Common frontend top

BN

امتیاز احمد تارڑ


مناظرے کا چیلنج


قران کریم میں ہے ۔جو ہلاک ہوا وہ دلیل سے ہلاک ہوا ، جو جیا وہ دلیل سے جیا۔ سچ نجات دیتا اور جھوٹ ہلاک کرتا ہے۔ آجکل ہماری سیاست میں جھوٹ در آیا ہے ،جس کا جی چاہتا ہے وہ درجن بھر کیمرے سامنے رکھ جھوٹ کے سہارے پر بلند و بالا دعوے شروع کر دیتا ہے۔ اسحاق ڈار کا تازہ بیان ہے :پاکستان واحد ملک ہے، جو کلمے کے نام پر بنا، اسلئے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اللہ کے ذمے ہے۔ جب کہ لاریب کتاب میں ارشاد ہے :اِنَّ اللّٰہَ لایْغَیِّرْ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یْغَیِّرْوا مَا بِانفْسِہِم۔۔الرعد :11۔بیشک اللہ
اتوار 29 جنوری 2023ء مزید پڑھیے

ہماری درسگاہیں ،ایسی تو نہ تھیں

اتوار 22 جنوری 2023ء
امتیاز احمد تارڑ
عظیم دانشور نے کہا تھا: شاگرد استاد کا عکس ہوا کرتے ہیںجبکہ بزرگ فرماتے ہیں: اساتذہ نیک تو طلبہ بھی نیک۔جو شخص اپنے استاد کی تکلیف کا باعث بنے، وہ علم کی برکت سے محروم رہے گا۔ سوشل میڈیا پر ایک سکول کی بچیاں ساتھی بچی کو زدوکوب کر رہی ہیں۔اس کے پیچھے کیا کہانی ہے،وہ اپنی جگہ پر۔مگر تعلیمی اداروں اور خصوصاً طالبات کی اس ویڈیو نے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک زمانے میں تعلیمی اداروں میں تعلیم کے ساتھ بچوں کی تربیت کی جاتی تھی،انھیں اخلاقیات کا درس دیا جاتا تھامگر افسوس! اب نہ ویسے اساتذہ موجود
مزید پڑھیے


صدیق اکبرؓ

اتوار 15 جنوری 2023ء
امتیاز احمد تارڑ
چشمِ فلک نے مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگا نہیں دیکھا مگر صدیق اکبرؓ کو ٹاٹ کا لباس پہنے ضروردیکھا۔ سیدالملائکہ بھی وہی لباس تن کیے، تشریف لائے۔آقاﷺ سے عرض کی !اللہ تعالیٰ کہتا ہے: صدیقؓ سے پوچھیں مجھ سے راضی تو ہے۔ زمانہ بدلا، اس تیزی سے بدلا کہ لوگ ادراک نہ کر سکے مگر غارِ ثور کے پتھروں پر آج بھی صدیق اکبرؓ کے پائوں کا لمس باقی۔غار کے پتھر آج بھی بچھو کے ڈنگ مارنے کے گواہ۔غار ثور صدیق اکبر ؓ کے آنسو نبوت کے چہرے پر گرنے کاشاہد۔مکڑی کے جالے ،کبوتری کے انڈوں اور سراقہ کے
مزید پڑھیے


مریم نواز کا مستقبل

اتوار 08 جنوری 2023ء
امتیاز احمد تارڑ
شہباز شریف پارٹی کا ماضی اور مریم نواز مستقبل بن رہی ہیں ۔آنے والے چند دنوں میں سینئر قیادت کے ضمیر بھی جاگنے کی قوی امید ۔کچھ ابھی سے پس منظر میں چلے گئے،کئی چوہدری نثار بننے پر آمادہ ۔حمزہ شہباز گروپ بھی بے چین ۔جاوید اختر نے کہا تھا : دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہے نہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا ہمارے ہاں قیادت و امامت کا تصورخاندان کو نوازنا ہے۔مسلم لیگ (ن)،پیپلز پارٹی ،اے این پی اور جے یو آئی تو خاندانی پارٹیاں بن چکیں ۔ملک میں یہ جمہوریت کی چیمپئن۔ کوئی قوم اور ریاست
مزید پڑھیے


2022کیسا رہا ؟

اتوار 01 جنوری 2023ء
امتیاز احمد تارڑ
رحمت عالم ؐنے فرمایا:’’جس کا آج اس کے گزشتہ کل سے بہتر نہیں وہ تباہ ہو گیا‘‘۔ 2022ء کیسا رہا؟کون کون سے خواب پورے ہوئے۔کون سے منصوبے ادھورے۔ لاریب کتاب میں ارشاد ہے : قسم ہے زمانے کی ،انسان خسارے میں ہے مگر وہ جو ایمان لائے اور اعمال صالح کیے۔ کیا ہم نے سال گزشتہ میں کوئی اچھا کام کیا ،اپنے آپ سے سوال لازمی کریں ۔کہاں کہاں خرابیاں پیدا ہوئیں ،انھیں دور کرنے کا جتن کریں ۔آپ ؐ کا فرمان ہے کہ دو نعمتیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں۔اول، صحت ۔ثانی،فراغت۔ زندگی کا
مزید پڑھیے



