BN

افتخار گیلانی



کرونا چیلنج: بھارتی صوبہ کیرالا سے استفادہ کی ضرورت


پچھلے دنوں جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہل کرکے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم سارک کے رکن ممالک کے سربراہان کی ویڈیو کانفرنس بلانے کی تجویز دی، ذرائع کے مطابق نئی دہلی کے مقتدر حلقوں اور کھٹمنڈو میں مقیم تنظیم کے سیکرٹریٹ کے افسران نے مشورہ دیا تھاکہ بھارت کے جنوبی صوبہ کیرالا کے وزیر اعلیٰ پینایاری ویجایان کو بھی اس میں شامل کیا جائے، تاکہ رکن ممالک ان کے تجربات سے استفادہ کرسکیں۔ چونکہ اس کانفرنس کا انعقاد متعدی مرض کا علاج ڈھونڈنے یا کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے سے زیادہ مودی
منگل 24 مارچ 2020ء

دوبئی کی شہزادیاں ، بھارت اور عرب حکمرانوں کی قربتیں

بدھ 18 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
اگلے آٹھ دن جہاز بحیرہ عرب کے پانیوں کو چیرتا رہا۔ چھٹے دن ملاحوں نے اطلاع دی کہ ایک کشتی خاصی دور سے ان کا پیچھا کر رہی ہے اور اس میں سوار افراد دوربین سے مسلسل ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ جہاز نے اب بھارت کے گوا کے ساحل کی طرف تیزی سے بڑھنا شروع کیا، جہاں چند امریکی اہلکار ان کے منتظر تھے۔ مگر اگلے روز بھارتی کوسٹ گارڈ کے چند ہیلی کاپٹروں نے جہاز کے اوپر نیچی پروازیں کیں۔ 4اور5مارچ کی رات کو اسلحہ بردار کشتیوں اور ایک جنگی جہاز نے یاٹ کو چاروں
مزید پڑھیے


دوبئی کی شہزادیاں ، بھارت اور عرب حکمرانوں کی قربتیں

منگل 17 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
مارچ 2018۔نئی دہلی کے پاور گلیاروں میں خبریں گشت کر رہی تھیں ، کہ ستمبر 2016کی طرز پر بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کی ہے۔ اس بار یہ اسٹرائک بحیرہ عرب میں کسی جگہ کی گئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی دہلی میں عدم موجودگی اور پورے ایک ہفتے ساحلی صوبہ گوا کے دارالحکومت پانا جی میں ڈیرہ ڈالنے سے خبرو ں کو اور بھی تقویت مل رہی تھی۔ ملک کی سمندری حدود کرا س کرکے یہ آپریشن بحری افواج کے بجائے کوسٹ گارڈز نے کیا تھا۔ خبریں یہ بھی تھیں
مزید پڑھیے


افغانستان: بل رچرڈسن اور زلمے خیل زاد کے سفارتی مشن (2)

بدھ 11 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
افغانستان کو کٹھ پتلی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے بجائے ایک عوامی و وسیع البنیاد حکومت کیوں نہیں بنائی گئی؟ اسلام آباد میں امریکی سفیر ٹام سیمنس کے مطابق رچرڈسن نے افغانستان کی تعمیر نو اور معاہدہ کے عملدرآمد کے صورت میں کابل کی طالبان حکومت کو تسلیم کروانے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق طالبان کو جو چیز سب سے زیادہ کھٹک رہ تھی ، وہ یہ تھی کہ کابل پر ان کا کنٹرول ہونے کے باوجود، اقوام متحدہ میں افغانستان کی سیٹ شمالی اتحاد کے پاس تھی۔ اس معاہدہ کے ایک ماہ بعد ہی
مزید پڑھیے


افغانستان: بل رچرڈسن اور زلمے خیل زاد کے سفارتی مشن

منگل 10 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
17اپریل 1998، کی ایک خنک دار صبح کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ائیر پورٹ پر ایک امریکی طیارہ نے لینڈ کیا۔ تقریباًدو دہائیوں کے بعد کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 1996ء میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد عالمی برادری نے افغانستان کو تو پوری طرح سے الگ تھلگ کرکے رکھ دیا تھا۔ ائیرپورٹ پر افغانستان میں پاکستانی سفیر عزیر احمد خان اور طالبان کے اعلیٰ راہنما امریکی مہمان کے استقبال کیلئے رن وے پر کھڑے تھے۔ افغانستان میں امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لکدر براہمی کی ناکامی
مزید پڑھیے




