BN

اوریا مقبول جان



یہ امت زندہ ہے


کبھی کبھی امت مسلمہ کا درد مروڑ بن کر انکے پیٹوں میں اٹھتا ہے جنکی پوری زندگی امت مسلمہ کے خلاف لکھتے، اسکے اسلاف کو گالیاں دیتے اور اسکے تصورِ امت کی تضحیک کرتے گزرتی ہے۔ ان میں منافقت کمال درجے کی ہے۔یہ اپنی ساری توانائیاں ایسے تمام غیر مسلم افراد کو ہیرو بنانے پر صرف کرتے ہیں جو اپنے ملک میں انقلاب اور آزادی کا جھنڈا اٹھاتے ہیں ،اور حالات سازگار نہ ہوں تو دوسرے ملکوں میں جاکر باقاعدہ ہتھیار اٹھا کر لڑائی کرتے ہیں۔ مثلا چہہ گویرا،جو ارجنٹائن کے شہر روساریو میں پیدا ہوتا ہے، جوان ہونے
منگل 27  اگست 2019ء

نئی بساط بچھ چکی ہے

پیر 26  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
ہر کوئی اپنا آخری دا کھیلنا چاہتا ہے۔ منظرنامہ یہ ہے کہ بساط الٹ چکی ہے، اور امریکہ کو شہہ مات ہو چکی ہے لیکن پھر بھی افغانستان کے میدان پر بچھائی گئی شطرنجی کے کھلاڑی تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی، اپنے مہروں کو دوبارہ سجا کر شکست کو باعزت اور جیت کو بد مزہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور اس کے حواری نیٹو ممالک، روس، بھارت اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ نواز سیکولر نما طالبان دشمن عناصر اپنی اپنی چالوں میں مصروف ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی کو اندازہ تک نہیں کہ وقت ان کے ہاتھوں
مزید پڑھیے


عمران حسین اور کشمیر

بدھ 21  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
علامہ اقبال اور مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے بعد میں نے جس اسلامی مفکر کو پڑھا اور رغبت سے سنا، وہ عمران نذر حسین ہے۔ آج کے جدید دور میں مغربی فکر اور جدید مغربی تہذیب کا جو زوردار وار امت مسلمہ کی تہذیب، فکری روایت اور تصور دین پر ہے، اسکا جتنا ادراک عمران حسین کو حاصل ہے، شاید ہی کسی اور مفکر یا مذہبی سکالر کو حاصل ہو۔ وہ خود کو اسلام کے علمِ آخرالزماں (Eschatology) کے بڑے سمندر کا غواض سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں انکا علم ،قرآن و حدیث میں موجود ایسی علامات
مزید پڑھیے


دو قومی نظریہ :سیکولرزم /اسلام

منگل 20  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
جموں کشمیر کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے 31 اکتوبر 1951 ء کو شیخ عبداللہ نے آئین سازی کے مقاصد بتائے اور کہا "Normally under the principles governing the partition of India, our Riyasat of Jammu and Kashmir should have gone to Pakistan, but we choose India for its secularism." (اگر ہندوستان کی تقسیم کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تو ہماری ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا لیکن ہم نے بھارت کا انتخاب اس کے سیکولرزم کی وجہ سے کیا)۔ اسکے بعد شیخ عبداللہ نے بھارت کے جمہوری نظام اور اسکی
مزید پڑھیے


خراب الہند من الصین (ہند کی تباہی چین کے ہاتھوں)

پیر 19  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے صرف بیس سال قبل جو افراد، علمائے کرام اور جدیدیت میں جکڑے ہوئے مفکرین، قیامت کے قرب میں ہونے والی بڑی جنگوں کے بارے میں ابوابِ فتن میں موجود احادیث کی اسناد پر بحث کرتے تھے، کسی کو من گھڑت، کسی کو ضعیف اور کسی کو سیاسی مقاصد کے تحت تخلیق کردہ قرار دے کر مسترد کردیتے تھے، آج حیرت میں گم ہیں۔ کیونکہ انکے نظریہ علت و معلول (cause and effect) کے تحت اللہ نے یہ اسباب کی دنیا بنائی ہے، اس لیے جیسے حالات ہوں گے، ویسے ہی نتیجے برآمد ہوں گے۔ ان
مزید پڑھیے




