BN

اوریا مقبول جان



تیری بربادیوں کے مشورے ہیں


گزشتہ صدی کے ترقی پسند سامراج دشمن اور موجودہ صدی کے روشن خیال سامراج دوست دانشور جو اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک و تمسخر کے لیے طرح طرح کے تاریکی چٹکلے تخلیق کرتے تھے، یوں لگتا ہے آج وہ خود ان تاریخی چٹکلوں کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ ایک تاریخی چٹکلہ جسے بچپن سے سنتے سنتے کان پک چکے ہیں وہ یہ تھا کہ "جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو مسلمان اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ سوئی کے ناکے پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں"۔ اس احمقانہ اور بے جوڑ بات کا اطلاق
بدھ 12 جون 2019ء

ججوں کا ضابطۂ اخلاق

منگل 11 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کی عدالتوں میں روزانہ کروڑوں گواہ اس مالک کائنات کو حاضر و ناظر جان کر اپنی اپنی مذہبی کتابوں پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کے حلف کی روایت انگریز کے زمانے سے چلی آ رہی تھی جس میں ضیاء الحق نے ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ "اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار"۔ شروع شروع میں پولیس کے روایتی گواہ جو مثلِ مقدمہ دیکھ کر سچ جھوٹ ملا کر بیان دیا کرتے تھے وہ بہت ہچکچائے، لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ اسکے عادی
مزید پڑھیے


جمہوریت کی بالادستی میں قتل و غارت کے 119سال

پیر 10 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
میں آج تک اس پانچ سالہ بچے کا چہرہ نہیں بھول سکا اور لگتا ہے کہ موت تک وہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا یہ الفاظ آئندہ امریکی انتخابات میں ڈیمو کریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شریک سیٹھ مولٹن(seth moultan)کے ہیں۔ اکتالیس سالہ مولٹن میسی چوسٹ ریاست سے امریکی کانگریس کا رکن ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ 2002ء میں سکینڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے فوج میں بھرتی ہوا اور ورجینیا کے ٹریننگ سکول سے تربیت کے بعد وہ براہ راست صدام حسین کے عراق پر حملے کے لئے بھیج
مزید پڑھیے


عید اور امت مسلمہ

بدھ 05 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا کسی کو خبر ہے کہ پوری دنیا میں تقریبا چھبیس کروڑ مسیحی ایسے ہیں جو 25 دسمبر کو کرسمس یعنی سیدنا عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن نہیں مناتے۔ رقبے کے حساب سے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس میں یہ آبادی کا 77 فیصد ہیں جبکہ یوکرین، رومانیہ، بیلاروس، یونان، سربیا، بلغاریا، جارجیا، قبرص اور بوسنیا، میں یہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ انہیں راسخ العقیدہ (Orthodox) عیسائی کہا جاتا ہے۔ یہ چھبیس کروڑ عیسائی کرسمس کو قدیم جولین(Julian) کیلنڈر کے مطابق مناتے ہیں۔ یہ رومن بادشاہت کے زمانے کا کیلنڈر ہے جسے جولیس سیزر
مزید پڑھیے


جمہوریت کا سو سالہ سفر :ہٹلر سے نریندر مودی تک

منگل 04 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ ستر سال سے یہ سب سنتے ہوئے کان پک گئے ہیں کہ وہ دیکھو ہمارے پڑوس میں ایک ملک بھارت ہے، ہمارے جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ویسا ہی کھانا کھاتے ہیں، گانے سنتے ہیں، ہماری طرح کی رسم و رواج رکھتے ہیں، اکثریت نسلی طور پر بھی ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے مزاج بھی ایک جیسے ہیں، مگر ان سب مشترکات کے باوجود، وہاں فوج حکومت کا تختہ الٹ کر برسر اقتدار نہیں آتی، وہاں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہتا ہے، وہاں سسٹم پٹری سے نہیں اترتا۔ پھریہ دانشور خود ہی اس سب کی
مزید پڑھیے




پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی

پیر 03 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
دنیا کے کسی بھی معاشرے میں تحریر یا زبان و کلام میں اس طرح کے محاورے عام مل جائیں گے جس میں آنے والے وقت سے خبردار کیا گیا ہو ،پھر یہ بتایا گیا ہوکہ دیکھو فلاں معاملے کا رد عمل ایسا ہوگا۔ انسانی تہذیب میں جنگوں کی اخلاقیات میں بھی چھپ کر وار کرنا یا شب خون مارنا انتہائی برا سمجھا جاتا رہا ہے، بلکہ اس طرح کے دشمنوں کو بزدل اور کمینہ کہا جاتا رہا ہے۔ چین میں بھی اسی طرح کا محاورہ پایا جاتا ہے۔ "وو وی یان ڑی بویو" جس کا مطلب ہے "یہ مت کہو
مزید پڑھیے


