BN

افتخار گیلانی


صاف و شفاف انتخابات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین


1978میں جب جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخابات منعقد ہو رہے تھے، ایک وضع دار کشمیری پنڈت دینا ناتھ کول خطے کے پولیس سربراہ تھے۔ اردو شاعری کے مداح اور خاص طور پر اقبال کے ا شعار ان کو ازبر تھے۔ 2008میں ان کا انتقال ہوا ۔وہ اقبال کا شعر ، تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ، کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں، اکثر گنگنایا کرتے تھے۔ خیر پولیس سربراہ کی حیثیت سے ان کا کام صاف و شفاف انتخابات کا انعقادیقینی بنانا بھی تھا۔ ووٹنگ کے دن و
منگل 14  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

سید علی گیلانی۔۔۔۔ہمارے اباجی (آخری قسط)

اتوار 12  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
ہاں وہ ہفتہ روزہ چٹان کے مدیر طاہر محی الدین سے خفا تھے اور کہتے تھے کہ وہ قنوطیت پھیلا تے ہیں، اسلئے ایک مدت تک وہ ان کو انٹرویو نہیں دیتے تھے۔ ٹائمز آف انڈیا کے سرینگر کے نمائندے نے ان کے خلاف ایک بار انتہائی بہتان آمیز خبر شائع کی تھی۔ ان کے آفس کے ایک رفیق نے اخبار اور اس نمائندے کے خلاف عدالت میں توہین کا کیس درج کیا تھا۔ مگر وہ اس کے خلاف تھے اور ان کو بار بار کہہ رہے تھے، کہ اس کیس کی پیروی ختم کریں۔ ہر انسان مکمل نہیں ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیے


سید علی گیلانی۔۔۔۔ہمارے اباجی (5)

هفته 11  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
ان کی کتاب روداد قفس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بار کلدیپ نیر نے کہا کہ یہ اردو ادب کی بدقسمتی ہے کہ یہ شخص سیاستدان بن گیا۔ کاش ان کی تقریروں کے ریکارڈ محفوظ کئے جاسکتے۔ سوپور کالج میں پڑھائی کے دورا ن ہم ایک بار جنوبی کشمیر کے مقام پہلگام پکنک منانے گئے تھے۔ پہلگام قصبہ سے آرو پہاڑ پر چڑھائی کے دوران جنگل میں ایک کوٹھا نظر آیا، جہاں ایک گوجر فیملی چائے اور بسکٹ سرو کر رہی تھی۔ ہمارے رکنے کی وجہ تھی کہ وہاں ٹیپ ریکارڈ پر گیلانی صاحب کی تقریر لوگ سن رہے تھے۔
مزید پڑھیے


سید علی گیلانی۔۔۔۔ہمارے اباجی……(4)

جمعه 10  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
آپ کے ہاتھ میلے نہیں ہونگے۔‘‘ اس ‘‘والہانہ‘‘ استقبال کے بعد مشرف نے چھوٹتے ہی کہا،‘گیلانی صاحب آپ آئے د ن بلوچستان کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں۔آخر آپ کو وہاں کی صورت حال کے بارے میں کیا پتہ ہے؟۔ آپ بلوچستان کی فکر کرنا چھوڑیں۔‘‘ بقول ان افراد کے جو اس میٹنگ میں شریک تھے،مشرف نے ایک تو خود ہی بلوچستان کا ذکر چھیڑا اوربزرگ کشمیری رہنما کی توہین کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ان افراد کے مطابق گیلانی صاحب نے جواب دیا کہ کشمیر کاز پاکستان کی بقا سے منسلک ہے۔ اس کے رکھ رکھائو ، اس
مزید پڑھیے


سید علی گیلانی۔۔۔۔ہمارے اباجی……(3)

جمعرات 09  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
ان اختلافات کی وجہ سے بعد میں حریت تقسیم ہوگئی۔ مگر ان کا استدلال تھا کہ سیاسی تحریک کی عدم موجودگی کے وجہ سے عسکری تحریک زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی اسلئے گراونڈ پر جاکر سیاسی جدوجہد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ 2003میں جیل سے رہائی اور گردوں کے آپریشن کے بعد انہوں نے قریہ قریہ گھوم کر حتیٰ کہ گریز ، پونچھ، راجوری، ڈوڈہ، کشتواڑ جیسے دور دراز علاقوں کا دورہ کرکے سیاسی جدوجہد کیلئے راہ ہموار کی۔ اس دوران حکومت نے بھی موقف اپنایا تھا کہ حریت کا سیاسی میدان میں مقابلہ کیا
مزید پڑھیے



