BN

افتخار گیلانی


بھارت اور پاکستان کا نظام: احتساب، استحکام و انتقام


بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں آئین کا مسودہ پیش کرتے ہوئے معروف دلت لیڈر اور دستورساز کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر بھیم راو ٗ امبیڈکر نے کہا تھا کہ دنیا کا کوئی بھی آئین کامل نہیں ہوسکتا ہے۔ اسکو موثر اور قابل استعداد بنانا، روبہ عمل لانے والے افراد اور اداروں کی نیت اور ہیئت پر منحصر ہے۔ اسی تقریر میں انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھے سے اچھا آئین بھی اگر نااہل اور بے ایمان افراد کے ہتھے چڑ ھ جائے تو بد سے بد تر ثابت ہوسکتا ہے۔اسکو چلانے والے اداروں کے ذمہ داران اگر ذہین، فراخ
منگل 24 دسمبر 2019ء

بھارت: مسلمانوں کیلئے اور امتحان (2)

بدھ 18 دسمبر 2019ء
افتخار گیلانی
مردم شماری کے اعداد و شمار ہی ان کے جھوٹ کی پول کھول دیتے ہیں۔ 1951 میں جب پہلی بار متحدہ پاکستان میں مردم شماری ہوئی تو غیر مسلم آباد کا تناسب 14.20فیصد تھا۔ مغربی پاکستان میں اقلیتی آبادی کا تناسب 3.44فیصد ، جبکہ مشرقی پاکستان حال بنگلہ دیش میں 23.20فیصد اقلیتیں آباد تھیں۔ پاکستان میں 1971کی مردم شماری کے مطابق غیر مسلم آبادی 3.25فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 1981ء میں 3.30فیصداورپھر 1998ء میں اقلیتی آبادی 3.70فیصد پائی گئی۔ پاکستان میں 2017ء میں ہوئی مردم شماری کے نتائج ابھی شائع نہیں کئے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے
مزید پڑھیے


بھارت: مسلمانوں کیلئے اور امتحان

منگل 17 دسمبر 2019ء
افتخار گیلانی
حال ہی میں جبب بھارت کے شمال مشرقی صوبہ آسام میں غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے سے قبل انکی شناخت کا مرحلہ سات سال بعد اختتام پذیر ہوگیا، تو اس کے نتائج حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کیلئے ایک طرح سے سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ ہوگیا تھا ۔ سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ میں سات سال کی عرق ریزی کے بعد صوبہ کی 39.9ملین آبادی میں ایک تو محض 19لاکھ چھ ہزار افراد ہی ایسے پائے گئے جو شہریت ثابت نہیں کر پائے۔ دوسرا بتایا گیا کہ ان میں سے11 لاکھ افراد ہندو اور
مزید پڑھیے


افغانستان کی امن مساعی کے پیچ و خم اور کشمیر

بدھ 11 دسمبر 2019ء
افتخار گیلانی
’’افغانستان میں ہر کوئی آپ کو بتائے گا کہ انتخابی مہم کے دوران ، افغانستان کے طول و عرض میں سب سے بڑے اور پر ہجوم جلسے اور جلوس ، اسی پارٹی کے تھے ۔ہم نے ثابت کر دیا کہ ہماری پارٹی کسی خاص نسل اور علاقہ کی نمائندگی نہیں کرتی ہے، بلکہ پورے ملک کی نمائندہ تنظیم ہے۔‘‘ انتخابی نتائج کا ابھی اعلان تو نہیں ہوا ہے۔ مگر پروفیسر صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے اعلان کے بعد کسی بحران سے نمٹنے کیلئے ان کی پارٹی کے ذمہ داران دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط
مزید پڑھیے


افغانستان کی امن مساعی کے پیچ و خم و کشمیر

منگل 10 دسمبر 2019ء
افتخار گیلانی
دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان، مذاکرات کے از سر نو آغاز کے ساتھ اب یہ یقینی لگ رہا ہے کہ فریقین سنجیدگی کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی طرف سے منعقد ایک سمینار میں افغانستان میں حزب اسلامی کے ایک اہم راہنما اور ملکی انتخابات میں نائب صدر کیلئے امیدوار پروفیسر فضل ہادی وزین سے ملاقات ہوئی۔ مظفر آباد سے گڑھی حبیب اللہ ، مانسرہ اور ایبٹ آباد کے راستے اسلام آباد واپسی کے
مزید پڑھیے



