BN

اوریا مقبول جان



جہاد ہند: معرکے کی نظریاتی بنیادیں


جس دن شیواجی اور اس کا نو سالہ بیٹا شام بھوجی، آگرہ میں اورنگزیب عالمگیر کے شاہی مہمان خانے سے پنڈتوں کے قافلے میں ایک فقیر کا روپ دھار کر نکلا تھا، اس دن کو آج کا جدید ہندو قوم پرست ایک ''عظیم اور مقدس فرار'' کا نام دیتا ہے۔ 22 جولائی 1666ئ، دراصل یہ وہ دن تھا جب ہندوستان پر ہندو مذہب کی بالادستی کی جنگ کا نظریاتی آغاز ہوا۔ پورے ہندوستان پر ہندو اقتدار کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ جزیرہ نمائے ہند کبھی بھی ایک ہندو حکمران کے زیرنگیں ایک متحد مملکت کے طورپر
منگل 17  ستمبر 2019ء

جہاد ہند:اصل لڑائی کیا ہے

پیر 16  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک اٹھارہ سال قبل، گیارہ ستمبر 2001 کو جب دو طیارے دنیا کے معاشی دارالحکومت کی علامت ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرائے، تو اس کے بعد اس دنیا میں صرف اسلحہ و بارود کی جنگ کا آغاز نہیں ہوا بلکہ دنیا کے ہر خطے میں لاکھوں مضامین اور ہزاروں کتابیں ایسی لکھی گئیں جو مسلمانوں کے فلسفہ جہاد، قرآن و حدیث میں قتال کی اہمیت اور اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے معرکوں کی ایک منفی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرکے مسلمانوں کو ایک خوںریز قوم اور اسلام کو ایک خون آشام مذہب ثابت کرتی تھیں۔ اس کا
مزید پڑھیے


امریکی لارنس آف عریبیا کے افغان مشن کی ناکامی

منگل 10  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا امریکی اسٹیبلشمنٹ کا یہ ردعمل امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر اتفاق کی وجہ سے تھا۔ پہلے سابقہ سی آئی اے سربراہ اور موجودہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بولے کہ یہ معاہدہ امریکی مفادات کی تباہی ہے، اس کے بعد زبانیں کھلنا شروع ہوئیں۔ وہ افغان حکومت جسے امریکی اس قابل بھی نہیں سمجھتے تھے کہ مذاکرات کی تفصیلات سے ہی آگاہ کردیں، اس کا سربراہ اشرف غنی بول اٹھا اور سب کے آخر میں وہ جسے امریکی لارنس آف عریبیا کا خطاب دیا گیا تھا، ریان سی کروکرنے طالبان امریکہ معاہدے کو ''انتہائی
مزید پڑھیے


امریکی لارنس آف عریبیا

پیر 09  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
امریکی صدر جارج بش نے جنوری 2009 ء میں میڈل آف فریڈم دیتے ہوئے،اسے ''امریکہ کا لارنس آف عریبیا ''کہہ کر پکارا ۔اس شخص سے میری ملاقات مسجد وزیر خان لاہور میں ہوئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں امریکی سفارتخانہ ''صوفی اسلام'' کی ترویج کے لئے مزارات اور تاریخی مساجد کی ازسرنو تزئین کے لیے سرمایہ فراہم کر رہا تھا۔ بحیثیت ڈائریکٹر جنرل، محکمہ آثارقدیمہ میرے لئے اس ذمہ داری کو نبھانا جہاں ذہنی تکلیف کا باعث تھا، وہیں یہ تعلق مجھے خطے میں امریکہ کی چالوں اور مسلم اُمہ میں نقب زنی کے راستوں
مزید پڑھیے


فلیپر سے می ٹو تک(2)

بدھ 04  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
معاشی خوشحالی، سائنسی ترقی اور کاروباری وسعت،ان تینوں کو جدید دنیا نے ایک نئے اخلاقی نظام اور نئے تہذیبی تصورات کا غلام بنا دیا ہے۔ یہ تہذیبی تصور اور اخلاقی نظام ایک دن میں وضع نہیں ہوا بلکہ اسے تخلیق کرنے کے لئے صدیوں محنت کرنا پڑی۔ انسانی تاریخ میں ایسی تہذیبی اور اخلاقی تبدیلی پہلی دفعہ نہیں آئی بلکہ ہر بڑی تہذیب،معاشرت اور معیشت کے زوال سے پہلے ایسے معاشرے ضرور تخلیق ہوئے جن میں عورت شمع محفل اور مرکز نگاہ بنا دی گئی۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کا مصر، سُلا اور نیرو کے زمانے کا روم،
مزید پڑھیے