ہمیں کسی روپرٹ مرڈوک کی ضرورت نہیں

بدھ 29 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ دو دہائیوں سے دنیا بھر کے پھیلتے ہوئے میڈیا کو اپنے قبضے میں رکھنے، اپنی مرضی کی اطلاعات لوگوں تک پہنچانے، اپنے خیالات و نظریات کو لوگوں کے ذہن میں پختہ کرنے اور پوری دنیا کو ایک جیسے کلچر، طرزِ زندگی، ثقافت یہاں تک کہ کھانے پینے اور پہننے کے ذوق تک ایک جیسا کرنے کے لیے عالمی سودی، مالیاتی، سیکولر کارپوریٹ نظام کے کرتا دھرتاؤں نے اسے خرید کر ایک چھتری کے نیچے جمع کرنا شروع کیا۔ یوں تو جدید "آزاد" میڈیا شروع دن سے اشتہارات دینے والوں کا غلام ہے لیکن اسے مکمل طور پر غلام بنانے
مزید پڑھیے


بری سے بری جمہوریت

منگل 28 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
سیکولر، لبرل اور جمہوریت پسند مسلمان سکالرز کا کمال یہ ہے کہ انہیں شدت پسندی، دہشت گردی اور امن دشمنی صرف اور صرف مسلمان معاشروں میں نظر آتی ہے اور اسکی جڑیں بھی وہ کہیں نہ کہیں سے کھینچ کھانچ کر آمریت میں نکال لیتے ہیں۔ آمریت بھی وہ جسکا سربراہ اسلام کے نام کا استعمال کرتا ہو، ورنہ مصر کا جمال عبد الناصر ہو یا پاکستان کے ایوب خان اور مشرف، انکے ادوار تو دراصل ان سکالرز کے نزدیک شدت پسندی سے جنگ کرتے ہوئے گزرے۔ ان عظیم اور جدید مسلمان سکالرز کے نزدیک جمہوریت ہی تمام دکھوں کا
مزید پڑھیے


موسیٰ موسیٰ۔ ذاکر موسیٰ

پیر 27 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
جس دن دنیا بھر کے جمہوریت پرست علمائ، جدید مسلم فلاسفر اور مرنجامرنج اسلامی جدوجہد کے داعیان کے منہ پر بھارت کی بیداغ جمہوریت نریندر مودی کی صورت میں "اکثریت کی آمریت" کے زوردار طمانچے رسید کر رہی تھی، اسی دن بہتر سال سے قائم اس مسلسل بھارتی جمہوری حکومت کے سپاہی، ملت اسلامیہ کے ایک ایسے نوجوان کو شہادت کی موت سے سرفراز کرنے کے لیے گھیرے ہوئے تھے جسکا نام صدیوں تک آسمان شہادت پر جگمگاتا رہے گا۔ پچیس سالہ ذاکر موسیٰ جس نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو قوم پرستانہ شرک سے آزاد کر کے خالصتاً
مزید پڑھیے


کیا اصل نشانہ پاکستان ہے (آخری قسط)

بدھ 22 مئی 2019ء
اوریا مقبول جان
ایران اور امریکہ کے درمیان دھمکیوں، معاشی پابندیوں، سفارتی تعلقات کے خاتمے اور زبانی جنگ کا سلسلہ انقلاب ایران یعنی چالیس سال سے چل رہا ہے۔ آیت اللہ خمینی اسے شیطان بزرگ کہتے تھے اور دوسری جانب امریکہ بھی ایران کو Axis of Evil یعنی شیطان کا محور قرار دیتا رہا ہے۔ لیکن یہ جنگ کبھی بھی زبان و بیان سے آگے نہ بڑھ سکی۔ لیکن اس عرصہ میں ایران کے دو پڑوسی ممالک ، افغانستان اور عراق بدترین امریکی اور عالمی جارحیت کا شکار ہوئے۔ یعنی جنگیں شیطان کے محور کیخلاف نہیں ،اسکے آس پاس ہوتی رہیں۔ قریبی پڑوسی
مزید پڑھیے