BN

اوریا مقبول جان


نیست ممکن جزبہ قرآن زیستن


پاکستان کے بائیس کروڑ عوام میںاگر مسلمانوں سے یہ رائے لی جائے کہ تم کوئی ایسا سکول، کالج یا یونیورسٹی چاہتے ہو جہاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی ارفع تعلیم بھی دی جائے تو چند مغرب زدہ، سیکولر، لبرل، بے روح دانشوروں اور مادر پدر آزاد تہذیب کے دلدادہ مٹھی بھر لوگوں کو چھوڑ کر کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے۔ یہ لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ آج کی جدید دنیا میںمقبولیت کو ناپنا بہت آسان ہے۔ اخبارات پڑھنے والوں میں سے نوے فیصد قارئین انٹرنیٹ پر اپنی اخباری پیاس بجھاتے
جمعه 10 جولائی 2020ء

اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے

جمعرات 09 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی تاریخ میں اگر ضیاء الحق کا دس سالہ زرّیں دور نہ ہوتا تو یہ ملک اخلاق باختہ دانشوروں کا اکھاڑہ بن چکا ہوتا۔ وہ دانشور جن کے دلوں میں پرویز مشرف کی آمریت روشن ستارے کی طرح ٹمٹماتی ہے لیکن وہ ضیاء الحق کے دور کو تاریک رات سے تشبیہ دیتے ہیں۔ یہ ’’تاریک رات‘‘ ایک ایسے پر اطمینان اخلاقی ماحول کی علامت تھی، جس میں کسی باپ، ماں، بھائی یا بہن کو ٹیلی ویژن لگاتے ہوئی یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ اچانک خبرنامے کے اندر کسی فلم کے آیٹم گانے کی ریلیز کی خبر نشر ہوتے
مزید پڑھیے


پاکستانی سودی خزانہ اور اسلامی بیت المال کی تشبیہہ (آخری قسط)

اتوار 05 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
آپؐ نے بازار کے بارے میں فرمایا، ’’یہ تمہارا بازار ہے یہاں لین دین میں کمی نہ کی جائے گی اور اس پر محصول (ٹیکس) مقرر نہ کیا جائے گا‘‘ (سنن ابنِ ماجہ)۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے تین معاملات میں اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ’’اے اللہ میں برآت کا اعلان کرتا ہوں تین باتوں سے (۱) لوگوں کا گمان ہے کہ میں طاعون سے بھاگا ہوں، (۲) میں نے طلاء کو حلال کیا حالانکہ وہ شراب ہے اور( ۳) میں نے مسلمانوں سے ٹیکس کو حلال کیا حالانکہ وہ نجس ہے‘‘ (شرح معافی الاثار)۔ جس
مزید پڑھیے


پاکستانی سودی خزانہ اور اسلامی بیت المال کی تشبیہ

هفته 04 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
اگر سؤر کی گردن پر تکبیر پڑھ کر چھری چلائی جائے تو کیا اس کے گوشت پر وہی احکاماتِ شریعت لاگو ہو سکتے ہیں، جو بکری کے گوشت پر ہوتے ہیں۔ پاکستان کا خزانہ جس کی بنیادوں میں سود کا ناپاک سرمایہ شامل ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق سؤر کے گوشت سے بھی زیادہ نجس و ناپاک ہے، ایک ایسی گندگی اور پلیدی ہے جسے صدقات و خیرات بھی پاک نہیں کر سکتے۔ ایسا پاکستان کے آئین میں قراردادِ مقاصد کی شمولیت اور آرٹیکل: 2 کے یہ الفاظ کہ ’’اللہ تبارک وتعالیٰ ہی
مزید پڑھیے


بلوچ مزاحمت: ادراک سے تہی حکمتِ عملی

جمعه 03 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
بلوچ قبائل کے رسم و رواج اور عادات و خصائل کا مطالعہ، انگریز سول سروس کے افسران کا معمول تھا۔ آج بھی تمام قدیم اضلاع میں ڈپٹی کمشنروں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ڈائریاں ہر قبیلے، سردار اور مختلف اہم افراد کے بارے میں مشاہدات و تجربات کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتی ہیں۔ یہ مجلّد رجسٹر، جنہیں دفتری زبان میں (Personogies) کہا جاتا تھا، ان خفیہ دستاویزات میں سے ہوتا ہے جسے جانے والا آنے والے ڈپٹی کمشنر کے حوالے کرتا تھا۔ انگریزوں کے لکھے ہوئے گزیٹیر کسی بھی ضلع کے بارے میں معلومات کا ایک ایسا ذخیرہ ہیں جن
مزید پڑھیے



