BN

اوریا مقبول جان



خان صاحب ! یہ آگ کا دریا ہے


اگر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت کو جو امریکی راہداریوں میں عزت و تکریم ملی ہے، اس میں انکا کچھ اپنا کمال ہے تو اس خبطِ عظمت کو ذہن سے نکال دیں۔ اس لیے کہ جس قسم کے کردار اور جس قسم کے "مذاکراتی ڈومور" کی پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے، وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ایک جانب مسلّمہ فاتح طالبان ہیں جنہوں نے یہ فتح ،نصرت الٰہی اور "شہادت ہے مقصود و مطلوبِ مومن" کے جوہر سے کشید کی ہے اور دوسری جانب ٹیکنالوجی کے عالمی بت کی
منگل 30 جولائی 2019ء

دفعہ 144کا مجرم

پیر 29 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
عرفان الحق صدیقی ولد عبدالحق صدیقی سکنہ مکان نمبر 82سیکٹر G10/3اسلام آباد تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188کا مرتکب ہوا ہے۔ جرم اس قدر سنگین ہے کہ اسے ہتھکڑی پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ 188ہے کیا؟ یہ دراصل اس حکم کی سزا ہے جو کوئی سرکاری ملازم(Public Servent)دیتاہے۔ پاکستان پینل کوڈ میںاس دفعہ کا انگریزی ٹائٹل ملاحظہ ہو۔ اس میں ’’پبلک سرونٹ‘‘ اور ’’ڈس اوبیڈنس‘‘ کا ترجمہ آپ کے تخیل پر چھوڑتا ہوں۔ ''Disobedience to order due promulgated by Public Servent'' (ایک سرکاری اہلکار کے حکم کی نافرمانی)تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ اچانک وہاں وارد نہیں
مزید پڑھیے


سیندِک سے ریکوڈک تک (آخری قسط)

بدھ 24 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
ریکوڈک کا آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ 19 جولائی 1993 ء کو بلوچستان میں نگران حکومت کے آنے کے صرف دس دن کے اندر اندر منظور کرلیا گیا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد یکم فروری 1994ء کو شروع ہونا تھا، لیکن معاہدے کے آغاز سے ساڑھے چار ماہ قبل بی ایچ پی کے وکیل نے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین عطاء جعفر کو ایک خط لکھا۔ اس خط کے ذریعے مانگی گئیں بے شمار مراعات اور رولز میں ترامیم بلوچستان حکومت نے مان لیں جسکے بعد 20 جنوری 1994 ء کو حکومت
مزید پڑھیے


سیندِک سے ریکوڈک تک (قسط 3)

منگل 23 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
ریکوڈک کی تفصیلات، اسکے ذخائر کی مالیت اور ان کے بارے میں گذشتہ سالوں میں ہونے والی قانونی جنگ کی تفصیلات زبان زد عام ہیں۔ اخبارات کے صفحات ان سے اَٹے پڑے ہیں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں "پرمغز" تبصرے ہو رہے ہیں۔ ان تمام تبصروں کا لب لباب یہ ہے کہ حکومتِ بلوچستان، حکومتِ پاکستان، سپریم کورٹ اور کچھ ضرورت سے زیادہ اہمیت حاصل کر جانے والے سائنسدانوں نے اپنی جہالت، نااہلی اور کم فہمی کی وجہ سے عالمی معاہدے کی دھجیاں بکھیریں جسکے نتیجے میں عالمی عدالتوں میں رسوائی کا داغ سمیٹا اوراب 6 ارب ڈالر کا
مزید پڑھیے


سیندِک سے ریکوڈک تک قسط 2

پیر 22 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
ریکوڈک کے پڑوس میں واقعہ "سیندک" کی کہانی، سیاسی شعبدہ بازی، بددیانتی، نااہلی اور ناکامی کی بدترین مثال ہے۔ اسکے پہلے پچیس سالوں پر مشتمل رپورٹ بنانے بیٹھا تو حیرتوں کا جہان مجھ پر کھلتا چلا گیا۔ 1956 ء میں پاکستان کے جیالوجیکل سروے اور امریکہ کے جیالوجیکل سروے کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسکے تحت پاکستان میں زیرزمین معدنیاتی وسائل کا کھوج لگا کر انکے نقشے مرتب کرنا مقصود تھا۔ یہ معاہدہ 1970 ء تک چلتا رہا ہے اور اسکے تحت بنائے گئے تمام نقشے اور معدنی وسائل کے بارے میں تمام معلومات امریکہ کی پرنٹنگ پریس
مزید پڑھیے




