BN

افتخار گیلانی


بابری مسجد کے قضیہ نے اتاردیے نقاب…(2)


اس دوران دہلی میں ان کی عدم موجودگی میں ان کے فلیٹ پر چوروں نے دھاوا بھول دیا اور پورے گھر کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔ گھر کی جو حالت تھی، اس سے معلوم ہوتا تھا کہ درانداز کسی چیز کو تلاش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی سامان غائب تھا، مگر تصویروں کے نگیٹو بچ گئے تھے، کیونکہ وہ انہوں نے کسی دوسری جگہ حفاظت سے رکھے ہوئے تھے۔ کورٹ میں مسجد کی شہادت کی تیاری اور باضابط ریہر سہل کرنے کی تصویریں پیش کی گئیں۔ معلوم ہوا کہ
بدھ 07 اکتوبر 2020ء

بابری مسجد کے قضیہ نے اتاردیے نقاب

منگل 06 اکتوبر 2020ء
افتخار گیلانی
6دسمبر1992کی رات ، بی بی سی نے اپنی نشریات روک کر اعلان کیاکہ اتر پردیش کے شہر فیض آباد سے سنڈے آبزرور کے نمائندے قربان علی لائن پر ہیں اور وہ ابھی ابھی ایودھیا سے وہاں پہنچے ہیں۔ اگلی پاٹ دار آواز قربان علی کی تھی۔ جس میں انہوں نے دنیا کو بتایا کہ مغل فرمانروا ظہیر الدین بابر کی ایما پر تعمیر کی گئی بابری مسجد اب نہیں رہی۔ جس وقت و ہ ایودھیا سے روانہ ہوئے، وہ ملبہ کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہوچکی تھی۔اس دن 12 بجے کے بعد سے کسی بھی میڈیا ادارے کا ایودھیا
مزید پڑھیے


مترجمین کی خارزار دنیا…(2)

بدھ 30  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلے سال واشنگٹن پوسٹ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مترجموں کی حالت زار بیان کرتے ہوئے تحریر کیا کہ جب ٹرمپ اپنے موڈمیں آکر گالی گلوچ اور لعنت و ملامت والے الفاظ کی ادائیگی کرتے ہیں، تو مترجموں کی جان پر آتی ہے۔ امریکی صدر نے 2018 میں جب کئی افریقی ممالک کو انگریزی میں ’’شٹ ہول ’’ ممالک بتایا تو ان کے مترجموں کے ہوش اڑ گئے۔ 2000ء میں جب امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ شمالی کوریا کے دورہ پر گئیں، تو یہ کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کئی دہائیوں کے بعد پہلا دورہ تھا۔ پہلی ہی
مزید پڑھیے


مترجمین کی خارزار دنیا

منگل 29  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
سوویت لیڈر میخائل گورباچوف اور امریکی صدر جارج بش سینئرکے درمیان 1990میں وائٹ ہاوس میں تخفیف اسلحہ اور فضائوں کو کھولنے کیلئے چوٹی کی ملاقات جاری تھی، کہ روسی مترجم کے گورباچوف کے کسی لفظ کے غلط ترجمہ سے فضا مکدر ہوگئی ۔ میٹنگ سبوتاژہونے کے قریب ہی تھی کہ گورباچوف نے معاملہ سنبھال لیا۔ ملاقات کے اختتام پر جب مترجم اگور کورچیلوف نے امریکی صدر کے پاس آکر معذرت کی، تو بش نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ’’نوجوان ، شکر کرو کہ تمہاری وجہ سے تیسری عالمی جنگ نہیں چھڑ گئی‘‘۔ترجمہ نگاری یوں
مزید پڑھیے


عالمی گریٹ گیم اور ترکی

منگل 22  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
چین اور امریکہ کے مابین جس طرح بحرالکاہل کے سائوتھ چائنا سمندر میں سرد جنگ جاری ہے، بالکل اسی طرح بحیرہ روم میں ترکی اور یونان کے درمیان محاذ خاصا گرم ہے۔ اس ایشو پر نہ صرف یورپی یونین، بلکہ امریکہ اور عرب ممالک بشمول مصر، ترکی کے خلاف یونان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ چونکہ دونوں سمندروں میں فی الوقت گیس اور تیل کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں اور آئندہ مزید ایسی دریافتیں ہونے کی امید ہے، اسلئے سمندری حدود پر کنٹرول اور اسکے اقتصادی زون کی حد بندی کے قضیہ پر تقریباً دونوں علاقوں میں
مزید پڑھیے



مولانا امین عثمانی : ایک خاموش پر عہد ساز شخصیت کا انتقال …(2)

