BN

اوریا مقبول جان



موت سے کس کو رستگاری ہے


وہ مالکِ حقیقی، مختارِکل جس نے موت و حیات کو تخلیق کیا اورپھر ان دونوں کے درمیان ایک مختصر سی زندگی رکھ دی،تاکہ وہ جان سکے کہ کون اس مہلت کے دوران اچھے اعمال کرتا ہے۔اسی فرماں روا کا فرمان ہے، '' تم جہاں بھی ہو گے تمہیں موت پالے گی چاہے تم پختہ قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو (النسائ:78)۔ انسان کی زندگی بھر کی تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف اور صرف اس ایک المیہ پر قابوپانے کے گرد گھومتی ہے جسے ''موت'' کہتے ہیں۔ کوئی بھی اس رنگا رنگ دنیا کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ لاکھوں
جمعرات 16 جنوری 2020ء

غامدی صاحب کا نیا فلسفہ

بدھ 15 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
انسانی تاریخ ہمیشہ سے اس بات پر گواہ ہے کہ وہ مسلسل دو گروہوں میں تقسیم رہی ہے۔ کبھی یہ طاقتور اور کمزور کے درمیان کشمکش کا شکار رہی ہے اور کبھی یہاں حق و باطل کے میدان سجتے رہے۔ دنیا کے تمام الہامی مذاہب اسے ازل سے لے کر ابد تک ھدایت خداوندی کے ماننے والوں اور اس سے انکار کرنے والوں کے درمیان معرکہ قرار دیتے ہیں۔ اس مسلسل معرکے کو اقبال نے ایک شعر میں سمویا ہے ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی اسلام کی تعلیمات کے نزدیک بھی یہ معرکہ ء خیر
مزید پڑھیے


تاریخی ورثہ…تاریخ کی امانت

منگل 14 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ تاریخی عمارتیں اور ثقافتی ورثہ صرف آپ کی نسل کے لیے نہیں ہے کہ آپ اسے درست کر کے، کسی حد تک گذشتہ حالت میں بحال کر کے اس کو ایک خوبصورت کھلونے کی طرح استعمال کریں اور اس کی وہ حالت کر دیں آپ کے بعد کی نسلیں اس کے کھنڈرات پر آ کر ماتم کریں اور کہیں کہ کبھی یہاں فلاں تاریخی عمارت ہوا کرتی تھی۔ لاہور کا شمال کہ جہاں کبھی دریائے راوی بہا کرتا تھا، اس کے کنارے مغلوں کا تعمیر کردہ شاہی قلعہ، اورنگزیب عالمگیر کی بادشاہی مسجد، لاہور کا روشنائی دروازہ،
مزید پڑھیے


مشرق وسطیٰ میں جنگی پراکسیز (Proxis)

پیر 13 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
وقت اس جنگ کو ٹھیک اس کیفیت میں بدل رہا ہے جب اس کا مقصد واضح اور نیتّیں روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آجائیں گی۔ فرات کے کنارے برپا معرکہ نہ بیس سال پہلے کبھی حق و باطل کی جنگ تھی اور نہ آئندہ ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔ کیونکہ آخر الزماں سے متعلق رسول ﷺ کی احادیث میں یہ واحد تنازعہ یا جنگ ہے، جس کا مقصد سونے کے پہاڑ پر لڑائی بتائی گئی ہے اور اس سے علیحدہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عرب و عجم کے اس جھگڑے
مزید پڑھیے


تیسری عالمی جنگ:عالمی سودی مالیاتی نظام کی خواہش

جمعرات 09 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ ہو رہا ہے۔ قاسم سلیمانی کی موت کوئی اچانک واقعہ نہیں ہے۔یہ کسی ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ کی خرابی کا بھی نتیجہ نہیں۔ کوئی امریکی صدر اب تک اس قدر طاقتور نہیں ہوسکا جو امریکہ اور اس دنیا پر قابض سودی بینکاری نظام اور اس کے مسلط کردہ عالمی مالیاتی نظام سے بغاوت کر سکے۔ امریکی جنگی مشینری بھی اسی کی تابع ہے۔ یہ عالمی بینک کار ہی تھے جنہوں نے گذشتہ صدی میں اس دنیا پر دو عالمی جنگیں مسلط کیں اور ان سے اس قدر کمایا کہ ان کے پیٹ
مزید پڑھیے