بھارت: ہندو مسلم فسادات، وہی قاتل وہی منصف

بدھ 04 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
خیر میں علاقے میں پہنچا تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ پہلوان صاحب وہیں کرسی پر براجمان تھے ، جب ان کو معلوم ہوا کہ میں بس ڈاکومنٹ واپس کرنے آیا ہو توانہوں نے میرے ساتھ آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ دروازہ پر دستک دی تو معلوم ہوا کہ دستاویزات کا مالک مسجد میں نمار ادا کرنے گیا ہوا ہے۔ میں بھی مسجد میںجاکر نماز میں شامل ہوگیا۔ میں جب نماز مکمل کر رہا تھا ، تو محسوس ہوا کہ کئی آنکھیں مجھے بغور دیکھ رہی ہیں۔ میں پچھلے کئی روز سے اس علاقے میں اپنے سینئر اور
مزید پڑھیے


بھارت: ہندو مسلم فسادات، وہی قاتل وہی منصف

منگل 03 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کا برپا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1947ء میں آزادی کے بعد سے پچھلے 73سالوں میں ملک کے طول و عرض میں 58400فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ بڑے فسادات جہاں 50یا اس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے کی تعداد لگ بھگ 110 کے قریب ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2008ء سے 2018ء کے دس سالوں کے وقفہ کے درمیان کم و بیش 8ہزار فسادات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔یعنی ایک طرح سے ملک میں ہر روز دو فسادات ہوئے ہیں۔ ان سبھی فسادات میں پولیس کا رول حالیہ دہلی
مزید پڑھیے


کشمیری زبان و ثقافت پر یلغار ، یونیسکو سے فریاد

بدھ 26 فروری 2020ء
افتخار گیلانی
کشمیری زبان کے رسم الخط کو قدیمی شاردا اور پھر دیوناگری میں تبدیل کرنے کی تحویز اس سے قبل دو بار 2003ء اور پھر 2016ء میں بھارت کی وزارت انسانی وسائل نے دی تھی۔ مگر ریاستی حکومتوں نے اس پر سخت رخ اپنا کر اسکو رد کردیا۔ بی جے پی کے لیڈر اور اسوقت کے مرکزی وزیر پروفیسر مرلی منوہر جوشی نے 2003ء میں تجویز دی تھی کہ کشمیر زبان کیلئے دیوناگری کو ایک متبادل رسم الخط کے طور پر سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور اس رسم الخط میں لکھنے والوں کیلئے ایوارڈ وغیرہ تفویض کئے جائیں۔
مزید پڑھیے


کشمیری زبان و ثقافت پر یلغار ، یونیسکو سے فریاد

منگل 25 فروری 2020ء
افتخار گیلانی
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے سے قبل یا اسکے فوراً بعد کشمیر، بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے ، ایک ایک کرکے وہ سبھی درست ثابت ہو رہے ہیں۔ غالباً2014 ء اور 2015ء میں جب ان خطرات سے آگاہ کرانے کیلئے میں نے مودی کا کشمیر روڑ میپ ، کشمیر میں ڈوگرہ راج کی واپسی وغیرہ جیسے موضوعات پرکالم لکھے توکئی افراد نے قنوطیت پسندی کا خطاب دیکر مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ کانگریس کی کمزور اور پس وپیش میں مبتلا سیکولر حکومت کے
مزید پڑھیے


دہلی انتخابات : عمران خان کیلئے بھی پیغام

بدھ 19 فروری 2020ء
افتخار گیلانی
انتخابی مہم کے دوران عآپ کے کارکنان محلوں و بستیوں میں گھوم گھوم کر یہی عوام کو بتاتے پھر رہے تھے کہ اگر واپس دس ہزار روپے بجلی کا بل دینا ہے تو بے شک بی جے پی کو ووٹ دینا۔عآ پ کا ایک اور بڑا کارنامہ سرکاری اسکولوں کی بہتری تھی۔ کہاں وہ پانچ سال پہلے کے سرکاری اسکول، جہاں ٹاٹ پر بچے پڑھتے تھے اور کئی اسکولوں میں تو ٹاٹ اور بلیک بورڈ تک ناپید تھے۔ اب ہر سرکاری اسکول میں پرائیوٹ اسکولوں کی طرز پر کرسی بنچ ، ڈیجیٹل بورڈ اور کمپیوٹرز فراہم کر دیئے گئے
مزید پڑھیے