افتخار گیلانی


آیا صوفیہ بنام بابری مسجد…(2)


تعجب کی بات ہے کہ چھ صدیوں تک مسجد کا کار منصبی انجام دینے اور نمازیوں کی میزبانی کرنے کے باوجود ان تصاویر کو چھیڑا نہیں گیا ہے۔ورنہ کسی مسجد میں تصویر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ اگرچہ استنبول میں اس انوکھے ڈھانچے نے پوری تاریخ میں بہت سی آفات دیکھی ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ آیا صوفیہ کی تباہی یا لوٹ ماردوسرے مذاہب نے نہیں بلکہ خود عیسائیوں نے انجام دی۔فاتح سلطان محمد نے استنبول کو فتح کرکے اسکو مسلمانوں کے لئے عبادت گاہ کے طور پرمختص کیا۔ اس نے عمارت میں ایک مینار کو
جمعه 24 جولائی 2020ء

آیا صوفیہ بنام بابری مسجد

منگل 21 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی
لیجئے فرزندان اسلام کیلئے ایک اور مسجد تیار ہو گئی ہے، جہاں و ہ اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو سکیں گے۔ ترکی کے افسانوی شہر استنبول کے وسط میں تاریخی عمارت آیا صوفیہ 85 برسوں بعد عبادت کے لیے کھولی جا رہی ہے، جبکہ اس کے بغل ہی میں آسمانی رنگ کی 17ویں صدی کی تعمیر شدہ خوبصورت اوروسیع و عریض سلطان احمد جامع واقع ہے، جہاں کے میناروں سے دن میں پانچ وقت تکبیریں گونجتی رہتی ہیں اور اسکی صفیں نمازیوں سے پر ہونے کا انتظار ہی کرتی رہتی ہیں۔برسوں کی عدالتی کارروائی کے بعد اسی
مزید پڑھیے


13جولائی: پیرس کے باسطل سے سرینگر کے سینٹرل جیل تک…(2)

بدھ 15 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی

ان حالات کے پیش نظر مہاراجہ ہری سنگھ نے سیاسی مشیر ای سی ویکفیلڈکے مشورہ پر ریاستی مسلمانوں کا ایک نمائندہ وفد طلب کیا، جو اپنی شکایات اور مطالبات پیش کرے۔ جموں سے مستری یعقوب علی، سردار گوہر رحمان، چودھری غلام عباس اور شیخ عبدالحمید کو نامزد کیا گیا۔ کشمیر سے نمائندوں کو طے کرنے کیلئے سرینگر میں میر سید علی ہمدانی کی درگاہ یعنی خانقاہ معلی کے صحن میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ جس میں سات افراد میر واعظ یوسف شاہ، میر واعظ احمداللہ ہمدانی، آغا سید حسن جلالی، خواجہ غلام احمد عشائی، منشی شہاب الدین ، خواجہ
مزید پڑھیے


13جولائی : پیرس کے باسطل سے سرینگر کے سینٹرل جیل تک

منگل 14 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی
کیا عجب اتفاق ہے کہ 13جولائی 1779ء کو فرانس کے دارلحکومت پیرس کے باشندوں نے باسطل کے زندان پر دھاوا بھول کر عوامی انقلاب کی جس طرح ابتدا کر دی، بالکل اسی طرح 152سال بعدیعنی 1931ء میں اسی دن سرینگر کی سینٹرل جیل کے باہر دبے کچلے کشمیری عوام نے آزادی کا الائو روشن کردیا ۔ کشمیر کی تاریخ میںیہ ایک انتہائی غیر معمولی اور اہم دن ہے اور پچھلے 89سالوں سے کشمیر کے سبھی طبقے چاہے بھارت نواز ہوں یا آزادی پسند ، اس کو ایک قومی دن کے بطور مناتے آئے ہیں۔ جس طرح ہندوستانی عوام 1857ء کی
مزید پڑھیے


فلسطین کو ضم کرنے کا اسرائیلی پلان اور کشمیر

بدھ 08 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی
حال ہی میں امریکہ کی طاقتور یہودی لابی نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران ہی اپنا ایک اعلیٰ سطحٰ وفد ان ممالک کے دورہ پر بھیجا تھا، جہاں ان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ مغربی کنارہ کو ضم کرنے کے پلان کے بعد وہ ٹرمپ کے پلان کو حمایت نہیں دے پائیں گے۔ اردن نے بھی خبردار کر دیا کہ نیتن یاہو کے منصوبہ سے خطے میں حالات انتہائی خراب ہوسکتے ہیں۔ ان ذرائع نے راقم کو بتایا کہ کوشنر فی الحال خلیجی ممالک کی ناراضگی مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے، کیونکہ ان ممالک میں
مزید پڑھیے



