BN

اوریا مقبول جان


سید علی گیلانی ؒ کا پاکستان


اب کون اتنے ایمان، یقین اور جذبے کے ساتھ یہ نعرۂ مستانہ بلند کرے گا اور لاکھوں کشمیریوں کو اس نعرے کا دیوانہ بنائے گا… ’’ہم پاکستانی ہیں… پاکستان ہمارا ہے‘‘۔ اس پُرجوش ہجوم کے سامنے جب اس عظیم قائد نے یہ عظیم نعرہ بلند کیا تھا تو سب سے پہلے اس نے دو فقروں میں اپنے اور اس نعرے کا جواب دینے والے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو ایک شرک سے بھی پاک کیا تھا۔ سیّد علی گیلانی ؒنے اپنے ’’محبوب پاکستان‘‘ کے بارے میں فرمایا۔ ’’ہم پاکستان کے حکمرانوں سے بھی، سیاسی قیادت سے بھی اور وہاں
جمعه 03  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

لٹھ مار گروہوں کا انتظار کرو (آخری قسط)

اتوار 29  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
پرویز مشرف نے اپنے ابتدائی پانچ چھ برسوں میں اس ملک کی صدیوں پرانی تہذیبی و اخلاقی زندگی پر جس طرح عالمی سرپرستی اور مارشل لاء کی طاقت سے جدید مغربی اخلاقیات اور آزادانہ جنسی ماحول کو مسلّط کیا تو ول ڈیورانٹ کے بتائے ہوئے ان معاشروں کی یاد تازہ ہو گئی جہاں جب بھی ایسا کچھ کیا گیا تو لوگوں میں اس کے ردِعمل کے طور پر کٹر مذہبیت پیدا ہوئی اور انہوں نے بزورِ قوت سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ان دنوں پاکستان میں بھی ویسا ہی آتش فشاں پھٹنے کو تیار تھا۔ عوام کے جذبات کی
مزید پڑھیے


لٹھ مار گروہوں کا انتظار کرو ( قسط 3 )

هفته 28  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستانی معاشرے کا اخلاقی زوال اور جنسی ہیجان زدگی کی تاریخ اتنی پرانی نہیں ہے۔ انگریز حکومت کے ڈیڑھ سو برسوں نے ایک ایسی اشرافیہ کو جنم ضرور دے دیا تھا،جس کی اخلاقیات اور سماجی زندگی مغرب زدہ بھی تھی اور روشن خیال بھی۔ کلبوں کی رنگین زندگی میں شراب کے کائونٹر بھی تھے اور ڈانسنگ فلور بھی۔ بڑے شہروں میں سکرٹ پہنی اینگلو انڈین و دیگر خوشحال گھرانوں کی خواتین بھی نظر آ جاتی تھیں۔ ہر وہ تجربہ جو امریکہ اور یورپ کی سماجی زندگی میں ہو رہا تھا،برصغیر کے اعلیٰ گھرانوں میں بھی اُسے ضرور آزمایا جاتا،لیکن یہ
مزید پڑھیے


لٹھ مار گروہوں کا انتظار کرو ……(2)

جمعه 27  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
برطانیہ میں ملکہ ایلزبتھ اوّل کا دَور جو 17 نومبر 1558ء سے شروع ہو کر 24 مارچ 1603ء تک 45 سالوں پر محیط ہے، معاشرے کے اخلاقی زوال اور بے خطر جنسی بے راہ روی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ایک مادر پدر آزاد نشاۃِ ثانیہ کو درباری اشرافیہ نے برطانوی معاشرے پر زبردستی نافذ کیا، جس کے ردِ عمل میں ایک شدت پسند مذہبی شخصیت آلیور کرامویل (Oliver Cromwell) کا ظہور ہوا، جو اس بات پر یقین بلکہ ایمان رکھتا تھا کہ لوگوں کو انجیل کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے۔ اس نے ایک ذاتی فوج ترتیب دی اور سول وار
مزید پڑھیے


لٹھ مار گروہوں کا انتظار کرو

جمعرات 26  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
بیسویں صدی کے دو مؤرخین ایسے ہیں جن کی تصانیف کی وسعت، معیار اور تحقیقی مرتبہ و مقام اس قدر بڑا ہے کہ کم از کم گزشتہ دس صدیوں کے تاریخ دانوں کے کام پر چھایا ہوا ہے۔ ایک برطانیہ میں پیدا ہونے والا آرنلڈ ٹائن بی (Arnold Toynbee) ہے جس کی گیارہ جلدوں پر مشتمل "A Study of History" (مطالعہ تاریخ) اب تک حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے، جبکہ ٹائن بی کا دوسرا ہم عصر امریکہ میں پیدا ہونے والا ول ڈیورانٹ (Will Durant)ہے۔ اس نے بھی گیارہ جلدوں پر مشتمل ایک عظیم تصنیف "The Story of Civilization" (تہذیب
مزید پڑھیے