سید علی گیلانی۔۔۔۔ہمارے اباجی……(2)

بدھ 08  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
وہ پچھلے پانچ سالوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں اور اس سے پہلے بھی کئی بار جیلوں کی زیارت کر چکے ہیں۔ ان کے بڑے داماد ، غلام رسول، جن کا اب انتقال ہوچکا ہے ،کے چاچا جماعت اسلامی کے رکن تھے، جن کو سرکاری بندوق برداروں نے دن دہاڑے ہلاک کردیا۔ سرکاری بندوق برداروں اور پھر آئے دن کے چھاپوں اور تلاشیوں سے ان کی پوری فیملی کو دردبد ر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ خیر جب میں 90کے اوائل میں دہلی وارد ہوا، تو دیگر کشمیری طالب علموں
مزید پڑھیے


سید علی گیلانی۔۔۔۔ہمارے اباجی

منگل 07  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
جنوری کے مہینے میں ویسے ہی کشمیر میں ہر چیز جم جاتی ہے، مگر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں 1972کی سردیاں گرمی کا احساس کروا رہی تھیں، ایک تاریخ رقم ہو رہی تھی۔ جب ماضی کو کریدتے ہوئے میں معلوم کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اباجی یعنی سید علی گیلانی کو میں نے پہلی بار کب اور کہاں دیکھا تھا، تو یادوں کی دھند صاف کرتے ہوئے مجھے ایک چار سالہ بچہ نظر آیا، جو اپنے چاچا ڈاکٹر مشتاق گیلانی (جو ان دنوں سرینگر میڈکل کالج میں طالب علم تھے) کے کندھے پر سوار رات
مزید پڑھیے


سیاسی پناہ کی متلاشی افغان اشرافیہ ……(2)

هفته 04  ستمبر 2021ء
افتخار گیلانی
وہ بھارت میں سیاسی پناہ کے خواستگار تھے۔ پریس کانفرنس کو کور کرنے کے بعد جب میں آفس پہنچ کر اسٹوری لسٹ کروا رہا تھا، میرے سینیئر رفیق کار شاستری راما چندرن نے کہا کہ ان کے ڈاکٹر سے بھی رابطہ کیا جائے، تاکہ اس چپ کے بارے میں کچھ معلومات مل جائیں۔ میں نے اس جوڑے سے دوبارہ رابطہ کرکے ان سے ڈاکٹر کا فون نمبر لے لیا۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹراپالو اسپتال میں نیورفزیشن ہیں۔ رابطہ ہونے پر اور اس جوڑے سے متعلق اور چپ کے بارے میں جونہی ان سے استفسار کیا ، تو وہ خوب
مزید پڑھیے


سیاسی پناہ کی متلاشی افغان اشرافیہ

منگل 31  اگست 2021ء
افتخار گیلانی
ایک دہائی قبل مغربی ملک کے ایک نشریاتی ادارے کی طرف سے صحافیوں کیلئے ایک تربیتی کورس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ پہلے ہی دن دیکھا کہ وسیع و عریض بلڈنگ کے استقبالیہ کائونٹر سے متصل ایک عارضی اسٹوڈیو میں ٹی وی کیمروں کے سامنے ایک پاکستانی خاتون انٹرویو دے رہی ہے۔ معلوم ہو اکہ اس خاتون نے سیاسی پناہ حاصل کی ہے، کیونکہ اس کے ساتھ بقول اس کے پاکستان میں بہت ظلم ہو رہا تھا۔ اس خاتون کا استدلال تھا کہ پاکستان میں اسکو اسکے پسند کا کھانا یعنی پورک (خنزیرکا گوشت) کھانے نہیں
مزید پڑھیے


طالبان کو سفارتی سطح پر تسلیم کرنے کی ضرورت

منگل 17  اگست 2021ء
افتخار گیلانی
مجھے یاد ہے کہ دسمبر 2016میں پنجاب کے سرحدی شہر امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے سفارتی آداب کو بالائے طاقرکھتے ہوئے اسٹیج سے ہی ،پاکستان کی طرف سے 500ملین ڈالر کی امداد کو مسترد کردی اور پاکستانی مندوب سرتاج عزیز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس امداد کو اپنے ملک میں انتہاپسندی کو لگام لگانے کیلئے استعمال کریں۔جس طرح کے تکبر کا مظاہرہ غنی اور ان کے وفد نے اس میٹنگ کے دوران کیا، شاید ہی سفارتی تاریخ میں اسکی مثال ملے گی۔چونکہ اس میٹنگ سے قبل ہی بھارت
مزید پڑھیے








اہم خبریں