مہلت لامحدود نہیں ہوتی

اتوار 25 دسمبر 2022ء
امتیاز احمد تارڑ
قدرت کا ایک اٹل اصول ہے کہ وہ مہلت دیتی ہے مگر کوئی بھی مہلت لامحدود نہیں ہوتی۔ عدالتی فیصلے کے بعد عمران خان ٹھنڈے پڑ گئے اور 13جماعتی حکمران اتحاد بھی۔آئندہ چند روز تک ہر طرف سکون ہی سکون۔تیسری طاقت اسٹبلشمنٹ ہے ،اس وقت وہ بھی بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے ۔مستقبل میں سیاسی افق پر نئے نئے مسائل ابھریں گے۔اشرافیہ غریب عوام کا استحصال کرنے کے نئے جتن کرے گی ۔ہفتہ وار مہنگائی میں سیاست کی طرح اتار چڑھائو جاری ہے ۔جیسے ہی سیاسی ماحول گرم ہوتا ،تو مہنگائی کا گراف بھی اوپر اٹھ جاتا ہے،کسی میں
مزید پڑھیے


ملاعمر دور کے طالبان کہاں ہیں ؟

اتوار 18 دسمبر 2022ء
امتیاز احمد تارڑ
افغانستان سے ہمارا دینی‘ تہذیبی‘ ثقافتی‘ تاریخی‘ جغرافیائی‘ تجارتی اور ہمسائیگی کا رشتہ ہے۔اسی بنا پر شاعر مشرق نے کہا تھا: اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بیتاب ہو جائے جب افغانستان پر روس نے یلغار کی تو ہم صرف بے تاب ہی نہیں ہوئے بلکہ جانیں قربان کیں، جب تورا بورا پر امریکی ڈیزی کٹر بم بارش کی طرح برس رہے تھے، تب پاکستانی نوجوان دیوانہ وار چمن سے سرحد پارجا رہے تھے۔گو یہ ہمارا دینی‘ اخلاقی اور سیاسی فریضہ تھا مگرہم نے اسے خوب نبھایا۔ جن مائوں نے اپنے لخت جگروں کو
مزید پڑھیے


حافظ حسین احمد

اتوار 11 دسمبر 2022ء
امتیاز احمد تارڑ
ایک اعرابی نے اہلِ بصرہ سے پوچھا : اس علاقے کے لوگوں کا سردار کون ہے؟ جواب ملا : حسن بصریؒ۔اس نے کہا:انھیں لوگوں پر سیادت کیسے حاصل ہوئی؟ بتلایا گیا : لوگ ان کے علم کے محتاج ہیں، جب کہ حسنؒ ان کی دنیا سے بے نیاز ۔ بذلہ سنج حافظ حسین احمد کی جے یو آئی میں واپسی پر اعرابی کا تبصرہ یاد آیا ۔حافظ حسین احمد مار دھاڑ سے بے نیاز ،جبکہ جے یو آئی ان کی ظرافت کی محتاج۔ہنسی، مذاق اور طنزو مزاح سے محفل کوکشت زعفران بنانے کا سلیقہ انہیں خوب آتا ہے مگراس کے باوجود
مزید پڑھیے


اقبال کا شاہین کہاں گم

اتوار 04 دسمبر 2022ء
امتیاز احمد تارڑ
اکبر الہ آبادی نے کہا تھا : ہم ایسی کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں کہ جن کوپڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں اس شعر کو پڑھنے کے بعد بار بار نظام تعلیم کا جائزہ لیتا رہا کہ ایسا کہاں ہوتا ہے ۔جب مدارس کے نصاب اور ماحول کا جائزہ لیا تو وہاں قال اللہ و قال الرسول کی صدا سنائی دی ۔ایک وحشی صفت کو بھی اچھا انسان بنانے کا ماحول نظر آیا ۔طلبا میںادب اس قدر کہ خود ادب بھی حیران۔ ہڑتال، جلائو گھیرائو،اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی ،بہت بڑی بات۔اساتذہ کے سائے پر بھی پائوں رکھ کر گزرنا ، گوارا
مزید پڑھیے


مفتی رفیع عثمانی ؒ

اتوار 20 نومبر 2022ء
امتیاز احمد تارڑ
آنکھ رورہی ہے،دل غمناک ہے ،لیکن زبان وہی کہے گی، جو میرے رب کی رضا ہے ،اے ابراہیم! ہم تیرے فراق میں بہت غم زدہ ہیں ۔ہم بھی کہیں گے اے استاد گرامی! آپ کی جدائی نے بہت دکھی کیا ۔آہ !ایک اور علم و عمل کا پہاڑ چل دیا ۔ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔خالق ارض و سما کے اس ضابطے سے کوئی مستثنٰی نہیں۔ کاررواں چل رہا ہے‘ محفلیں اجڑ رہی ہے۔ آس پاس بیٹھے‘ پہلو بہ پہلو لوگ گم ہو رہے ہیں۔ شہاب ثاقب ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے ہیں مگر آسمان کا دامن یونہی
مزید پڑھیے








اہم خبریں