Common frontend top

BN

اوریا مقبول جان


’’فیصلہ محفوظ ہے‘‘


پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی عدالتوں کے لئے ایک فقرہ اجنبی ہوتا تھا کہ ’’دونوں طرف سے دلائل مکمل ہو گئے ہیں اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے‘‘۔ کسی بھی قوم پر جب زوال آتا ہے تو سب سے پہلے اس کے منصّفوں سے اللہ آزاد اور غیر جانبدارانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت سلب کر لیتا ہے۔ پاکستان میں اس زوال کا آغاز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس منیر سے ہوا۔ اس کے پہلے فیصلے میں اس کے ساتھ جسٹس اے ایس ایم اکرم، جسٹس محمد شریف اور جسٹس ایس اے رحمن بھی شامل تھے
جمعه 27 جنوری 2023ء مزید پڑھیے

کیا ہم سب غدار ہیں؟

جمعرات 26 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
تعزیراتِ پاکستان اور ضابطۂ فوجداری اس برصغیر پاک و ہند میں انگریز کے عطا کردہ قوانین ہیں۔ تعزیراتِ پاکستان جو کبھی تعزیراتِ ہند کہلاتی تھیں، 6 اکتوبر 1860ء کو نافذ کی گئیں۔ انگریز کو لال قلعہ دہلی پر یونین جیک کا پرچم لہرائے صرف تین سال ہوئے تھے۔ اس تین سال کے عرصہ میں انگریز نے ہر اس شخص کو عبرتناک موت کی سزا دی، جس نے اس کے خلاف صرف ہتھیار ہی نہیں اُٹھائے تھے بلکہ جس نے کبھی اپنی تقریر، تحریر یا گفتگو سے بھی تاجِ برطانیہ کے لئے نفرت کا اظہار کیا تھا۔ لکھنے، تقریر کرنے، گفتگو
مزید پڑھیے


تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

بدھ 25 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
کارپوریٹ سودی سرمائے کی کوکھ سے پیدا ہونے والے سیکولر، لبرل اخلاقیات سے مزّین معاشرے نے لاتعداد ایسے گروہوں کو عزت و وقار عطا کیا ہے جو اس تہذیب کے قیام سے پہلے پوری انسانی تاریخ میں ذلّت و رُسوائی کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ان طبقات میں سے ایک جسم فروش طوائفیں بھی ہیں جن کا گروہ انسانی تاریخ میں تقریباً ہر معاشرے میں ناپسندیدہ ہی تصور ہوتا رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ تاریخ میں اسے دنیا کا سب سے قدیم پیشہ (Oldest Profession) سمجھا جاتا ہے۔ ہر تہذیب، ثقافت اور زبان و بیان میں جسم فروش عورتوں
مزید پڑھیے


پاکستان کی معیشت ِ ضنکا

منگل 24 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
ہم یقینًا حالتِ عذاب میں داخل ہو چکے ہیں، جس سے نکلنے کے لئے بڑے بڑوں کو راستہ سُجھائی نہیں دے رہا۔ ہم اور ہمارے حکمران دنیا بھر میں تمسخر اور ہنسی ٹھٹھے کی علامت بن چکے ہیں۔ بھرے مجمعے میں تالی بجاتے ہوئے نریندر مودی کہتا ہے’’پاکستان کی ساری ہیکڑی (اکڑ فوں) میں نے نکال دی، اسے کٹورا (کشکول) لے کر پوری دنیا میں گھومنے پر مجبور کر دیا۔ بھارت کے کسی حکمران نے ہماری ایسی ہنسی تو آج تک نہیں اُڑائی تھی۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہم پر اس وقت بدترین حکمران مسلّط ہیں اور یہ
مزید پڑھیے


جزیروں میں تقسیم پاکستان

جمعه 20 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
اس دور میں اہم شخصیات کی خبروں سے متعلق تصاویر صرف اخبارات میں شائع ہوا کرتی تھیں۔ یہ شاید 1963ء کی بات ہے، یادش بخیر مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان کی ایک ایسی تصویر اخبارات میں چھپی تھی جس میں انہیں دل کا عارضہ ہوا تھا اور وہ لاہور کے میو ہسپتال کے البرٹ وکٹر وارڈ میں ایک بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ پہلی دفعہ نواب آف کالا باغ کو اپنی لمبے طرّے والی پگڑی کے بغیر، ایک بستر پر نڈھال لیٹے ہوئے دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔ لیکن اس حیرت سے ہزار گنا بڑی حیرت آج
مزید پڑھیے