سری لنکا : بد ھ قوم پرستوں کی کامیابی اور بھارت

بدھ 27 نومبر 2019ء
افتخار گیلانی
تامل صحافی اور مصنف شاستری راما چندرن کا کہنا ہے کہ گوٹا بایا نے سری لنکا میںبالکل اسی طرح کی انتخابی مہم چلا کر اکثریتی بدھ فرقہ کو لام بند کیا، جس طرح بھارت میں مودی نے ہندو اکثریت کو پاکستان اور مسلمانوں کا خیالی خوف دکھا کر اپنے حق میں ہموار کر دیا۔ راجا پکشا بھائیوں نے بھارت اور ہندوئو ں کا خوف دکھا کر ووٹ حاصل کئے۔ بھارت میں تامل ناڈو صوبہ کی آبادی 67.86ملین ہے، جبکہ سری لنکا کی آبادی 21.44ملین ہے۔ راجا پکشا کا کہنا ہے کہ اگر سری لنکا کے تامل علاقوں کو حق
مزید پڑھیے


سری لنکا : بد ھ قوم پرستوں کی کامیابی اور بھارت

منگل 26 نومبر 2019ء
افتخار گیلانی
سری لنکا میں سنہالا بد ھ قوم پرست گوٹا بایا راج پکشا کی صدارتی انتخابات میں کامیابی نے بھارت کو مخمصہ میں ڈال دیا ہے ۔ جنوبی ایشیا کے اس جزیرہ میں ہندو تامل نژاد اقلیت کے مسائل کے حل کیلئے ، بھارت ، شمالی علاقہ جافنا اور مشرقی علاقوں ام پارہ، بتی کلاوہ اور ٹرنکوملی کو ملاکر ایک علیحدہ صوبہ تشکیل دینے اور اسکو ایک آئینی خودمختاری دینے کا خواہاں رہا ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھئے، چونکہ اب بھارت نے خود ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرکے ، اسکی آئینی خود مختاری ختم کردی، سری لنکا کو اختیارات
مزید پڑھیے


امن قبرستا ن کا یا عزت و انصاف کا

بدھ 20 نومبر 2019ء
افتخار گیلانی
5اگست کو مودی حکومت نے جس طرح ریاست جموں کشمیر کی آٹانومی کو نہ صرف ختم کیا، بلکہ ریاست ہی تحلیل کی، لگتا ہے کہ اسلام آباد اب اسکو تقریباً حقیقت حال تسلیم کرنے لگا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے ممالک نے سرکاری طورپر بہت زیادہ رد عمل نہیں دکھایا، مگر غالباً1990 ء کے بعد پہلی بار کشمیر کو عالمی میڈیا اور سول سوسائٹی گروپس نے خوب کوریج دی۔ حکومتوں کو چھوڑ کر ان ممالک میں موجود سول سوسائٹی گروپس، خواتین اراکین پارلیمان اور بچوں سے متعلق حقوق کی تنظیموں پر کام کرکے ان کو
مزید پڑھیے


امن قبرستا ن کا یا عزت و انصاف کا (1)

منگل 19 نومبر 2019ء
افتخار گیلانی
پاکستان کے ایک سابق سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں پاکستان کو کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے ایک متبادل راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر ، سفارتی محاذ پر کوششیں جاری رہنی چاہئے اور ساتھ ہی انہوں نے ان کاوشوں کو بے مصرف بھی قرار دیا۔ ان کادعویٰ ہے کہ پاکستان میں کئی حلقے اسی راستے کو اپنانے کی وکالت کرتے ہیں تاکہ ملک کو کسی امکانی بحران سے بچایا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کے اندر
مزید پڑھیے


تاریخ کے اوراق میں گم ہوگئی بابری مسجد…(2)

جمعرات 14 نومبر 2019ء
افتخار گیلانی
فروری 1984ء کو معروف وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس ، جسٹس وائی پی چندرا چوڑ کی عدالت میں نے زور دار بحث کرکے دلیل دی تھی کہ جموں و کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کے بانی مقبول بٹ کی، سزائے موت پر عملدرآمدنہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے سزاکی توثیق نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی دستخط و مہر شدہ سند بھی پیش کی۔مگر اٹارنی جنرل کے پراساران نے دلائل کا جواب دیئے بغیر بس ایک سادہ ٹائپ شدہ کاغذ چیف جسٹس کے حوالے کیا ، جس پر کسی
مزید پڑھیے