افتخار گیلانی


مولانا امین عثمانی : ایک خاموش پر عہد ساز شخصیت کا انتقال …(2)


اکیڈمی کے اس سیمینار میں اسکالرز اور مفتیان کرام متفق تھے کہ دنیا کے جس کسی حصے میں بھی سنی اور شیعہ مشترک آبادیاں ہیں، وہ پْرامن بقائے باہم کے ساتھ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر زندگی گزاریں، ایک دوسرے کی مقدس مذہبی شخصیات کا احترام کریں۔سمینار میں یہ بھی بتایا گیا کہ فقہی مسائل میں اختلافات کا حق تو حاصل ہے مگر ان میں اپنی رائے کو سراسر حق اور دوسری رائے کو سراسر باطل قرار دینا ہرگز درست نہیں۔ جن مسائل میں اختلافات کی نوعیت حلال و حرام، جائز و ناجائز کی ہے وہ بھی چونکہ مختلف فیہ
بدھ 16  ستمبر 2020ء

مولانا امین عثمانیـ: ایک خاموش پر عہد ساز شخصیت کا انتقال

منگل 15  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
تمام تر مجبوریوں ،محرومیوں ،لاتعداد مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود بھارتی مسلمانوں نے پچھلی ایک صدی کے دوران نہ صرف چند عالمی شہرت یافتہ ادارے قائم کئے بلکہ انہیں وسائل کی کمی کے باوجود زندہ بھی رکھا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، دینی اداروں میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند، مظاہرالعلوم سہارنپور اور لکھنوکے ندوۃ العلماء وغیرہ نے پوری دنیا کو منور کیا ہے۔ اسی طرز عمل کو برقرار رکھتے ہوئے نوئے کی دہائی کے اوائل میں جید عالم دین مرحوم قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور علی گڑھ سے فارغ التحصیل ، ماہر اقتصادیات اور انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو
مزید پڑھیے


پرناب مکرجیــ: موجودہ دور کا چانکیہ چلا گیا …(2)

بدھ 09  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
رپورٹروں کی بھیڑ اور پرائیوسی میں مداخلت کی وجہ سے وہ کئی بار اپنا آپا کھو دیتے تھے۔ ایک با ر جب وہ ایک فوٹو جرنلسٹ سے ناراض ہوئے، تو ایک استاد کی طرح اس کے کان کھنچ کر اسکو گیٹ کے باہر چھوڑ کر آگئے۔ ایک رات جب ہم چند رپورٹر ان کے گھر پر اسی طرح خبر کی تلاش میں پہرہ دے رہے تھے ،تو خود باہر آکر انہوں نے سبھی کو ڈرائینگ روم میں بلاکر خوب خاطر تواضع کی۔ جس کی وجہ کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔ چند لمحوں کے بعد ان کی بات
مزید پڑھیے


پرناب مکرجـی: موجودہ دور کا چانکیہ چلا گیا

منگل 08  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی

غالباً1998میں، میں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو بطور رپورٹر کور کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد ہر ہفتے پریس گیلری پاس کی تجدید کی کوفت سے بچنے کیلئے جب میںنے اس کو مستقل یا سالانہ کرنے کی درخواست دی، تو معلوم ہوا کہ نئے ضابطوں کے مطابق اسکے لئے پارلیمنٹری رپورٹنگ کا کورس کرنا پڑیگا۔ پارلیمنٹ ہاوس کے بغل میں ہی لائبریری کی وسیع و عریض بلڈنگ میں بیورو آر پارلیمنٹری اسٹڈیز اینڈ ٹریننگ کے تحت سال 2000کے بیچ میں ، میں نے بھی نام کا اندراج کروادیا۔ ہمارے بیچ کے تقریباً سبھی صحافی ، بس پاس
مزید پڑھیے


کشمیر کا مواصلاتی محاصرہ : عصبیت کی بدترین مثال

منگل 01  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلے سال اگست میں جب بھارتی حکومت نے کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاون نافذ کردیا، انٹرنیٹ سمیت موبائل اور لینڈ لائن فون کی سروس بھی بند کردی، توشمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبہ میں بھارتی فوج کی 19ویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے باہر جموں و کشمیر بینک کی اے ٹی ایم مشین سے ایک سپاہی روز ہی پیسے نکالنے آتا تھا۔ خواجہ باغ علاقے میں واقع اس اے ٹی ایم مشین کا چوکیدار تجسس میں تھا، کیونکہ سپاہی روز ہی مقررہ وقت پر آکر نہایت ہی معمولی رقم یعنی بس دس، بیس یا پچاس روپے نکالتا تھا۔کشمیر میں کسی سپاہی
مزید پڑھیے



