اوریا مقبول جان



اصل نفرت نکاح سے ہے


جس ملک میں عوام کی اکثریت اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کرکے بمشکل تمام جہیز مہیا کرتی ہو، جہاں لاتعداد ایسے گھرانے ہوں جہاں لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہوتی جارہی ہوں، وہاں صرف اور صرف مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شادی کی عمر بڑھانے کا بل اسمبلی میں پیش کرنا ،صرف اور صرف اسلام کے بنیادی تصور کا تمسخر اڑانے اور تضحیک کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ایسے لوگوں کے دردناک انجام کی خبر دیتا ہے اور بار بار دیتا ہے جو رسولوں کی
پیر 06 مئی 2019ء

خلافت کا نفاذ:طریقِ کار

بدھ 01 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے مختلف مدارج طے کرتا ہوا جمہوری نظام جو آج بیشتر ممالک میں نافذ ہے اور جسے دنیا بھر کے دانشور، ارباب سیاست اور عالمی منظر نامے کے اجارہ دار انسانی معاشرے کے لیے آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔ اس میں اور نظام خلافت میں اہل الرائے یا صائب الرائے یعنی بنیادی ووٹر کی علمی استعداد اور اخلاقی معیار میں فرق ہے۔ جب یہ پہلا بنیادی فرق طے ہو جائے گا تو مروجہ جمہوری نظام کی ووٹرلسٹ سے ایک مختلف لسٹ ترتیب پا جائے گی تو پھر اگلا مرحلہ خلیفہ کے انتخاب کا آتا ہے۔ نظام جمہوریت
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ: طریقِ کار(2)

پیر 29 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
ایک آدمی ایک ووٹ کا تصور‘ اسلام کے اہل الرائے یا صاحب الرائے ہونے کے تصور کی ضد ہے۔ یوں تو یہ پوری معاشرتی زندگی کی ضد ہے لیکن اسے گزشتہ دو صدیوں سے ایک جمہوری فیشن بنا دیا گیا ہے اور اس فیشن کی ہر جمہوری ملک میں بہت مختصر عمر ہوتی ہے۔ جتنے دن الیکشن کا ہنگامہ چلتا رہتا ہے ایک ووٹر کی عزت و توقیر کے ڈنکے بجتے رہتے ہیں لیکن جس دن وہ اپنی رائے کا اظہار کر کے گھر واپس لوٹتا ہے تو اس کی رائے کا تمام اختیار ممبران پارلیمنٹ لے لیتے ہیں یا
مزید پڑھیے


خلافت کا نفاذ : طریقِ کار

جمعه 26 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
پارلیمانی سے صدارتی اور صدارتی سے پارلیمانی نظام پر گفتگو کس قدر آسانی اور سہولت سے ہر چند سالوں کے وقفے سے اس ملک میں شروع ہوجاتی ہے، بلکہ عموما ان بحثوں کے نتیجے میں یہ نظام نافذ بھی ہوتے رہے ہیں، انکی بساط لپیٹی بھی جاتی رہی ہے اور انکے ڈھانچوں میں بے پناہ تبدیلیاں کرکے انکا حلیہ بھی بگاڑا جاتا رہا ہے۔ ان ساری مسلسل کوششوں کا تحفہ 1973ء کا آئین ہے جس میں لاتعداد ایسے آرٹیکل آج بھی موجود ہیں جنہیں فرد واحد یعنی ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بغیر کسی جمہوری طریقہ کار اپنائے، آئین
مزید پڑھیے


نظام خلافت۔ بہترین وقت

بدھ 24 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
اس لمحے جب پاکستان کے پارلیمانی نظام اور گھسے پٹے سیاسی طریقہ انتخاب و اقتدار سے مایوسی کی آوازیں چاروں سمت گونج رہی ہیں اور ہر کوئی نظام کی تبدیلی پر گفتگو کرتا نظر آرہا ہے، توایسے میں میرے لئے، بلکہ ہر سوچنے سمجھنے اور عقل و ہوش رکھنے والے مسلمان کیلئے یہ المیے سے کم نہیں کہ اس ملک میں موجود دو درجن سے بھی کہیں زیادہ اسلامی پارٹیاں اس جمہوریت کے کھوکھلے درخت اور اس پارلیمانی نظام کے دیمک زدہ ڈھانچے کے ساتھ وابستہ نظر آتی ہیں۔وہ پارلیمانی جمہوریت جسکی برائیوں کا تذکرہ اس وقت جمہوری
مزید پڑھیے




