریلوی نسل پرست نے جب پچاس مسلمانوں کو بے دردی سے
مزید پڑھیے


سوہنی دھرتی اللہ رکھے

منگل 26 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
وہ بچپن تھا جب صحن ایک تھا۔ بہت بڑا صحن، سب اس میں مل کر کھیلتے۔ گرمیوں میں ڈیوڑھی ٹھنڈی لگتی اور جاڑوں میں اندر کا نیم تاریک کمرہ گرم ہوتا۔ بڑے اس میں گھنٹوں بیٹھتے۔ بچے اندر جاتے تو انہیں دکھائی کچھ نہ دیتا۔ فوراً باہر نکل آتے۔ پھر صحن تقسیم ہوگیا۔ درمیان میں دیوار اٹھا دی گئی۔ اب یہ دو گھر الگ الگ ہو گئے مگر جن کا بچپن بڑے صحن میں گزرا تھا، وہ چشم تصور سے اسی معدوم صحن کو دیکھتے۔ انہی برآمدوں، اسی ڈیڑھی اور اس نیم تاریک بڑے کمرے کو یاد کرتے رہتے۔متحدہ پاکستان کی
مزید پڑھیے


زمیں سے معشوق لیں گے چاند آسماں سے لیں گے

اتوار 24 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
سچ کہا تھا منیر نیازی نے کہ شاعر ہی تصورات پیش کرتے ہیں‘ جسے دوسرے عملی شکلوں میں ڈھالتے ہیں۔ یہاں تک کہ چاند پر پہنچنے کا آئیڈیا بھی سائنسدان کو شاعروں ہی نے دیا۔ چالیس سال بنی اسرائیل صحرا میں بھٹکتے پھرے۔ کبھی نخلستانوں کی تلاش میں‘ کبھی سرابوں کے پیچھے‘ بہتر برس ہو گئے ہیں پاکستانی قوم کو بھٹکتے ہوئے‘ کبھی سیٹو کے قافلے کا حصہ بنے‘ کبھی سینٹو کی گرد راہ‘ ایوب خان کے عہد میں آر سی ڈی کا ڈول ڈالا گیا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے مگر کوئی تیر نہ مارا
مزید پڑھیے




اور کچھ نہیں تو ساحل کی قدر ہی کر لو!!

جمعرات 21 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بے گھر انسان پر کیا گزرتی ہے! سعدیؔ کے پاس جوتے نہیں تھے۔ سفرکر رہے تھے شاکی اورنالاں ! راستے میں دیکھا کہ ایک مسافر کا پائوں ہی نہیں تھا! شکر بجا لائے کہ پائوں تو سلامت ہیں! باپ گھر بناتا ہے: پیسہ پیسہ جوڑ کر! جوانی اور بڑھاپے کی ہڈیوں کا سفوف‘ گارے میں مکس ہوتا ہے تب مالِ حلال سے مکان بنتا ہے۔ پھر بیٹے‘ بیٹیاں‘ پوتے ‘ نواسے‘ اس میں نقص نکالتے ہیں! یہ کمرہ فلاں جگہ ہوتا تو بہتر ہوتا۔ یہ برآمدہ مناسب نہیں! باپ خاموشی سے سنتا ہے! دل میں
مزید پڑھیے


شالا پردیسیاں نی خیر ہووے

منگل 19 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
نیوزی لینڈ میں مائوں کے جگر گوشے خون میں نہا گئے۔ باپ مارے گئے۔ بیویاں شہید ہوئیں۔ بیٹیوں کے لہو سے مسجدوں کے خون حنارنگ ہوئے۔ اپنے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، پردیس میں، قیامت گزر گئی۔ کچھ وہیں آسودۂ خاک ہو رہے ہیں، کچھ کے جسد واپس لائے جا رہے ہیں۔ چشم فلک نے ایسے سانحے کم ہی دیکھے ہوں گے۔ ستارے اس خون آشام منظر پر بجھنے کو ہیں۔ ہوائیں بین کر رہی ہیں۔ زمین تھرا رہی ہے۔ خاندان کے خاندان منقسم ہیں۔ ماں پاکستان میں ہے تو بیٹا امریکہ میں ہے۔ بیٹا پاکستان میں ہے تو ماں
مزید پڑھیے


نیوزی لینڈ میں دہشت گردی۔ ایک زاویہ اور بھی ہے

اتوار 17 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
’’کئی برسوں سے سن رہا تھا اور پڑھ رہا تھا کہ فرانس پر وہ لوگ ’’حملہ آور‘‘ ہورہے ہیں جو سفید فام نہیں ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ مبالغہ آرائی ہے اور اس کا مقصد سیاسی سکور حاصل کرنا ہے مگر فرانس جا کر دیکھا تو یہ سب کچھ نہ صرف سچ نکلا بلکہ یوں محسوس ہوا کہ اصل سے بھی کم ہے۔‘‘ نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں پر وحشیانہ حملہ کرنے والے دہشت گرد نے ٹوئٹر پر اپنا ’’منشور‘‘ نشر کیا ہے۔ مندرجہ بالا سطور اسی منشور کا حصہ ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس منشور کا
مزید پڑھیے


خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

هفته 16 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں اس روئے زمین پر سب سے زیادہ حیرت انگیز انسان ہوں؟ سب سے زیادہ عجیب و غریب۔ میرا چیلنج ہے کہ مجھے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ میرا اگلا اقدام کیا ہوگا؟ میں کس طرف مڑوں گا؟ میری پالیسی کیا ہے؟ میرا مستقبل کا روڈ میپ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا میرے دشمن کون ہیں، میرے دوست کون ہیں؟ میں رات دن حرام کھاتا ہوں، تجارت میں، زراعت میں، دفتر میں، کارخانے میں، کم تولتا ہوں، کم ماپتا ہوں، خوراک کے نام پر زہر بیچتا ہوں، دوائوں کے نام پر موت
مزید پڑھیے


ہرن کی حفاظت کے لیے تیندوئوں کا جلوس

جمعرات 14 مارچ 2019ء
محمد اظہارالحق
ضمیر جعفری عین ہماری نبض پر انگلی رکھتے تھے۔ ایسا مزاح جس میں آنسو چھپے تھے۔ آبادی بم کے بارے میں متنبہ کیا کہ ؎ شوق سے نور نظر، لخت جگر پیدا کرو ظالمو تھوڑ سی گندم بھی مگر پیدا کرو مغرب نے جن صفات کو بروئے کار لا کر ترقی کی، وہ ہمیں نہیں راس آتیں۔ ضمیر جعفری نے کہا بھگو کر لگائی ہے ؎ نہ بینائی پسند آئی نہ دانائی پسند آئی مجھے سب جرمنی میں ایک نکٹائی پسند آئی عورت میں صرف خوبصورتی کا پہلو تلاش کیا جائے تو جو صورت حال بنتی ہے اس
مزید پڑھیے