فلیپر سے می ٹو تک

منگل 03  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
بڑے بڑے شہر آباد ہوئے، کارخانے لگے، صنعتوں کا جال بچھا تو جدید مغربی تہذیب کے سفاک کارپوریٹ سرمایہ دار کو مزدوروں کی تلاش نے پاگل کر دیا۔ مدتوں غلاموں اور چھوٹے بچوں سے کام چلایا جاتا رہا۔ سرمایہ دارانہ صنعتی معاشرے سے پہلے دنیا میں بچوں کی مزدوری کا تصور ہی نہیں پایا جاتا تھا۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے خاندان میں والدین کے ساتھ کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے ۔ ایک ایسا ماحول جس میں اجنبیت کا خوف تھا نہ ہی مسکراہٹ اور کھیل کود پر پابندی۔ لیکن مشینی دور میں جسکا آغاز وکٹورین عہد
مزید پڑھیے


مماثلت

پیر 02  ستمبر 2019ء
اوریا مقبول جان
یوں تو کہانی بہت پرانی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسکا جب ادراک کیا تو فرمایا پاکستان اس وقت بن گیا تھا جب پہلے مسلمان نے ہندوستان میں قدم رکھا۔وہ عظیم رہنما بھی جب اس برصغیر پاک وہند میں ہندو مسلم اتحاد کی منافقت سے تنگ آگیا تو پکار اٹھا ہندو ناقابل اصلاح (INCORRIGIBLE)، ہیں"۔ میں نے قائداعظم کا انگریزی لفظ خاص طور پر تحریر کیا ہے تاکہ پڑھنے والے جو انگریزی جانتے ہیں، وہ اور جو نہیں جانتے، وہ ڈکشنری کے ذریعے اس لفظ کی سنگینی کا ادراک کر سکیں۔ اردو، عربی، فارسی اور دیگر
مزید پڑھیے


بنگلہ دیشی مہاجرین :بے وطنی سے نسل کشی کی طرف

بدھ 28  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
پاکستان میں ہر چوتھے دن اس مملکتِ خداداد پاکستان کی نظریاتی تخلیق سے بغض و عناد رکھنے والوں کو بنگلہ دیش کی ترقی کے گن گانے کا خمار چڑھتا ہے اور پھر وہ کالی کافی کی چسکیوں اور سگار کے دھوئیں کے مرغولوں میں اپنے مشہور فقرے دہراتے ہیں کہ ہم نے بنگلہ دیش کی علیحدگی سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا یا پھر یہ کہ ہم ایک بار پھر 1971 ء والی صورتحال میں گرفتار ہیں۔ زمینی حقائق سے دور پاکستان کی بربادی کا خواب دیکھنے والے یہ دانشور جنکے ساتھ کچھ سیاستدانوں نے بھی پاکستان دشمنی کی
مزید پڑھیے


یہ امت زندہ ہے

منگل 27  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
کبھی کبھی امت مسلمہ کا درد مروڑ بن کر انکے پیٹوں میں اٹھتا ہے جنکی پوری زندگی امت مسلمہ کے خلاف لکھتے، اسکے اسلاف کو گالیاں دیتے اور اسکے تصورِ امت کی تضحیک کرتے گزرتی ہے۔ ان میں منافقت کمال درجے کی ہے۔یہ اپنی ساری توانائیاں ایسے تمام غیر مسلم افراد کو ہیرو بنانے پر صرف کرتے ہیں جو اپنے ملک میں انقلاب اور آزادی کا جھنڈا اٹھاتے ہیں ،اور حالات سازگار نہ ہوں تو دوسرے ملکوں میں جاکر باقاعدہ ہتھیار اٹھا کر لڑائی کرتے ہیں۔ مثلا چہہ گویرا،جو ارجنٹائن کے شہر روساریو میں پیدا ہوتا ہے، جوان ہونے
مزید پڑھیے


نئی بساط بچھ چکی ہے

پیر 26  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
ہر کوئی اپنا آخری دا کھیلنا چاہتا ہے۔ منظرنامہ یہ ہے کہ بساط الٹ چکی ہے، اور امریکہ کو شہہ مات ہو چکی ہے لیکن پھر بھی افغانستان کے میدان پر بچھائی گئی شطرنجی کے کھلاڑی تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی، اپنے مہروں کو دوبارہ سجا کر شکست کو باعزت اور جیت کو بد مزہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواری نیٹو ممالک، روس، بھارت اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ نواز سیکولر نما طالبان دشمن عناصر اپنی اپنی چالوں میں مصروف ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی کو اندازہ تک نہیں کہ وقت ان کے ہاتھوں
مزید پڑھیے