BN

افتخار گیلانی



شجاعت بخاری :کشمیری صحافت کا آفتاب غروب ہوگیا


29رمضان المبارک کی شام۔ دفتر میں بس روزہ کھولنے ہی والا تھا کہ سرینگر سے قریبی دوست کا فون آیا کہ معروف کشمیر صحافی اور دی رائزنگ کشمیر گروپ کے ایڈیٹرانچیف شجاعت بخاری نے جام شہاد ت نوش کیا ہے۔ چند ساعتوں کے بعد بریکنگ نیوز آنا شروع ہوگئی۔ یقین کرنا مشکل تھا۔ شجاعت کو مرحوم لکھتے ہوئے قلم لرز رہا ہے۔ گورنمنٹ کالج سوپوراور بعد میں صحافتی سفرمیں پچھلے 30سالوں سے جو شخص ہم سفر و ہمرکاب رہا ہو، اس کا یوں اچانک جدا ہونا ، کلیجہ چھلنی ہورہا ہے۔ اس دیرینہ رفاقت میں کم از کم دوبار
منگل 26 جون 2018ء

افطار پارٹیاں اور مسلمانوں کی سیاسی یتیمی

منگل 12 جون 2018ء
افتخار گیلانی
ماہ رمضان خیر و برکت کی نوید لیکر تو آتا ہی ہے، مگر عرصہ دراز سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں یہ خبروں کے متلاشی صحافیوں، طبقہ اشرافیہ، سیاسی و مذہبی لیڈروں نیز سفارت کاروں کیلئے نعمت مترقبہ لیکر نازل ہوتا آیا ہے۔ آئے دن کی افطار پارٹیوں کی بدولت، ڈنر ٹیبل صحافیوں کیلئے سیاسی و سفارتی شخصیات کے ساتھ غیررسمی روابط اور حالات و واقعات کی آگہی کا ذریعہ بھی بنتے تھے۔اگر کہا جائے کہ اس مقدس ما ہ میں بھارت میں سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتی تھیں تو بے جا نہ ہوگا۔ نیوز رومز میں افطار پارٹیوں
مزید پڑھیے


تحریک کشمیر کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش…2

بدھ 06 جون 2018ء
افتخار گیلانی
ایک دہائی قبل کشمیر یونیورسٹی نے انسانی حقوق کا ڈپلومہ کورس شروع کیا تھا، چند سال بعد ہی اسکی بساط لپیٹ لی گئی کیونکہ طالب علم سیاسی اور جمہوری حقوق کے متعلق سوال پوچھنے لگے تھے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو بند کرنے کی وجہ بتائی گئی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے فیلڈ میں کیریئر یا روزگار کی کمی ہے۔ میں نے کہا کہ متبادل جمہوری مخرجوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مساجد کو سیاسی طور پر استعمال کرنا تو ایک مجبوری بن گئی ہے اور یہ کشمیر کی پچھلے 500سالوں کی تاریخ ہے۔ وزیر نے یہ بھی بتایا
مزید پڑھیے


تحریک کشمیر کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش

منگل 05 جون 2018ء
افتخار گیلانی
جولائی 2016 ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جب کشمیر میں حالات کسی بھی صورت میں قابو میں نہیں آرہے تھے،نیز بھارتی میڈیا آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہا تھا، غالباً وزیر اعظم نریندر مودی کے ایما اور جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی استدعا پر میڈیا کے چنیدہ ایڈیٹروں کو حالات کی سنگینی کا احساس کروانے کیلئے حکومتی سطح پر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا ۔ ملک بھر کے 17ایڈیٹر اور سینئر صحافی وزارت اطلاعات کے صدر دفتر میں سینئر وزراء کی ایک ٹیم کے روبرو تھے۔ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے
مزید پڑھیے


دلت، درانی کتاب ۔چائے کی پیالی میں طوفان

منگل 29 مئی 2018ء
افتخار گیلانی
پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل (ر) اسد درانی ، بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسز ونگ (را) کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دلت اور صحافی آدتیہ سنہاکی مشترکہ کتاب Spy Chronicles: RAW, ISI And the Illussions of Peace کے منظر عام پر آنے کے بعد اٹھا ہنگامہ، ’’ چائے کی پیالی میں طوفان‘‘ کی عملی تصویرہے۔ چونکہ یہ کتاب سابق پاکستانی وزیر اعظم نوا ز شریف کے 2008ء میںممبئی پر ہوئے دہشت گرد حملوں کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات اور ایک طبقہ کی
مزید پڑھیے




کشمیر ی محنت کشوں کا خون تاریخ میں گم کیوں ہے؟

منگل 22 مئی 2018ء
افتخار گیلانی
ماہ مئی کا پہلا دن کرہ ارض میں محنت کشوں اور مزدورں کے نام وقف ہوتاہے ۔ کیمونزم کے زوال کے بعد یوم مئی میں اب پہلے جیسا جوش و خروش نظر تو نہیں آتا ہے، مگرموجودہ کارپوریٹ کلچر ، سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے اور اسکے عدم احتساب نے جہاں مزدوروں اور کسانوں کے مسائل میں اور اضافہ کیا ہے، وہیں اس دن کی اہمیت اور اجاگرکیا ہے۔گو کہ یہ دن 132برس قبل امریکی شہر شکاگو میں مزدورں کے ایک احتجاجی جلوس پر ظلم و ستم کے حوالے سے موسوم ہے، مگر شاید کم ہی لوگوں کو علم ہوگا
مزید پڑھیے


مودی حکومت اور کشمیر

منگل 15 مئی 2018ء
افتخار گیلانی
26مئی 2014 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کے چند روز بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنی رہائش گاہ پر نئی وزارتی ٹیم کو قومی میڈیا اور اشرافیہ دہلی سے متعارف کرانے کی غرض سے ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ وزارتی ٹیم کے اکثر اراکین چونکہ پہلی بار ہی منتخب ہوکر آئے تھے اسلئے انکو دارالحکومت کے آداب و انداز سے آشنا کروانے اور لوٹین دہلی کے رو برو کرانا بھی اس پارٹی کا مقصد تھا۔نئی دہلی کا کیپٹل سٹی کا علاقہ برطانوی آرکٹیکٹ ایڈوین لوٹین کا تعمیر کردہ ہے۔ اسلئے دہلی کے اشرافیہ کو ، یاجن
مزید پڑھیے


علی گڑھ اور قائد اعظم کی تصویر پر اعتراض

منگل 08 مئی 2018ء
افتخار گیلانی

1857ء کی ناکام جنگ آزادی اور مغلیہ سلطنت کے خاتمہ کے بعد جب مسلمان بے کسی اور کسمپرسی کے دور سے گزر رہے تھے، تو دہلی کے اجمیری گیٹ پر واقع دہلی مدرسہ (حال اینگلو عربک اسکول) کے استاد مولوی مملوک علی کے دو شاگردوں نے قوم کو اعتماد لٹانے کی نیت سے دہلی کو خیر باد کہہ کر دو الگ سمتوں میں دو شہرہ آفاق اداروںکی بنیاد رکھی۔ گو کہ مسلمانوں کو دوبارہ با اختیار بنانے کیلئے تعلیم کو ذریعہ بنانے پر وہ متفق تھے، مگر اسکے نظام اور طریقہ کار پر ان میں اختلاف رائے تھا۔ مغربی اترپردیش
مزید پڑھیے