تہذیب اور لائف سٹائل کی شکست

اتوار 22  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
طالبان کی عظیم الشان فتح کے بعد وہ نعرۂ مستانہ جو مسلم اُمہ کے مفکرین اور دانشوروں کو لگانا چاہئے تھا،وہ چین کے لکھاری اور تجزیہ نگار بلند کر رہے ہیں۔چین کے علمی اور صحافتی حلقوں میں ڈینگ گینگ (Ding Gang) ایک بہت بڑا نام ہے۔ وہ چونگ یانگ (Chong Yang) انسٹیٹیوٹ آف فنانشل سٹڈیز میں سینئر فیلو اور پیپلز ڈیلی میں سینئر ایڈیٹر بھی ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی ذِلت آمیز شکست کے بعد 18 اگست کو گلوبل ٹائمز (Global Times) میں اس نے ایک مضمون تحریر کیا ہے، جس کا عنوان ہے۔ "Taliban victory a
مزید پڑھیے


سارا جھگڑا ’’نظام‘‘ ہی کا تو تھا

هفته 21  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
تمام افواہیں دَم توڑ گئیں، قیاس آرائیاں دفن ہو گئیں اور تبصرے اپنی موت آپ مر گئے۔ طالبان نے اعلان کر دیا کہ افغانستان کی حکومت کا نام ’’اماراتِ اسلامی افغانستان‘‘ ہو گا اور اس کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا ہبتہ اللہ اخوند زادہ ہوں گے جن کے ہاتھ پر طالبان نے آج سے پانچ سال قبل بیعت کی تھی اور ان کی قیادت میں امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے خلاف نظامِ شریعت اور اعلائے کلمتہ الحق کیلئے جہاد کیا تھا۔ اس بیس سالہ عظیم جہاد میں بے شمار ایسے مواقع آئے جب طالبان کو افغانستان میں قائم امریکی
مزید پڑھیے


طالبان: اسلامی جنگی اخلاقیات کا روشن چہرہ

جمعرات 19  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
جس ڈیڑھ ارب اُمتِ مسلمہ کو امریکہ اور عالمی عسکری اتحاد کی شکست پر اجتماعی سجدۂ شکر ادا کرنا چاہئے تھا، اس کی خاموشی حیرتناک بلکہ عبرتناک ہے۔ کیا یہ وہی اُمت ہے جس کے کونے کونے پر 28 مئی1998ء کو پاکستان کے ’’ایٹمی قوت‘‘بننے کے بعد سڑکوں پر دیوانہ وار رقص کرتے لوگ نکل آئے تھے۔دلوں میں یہ گہرا تصور انہیں سرخوشی میں مبتلا کر رہا تھا کہ اب مسلم اُمہ کے ایک ملک کے پاس ناقابلِ تسخیر ’’ٹیکنالوجی‘‘ کی دولت آ گئی ہے۔سمجھتے تھے کہ شاید اب یہ اُمت ’’ناقابل شکست‘‘ ہو چکی ہے۔ کاش ٹیکنالوجی کے ’’شرک‘‘
مزید پڑھیے


ایک عہد شکن قوم کا یومِ آزادی ( آخری قسط)

اتوار 15  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
انگریز جب 1857ء میں پورے ہندوستان کا حکمران بنااور اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا مصنوعی،منافقانہ لبادہ اُتار کر ملک کو تاجِ برطانیہ کے ماتحت کر دیا تو اس ملک میں ہندو اکثریت کیلئے تو یہ صرف ایک حکمران کی تبدیلی تھی، پہلے وہ مسلمانوں کے زیرِ نگیں تھے اور اب انگریز کے محکوم ہو گئے۔ ہندوئوں نے مغلیہ دَور میں بغاوت کی ایک انگڑائی 1761ء میں لی، لیکن شاہ ولی اللہ کی دعوت پر افغانستان سے آنے والے احمد شاہ ابدالی نے پانی پَت میں مرہٹہ اور مشترکہ ہندو فوج کو ایک ایسی شکست سے دوچار کیا کہ پھر
مزید پڑھیے


ایک عہد شکن قوم کا یومِ آزادی ( 1)

هفته 14  اگست 2021ء
اوریا مقبول جان
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ جو درسی کتب اور قصے کہانیوں کے ذریعے انگریز سرکار نے زبانِ زدعام کی، اس کو تحریر کرنے کا بنیادی مقصد یہاں پر آباد قوموں کو اپنے ماضی سے برگشتہ، حال سے غیر مطمئن اور مستقبل سے مایوس کرنا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1757ء میں جب نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر بنگال میں اپنا اقتدار قائم کر لیا تو اس کے سامنے مغلیہ ہندوستان صرف ایک قطعہ زمین نہیں تھا بلکہ مسلمان حکمرانوں کی طرزِ حکمرانی، صوفیائے کرام کے حُسنِ سلوک اور مسلمان اشرافیہ کی تہذیبی یلغار نے اسے ایک اکائی
مزید پڑھیے








اہم خبریں