BN

اوریا مقبول جان


سیاہ فام غلامی کی امریکی تاریخ کا تسلسل…… (2)


سترھویں صدی کی مہذب اور ترقی یافتہ مسلم دنیاکے مقابلے میں جدید امریکہ، انسانی تاریخ کے اس بدلتے ہوئے موڑ اورتہذیبی ترقی کے عروج میں ابھی غلاموں کی تجارت کا آغاز کر رہا تھا۔ اگست 1619ء کے اس خوشگوار دن جب جیمز ٹائون، ورجینیا کے بازار میں انگولا سے بیس سیاہ فام کو لا کر بیچا گیا، اس دن سے یہ انسانی تجارت امریکہ میںسرکاری سرپرستی میں پھلنے پھولنے لگی۔ اس سے پہلے براعظم امریکہ میں یورپ سے بھاگ کر آنے والے جرائم پیشہ گوروںکی اکثریت آبادتھی اور وہ امریکہ میں موجود مقامی ریڈانڈین افرادسے غلامی کا کام لیتے تھے۔
جمعه 05 جون 2020ء

سیاہ فام غلامی کی امریکی تاریخ کابدترین تسلسل

جمعرات 04 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
میدان عرفات میں جبل الرحمت پر کھڑے ہو کر 6مارچ 632بمطابق 9ذلحج10ہجری کو محسن انسانیت ﷺ نے رنگ و نسل، اور زبان و قومیت کو توڑتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’’کسی گورے کو کالے پر،کالے کو گورے پر، عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر کوئی فضلیت حاصل نہیں، اللہ کے نزدیک برتر وہ ہے جو متقی و پرہیزگار ہے، تم سب ایک آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے‘‘۔ آج اس عظیم،برتر اور حسین آواز کو دنیا میں بلند ہوئے چودہ سوسال ہو چکے ہیں۔ وہ امت مسلمہ جو سید الانبیائﷺ نے اپنی
مزید پڑھیے


ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں

اتوار 31 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
ایوان اقتدار پر براجمان چند مغرب پلٹ نام نہاد عالمی ماہرین کو اگر اس ملک میں ایک چھوٹے سے تھانے، تحصیل، تعلقے یا پٹوار سرکل چلانے کا بھی تجربہ ہوتا، ان میں سے کسی نے ڈاکٹر کی نشست پر بیٹھ کر پْرہجوم "او پی ڈی" میں بیٹھ کر مریض دیکھے ہوتے، کسی خیراتی ادارے یا سماجی بہبود کے ادارے میں بیمار، مجبور اور بے نوا انسان کی حالت دیکھی ہوتی، تو آج ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی کرونا کی وجہ سے اموات پر ان میں اس قدر بے حسی اور لاتعلقی نہ پائی جاتی۔ آج بھی حکومتی ایوانوں میں
مزید پڑھیے


چڑھ جا بیٹا سولی پر۔ رام بھلی کرے گا…… (2)

هفته 30 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
بھارت میں گذشتہ دو سو سال سے جس مصنوعی ہندو قومی تشخص کا تصور ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے اس نے وہاں بسنے والے ہندوؤں اور انکی متعصّب قیادت کو آج اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ ایک بہت بڑے جنگ کے میدان میں اتار دیا ہے۔ یہ جنگ ویسے تو قومی ریاستوں کے درمیان ہے، لیکن مذہبی ہندو قیادت اسے دیوتاؤں کی "پوتر" سرزمین کی یدھ (لڑائی) سمجھ رہے ہیں۔ مگر مغربی عالمی طاقتیں اسے ایک ایسا میدان جنگ بنائے بیٹھی ہیں جہاں پر ہونے والی لڑائی سے دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی دو معاشی طاقتیں چین اور
مزید پڑھیے


چڑھ جا بیٹا سولی پر۔رام بھلی کرے گا

جمعه 29 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
آج سے دس سال قبل جب پوری دنیا 2008ء کی معاشی کساد بازاری کا بدترین شکار تھی اور امریکہ کے کارپوریٹ سیکٹر نے حکومت سے سات سو ارب ڈالر کی مدد طلب کی تھی تاکہ وہ اس بحران سے نکل سکے‘ ایسے میں امریکی حکومت نے اپنے مشہور تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے ذمے یہ کام لگایا تھا کہ وہ ایک ایسی جامع رپورٹ مرتب کرے کہ امریکی معیشت اس معاشی بحران سے کیسے نکل سکتی ہے۔ ایک سال کی محنت کے بعد جو رپورٹ رینڈکارپوریشن نے امریکی حکومت کو جمع کروائی اس کا لب لباب بہت خوفناک تھا۔ رپورٹ
مزید پڑھیے



