BN

محمد اظہارالحق



کس کا یقین کیجیے‘ کس کا یقین نہ کیجیے


’’آفتابِ علم و عرفان سید ابوالاعلیٰ مودودی‘‘ کے عنوان سے مولانا مودودی کے بیٹے سید حسین فاروق مودودی کی تصنیف منظر عام پر آئی ہے۔ مطبع کا نام عفاف پرنٹر اردو بازار لاہور ہے۔ کتاب پر ’’ترجمان القرآن پبلی کیشنز 5۔اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور کا نام بھی درج ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مولانا مرحوم کے خاندان اور جماعت اسلامی کے درمیان نزاع کی تفصیل ہے تاہم اس میں کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں جو ہمارے ملک کی سیاست‘ نظام اور ہماری قومی اخلاقیات کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے حوالے سے سید حسین فاروق مودودی
هفته 17  اگست 2019ء

دونوں میں سے بھینس کون سی ہے؟

جمعرات 15  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
کیا کسی کو عبدالحمید کا نام یاد ہے؟ کم ہی لوگوں کو آج معلوم ہو گا کہ راولپنڈی پشاور روڈ پر آج جہاں ای ایم ای کالج ہے وہاں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ ہوتا تھا ۔پشاور روڈ راولپنڈی ہی کی نہیں پورے ملک کی لائف لائن ہے۔ یہ لائف لائن پولی ٹیکنیک کے طلبہ کے رحم و کرم پر تھی۔ جب چاہتے شاہراہ پر قبضہ کر کے آمدو رفت معطل کر دیتے۔ بھٹو صاحب کا ایوب خان کے ساتھ عہد عقیدت ختم ہوا تو عہد بغاوت شروع ہوا۔ انہیں دنوں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے شاہراہ پر قبضہ کیا
مزید پڑھیے


نہیں !عالی مرتبت! نہیں!

هفته 10  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
کون سا خربوزہ میٹھاہے؟ کون سا تربوز اندر سے پھیکا ہے؟ اوپر سے سب ایک جیسے ہیں۔ تربوز بیچنے والا ایک کو ٹوہتا ہے‘ پھر دوسرے کو! تیسرے پر ہاتھ مار کر آپ کو دے دیتاہے آپ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ شاید اسے یہی گُر بتایا گیا ہے کہ گاہک کی تسلی کے لئے ایک تربوز پر ہاتھ مارو‘ پھر دوسرے پر‘ تیسرا گاہک کو پیش کر دو! خوش ہو کر خرید لے گا! انسان باہر سے ایک جیسے ہیں! وہی سر‘ سر کے اگلے حصے پر پیشانی! پیشانی کے نیچے ناک نقشہ! ہائے افسوس! یہی تو المیہ ہے ! اسی کا تو رونا ہے۔
مزید پڑھیے


مودی ایک نہیں، دو چتائیں سلگا رہا ہے

جمعرات 08  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
بی جے پی کے مودی نے بھارت میں ایک نہیں، بیک وقت دو بھٹیاں سلگا دی ہیں۔ ایک بھٹی کا ہم نوٹس لے رہے ہیں۔ یہ کشمیر کی چتا ہے۔ مودی اس چتا میں مسلسل ایندھن ڈال رہا ہے تا کہ کشمیر کے مسلمان اس چتا میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ نصرانی ہوتے تو جنوبی سوڈان اور ایسٹ تیمور کی طرح کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا۔ مگر مسلمان فلسطینی ہو یا کشمیری یا فلپائن کا مورو، اس کی مدد کو یورپ آتا ہے نہ
مزید پڑھیے


ہتھکڑی اور آنکھ

منگل 06  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
یہ کہانی ہے جس میں دو کردار ہیں۔ ایک کردار لوہا ہے۔ لوہے کو پگھلا کر‘ موڑ کر‘ ایک قفل نما شے بناتے ہیں۔ اس قفل کے ساتھ لوہے ہی کی زنجیر لگاتے ہیں۔ یہ قفل دروازہ بند کرنے کے کام نہیں آتا۔ اسے کلائی پر رکھ کر بند کرتے ہیں۔ یوں کلائی مقفل ہو جاتی ہے۔ رہا زنجیر کا دوسرا سرا‘ تو اس کے لئے کئی آپشن ہیں۔ کبھی زنجیر کا یہ دوسرا سرا چارپائی کے ساتھ باندھ دیتے ہیں‘ کبھی کھونٹے کے ساتھ۔ کبھی اس پہریدار کی کمر کے ساتھ جو مقفل کلائی والے شخص کو کہیں لے
مزید پڑھیے