سیندِک سے ریکوڈک تک (قسط 1)

بدھ 17 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
بلوچستان کا ضلع چاغی جسے اب دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، ایک زمانے میں اس وقت کے صوبہ سرحد اور موجودہ خیبر پختونخوا سے رقبے میں بڑا تھا۔ کوئٹہ کے گردونواح سے یہ ضلع شروع ہوتا اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ایران کی سرحد پر جا کر ختم ہوتا۔ پاکستان کے نقشے پر جنوب مغربی سمت میں جو ایک کونہ ہے، جہاں تین ممالک ،ایران افغانستان اور پاکستان ملتے ہیں وہ ضلع چاغی کا قصبہ رباط ہے۔ 1897 ء میں انگریز نے خان آف قلات سے یہ علاقہ ایک معاہدے پر حاصل
مزید پڑھیے


استغفار کرو

منگل 16 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے تقریبا تیس سال قبل راولپنڈی کے نیٹ کیفے میں خفیہ ویڈیوز کا ایک سکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس نے پاکستانی معاشرے کے ایک مکروہ اور غلیظ روپ کا پردہ چاک کیا تھا۔ اس دور میں نیٹ کی سہولت اتنی عام نہ تھی، اس لیے لوگوں نے جابجا نیٹ کیفے بنا کر رکھے تھے جن میں میں چھوٹے چھوٹے کیبنوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاںانٹر نیٹ کی سہولیات استعمال کرتی تھیں۔ ای میل یا دیگر ذاتی دستاویز تک رسائی کی وجہ سے ان کیبنوں کو ایک لفٹ کی طرح بند ڈبے کی شکل دے دی
مزید پڑھیے


جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی

پیر 15 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
انقلاب کا کیڑا اور اس قبیل کے تضحیک آمیز الفاظ انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں۔ فرعون، نمرود، شداد اور ابو جہل جیسے کرداروں نے ان ذلت آمیز القابات کا استعمال پیغمبروں کے خلاف کیا۔ اس لیے کہ وہ جس طرز زندگی و معاشرت کو آئیڈیل سمجھ کر اس پر عمل پیرا تھے، پیغمبروں نے اسکے خلاف تبدیلی اور انقلاب کا علم بلند کیاتھا۔ دنیا کے ہر غاصب، آمر، ڈکٹیٹر سے لیکر آج کے دور کے سود خور کارپوریٹ سرمایہ دار تک ہمیشہ سب ہر اس فرد، گروہ اور نظریے سے خائف رہے ہیں جس
مزید پڑھیے


ٹرمپ یا پیوٹن

بدھ 10 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
آج سے ستائیس سال پہلے پوری مسلم امہ یورپ کے ایک خطے بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا ماتم کر رہی تھی۔ بلقان کے اس ملک کے خوبصورت لوگ آرتھوڈوکس چرچ کے ماننے والے سرب باشندوں کے ہاتھوں بدترین دہشت گردی کا شکار ہورہے تھے۔ یہ جنگ تقریبا چار سال تک جاری رہی اور اس میں پانچ لاکھ کے قریب مسلمان لقمہ اجل بنا دیے گئے تھے۔ یہ میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا، مگر اسکے باوجود بھی جو تصویریں، خبریں اور فلمیں حکومتی ذرائع ابلاغ تک پہنچتی تھیں وہی اسقدر خوفناک اور دل دہلا دینے والی
مزید پڑھیے


پرانے ناموں کے بوسیدہ اشتہار

منگل 09 جولائی 2019ء
اوریا مقبول جان
اقبال ساجد پاکستان کے ان چند شعرا ء میں سے ایک ہے جس کے کمال فن کو دس فیصد بھی پذیرائی نہیں ملی۔ پاک ٹی ہاؤس کے اردگرد منڈلاکر اپنی شام کے لوازمات کے لئے احباب سے چندہ اکٹھا کر کے زندگی کی گھڑیاں گننے والا یہ شاعر، بلا کی شاعری کر گیا ہے۔ جدید شاعری میں اگر کسی نے غزل کو نئے مضامین، مختلف اسلوب اور بدلتے وقت کے استعاروں سے سجایا ہے تو وہ اقبال ساجد تھا۔ اسی لیے وہ اپنے عہد کے کسی شاعر کو بھی نہیں مانتا تھا۔ کسی کا شعر سنتا تو ایک دم بول
مزید پڑھیے