تاریخ کا کوڑے دان

بدھ 14  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
تاریخ کا کوڑے دان سج چکا اور اس میں اوندھے منہ ٹیکنالوجی کے دیوتا کی لاش پڑی ہے۔ ڈرون طیارے، میزائل، راکٹ لانچر، سیٹلائٹ سے براہِ راست کنٹرول ہونے والے ہتھیار،رات کے اندھیرے میں دشمن کو تلاش کرنے والی دوربین، اپنی جانب بڑھنے والے میزائلوں کو مقناطیسی لہروں سے واپس موڑنے والے ٹینک، آواز سے تیز پرواز کرنے والے فائٹر جیٹ اور وہ سب کچھ آج اس کوڑے دان میں پھینکنے والے مردانِ حُرّ، بندگانِ خدا اور مومنان غازی صفت، مٹھی بھر طالبان اللہ کی کبریائی، طاقت و جبروت اور بادشاہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور اس کی عظمت
مزید پڑھیے


خضرِ وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آید بروں

بدھ 07  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
منظرنامے کس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں۔ وقت کی سلور سکرین پر ایک منظر لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتا ہے، لوگ ابھی اسکی حیرانی میں گم ہوتے ہیں کہ ایک زور دار چھپاکے سے سکرین پر اس سے بھی زیادہ حیران کن منظر لوگوں کو نئی حیرتوں کے جہان میں لے جاتا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے واقعات کی یہ سلور سکرین دریائے نیل کے ساحلوں سے لے کر خلیج بنگال میں لہریں اچھالتے سمندر تک کے علاقے میں نصب کی گئی ہے۔ یوں تو گذشتہ ایک صدی سے یہ خطہ مختلف انقلابات، حادثات اور سانحات کی
مزید پڑھیے


آزاد کشمیر نہیں ، آزاد ہندوستان

منگل 06  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
مجھے معلوم ہے بے شمار ایسے لوگ ہونگے جو اس عنوان کو دیکھ کر ہنسے ہوں گے،مجھے جاہل کہا ہوگا، کتنے غصے میں آئے ہوں گے۔ اسی قبیل کے لوگ اس دن بھی میرے جیسے لوگوں کی سوچ پر کھلکھلا کر ہنسے تھے جب 7 اکتوبر 2001ء کو کسی عفریت کی طرح دندناتا ہوا امریکہ اپنے ساتھ اڑتالیس ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے ساتھ افغانستان جیسے پسماندہ ملک پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس وقت میرے جیسے دقیانوس، ماضی پرست، معروضی حالات سے بے خبر یہ کہتے تھے کہ اس کائنات کا ایک حقیقی فرمانروا
مزید پڑھیے


جمہوریت کا سٹاک ایکسچینج

پیر 05  اگست 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا ہم اس دنیا میں اکیلے ہیں جہاں رائے کی قیمت لگتی ہے اور ضمیر خریدے جاتے ہیں۔نہیں ! ہم اس مہذب دنیا کا حصہ ہیں جہاں جمہوری نظام کے اسٹاک ایکسچینجوںمیں شروع دن سے گرم بازاری رہی ہے۔ بھلے زمانوں میںجب انگلستان کے دار الامراء (House of Lords) کا کوئی رکن جب اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لئے اخبار میں اشتہار دیتا توساتھ یہ بھی تحریر کیا کرتا تھا کہ "یہ صرف جائیداد ہی نہیں دار الامراء کی رکنیت بھی اسکے ہمراہ ہے"۔ فرق اتنا آیا ہے کہ بقول عدیم ہاشمی "لوگ بکتے تھے مگر اتنی بھی ارزانی نہ
مزید پڑھیے


مذہبی تعصب اور جمہوری ٹرین

بدھ 31 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک تیرہ سو سات سال قبل، 712 عیسوی میں عماد الدین محمد بن قاسم الثقفی نے دیبل پر حملہ کرکے سندھ کو فتح کیا اور بقول قائداعظم "پاکستان کی بنیاد اسی دن رکھ دی گئی تھی جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا"، اور تاریخ اس کا سہرا اس سترہ سالہ نوجوان کے سر پر باندھتی ہے۔ یوں تو یہ کارنامہ بنو امیہ کے دور میں ہوا اور ان کے بعد آنے والے مورخین نے اپنے تعصب کی ڈھیر ساری کالک بنو امیہ پر تھوپی لیکن اس خاندان کے چند لوگ جو تاریخ کی اس
مزید پڑھیے