BN

اوریا مقبول جان


’’ہر گز نہیں‘‘ یا ’’جو حکم میرے آقا‘‘ (نقطہ نظر)


’’ہرگز نہیں‘‘ (Absolutely not) کی گونج ابھی ہوائوں میں ارتعاش بن کر گونج رہی تھی کہ طالبان نے 15 اگست 2021ء کی صبح امریکی سپر پاور کی شکست پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے کابل پر اپنی فتح کا پرچم لہرا دیا۔ پاکستان کے ’’جواں رو‘‘ وزیر اعظم نے امریکہ کے مطالبات نہ ماننے کا جو اعلان ’’ہر گز نہیں‘‘ کہنے کی صورت کیا تھا، اب اس کی آزمائش کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ ضروری نہیں ہوتا کہ مانگنے والا ہر دفعہ وہی کچھ مانگے جو اس نے پہلے حکمرانوں سے مانگا تھا۔ امریکہ کی ضروریات ہر دَور اور ہر
اتوار 19  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

منافع خور سابق امریکی فوجی افسران

هفته 18  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
جمہوریت، انسانی حقوق اور حقوقِ نسواں کے سب سے بڑے چیمپئن، امریکہ کے صدر جارج بش نے گیارہ ستمبر کے ’’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘‘ کی تباہی کے ٹھیک ایک ہفتے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے، 18 ستمبر 2001ء کو افغانستان میں امریکی افواج اُتارنے کے فرمان پر دستخط کئے۔ اس دن اگر کسی شخص کے پاس دس ہزار ڈالر موجود ہوتے اور وہ اس جنگ کی بُو سونگھتے ہی اپنے اس سرمائے کو امریکہ کی پانچ بڑی دفاعی کمپنیوں میں لگا دیتا تو آج بیس سالہ جنگ کے خاتمے کے وقت اس کے دس ہزار ڈالر کے شیئر 97,295
مزید پڑھیے


عمران خان! اس آگ سے مت کھیلو

جمعه 17  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
سیکولر اور لبرل لابی کی سندھ اسمبلی میں مذہب کی تبدیلی کے بل پر ذِلّت آمیز ناکامی کے بعد اب ان کی پناہ گاہ اور ٹھکانہ شیریں مزاری کی وزارتِ انسانی حقوق بن گئی۔ پاکستان کو بدنام کرنے کی ایسی تمام کوششیں ضائع ہو رہی تھیں، جو میڈیا میں بیٹھے ہوئے سیکولر، لبرل گماشتوں نے چند ایک جھوٹے مقدمات تراش کر پھر انہیں خبروں کی مین ہیڈ لائن بنا کر ایسا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی تھی کہ جیسے پاکستان میں مسلمان بندوقیں اُٹھائے چاروں جانب گھوم رہے ہیں اور ہندوئوں کو پکڑ پکڑ کر مسلمان بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیے


عمران خان! اس آگ سے مت کھیلو

جمعرات 16  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جن کے دماغوں میں اسلام دُشمنی اور مسلمانوں سے نفرت کا کینسر اپنی جڑیں اس قدر مضبوط اور مستحکم کر چکا ہے کہ جیسے ہی اس طبقے کو پاکستان میں کبھی سکون و اطمینان اور مذہبی ہم آہنگی نظر آنے لگتی ہے یہ کوئی ایک ’’شوشہ‘‘ ایسا ضرور چھوڑتے ہیں، جس سے فساد کی آگ بھڑک اُٹھے اور مسلمانوں کو اپنے دین کی اساس ڈوبتی ہوئی محسوس ہونے لگے۔ یہ طبقہ ہر شعبۂ زندگی میں موجود ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کے اہم مشاورتی گروپوں میں ان کی نمائندگی ہے، یہاں تک کہ مسلم لیگ
مزید پڑھیے


وطن کی فکر کر ناداں

اتوار 12  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کا ہر مبصر، تجزیہ نگار، عسکری اُمور کا ماہر یہاں تک کہ تھوڑی بہت گفتگو کی اہلیت رکھنے والا سیاست دان گذشتہ ایک ماہ سے افغانستان کے بارے میں ایسے تبصرے کر رہا ہے، جیسے افغان طالبان نے امریکہ جیسی عالمی طاقت اور اس کے ہمرکاب اڑتالیس ملکوں کی عسکری قوت کو پاکستان کے مشوروں اور ہدایات سے شکست دی ہو۔ ہر اس شخص کی بھی زبان دراز ہے جو گذشتہ چند ماہ پہلے تک طالبان کو دُنیا کا بے وقوف ترین گروہ بتاتا تھا۔ بیس سال کی یادداشتیں اتنی کمزور بھی نہیں کہ انسان بھول جائے۔ ہر کوئی
مزید پڑھیے



ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ( آخری قسط )

هفته 11  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
ضیاء الحق کے جانے کے بعد جو پہلے انتخابات ہوئے،وہ جماعتی بنیادوں پر تھے۔ ان انتخابات میں ایک اندیشہ تمام خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ظاہر کیا گیا تھا کہ عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی ازسر نو اُبھر کر انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھا دے۔پیپلز پارٹی کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کا خوف مرکزی سول انتظامیہ کو تھا اور نہ ہی ضلعی سطح کے حکومتی اہلکاروں کو کسی قسم کے اندیشے لاحق تھے۔ لیکن کچھ حلقوں میں پیپلز پارٹی کے برسرِ اقتدار آنے سے جو اندیشہ ہائے دُور دراز موجود تھے، ان کی وجہ سے بہت سے ’’ادارے‘‘ ان
مزید پڑھیے


ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

جمعه 10  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں تواتر کے ساتھ الیکشن کی منڈی سجنے کا عمل بدنامِ زمانہ جنرل یحییٰ خان کے 1970ء کے صاف اور شفاف الیکشنوں کے انعقاد سے شروع ہوا۔ ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں دیگر چھوٹے چھوٹے سرکاری دفاتر کی طرح کسی کرائے کی عمارت یا پھر عاریتاً لی گئی کسی سرکاری بلڈنگ میں ’’ضلعی الیکشن آفیسر‘‘ کا ایک مختصر سا دفتر ہوتا تھا، جس کی کل متاع وہ ووٹرز لسٹیں ہوتیں جو الماریوں، بکسوں یا پھر جگہ کی قلت کی وجہ سے بوریوں میں بند پڑی ہوتیں۔ الیکشن آفیسر سالوں خوابِ خرگوش کے مزے لیتے، لیکن الیکشن کی آمد سے
مزید پڑھیے


طالبان حکومت: دو رنگی نہیں یک رنگی

جمعرات 09  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
ٹھیک ڈیڑھ سال پہلے جب فاتح طالبان اور شکست خوردہ امریکی و نیٹو افواج کے درمیان 29 فروری 2020ء بمطابق 5 رجب 1441ھ معاہدہ طے پایا، جس میں امریکی اور نیٹو افواج کا مرحلہ وار انخلاء یقینی ہو گیا، تو اس دن سے دُنیا بھر کے سیاسی، معاشی اور عسکری مبصرین آنے والے دنوں کی افغان حکومت کے خدوخال اپنے ہی خواب و خیال میں طے کرنے لگے۔ کس قدر ڈھٹائی ہے کہ ابھی چند دن پہلے ہی تو ان کی ناکام حسرتوں کا قبرستان اسی افغانستان میں سجایا گیا تھا۔ یہ سیاسی، معاشی اور عسکری تجزیہ نگار چونکہ اپنے
مزید پڑھیے


شکست خوردہ ماہرینِ افغان امور

اتوار 05  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
یوں تو کسی معاملے میں ’’ماہر‘‘ ہونے کا درجہ رکھنا ایک معمول کی بات ہے، لیکن اسّی کی دہائی میں سوویت یونین کے افغانستان میں دَر آنے کے بعد افغان اُمور کا ماہر ہونا ایک ایسا نایاب فن بن گیا جس کی پوری مغربی دُنیا میں ایک دَم شدید مانگ پیدا ہو گئی۔ ایک تو افغانستان گزشتہ ایک صدی سے مغربی طاقتوں کیلئے ڈرائونا خواب رہا تھا اور دوسرا وہاں کیمونسٹ افواج کے حملے کی وجہ سے آزادانہ جانا ناممکن بن چکا تھا۔ رباط سے لے کر وا خان تک دو ہزار چھ سو ستر کلو میٹر طویل سرحد،
مزید پڑھیے


ٹیکنالوجی کے بُت … مالِ غنیمت میں

هفته 04  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
کابل کے ہوائی اڈے سے نکلتے ہوئے جس طرح امریکی افواج نے اپنے دفاعی سازوسامان کا حشر کیا، جیسے اپنے مضبوط ترین ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کیا، جا بجا کھڑے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کا حلیہ بگاڑا، ایسے لگ رہا تھا جیسے انہیں ٹیکنالوجی کے ان ’’خدائوں‘‘ پر بہت غصہ تھا۔ ان سب کی موجودگی میں وہ ذِلّت آمیز شکست سے دوچار کیسے ہو گئے۔ جن لوگوں نے اوّل شباب میں ملٹری اکیڈیمی کی ٹریننگ کے دوران یہی لوریاں سنی ہوں کہ امریکی دفاعی ٹیکنالوجی دُنیا کی سب سے طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ٹیکنالوجی ہے، انہیں کیسے یقین آئے
مزید پڑھیے








اہم خبریں