تھا جس کا انتظار

پیر 22 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
استقبال کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ کس قدر طویل انتظار تھا جو اس دفعہ آئی ایم ایف کی معاشی رتھ پر سوار ہو کر آنے والے اس دولہا کو کرنا پڑا۔ یوں تو پاکستانی وزارت خزانہ کی سجی سجائی سیج ایسے دولہوں کی ہمیشہ منتظر رہی ہے، لیکن اس دفعہ تو انتظام کا عالم مختلف ہے۔ پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ عقد طے ہو جاتا تھا اور اسکی شرائط کے مطابق گھر کا سازوسامان گروی رکھا جاتا تھا، آرائش میں تبدیلیاں کی جاتی تھیں جس سے عقد کی شرائط طے ہوتی تھیں وہی عروسی سیج پر
مزید پڑھیے


ان کا نوحہ کبھی نہیں لکھا جائے گا

جمعه 19 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
نواب محمد اکبر بگٹی کے گھر فاطمہ جناح روڈ کی رات گئے کی محفلیں غضب کی ہوا کرتی تھیں، بلا کے مہمان نواز اور حیران کن حد تک دنیا کے ہر موضوع پر مطالعہ رکھنے والے نواب صاحب سے گفتگو زندگی کا حاصل ہے۔ نواب بگٹی اپنے گھر سے چہل قدمی کرتے ہوئے جناح روڈ پر آتے، بولان میڈیکل ہال انکے دوست نوروزعلی میر کی دکان تھی، کچھ وقت وہاں گزارتے، ساتھ ہی بک لینڈ اور کوئٹہ بک سٹال جاتے، کوئی رسالہ یا کتاب خریدتے اور گھر لوٹ جاتے ،جہاں شام کو انکی محفل میں شہر کے معززین، صحافی، ادیب
مزید پڑھیے


دہشت گردی سے جنگ کے نام پر

بدھ 17 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پوری دنیا کو دہشت گردی کے نام پر خوفزدہ کرکے اسکی معیشت پر غلبے اور اسکی سیاست پر قبضے کا دھندا چل رہا ہے۔ نائن الیون کے فورا بعد جہاں امریکہ اور اسکے حواریوں نے نہتے اور کمزور افغانستان پر حملہ کیا، وہیں دنیا بھر کے بینکاری نظام اور کرنسیوں کے نیٹ ورک پر نگرانی سخت کردی، کیونکہ انہیں خوف محسوس ہونے لگا کہ انکے ذریعے دہشت گردوں کو اسلحہ خریدنے کے لیے سرمایہ آسانی سے میسر آجاتا ہے۔ معاشی اداروں پر کنٹرول کا آغاز تو اس دن سے شروع ہو گیا تھا جب افغانستان سے
مزید پڑھیے


پاکستانی بیوروکریسی کے نیم حکیم اور عمران خان

پیر 15 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی تباہی، بربادی اور زوال میں جتنا حصہ پاکستان کی بیوروکریسی کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ ایک سیاستدان موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے لیکن انکی بھول بھلیوں سے بھرپور فائل اور نوٹ پورشن سمجھ نہیں پاتا۔ ایک جرنیل اور اسکی فوج ظفر موج جب اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو وہ برسوں کاروبار حکومت سمجھنے میں ان کی محتاج رہتی ہے۔ یہ اسے جس طرح چاہیں، جیسا چاہیں اور جس طرف چاہیں موڑ دیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنے فن میں طاق اور اپنی چالوں میں پختہ ہو چکے ہیں۔آغاز پاکستان سے ہی انہوں نے
مزید پڑھیے


یہ محض اتفاق نہیں ہے

جمعه 12 اپریل 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مسلم امہ کا وہ خطہ جہاں آخری بڑی جنگ کے دو میدان سجنے ہیں، اسکے مشرق و مغرب کے دونوں سروں پر گزشتہ بیس سال سے مذہبی شدت پسندی کی لہر عوامی پذیرائی اور جمہوری راستے سے ملک پر قابض ہے اور دن بدن اس شدت پسندی کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی مسلمانوں سے نفرت میں تیزی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ مسلم امہ کا یہ خطہ دراصل اسلامی دنیا کا مرکز و محور ہے جسے "Central Homeland"کہا جا سکتا ہے۔ صحرائے سینا کے مشرقی کنارے
مزید پڑھیے