فرات کے کنارے آخری جنگ

بدھ 08 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
صدام حسین کا عراق پہلے سوویت یونین کی سیاست کا اکھاڑا تھا اور اس کے پڑوسی ایران پر خطے کا امریکی تھانیدار رضا شاہ پہلوی برسرِاقتدار تھا۔ لیکن آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب نے پورے خطے میں وفاداریوں کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ فرات کے کنارے آباد صدام حسین کے عراق نے ایران کو کمزور جانا اور اس پر جنگ مسلط کردی۔ اس آٹھ سالہ جنگ میں دس لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ جنگ ختم ہو گئی۔ صرف تین سال امن کے گزرے تھے کہ امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ اس سے پہلے صدام حسین
مزید پڑھیے


فرات کے کنارے آخری جنگ

منگل 07 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
کوہ ارارات کی برف پوش چوٹیوں سے یہ دریا نکلتا ہے۔ یہ وہی ارارات پہاڑ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سیدنا نوحؑ کی کشتی طوفان نوح کے اختتام کے بعد آکر ٹھہری تھی۔ یہ پہاڑ اس سلسلہ ہائے کوہ میں واقع ہے جسے آرمینائی پہاڑی سلسلہ کہتے ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ارارات 16854 فٹ بلند ہے۔ یہاں سے نکلنے والے دریا کا نام فرات ہے۔ اس دریا کے کناروں پر ایک بہت بڑی تہذیب آباد تھی جسے بابل کی تہذیب کہتے ہیں۔ اس کے ایک طاقتور بادشاہ بخت نصر نے
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا (آخری قسط)

جمعرات 02 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
گورنر ہاؤس، وزرائے اعلیٰ ہاوس، وزیراعظم ہاؤس اور ان سے ملحقہ بڑے بڑے سیکریٹریٹ مختصر کرنے جس قدر آسان تھے، لیکن عمران خان کے لیے ان پر عملدرآمدایک پہاڑ بنا دیا گیا۔ یہ ایسا اقدام تھا جس نے اس کی ساکھ پر پہلی کاری ضرب لگائی۔ یہ تمام سیکرٹریٹ اگر محدود کردیے جاتے تو آج پاکستان کی بیوروکریسی کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ ہر محکمے کے سیکرٹری کو یقین ہوتا کہ اس پرمکمل اعتماد کیا جا رہا ہے اور اس سے ہی کارکردگی کے بارے میں سوال بھی کیا جائے گا۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کوایک بالاتر (Supra) ادارہ بنانے
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا (2)

بدھ 01 جنوری 2020ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ بیس سالوں میں عمران خان کی گفتگو اس کے خوابوں کی آئینہ دار تھی اور اس کے خواب بھی ایسے تھے جو عام آدمی کے دل میں دھڑکتے مستقبل کے امین تھے۔ وہ تبدیلی کی گفتگو کرتا، اور اس ملک پر قابض طبقات کے خلاف بولتا،تو یوں لگتا جیسے اسے اس قوم کے دکھوں اور مصیبتوں کا مکمل ادراک ہے۔ عام آدمی جو سپریم کورٹ، نیب یا ایف آئی اے نہیں ہوتا جسے کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر تو ہر روز یہ سب کچھ بیت رہا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کا خواب چکنا چور ہو گیا

منگل 31 دسمبر 2019ء
اوریا مقبول جان

بیوروکریسی کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر حکمران کو آنے والے کل کے خوف میں زندہ رکھتی ہے۔ یوں وہ حکمران حال پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے بدلنے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے۔ مستقبل کے سارے سہانے خواب اس کی تقریب حلف برداری کے سٹیج تلے دفن ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس ملک کی بوسیدہ عمارت کو رنگ و روغن کرکے، اس کی چھوٹی موٹی خرابیاں دور کرکے اسے عوام کے لیے قابل قبول بنا دوں تو میری بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ دنیا بھر میں بیوروکریسی ''مروجہ صورت حال'' (Status Quo) پر
مزید پڑھیے