BN

اوریا مقبول جان


مسالک کا مشترکہ ورثہ


لبنان، شام، عراق، بحرین اور یمن کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاںمسلکی اختلاف کی آگ کو بھڑکانے اور منظم کشت و خون کروانے کے لئے ایک منصوبہ بندی سے سازش کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سازش کے پیچھے کون کون سی طاقتیں ہیں، اگر اس بحث میں نکل گئے تو سازش کا سرا مل سکے گا اور نہ آپس کے اختلافات ختم ہو سکیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پورے خطے اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگ خالصتاً علاقائی بالادستی، سیاسی اقتدار، وسائل پر قبضے اور عالمی قوتوں کے مفادات سے الجھی ہوئی ہے،
هفته 19  ستمبر 2020ء

منی لانڈرنگ کے عالمی ٹھیکیدار

جمعه 18  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے کسی ایک شہر کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے اگر یہ آزادی دے دی جائے کہ تم جس طرح، جہاں سے اور جیسا بھی چاہے سرمایہ حاصل کرو، تمہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا، بلکہ ملکی قانون تمہیں مکمل تحفظ دے گا، تو وہ شہر ایکدم چند برسوں میں دنیا کا امیر ترین اور ترقی یافتہ شہر بن جائے گا۔ یہ کوئی ہوا میں اڑنے والی مضحکہ خیز بات نہیں ہے بلکہ’’جدید مہذب‘‘ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ دنیا بھر میں لاتعداد ایسے ملک اور شہر ہیں جواسی طرح خوشحال ہوئے ہیں۔ ان میں
مزید پڑھیے


آئین نہیں شریعت کی حاکمیت

جمعرات 17  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ مذاکرات تو مارچ میں ہونا قرار پائے تھے۔ معاہدہ دو ’’عظیم‘‘ طاقتوں کے درمیان ہوا تھا۔ ایک دنیاوی سازوسامان، ٹیکنالوجی اور معاشی برتری کے دیوتائوں کی نمائندگی کرتی تھی اور دوسری چند ہزار سرفروش طالبان کے لشکروں کا چہرہ تھا، وہ لوگ جو گذشتہ انیس سال سے صرف اور صرف خدائے واحد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی کے قانونِ شریعت کے نفاذ کے لئے لڑرہے تھے۔ دوحاکے مذاکرات اس مملکتِ افغانستان کے مستقبل سے متعلق تھے، جس کی حکومت کو اقوام متحدہ، اس کے تمام ذیلی ادارے اور دنیا کا ہر ملک قانونی طور پر ایک جائز حکومت سمجھ
مزید پڑھیے


حکومتوں کے لاڈلے قاتل، جنسی درندے، دہشت گرد

اتوار 13  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
آج سے بارہ برس قبل پاکستان کے انسانی حقوق، حقوقِ نسواں کے نام نہاد علمبردار ٹولے اور سیکولر، لبرل سول سوسائٹی کی کوششیں رنگ لائیں اور 2008ء میں برسرِ اقتدار آنے والی پیپلز پارٹی نے سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا۔ روکنے کا یہ عمل کمال درجے کا فریب تھا۔ یعنی ایک قاتل، ڈاکو، جنسی درندہ یا دہشت گرد سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا پاتا ہے، ہائی کورٹ اس کی سزا کو بحال رکھتی ہے، سپریم کورٹ میں بھی اس کی اپیل مسترد کر دی جاتی ہے، پورا ملک اطمینان کر لیتا ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ نے
مزید پڑھیے


سرعام سزا۔ سنتِ رسولِ رحمتؐ ہے

هفته 12  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
جرم و سزا کی دنیا ابتدائے آفرینش سے چلی آرہی ہے۔ انسانی تہذیب میں ہمیشہ ایسے جرم پر سزا دی جاتی رہی ہے، جس کا تعلق معاشرہ سے ہو۔ اسی لئے دنیا کی تمام تہذیبوں اور معاشروں میں یہ سزائیں کھلے عام دی جاتی تھیں۔ فرد جرم سے لے کر اعلانِ سزا تک، سارے کا سارا عدالتی، پنچائتی یا جرگے کا عمل لوگوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح سرانجام دیا جاتا تھا اور آج بھی ایسے ہی ہے۔ جرم ہمیشہ قابلِ تعزیر نا قابلِ دست اندازیٔ پولیس اس وقت ہوتا ہے جب یہ دو یا دو سے زیادہ
مزید پڑھیے