ایک مسلم پروڈکشن ہاؤس کی ضرورت

جمعرات 28 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا میں کسی آمر، ڈکٹیٹر یا فرعون صفت حکمران نے بھی اپنے مخالفین کی آوازوں کو اس قدرنہیں دبایا ہو گا،جسقدر جدید سیکولر لبرل اور آزاد میڈیا نے اسلام، اس کی عظمت رفتہ اور اس کی نشاۃ ثانیہ کی علمبردار آوازوں کا گلا گھونٹا ہے،یہاں تک کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کیا ہے۔ آزادیٔ اظہار کا علمبردار یہ میڈیا جدید دنیا کا سب سے بڑا فرعون ہے، جو اپنے سیکولر، لبرل اور نیم فحش تصورِ اظہار کے مقابلے میں ذرا سی آواز بھی سننا پسند نہیں کرتا اور چوبیس گھنٹے اپنی مرضی کے خیالات، اپنے تصورِ زندگی اور اپنی
مزید پڑھیے


امت ایک دن عید کیوں نہیں مناتی

اتوار 24 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
ہر سال عید کے موقع پر چاند پر جھگڑے کے وقت کبھی کسی نے یہ تصور کیا ہے کہ جو امت صرف چندسکینڈ کے وقفے سے بلکہ بعض اوقات تو براہِ راست میدان ِعرفات سے حج کا خطبہ سنے، لندن، سڈنی یا دبئی میں ہونے والا میچ دیکھ لے،گیارہ ستمبرکو گھنٹوں ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کا منظر ایسے دیکھے جیسے وہ ان کے سامنے برپا ہے، لیکن اگرآپ اس امت کے اربابِ اختیارسے لے کر علمائے کرام تک سب سے پوچھیں کہ یہ پوری امت دنیا بھر میں ایک ساتھ چاند
مزید پڑھیے


کورونامیں گھر کی از سر نو شیرازہ بندی

هفته 23 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
مدتوں بعد انسانی زندگی میں ٹھہراؤ، سکوت اورخاموشی کا حسن لوٹ آیا ہے۔ وہ جو روزمرہ کی تیز رفتاری کے عادی تھے، جن کے شیڈول میں فرصت نام کی کوئی گھڑی نہ تھی، ٹریفک کے ہنگاموں پر سیخ پا ہوتے ہوئے، ہر کسی سے معاملات طے کرتے، گفتگو کرتے یا سر پٹھول کرتے، لیکن پورا دن اسی ادھیڑ بن میں گزار کر رات کو تھک ہار کر اپنے بستر پر دراز ہو جاتے، الارم لگاتے اور پھر اگلے دن صبح سویرے سے ہی اسی مصروفیت میں جُت جاتے۔ گذشتہ تین ماہ سے بڑے شہروں کے نشے کے عادی ان باسیوں
مزید پڑھیے


یہ تو من مرضی کے سودے ہیں،زبردستی نہیں

جمعه 22 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
ٹھیک ویسا ہی منظر تقریباً انیس سال بعد لاتعداد کیمروں اور خبر کی تلاش میں سرگرداں رپورٹروں کے سامنے تھا۔ حیرت میں گم کردینے والا ایک ایسا لمحہ کہ جب جہاز سے اترتی ہوئی اٹلی کی پچیس سالہ شوخ و چنچل لڑکی سبز رنگ کے ایک خوشنما حجاب اور عبایا میں ملبوس تھی جس نے اس کا تمام جسم ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ اٹھارہ ماہ صومالیہ کی الشباب اسلامی جہادی تنظیم کی اسیری میں گزار کر آئی تھی۔ اسے کینیا کے ہوٹل سے اغوا کرنے والا ایک پیشہ ور اغوا کار تھا۔ اس غیر مسلم ملک میں
مزید پڑھیے


یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

جمعرات 21 مئی 2020ء
اوریا مقبول جان
پاکستان پہلے دن ہی سے نا شکروں اور اللہ کی اس عظیم نعمت کے منکروں کا یرغمال بنا رہا ہے۔ جی چاہتا ہے فیض احمد فیض سمیت ان تمام شاعروں کی نظمیں، غزلیں اور گیت بھارت کے شہروں کی ان جلی ہوئی مسلمان بستیوں کے باہر زور زور سے سناؤں اور کہوں کہ وہ تمہارے ہی بھائی تھے جو قائداعظم محمد علی جناح کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ایک ایسی سرزمین کی جانب چل پڑے تھے جو آج ان کے لئے جائے امن ہے اور اس وقت ایک جائے پناہ تھی۔ انہیں بتاؤں کہ ہمارے ہاں صبح آزادی
مزید پڑھیے