بدھ 16  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی

اکیڈمی کے اس سیمینار میں اسکالرز اور مفتیان کرام متفق تھے کہ دنیا کے جس کسی حصے میں بھی سنی اور شیعہ مشترک آبادیاں ہیں، وہ پْرامن بقائے باہم کے ساتھ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر زندگی گزاریں، ایک دوسرے کی مقدس مذہبی شخصیات کا احترام کریں۔سمینار میں یہ بھی بتایا گیا کہ فقہی مسائل میں اختلافات کا حق تو حاصل ہے مگر ان میں اپنی رائے کو سراسر حق اور دوسری رائے کو سراسر باطل قرار دینا ہرگز درست نہیں۔ جن مسائل میں اختلافات کی نوعیت حلال و حرام، جائز و ناجائز کی ہے وہ بھی چونکہ مختلف فیہ
مزید پڑھیے


مولانا امین عثمانیـ: ایک خاموش پر عہد ساز شخصیت کا انتقال

منگل 15  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
تمام تر مجبوریوں ،محرومیوں ،لاتعداد مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود بھارتی مسلمانوں نے پچھلی ایک صدی کے دوران نہ صرف چند عالمی شہرت یافتہ ادارے قائم کئے بلکہ انہیں وسائل کی کمی کے باوجود زندہ بھی رکھا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، دینی اداروں میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند، مظاہرالعلوم سہارنپور اور لکھنوکے ندوۃ العلماء وغیرہ نے پوری دنیا کو منور کیا ہے۔ اسی طرز عمل کو برقرار رکھتے ہوئے نوئے کی دہائی کے اوائل میں جید عالم دین مرحوم قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور علی گڑھ سے فارغ التحصیل ، ماہر اقتصادیات اور انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹیو
مزید پڑھیے


پرناب مکرجیــ: موجودہ دور کا چانکیہ چلا گیا …(2)

بدھ 09  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
رپورٹروں کی بھیڑ اور پرائیوسی میں مداخلت کی وجہ سے وہ کئی بار اپنا آپا کھو دیتے تھے۔ ایک با ر جب وہ ایک فوٹو جرنلسٹ سے ناراض ہوئے، تو ایک استاد کی طرح اس کے کان کھنچ کر اسکو گیٹ کے باہر چھوڑ کر آگئے۔ ایک رات جب ہم چند رپورٹر ان کے گھر پر اسی طرح خبر کی تلاش میں پہرہ دے رہے تھے ،تو خود باہر آکر انہوں نے سبھی کو ڈرائینگ روم میں بلاکر خوب خاطر تواضع کی۔ جس کی وجہ کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔ چند لمحوں کے بعد ان کی بات
مزید پڑھیے


پرناب مکرجـی: موجودہ دور کا چانکیہ چلا گیا

منگل 08  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی

غالباً1998میں، میں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو بطور رپورٹر کور کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد ہر ہفتے پریس گیلری پاس کی تجدید کی کوفت سے بچنے کیلئے جب میںنے اس کو مستقل یا سالانہ کرنے کی درخواست دی، تو معلوم ہوا کہ نئے ضابطوں کے مطابق اسکے لئے پارلیمنٹری رپورٹنگ کا کورس کرنا پڑیگا۔ پارلیمنٹ ہاوس کے بغل میں ہی لائبریری کی وسیع و عریض بلڈنگ میں بیورو آر پارلیمنٹری اسٹڈیز اینڈ ٹریننگ کے تحت سال 2000کے بیچ میں ، میں نے بھی نام کا اندراج کروادیا۔ ہمارے بیچ کے تقریباً سبھی صحافی ، بس پاس
مزید پڑھیے


کشمیر کا مواصلاتی محاصرہ : عصبیت کی بدترین مثال

منگل 01  ستمبر 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلے سال اگست میں جب بھارتی حکومت نے کشمیر میں مواصلاتی لاک ڈاون نافذ کردیا، انٹرنیٹ سمیت موبائل اور لینڈ لائن فون کی سروس بھی بند کردی، توشمالی کشمیر کے بارہمولہ قصبہ میں بھارتی فوج کی 19ویں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے باہر جموں و کشمیر بینک کی اے ٹی ایم مشین سے ایک سپاہی روز ہی پیسے نکالنے آتا تھا۔ خواجہ باغ علاقے میں واقع اس اے ٹی ایم مشین کا چوکیدار تجسس میں تھا، کیونکہ سپاہی روز ہی مقررہ وقت پر آکر نہایت ہی معمولی رقم یعنی بس دس، بیس یا پچاس روپے نکالتا تھا۔کشمیر میں کسی سپاہی
مزید پڑھیے