بلوچ مزاحمت: ادراک سے تہی حکمتِ عملی

جمعرات 02 جولائی 2020ء
اوریا مقبول جان
قانون نافذ کرنے، امن و امان قائم کرنے اور انصاف فراہم کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی بنیادی اصول ہے کہ آپ اس قوم، قبیلے یا عوام کے مزاج سے آشناہوں، روایات سے واقف ہوں اور جرم و سزا کے معیارات کا ادراک رکھتے ہوں، تو پھر آپ وہاں اپنا حکومتی اختیار بحسن و خوبی نافذ کر سکتے ہیں۔ قانون کے علم کی پہلی کتاب جو دنیا کی ہر یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی ہے وہ اصولِ قانون (Jurisprudence) سے متعلق ہوتی ہے جس کا عمومی طور پر پہلا فقرہ یہ ہوتا ہے’’Law Stems Out Of The Norms And Mores
مزید پڑھیے


جہالت اور نا اہلی

اتوار 28 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
عمران خان کی خود پسند اور کرشماتی شخصیت کے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان کا ہر باشعور شخص یہ خیال کرتا تھا کہ کرپشن اور بددیانتی نے پاکستانی معیشت ومعاشرت کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے اور اگر کچھ دیر اور ایسا ہی رہا تو یہ عمارت ایک دن اچانک دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گی۔ لیکن عمران خان کی دو سالہ حکومت نے یہ راز بھی باشعور لوگوں پر آشکار کردیا کہ کرپشن اور بددیانتی سے تو شاید ملک کچھ سال اور چلتا رہتا لیکن جہالت اورنا اہلی اس کا وہ حال کردے
مزید پڑھیے


مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

هفته 27 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
یوں تو اس عمر تک آتے آتے انسان لاتعداد پیاروں کو دنیا سے جاتے دیکھتا ہے، صدمات برداشت کرتا ہے، سنبھل کر پھر کاروبارزندگی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ لیکن اب کہ تو جانے والوں کا یوں تانتا بندھ گیا ہے کہ سیدالانبیاء ﷺ کی وہ حدیث جس میں آپؐ نے اس دنیا کی ایک جامع کی تعریف کی ہے، وہ روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے۔سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا یہ دنیا ’’عابرِ السبیل‘‘ ، یعنی ایک عبوری پڑاؤ (Transit Lounge) ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے ایک ایسا عالم ہے کہ جیسے ریلوے کے کسی پلیٹ فارم
مزید پڑھیے


کیا ہم یہ داغ دھو سکیں گے

جمعه 26 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
خلافتِ عثمانیہ کی تباہی اور مسلمانوں کی مرکزیت کے خاتمے کے تقریباً ایک سو سال بعد آج یہ میدان ایک بار پھر سج چکا ہے، لیکن آج ان تاش کے بکھرے ہوئے پتوں کی طرح مسلمان ممالک کا وجود بھی انہیں گوارا نہیں۔ گذشتہ دہائی سے مصر کے نیل سے لے کر عراق کے فرات تک کی سرزمین، آگ و خون میں غلطاں اور بارود کی بو میں لپٹی ہوئی ہے اور یہ منظر دن بدن خوفناک سے خوفناک ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہی دو دریا ہیں جو علامت کے طور پر اسرائیلی پرچم پر دو نیلی لائینوں کے طور
مزید پڑھیے


ٹھیک چار دن بعد

جمعرات 25 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا کے خاتمے سے پہلے ہونے والی بڑی جنگ جسے عیسائی، آرمیگاڈون (Armageddon)، یہودی ہرمیگیڈو (Har Megiddo) ، ہندو کالکی کا کلیوگ اور مسلمان ملحمتہ الکبریٰ کہتے ہیں، اس کے صرف اور صرف دو محاذ ہیں۔ ایک بھارت اور دوسرا اسرائیل۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ان دونوں محاذوں پر صرف ایک ہی قوت اور ایک ہی دین کے پیروکار آج بھی لڑرہے ہیں اور آخری بڑی جنگ تک لڑتے رہیں گے، وہ مسلمان ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ کی حدیث، ’’الکفرُملت واحدہ (کفر ایک قوم ہے) کے مصداق‘‘ مسلمان گذشتہ پچاس سالوں سے اگر نام نہاد سیکولر عیسائیوں سے
مزید پڑھیے