لوممبا کی تقریریں اور عمران خان

جمعرات 19 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
امریکہ عمران خان سمیت اب تک تہتر (73) حکمرانوں کے تختے اُلٹ چکا ہے جن میں دو افریقی ممالک کے سربراہ ایسے تھے جن کی مقبولیت کی وجہ سے انہیں قتل بھی کروا دیا گیا۔ ان میں سے ایک کانگو (Congo) کا وزیر اعظم پیٹرس لوممبا (Patrice Lumumba) اور دوسرا تھامس سنکارا، جو بورکینا فاسو (Burkina Faso) کا صدر تھا۔ پیٹرس لوممبا نے تو اپنے ملک کو بیلجئم سے آزادی دلوائی تھی اور وہ جمہوری طریقے سے 24 جون 1960ء کو وزیر اعظم منتخب ہوا، لیکن 5 ستمبر کو اس کی حکومت کا ایک فوجی بغاوت کے ذریعے خاتمہ کر
مزید پڑھیے


اسلامی معاشی نظام اور دانشورانہ جہالت ……(2)

بدھ 18 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ تین چار صدیوں سے ایک معاشرتی و سیاسی علمی ذخیرہ (Body of Knowledge) تخلیق کیا گیا ہے، جس کا اہم حصہ معاشی نظام بھی ہے۔ اس علمی ذخیرے میں دنیا کی معیشت کی عمومی سادگی کو ایک گورکھ دھندے کی صورت میں ایک معاشی سائنس کے نامی علم کے طور پر ایجاد کیا گیا۔ ان جدید علوم کی تمام تر بنیاد سیکولر خیالات پر رکھی گئی اور مذہب کے عطا کئے گئے علم کو ایک جبری قول (Dogma) کہہ کر مسترد کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ مذہب انسان کی سوچ کو محدود کرتا ہے اور اسے آگے بڑھنے
مزید پڑھیے


اسلامی معاشی نظام اور دانشورانہ جہالت

منگل 17 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
کیمونسٹ نظریے کے زوال سے پہلے پسماندہ ممالک کے جدید پڑھے لکھے افراد عموماً معیشت میں ہی ’’دخل در معقولات‘‘ کیا کرتے تھے۔ انہیں مارکسی فلسفہ اور معاشی نظام بہت پسند تھا اور وہ اس نظام کو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں انسانی دُکھوں کا مداوا سمجھتے تھے۔ پاکستان میں یہ ’’سرخے‘‘ کہلاتے، لیکن یہاں ان کا ہدف مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام نہیں، بلکہ اسلام اور اس کا معاشی نظام ہوتا۔ وہ اس دور میں ایک ہی سوال کیا کرتے، ’’کیا اسلام کا کوئی معاشی نظام ہے‘‘، اگر ہے تو جدید دور کے مسائل کا اس
مزید پڑھیے


ہوا کے دوش پہ رکھا ہوا چراغ

جمعه 13 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
صدا بادشاہی اس مالکِ کائنات کی ہے جو تمام جہانوں کا فرماں روا ہے۔ اسی کا حکم بّروبحر پر چلتا ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے کہ کس ذی نفس کا زمین پر کس قدر اختیار ہو۔ وہ جسے چاہتا ہے اقتدار بخش دیتا ہے اور جس سے چاہے چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا اور جسے چاہتا ہے ذلت کے قعرِ مذلّت میں دھکیل دیتا ہے ۔ انسان ہر روز اس معرکۂ قوت و اختیار کا تماشہ دیکھتے ہیں، لیکن سنبھلنے کا نام نہیں لیتے۔ وہ کہ جن کا کل تک اس ملک پر
مزید پڑھیے


یہ عنائتیں غضب کی، یہ بلا کی مہربانی ……(2)

جمعرات 12 جنوری 2023ء
اوریا مقبول جان
جب کبھی اس ملک کے معیشت دان جن میں اکثریت کا مرکز و محور امریکہ ہے اور جن کا علم آدم سمتھ کے دیئے ہوئے معاشی ماڈل کے گرد گھومتا ہے، پاکستان کی پچھتر سالہ معاشی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے مضامین اور گفتگو کا عمومی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فوجی آمروں کے دور میں ہی ترقی کی ہے اور جمہوری حکمرانوں نے تو اس ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ یہ معیشت دان جن کی آنکھوں پر عالمی مالیاتی نظام کی عینکیں سجی ہوئی ہیں، وہ قیام
مزید پڑھیے








اہم خبریں