زمانے سے لڑائی مول لے تجھ سے بُرا بھی ہو؟

اتوار 04  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
میاں صاحب محترم! اب یہ نہ سمجھیے کہ سینیٹ الیکشن کے ہنگاموں میں وہ ایشو پس منظر میں چلا جائے گا جس کے حوالے سے ہم غریب کارکن آپ کا دفاع کر رہے ہیں۔ آپ نے جب بھی دعویٰ کیا کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو پھانسی پر لٹکا دو‘ ہم نے آپ پر یقین کیا۔مگر یہ بے برکت‘ بے ثمر یقین کب تک قائم رہے گا؟ ہم غریب کارکن‘ پیدائشی مسلم لیگی‘ آپ کے لئے لوگوں سے جھگڑتے رہے۔ جلسوں میں دریاں بچھاتے‘ کرسیاں لگاتے ہماری عمریں غروب کے قریب پہنچ گئیں۔ ہم نے آپ کے بڑے بھائی کی
مزید پڑھیے


سنگِ سُرمہ ہی بتائے گا حقیقت اس کی

هفته 03  اگست 2019ء
محمد اظہارالحق
میں نے کیکر کا پودا لگایا ہے اسے پانی دیتا ہوں۔ رات دن حفاظت کرتا ہوں۔ پوری امید ہے کہ اس محنت کے بدلے میں اس پر سیب لگیں گے۔ افسوس! یہ درخت بڑا ہوا۔ مگر سیبوں کے بجائے اس پر پھلیاں لگیں۔ کیکر کی پھلیاں! کھاتا ہوں تو کھائی نہیں جاتیں بازار لے جاتا ہوں تو بکتی نہیں! سب یہی سمجھاتے ہیں کہ تم نے سیب کا درخت نہیں‘ کیکر کا درخت لگایا تھا۔ اس پر سیب کبھی نہیں لگیں گے۔ قیامت تک نہیں لگیں گے۔ پانی تو کیا‘ عرق گلاب سے سینچو! اس پر حفاظتی جال لگائو۔ اس کے
مزید پڑھیے


کیا افغان تاریخ میں یہ معجزہ برپا ہو گا؟

منگل 30 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
بھارت میں علیحدگی کی سترہ تحریکیں چل رہی ہیں یا سترہ سو ! سترہ ہزار بھی چل رہی ہوتیں تو اس پریشانی کا عشیرِ عشیر بھی بھارت کو لاحق نہ ہوتا جو پاکستان صرف اس لئے بھگت رہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اس کی سرحد ملتی ہے! بازی گر تماشے دکھا رہا تھا۔ وہ تنی ہوئی رسی پر اُلٹا لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ساتھی نے زمین سے پوچھا کیا تم تکلیف میں ہو؟ ’’ہاں! میں بہت تکلیف میں ہوں‘‘ ’’کیا تم اذیت میں ہو؟‘‘ ’’ہاں!میں بہت اذیت میں ہوں مگر اب بھی اس مرد سے کم تکلیف اور کم اذیت میں ہوں جس
مزید پڑھیے


پرتھ۔۔۔پاکستانی سفارت خانے کا سوتیلا بیٹا

اتوار 28 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
پرتھ بھی عجیب و غریب شہر ہے۔ اتنا نخرہ کہ کسی کو قریب نہیں آنے دیا۔ نزدیک ترین شہر ایڈی لیڈ ہے جو دو ہزار سات سو کلو میٹر دور ہے۔ سڈنی سے اس کا فاصلہ تقریباً چار ہزار کلو میٹر ہے۔ میلبورن سے ساڑھے تین ہزار اور برزبن سے سوا چار ہزار کلو میٹر۔ نخرے بلکہ رعونت کے ساتھ‘ سارے شہروں سے دور پرتھ آسٹریلیا کے جنوب مغربی کونے میں تن کر کھڑا ہے۔ کوئی آئے تو خوش آمدید ! نہ آئے تو پرتھ کی اپنی دنیا اتنی بڑی ہے کہ کسی اور کی ضرورت ہی نہیں! پرتھ کے باشندے
مزید پڑھیے


ذرا سیاست سے ہٹ کر

هفته 27 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
سیاست کا بازار ہمیشہ گرم رہے گا۔ اقتدار کے جھگڑے چلتے رہیں گے۔ اچھے بُرے حکمران آتے رہیں گے۔ کسی کی داستان طویل ہو گی کسی کی مختصر ! اپنی اپنی سنا کر سب خاموش ہو جائیں گے۔ مگر اس تخت و تاج کی دنیا میں‘ اس مال و زر کے جہان میں۔ ایک اور دنیا بھی آباد ہے محبت کی‘ جذبات کی‘ آنسوئوں کی ،اُس مسرت کی جو اندر سے پھوٹتی ہے اسی دنیا میں دنیائیں ہماری بھی بنی ہیں روش سے سیڑھیاں مر مر کی پانی میں گئی ہیں ان آنسوئوں کو اور ان مسرتوں کو اظہار کے لئے ہمیشہ شاعری
مزید پڑھیے