افتخار گیلانی


پرناب مکرجـی: موجودہ دور کا چانکیہ چلا گیا


غالباً1998میں، میں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو بطور رپورٹر کور کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد ہر ہفتے پریس گیلری پاس کی تجدید کی کوفت سے بچنے کیلئے جب میںنے اس کو مستقل یا سالانہ کرنے کی درخواست دی، تو معلوم ہوا کہ نئے ضابطوں کے مطابق اسکے لئے پارلیمنٹری رپورٹنگ کا کورس کرنا پڑیگا۔ پارلیمنٹ ہاوس کے بغل میں ہی لائبریری کی وسیع و عریض بلڈنگ میں بیورو آر پارلیمنٹری اسٹڈیز اینڈ ٹریننگ کے تحت سال 2000کے بیچ میں ، میں نے بھی نام کا اندراج کروادیا۔ ہمارے بیچ کے تقریباً سبھی صحافی ، بس پاس
منگل 08  ستمبر 2020ء

کشمیر کا مواصلاتی محاصرہ : عصبیت کی بدترین مثال

منگل 01  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلے سال اگست میں جب بھارتی حکومت نے کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاون نافذ کردیا، انٹرنیٹ سمیت موبائل اور لینڈ لائن فون کی سروس بھی بند کردی، توشمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبہ میں بھارتی فوج کی 19ویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے باہر جموں و کشمیر بینک کی اے ٹی ایم مشین سے ایک سپاہی روز ہی پیسے نکالنے آتا تھا۔ خواجہ باغ علاقے میں واقع اس اے ٹی ایم مشین کا چوکیدار تجسس میں تھا، کیونکہ سپاہی روز ہی مقررہ وقت پر آکر نہایت ہی معمولی رقم یعنی بس دس، بیس یا پچاس روپے نکالتا تھا۔کشمیر میں کسی سپاہی
مزید پڑھیے


عرب امارات۔ اسرائیل تعلقات کی پس پردہ کہانی

بدھ 26  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
طے پایا گیا کہ واشنگٹن میں کسی لابی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں، جس نے بعد میں امارتی حکمرانوں کا رابطہ امریکہ میں طاقتور یہودی لابی یعنی امریکین جیوش کمیٹی یعنی اے جے سی سے کروایا۔انہی دنوں بھارت نے بھی اسرائیل کی ایما پر اسی کمیٹی کی خدمات امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ طے کرنے اور اسکو کانگریس کی رضامندی حاصل کرنے کیلئے حاصل کی تھی۔ 2008میں امریکی کانگریس نے جوہری قانون میں ترمیم کرکے بھارت کیلئے جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کیلئے راستہ ہموار کردیا۔ اے جے سی نے نہ صرف اقوام متحدہ کی ایجنسی کا صدر
مزید پڑھیے


عرب امارات۔ اسرائیل تعلقات کی پس پردہ کہانی

منگل 25  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کی ایما پر متحدہ امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرکے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرکے بین الاقوامی سیاست میں دھماکہ تو کردیا، مگر مبصرین ابھی بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ آیا امارات کو اس طرح کا قدم اٹھانے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی۔ اسرائیلی اخبار حاریٹز کے مدیر زیوی بارمل کے مطابق مصر او ر اردن کے برعکس امارات کو امریکی امداد کی نہ کسی ایسی ٹیکنا لوجی کی ضرورت تھی، جو وہ پیسوں سے خرید نہ سکتا تھا۔ حال ہی میں یمن کی جنگ سے تنگ آکر امارات نے
مزید پڑھیے


’’غلامی کی زندگی جینا سیکھ لو‘‘

منگل 18  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
ویسے تو حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں، زیادتیاں، گرفتاریاں اور ٹارچر کشمیر میں عام بات ہے اور وہاں کے مکین بھی ان کے عادی ہو چکے ہیں، مگر پچھلے سال اگست کے بعد سے بھارت نے جس طرح ریاست کو تحلیل اور ضم کردیا، اس نے سکیورٹی اداروں کو اس حد تک بے لگام کر دیا ہے، کہ دیگر ادارے بشمول عدلیہ بھی ان سے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ حال ہی میں پاکستان، انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی اور جموں و کشمیر سالیڈیریٹی گروپ نے کشمیر کے زمینی حالات کا جائزہ لینے کے بعد 196صفحات پر
مزید پڑھیے



الوداع آغا اشرف علی: استادو ں کے استاد…(2)

