BN

اوریا مقبول جان


امن نہیں: صف بندیاں بدلنے کی کوشش (آخری قسط)


پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی نہ کرنے کے 2003ء کے معاہدے کی پاسداری کے اعلان اور لدّاخ کے علاقے میں چین اور بھارت کی افواج کا زمانۂ امن کے مقامات کی جانب لوٹنا، یہ سب صرف جنوبی ایشیا کا ایک علیحدہ واقعہ نہیں ہے، بلکہ شمالی افریقہ کے ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا کے میدانوں تک پورے خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں اور نئی صف بندیوں کی ایک چھوٹی سی علامت ہے۔ موٹروے پر جاتے ہوئے آپ کو اچانک یہ خیال آجائے کہ تھوڑا پیچھے رہ جانے والے ایگزٹ (Exit)سے راستہ بدل
اتوار 28 فروری 2021ء

امن نہیں :صف بندیاں بدلنے کی کوششیں …(1)

هفته 27 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
’’اگر کشمیر کا مسٔلہ حل کئے بغیرامریکہ افغانستان سے نکل گیا تو پھر دنیا بھر کے جہادیوں کو ایک ایسا متبال ٹھکانہ مل جائے گا، جہاں سے وہ اس پورے خطے میں بڑی آسانی سے دخل اندازی کرسکیں گے‘‘۔یہ محض ایک تجزیہ نہیں، بلکہ ’’وارننگ‘‘ ہے جو امریکی افواج کے سب سے بڑے پالیسی تھنک ٹینک نے وائٹ ہاؤس کے نو وارد امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دی ہے۔ امریکی افواج کی سمت متعین کرنے، موجودہ اور مستقبل کی قیادت کی رہنمائی کرنے اور دنیا بھر کی پیچیدہ جنگی صورتحال میں قائدانہ کردار ادا کرنے
مزید پڑھیے


امتیاز علی تاج سے تحسین فراقی تک

جمعه 26 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
مجھے اندازہ تک نہیں تھا کہ اٹھارہ سال بعد اس ادارے کے حوالے سے ایک بار پھر قلم اٹھانا پڑے گا۔ پہلی دفعہ اکتوبر 2003ء میں اپنے قلم کو اپنے ہی ساتھی بیوروکریٹس کے خلاف تلوار بنانا پڑاتھا۔ ’’مجلسِ ترقی ادب‘‘کے سربراہ اس وقت احمد ندیم قاسمی تھے۔ایک ’’ہونہار‘‘ بیوروکریٹ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، انہوں نے احمد ندیم قاسمی صاحب سے کہا، ’’آپ کو اندازہ ہے کہ ایک کپڑے کی دکان کا تاجر چند تھانوں سے اپنے کاروبار کا آغاز کرتا ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ یا تو بہت بڑی فیکٹری کا
مزید پڑھیے


سینٹ: پاکستانی جمہوری نظام کی شاہ خرچی

جمعرات 25 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
جس طرح انگریزی زبان، لاطینی، فرانسیسی، ہسپانوی اور دیگر زبانوں سے مستعار الفاظ سے خود کو جاذبِ نظر بنائے ہوئے ہے، ویسے ہی اردو کا ذخیرۂ الفاظ بھی پرائی زبانوں سے بھرا ہوا ہے۔ ان میں ایک مشترک لاطینی لفظ ’’سینٹ‘‘ ہے۔ کسی بھی زبان میں اس لفظ کا تلفظ یا ادائیگی کا طریقہ مختلف نہیں۔لاطینی وہ زبان ہے جو رومن ایمپائر کی اشرافیہ بولتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ شرفاء کی نقالی کرنے اور طاقت کے ساتھ تعلق نبھانے نے اسے پوری رومن سلطنت کی زبان بنا دیا۔ لیکن تمیزِ بندہ و آقا کہاں ختم ہوتی ہے۔ پرانی لاطینی
مزید پڑھیے


پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ : آخری قسط

اتوار 21 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے جمہوری نظام کی سب سے بڑی خرابی ’’حلقہ جاتی طریقۂ انتخاب‘‘ (Consititinecy Based Elections) ہے۔ یہ طریقہ انتخاب اس وقت دنیا کی صرف چند بڑی جمہوریتوں میں ہی رائج رہ گیا ہے ،جن میں برطانیہ اور بھارت سرفہرست ہیں،جبکہ بیشتر جمہوری ممالک نے اس نظام کو مکمل طور پر نمائندہ نہ ہونے کی بنیادپر مسترد کر دیا ہے۔ اس طرح کے طریقۂ انتخاب کو دنیا بھر کے سیاسی ماہرین پاکستان جیسے کسی بھی منقسم معاشرے کے لیئے زہرِ قاتل خیال کرتے ہیں۔الیکشن اور جمہوری سیاست کے ماہرین دلائل کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ حلقہ جاتی الیکشنوں کی
مزید پڑھیے



پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ……( 2)

هفته 20 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کا موجودہ پارلیمانی نظام انگریز کا دیا ہوا ایک نوآبادیاتی تحفہ ہے ۔ اس نظام میںبنیادی اکائی ’’حلقۂ انتخاب‘‘ رکھے گئے تھے۔حلقۂ انتخاب کی سیاست انگریز کو اپنے مفادات کی تکمیل اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کیلئے بہت راس آئی تھی۔ اس نے تقریباً دو سو سال کی محنت سے ہر علاقے میں اپنے کچھ وفادار جانثار خاندان ایسے پیدا کر لئے تھے، جن کو سرکاری مراعات دے کر انگریز نے اس قابل بنادیا تھا کہ وہ اب اپنے علاقوں میں بلا شرکتِ غیرے ہر قسم کے سیاہ و سفید کے مالک بن چکے تھے۔ ان غداروں کا انتخاب 1757ء
مزید پڑھیے


پاکستانی جمہوریت : خرابی کی جڑ،اصلاح کا راستہ

جمعه 19 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے جمہوری نظام کا المیہ یہ ہے کہ اس کی ترتیب ، تدوین اور انتظامِ کار میں جو لوگ مسلسل شامل رہے ہیں، ان کی اکثریت ذاتی مفادات، گروہی تعصبات، لسانی عصبیت اور علاقائی نفرت سے بلند اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر سوچنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی تھی۔ ہر کسی نے آئین کی ترتیب اور پھر اس میں بار بار ترامیم کرتے ہوئے اپنے انہی مفادات کا زہرآئینی دستاویز میں ضرورشامل کیا اور آج یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس سے ہر کوئی اپنی مرضی کی تعبیر نکال سکتا ہے۔ سیاست دانوں کی آئینی قلابازیوں
مزید پڑھیے


یہودیوں کی سرزمینِ عرب پر واپسی

جمعرات 18 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
عربی زبان میں اس عدالت کو محکمۃ حاخامیہ‘‘ کہتے ہیں۔ حاخام، یہودی ربائی (Rabbi)کا عربی ترجمہ ہے۔ تورات، تالمود اور زبور کی الہامی زبان عبرانی میں اس عدالت کو ’’بیث ڈن‘‘ (Beth din)کہتے ہیں۔ یہ یہودی شرعی عدالت ہے جسے ایک یہودی ’’حاخام ‘‘کی سربراہی میں قائم کیا جاتا ہے اور اس کے دو ایسے معاون جج ہوتے ہیں، جو یہودی شریعت اور شرعی قوانین کے ماہرہوں۔ یہودیوں کی تمام شرعی عدالتیں، موسوی شریعت کے اس واضح حکم سے وجود میں آتی ہیں، ’’اور اپنے دروازوں پر عدالتیں قائم کرو اور حکمران بٹھاؤ‘‘ (بابِ ا ستثنیٰ) 16:18 (Deuteronomy)۔ نفاذ
مزید پڑھیے


دھن، دھونس اور جمہوریت (آخری قسط)

اتوار 14 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
ایسے تمام جرائم پیشہ افراد کی اکثریت عموماًالیکشن جیت جاتی ہے۔اس وقت لوگ سبھا کے 371ممبران میںسے 174ممبران ایسے ہیں جو مختلف خطرناک جرائم کے الزام میں مقدمات بھگت رہے ہیں۔ جرم و سیاست کا یہ گٹھ جوڑ بھارت کی جمہوری سیاست کا جزو لاینفک ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا خمیر گروہ بندی اور معاشرتی درجہ بندی سے اٹھا ہے۔ چار بنیادی ذاتوں، برہمن، ویش، کھشتری اور شودر نے معاشرے میں ایسی تقسیم پیدا کر رکھی ہے کہ ہر ذات والا اپنے گروہ یا قبیلے کے کسی مجرم، چور، قاتل، ڈاکو اور اغوا برائے تاوان والے کوبھی اس کے
مزید پڑھیے


دھن، دھونس اور جمہوریت (1)

هفته 13 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
سینٹ کے ہر الیکشن کے وقت ممبرانِ اسمبلی کی خرید و فروخت کا جو غلغلہ عموماً برپا ہوتا ہے، اس سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے باقی پورا جمہوری نظام تو صاف، شفاف، بے ایمانی سے پاک، سرمائے کی دوڑ سے دور اور ووٹوں کی خرید و فروخت سے مبّرا ہے ، بس صرف یہی منتخب ممبرانِ اسمبلی ہیں جو سینٹ کے الیکشن کے وقت اپنے ووٹ کی قیمت لگا کر جمہوریت کو بدنام کرتے ہیں۔ ایک اور تاثر یہ بھی قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایسا خرید و فروخت
مزید پڑھیے