گیارہ ستمبر اور دنیا کی تقسیم

جمعه 11  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
میری عمر صرف پینتالیس سال تھی جب آج سے انیس سال قبل جدید دنیا کا ایک ایسا سانحہ رونما ہوا جس نے زمین پر بسنے والے مسلمانوں کے خون کی ارزانی کے خونچکاں دور کا آغاز کر دیا اور آج بھی اس کرۂ ارض کا رنگ مسلمانوں کے خون سے رنگین اور فضا مظلوم اور معصوم مسلمانوں کی چیخوں، سسکیوں اور آہوں سے مسلسل غمناک ہے۔ یہ کیفیت صرف دیکھنے اور محسوس کرنیوالوں کو ہی نظر آتی ہے، بقول میر تقی میر’’چشم ہو توآئینہ خانہ ہے دہر‘‘۔ شام کے دھندلکے میں پاکستان کی ٹیلی ویژن سکرینوں پر نیویارک کے ورلڈ
مزید پڑھیے


سچ تو یہ ہے !

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کتاب نہیں ایک زور دار طمانچہ ہے، ایسے تمام خود ساختہ مؤرخین، محققین، کالم نگاران اور اینکر پرسنوں کے بے بنیاد اور بے دلیل ’’جہل‘‘ کے منہ پر جسے پاکستان، قائداعظمؒ اور علامہ اقبال سے عقیدت و محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر نہیں لکھا گیا، بلکہ دلائل و براہین اور شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد تحریر کیا گیا ہے، یہ ان میڈیا شخصیات کے مسلسل جھوٹ کا حقائق کی بنیاد پر جواب ہے، جن کے ہاتھ میں قلم اورجن کی جہالت کے سامنے بدقسمتی سے کیمرہ آگیا ہے۔ ایک زمانے میں ایسے جھوٹ چند کتابوں تک
مزید پڑھیے


اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل (4)

اتوار 06  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
ڈیوڈ بین گوریان کو صہیونیت ورثے میں ملی، اس کا باپ ایویگڈر گرون (Avigdor Gron) اس گروہ میں شامل تھا،جنہوں نے عالمی صہیونی تحریک کے ’’پروٹوکولز‘‘ تحریر کیئے تھے۔ ڈیوڈ بین گوریان 1906ء میں ہی اس وقت جافہ میںجاکر آباد ہو گیا تھا، جب روس میں یہودیوں کے خلاف نفرت کا آغاز ہوا تھا۔ اسرائیل کے قیام تک وہ وہاں آباد ہونے والے یہودیوں کو فوجی انداز میںمنظم کرتا رہا۔ یہی شخص تھا جس نے 14مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام کے اعلان کی دستاویز پر دستخط کئیے اور اسے متفقہ طور پر بلا مقابلہ اسرائیل کا وزیر اعظم چنا
مزید پڑھیے


اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل …(3)

هفته 05  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
اپنی ہنستی بستی دنیا کو چھوڑ کر ویرانوں میں جا کر آباد ہونے کے محض دو مقاصد ہوا کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہواور چھپتے چھپاتے ایسی جگہ جا کر آباد ہو جائیں جہاں کوئی تلاش نہ کر سکے اور دوسرا یہ کہ آپ عشق و محبت کی وارفتگی میں مجنوں ہو جائیں یا گیان کی منزلوں کے راہی بنے ہوئے ہوں۔ لیکن اسرائیل کے ویرانوں میں یہودیوں کی واپسی، عام انسانوں کی ہجرتوں سے بالکل مختلف تھی۔ وہ روزگار کی تلاش میں یہاں آئے تھے اور نہ سرسبز و شاداب کھیتوں
مزید پڑھیے


اسرائیل: پاکستان کا نظریاتی مد مقابل…(2)

جمعه 04  ستمبر 2020ء
اوریا مقبول جان
یروشلم کے قرب و جوار کے بے آباد اور بے آب و گیاہ علاقوں میں ایک منصوبے اور مذہبی جذبے کے تحت یہودیوں کی منتقلی جدید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے، جو بغیر قطرۂ خون بہائے عالمی طاقتوں کے زیر سایہ شروع ہوئی اور تیس سال اسرائیلی ریاست کے اعلان تک پورے زور و شور سے جاری رہی۔ پہلی جنگ عظیم سے پہلے اس پورے نیم صحرائی علاقے کے دو شہروں جافہ اور تل ابیب میں صرف چودہ ہزار یہودی انتہائی خاموشی سے آباد تھے۔ صہیونی تحریک کی داغ بیل ڈالے ہوئے بیس سال کا عرصہ
مزید پڑھیے