بدھ 12  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
تیس سال قبل آغا صاحب کے یہ الفاظ موجودہ حالات میں نیشنل کانفرنس اور پیلز ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر بھارت نوا ز پارٹیوں پر صادق آتے ہیں۔غیر معمولی دانش اور فراست سے بھرپور آغا اشرف علی کو جہاں قرآنی آیات ازبر تھیں، اقبال، رومی ،ابن خلدون، مارکس و اینجلز پر عبور حاصل تھا، وہیں ان کی یاداشت میں سنسکرت کے تمام اپنیشد بھی گردش کرتے رہتے تھے، جو وہ گفتگو میں استعمال کرتے تھے۔ کشمیر ی راہنماوں یسین ملک، سید علی گیلانی اور مرحوم عبدالغنی لون کو کئی بار میں نے ان کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے دیکھا۔ ملک
مزید پڑھیے


الوداع آغا اشرف علی: استادو ں کے استاد

منگل 11  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلی کئی صدیوں سے تاریخ کے بھنور میں پھنسے ہونے کے باوجود کشمیر نے کئی درخشندہ ستارے پیدا کئے، جنہوں نے چہار دانگ عالم میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ باہر سے آئے کسی بھی نامہ نگار، دانشور یا اسکالر کا، دورہ جموں جس طرح کشمیر ٹائمز کے مدیر وید بھسین سے ملے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا تھا، اسی طرح سرینگر میں یہ اعزاز آغا اشرف علی کے نام تھا۔ ایک چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا 97برس کی عمر میں سرینگر میں پچھلے ہفتہ خاموش ہوگئی۔ جنوبی ایشیاء کے جید ماہرین تعلیم سروپلی رادھا کرشنن، ذاکر حسین، خواجہ غلام السیدین یا پاکستان
مزید پڑھیے


کشمیر کی افسر شاہی :مقامی آبادی اقلیت میں

بدھ 05  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
ایک سال قبل پانچ اگست کو ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے کے بعد بیشتر مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ خطے کی مسلم اکثریتی آبادی کو اپنے ہی وطن میں اپنی ہی زمین پر ا قلیت میں تبدیل کیا جائیگا۔ گو کہ اس طرح کے قدم کو نافذ کرنے میں عملاً کئی سال درپیش ہونگے مگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر کی افسر شاہی میں تناسب کے اعتبار سے مقامی مسلمان پہلے ہی اقلیت میں آچکے ہیں۔ فی الوقت خطے میں 24 سیکرٹریوں کی پوسٹوں پر صرف پانچ مسلمان فائز ہیں۔ اسی طرح 58اعلیٰ عہدیداران
مزید پڑھیے


کشمیرپر مودی حکومت کی آئینی سرجیکل اسٹرائیک کی برسی

منگل 04  اگست 2020ء
افتخار گیلانی
بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربرا ہ جنرل یحییٰ خان نے 1969 کو زمام اقتدار سنبھالنے کے بعدکر جب مارشل لانافذ کرکے آئین کی معطلی کا اعلان کیا، تو اس انتہائی قدم کی کوئی توجیح پیش نہیں کر پا رہے تھے۔ قدرت اللہ شہاب کے مطابق بیوروکریسی کے ساتھ ان کی پہلی میٹنگ میں جب ان سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اور ان کے دست راست میجر جنرل ایس جی ایم پیر زادہ نے مارشل لا کے کئی فوائد گنوائے، جن میں نالوں کی صفائی کا حکم جاری کرنا، فنائیل چھڑکنا، مکھی مارنے کی مہم کا
مزید پڑھیے


کشمیرپر مودی حکومت کی آئینی سرجیکل سٹرائیک کی برسی

منگل 28 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی
بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربرا ہ جنرل یحییٰ خان نے 1969ء کو زمام اقتدار سنبھال کر جب مارشل لا نافذ کرکے آئین معطل کرنے کا اعلان کیا، تو اس انتہائی قدم کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر پا رہے تھے۔ قدرت اللہ شہاب کے مطابق بیوروکریسی کے ساتھ ان کی پہلی میٹنگ میں جب ان سے استفسار کیا گیا ، تو انہوں نے اور ان کے دست راست میجر جنرل ایس جی ایم پیر زادہ نے مارشل لا کے کئی فوائد گنوائے، جن میں نالوں کی صفائی کا حکم جاری کرنا، فنائیل چھڑکنا، مکھی مارنے کی مہم
مزید پڑھیے