فلسطین کو ضم کرنے کا اسرائیلی پلان اور کشمیر

منگل 07 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی
گو کہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے خطے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی اعتبار سے کوسوں دور ہیں، مگر تاریخ کے پہیوں نے ان کو ایک دوسرے کے قریب لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ دونوں خطے تقریباً ایک ساتھ 1947-48ء میں دنیا کے نقشہ پر متنازعہ علاقوں کے طور پر ابھرے۔ کئی جنگوں کے باعث بھی بنے اور پچھلی سات دہائیوں سے نہ صرف امن عالم کیلئے خطرہ ہیں، بلکہ مسلم دنیا کیلئے ناسور بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں خون خرابہ ہو یا بھارت،پاکستان مخاصمت ، یا مغربی ایشیا میں یمن و شام و لیبیا کی خانہ جنگی یا ایران، ترکی،
مزید پڑھیے


بھارت، چین اور جنوبی ایشیائی ممالک

بدھ 01 جولائی 2020ء
افتخار گیلانی
نیپال نے جس طرح پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے آئین میں ترمیم کرکے ملک کا نیا نقشہ جاری کرکے متنازعہ سرحدی علاقوں کو اس میں شامل کیا، اس قدم سے بھارت میں سخت ناراضگی ہے۔چند ماہ قبل بھارت نے بھی کچھ اسی طرح کا قدم اٹھا کر جموں و کشمیر کیلئے نئے نقشہ ریلیز کیا تھا۔ 2018ء میں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو عوامی غیظ و غضب سے بچانے اور واپس اقتدار میں لانے کیلئے بھارت نے خاصا کردار ادا کیا تھا۔ ان انتخابات میں استعمال ہوئی الیکٹرانگ ووٹنگ مشینیں بھارت کے گجرات صوبہ سے آئی تھیں۔ جنکو خود
مزید پڑھیے


بھارت، چین اور جنوبی ایشیائی ممالک

منگل 30 جون 2020ء
افتخار گیلانی
کیسی ستم ظریفی ہے کہ جنوبی ایشیا کے تقریباً سبھی ممالک ایک کثیر جہتی اور جمہوری پڑوسی ملک بھارت کے بجائے ایک آہنی نظام کے ملک چین کے ساتھ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ ہونا تویہ چاہئے تھا کہ بھارت ان سبھی ممالک کیلئے مشعل راہ ہوتا اور اسکی مشفق خارجہ پالیسی ایک مہربان بڑے بھائی کی طرح ان کے مفادات کا خیال رکھ کر خطے کی تعمیر و ترقی کا ضامن بن جاتی۔ مگر برسوں سے بھارت کا رویہ اس خطے میں نوآبادیاتی طرز کا رہا ہے اور 2014ء میں نریندر مودی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد اس میں
مزید پڑھیے


لداخ :امارت سے مفلسی کی ایک داستان

هفته 27 جون 2020ء
افتخار گیلانی
خطے کے روابط منقطع ہونے کا سب سے زیادہ نقصان مسلم اکثریتی کرگل ضلع کو اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ بھارت،پاکستان جنگوں میں اس ضلع کے کئی دیہات کبھی ادھر تو کبھی ادھر چلے آتے تھے۔ 1999ء کی کرگل جنگ کے بعد جب لداخ کے پہلے کور کمانڈر جنرل ارجن رائے کی ایما پر دیہاتوں کی سرکاری طور پر پیمائش وغیرہ کی گئی، تو معلوم ہوا کہ ترتک علاقے کے کئی دیہات تو سرکاری ریکارڈ میں ہی نہیں ہیں۔ اس لئے 2001ء کی مردم شماری میں پہلی بار معلوم ہوا کہ لداخ خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 47فیصد ہے
مزید پڑھیے


لداخ:امارت سے مفلسی کی ایک داستان

منگل 23 جون 2020ء
افتخار گیلانی
جموں و کشمیر کا دور افتادوہ اور پسماندہ لداخ خطہ ، جہاں اسوقت چینی اور بھارتی فوج برسرپیکار ہے، ایک صدی قبل تک خاصا متمول اور متحدہ ہندوستان ، تبت، چین ، ترکستان و وسط ایشیا کی ایک اہم گذرگاہ تھا۔ خوبصورت ارضیاتی خدو خال، حد نگاہ تک رنگ برنگے اونچے پہاڑ، بنجر اور ویران لمبے چوڑے میدان، خاصی حد تک پاکستانی صوبہ بلوچستان سے مماثل ہیں۔ پچھلے سال اگست میں بھارت نے اس خطہ کو جموں و کشمیرسے الگ کرکے ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام کر دیا۔ دو ضلعوں لہیہ اور کرگل پر مشتمل اس خطے کا رقبہ
مزید پڑھیے