عرب امارات۔ اسرائیل تعلقات کی پس پردہ کہانی

بدھ 26  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
طے پایا گیا کہ واشنگٹن میں کسی لابی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں، جس نے بعد میں امارتی حکمرانوں کا رابطہ امریکہ میں طاقتور یہودی لابی یعنی امریکین جیوش کمیٹی یعنی اے جے سی سے کروایا۔انہی دنوں بھارت نے بھی اسرائیل کی ایما پر اسی کمیٹی کی خدمات امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کرنے اور اسکو کانگریس کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے حاصل کی تھی۔ 2008میں امریکی کانگریس نے جوہری قانون میں ترمیم کرکے بھارت کیلئے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کیلئے راستہ ہموار کردیا۔ اے جے سی نے نہ صرف اقوام متحدہ کی ایجنسی کا صدر
مزید پڑھیے


عرب امارات۔ اسرائیل تعلقات کی پس پردہ کہانی

منگل 25  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کی ایما پر متحدہ امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرکے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرکے بین الاقوامی سیاست میں دھماکہ تو کردیا، مگر مبصرین ابھی بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ آیا امارات کو اس طرح کا قدم اٹھانے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی۔ اسرائیلی اخبار حاریٹز کے مدیر زیوی بارمل کے مطابق مصر او ر اردن کے برعکس امارات کو امریکی امداد کی نہ کسی ایسی ٹیکنا لوجی کی ضرورت تھی، جو وہ پیسوں سے خرید نہ سکتا تھا۔ حال ہی میں یمن کی جنگ سے تنگ آکر امارات نے
مزید پڑھیے


’’غلامی کی زندگی جینا سیکھ لو‘‘

منگل 18  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
ویسے تو حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں، زیادتیاں، گرفتاریاں اور ٹارچر کشمیر میں عام بات ہے اور وہاں کے مکین بھی ان کے عادی ہو چکے ہیں، مگر پچھلے سال اگست کے بعد سے بھارت نے جس طرح ریاست کو تحلیل اور ضم کردیا، اس نے سکیورٹی اداروں کو اس حد تک بے لگام کر دیا ہے، کہ دیگر ادارے بشمول عدلیہ بھی ان سے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ حال ہی میں پاکستان، انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی اور جموں و کشمیر سالیڈیریٹی گروپ نے کشمیر کے زمینی حالات کا جائزہ لینے کے بعد 196صفحات پر
مزید پڑھیے


الوداع آغا اشرف علی: استادو ں کے استاد…(2)

بدھ 12  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
تیس سال قبل آغا صاحب کے یہ الفاظ موجودہ حالات میں نیشنل کانفرنس اور پیلز ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر بھارت نوا ز پارٹیوں پر صادق آتے ہیں۔غیر معمولی دانش اور فراست سے بھرپور آغا اشرف علی کو جہاں قرآنی آیات ازبر تھیں، اقبال، رومی ،ابن خلدون، مارکس و اینجلز پر عبور حاصل تھا، وہیں ان کی یاداشت میں سنسکرت کے تمام اپنیشد بھی گردش کرتے رہتے تھے، جو وہ گفتگو میں استعمال کرتے تھے۔ کشمیر ی راہنماوں یسین ملک، سید علی گیلانی اور مرحوم عبدالغنی لون کو کئی بار میں نے ان کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے دیکھا۔ ملک
مزید پڑھیے


الوداع آغا اشرف علی: استادو ں کے استاد

منگل 11  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلی کئی صدیوں سے تاریخ کے بھنور میں پھنسے ہونے کے باوجود کشمیر نے کئی درخشندہ ستارے پیدا کئے، جنہوں نے چہار دانگ عالم میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ باہر سے آئے کسی بھی نامہ نگار، دانشور یا اسکالر کا، دورہ جموں جس طرح کشمیر ٹائمز کے مدیر وید بھسین سے ملے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا تھا، اسی طرح سرینگر میں یہ اعزاز آغا اشرف علی کے نام تھا۔ ایک چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا 97برس کی عمر میں سرینگر میں پچھلے ہفتہ خاموش ہوگئی۔ جنوبی ایشیاء کے جید ماہرین تعلیم سروپلی رادھا کرشنن، ذاکر حسین، خواجہ غلام السیدین یا پاکستان
مزید پڑھیے