BN

اوریا مقبول جان


جمہوریت کا فریبِ نظر۔ اجتماعی ہپناٹزم


تماشہ ختم ہوا۔۔ابھی تو لوگ شوق سے دیکھنے جمع ہو ہی رہے تھے کہ خیمے کی طنابیں ٹوٹیں اور ایسی ٹوٹیں کہ ہر کوئی سٹیج سے اچھل کر ایک سمت ہو لیا۔ لوگ تو مشتاقِ دید تھے، تماشے میں گم تھے، ابھی ان کے سامنے منظر پوری طرح واضح ہی نہیں ہوا تھا، کہ سٹیج سے کودنے والے دونوں گروہ گرے ہوئے خیمے کے ساتھ کھڑے ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے کہ طنابیں اس نے کاٹی ہیں۔ مگردیکھنے والوں کے لیئے یہ نظارہ بھی دلچسپ تھا، ایک دم ڈرامائی۔ شروع شروع میں تو انہیں یقین ہی نہیں
جمعه 02 اپریل 2021ء

لاہور کی سیکولر پرائیویٹ یونیورسٹیاں اور پاکستان

جمعرات 01 اپریل 2021ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ پندرہ دنوں سے پاکستان کے سیکولر لبرل دانشور طبقے کا ایک بڑا حصہ انگاروں پر لوٹ رہا ہے۔ایسے لگتا ہے کہ انہوں نے نفرت کے جس تناور درخت کو جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں کے پانی سے سیراب کرکے پالا تھا،بنگلہ دیش میں بلند ہونے والے غزوۂ ہند کے نعروں نے اسے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو۔ستر سالوں کی محنت پر پانی پھر جائے تو حالت دیدنی ہوتی ہے۔25مارچ کے دن کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے سیکولر طبقات نے مشترکہ طور پر ایک علامت کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ بنگلہ دیش کی سیکولر سرکار نے
مزید پڑھیے


آنکھ جھپکنے جتنی غلطی …اور…

اتوار 28 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
چین کے اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کے حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں ان دنوں ان کی تاریخ کی مشہور ضیافت کا تذکرہ ملتا ہے جسے ’’ہانگ مین ضیافت‘‘ (Hongmen Banquet) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ چینی تاریخ میں اس کا دوسرا نام ’’راج ہنس والے دروازے پر پُرتکلف دعوت ‘‘ (Feast at Swan Goose Gate) ہے۔ یہ دراصل 206قبل مسیح کا واقعہ ہے جب چین پر کوئن (Qin) خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کے اقتدار کے خلاف چین کے مختلف علاقوں میں بغاوتیں پھوٹ پڑیں اور بالآخر یہ دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوگئیں اور
مزید پڑھیے


پاکستان کا بدقسمت ترین دن

هفته 27 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
جو لوگ آج اسے ایک سیاسی فتح قرار دیتے ہوئے خوشی اور مسرت کے شادیانے بجا رہے ہیں وہ دراصل آئندہ کے پاکستان میں جرم و سزا کے تمام معیارات کو سیاسی نعرہ بازی کے بدبودار گٹر میں غرق کر رہے ہیں۔ اگر لوگوں کا ہجوم نیب کی عمارت کو آگ بھی لگا دیتا ، وہاں پر موجود اہلکاروں کوقتل کر دیتا تو پھر بھی یہ سودا مہنگا نہیں تھا مگر فسادِ خلق سے ڈر کر مریم نواز کی پیشی ملتوی کی گئی۔ اس لیئے کہ جرم کی دنیا میں اگر لوگوں کے جم غفیر سے ڈر کر پسپائی اختیار
مزید پڑھیے


بنگلہ دیش میں غزوۂ ہند کے نعرے کی گونج

جمعه 26 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک پچاس سال قبل 7مارچ 1971ء کو رمناریس کورس گراؤنڈ ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمٰن نے 19منٹ طویل تقریرکے دوران سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے پانچ اعلانات کیئے۔(1)لوگ ٹیکس ادا نہ کریں، (2) سرکاری ملازمین شیخ مجیب الرحمٰن سے احکامات وصول کریں، (3) مشرقی پاکستان کی سیکرٹریٹ ، تمام سرکاری ادارے اور عدالتیں ہڑتال پر چلی جائیں، (4) ٹیلی فون صرف لوکل کالیں ملائیں اور(5) بندرگاہیں اور ریلوے کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے تعاون نہ کریں۔تقریر کے آخر میں اس نے بنگلہ دیش کا پرچم لہراتے ہوئے کہا، اس دفعہ ہماری جدوجہد خودمختاری کے لیے
مزید پڑھیے



ایک اور عالمی جنگ اور پھر۔۔۔

جمعرات 25 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
آج سے ٹھیک ایک صدی قبل، عوام کی حاکمیت، آئین کی بالادستی، قومی ریاست کے پرچم کی سربلندی،وطن کے نام پر زمین کے ٹکڑوں کی حفاظت پر انسانوں کے قتلِ عام کا تقدس اور عالمی سودی مالیاتی نظام کی اجارہ داری جیسے آدرشوں کے ساتھ جس سرمایہ دارانہ جمہوریت اور قومی ریاستوں کے نظام کی بنیاد رکھی گئی تھی، گذشتہ ربع صدی سے اس کی سانس کی ڈوریں ٹوٹنا شروع ہوگئی تھیں۔ اب یہ آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ عالمی سودی مالیاتی نظام کے زیرِ سایہ جمہوری قوتوں کے درمیان، جب کاغذ کی جعلی کرنسی کی لڑائی اپنے عروج
مزید پڑھیے


حکومتِ بینک دولتِ پاکستان

اتوار 21 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
کہانی کہنے والے، بادشاہوں کی داستانوں میں ایک ایسی حسینہ کی کہانی بیان کیاکرتے تھے، جسے فاتح حکمران سے انتقام لینے کے لیے پالا جاتا تھا۔ ایک انتہائی خوبرو،دلکش اور حسین بچی کو پورے ملک سے منتخب کیا جاتا اور اسے شاہی طبیب کی نگرانی میں پالاپوسا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہی طبیب اسے ایک خاص قسم کے زہر کو ہزار درجہ کم مہلک بنا کر بچپن سے اس خاتون کی خوراک کا حصہ بناتا اور وہ خاتون اس زہر پر پلتی ہوئی جوان ہوتی۔ عمر کے ساتھ ساتھ زہر میں بھی اضافہ کر دیا جاتا اور ایک دن
مزید پڑھیے


دھرم پال جی اور پاکستان کے جھوٹے سیکولر لبرل

هفته 20 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے سیکولر طبقے نے جو چند تاریخی جھوٹ گھڑ رکھے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انگریزوں کے برصغیر پاک و ہند میں آنے سے قبل یہاں جہالت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا، تعلیم تھی اور نہ ہی سائنسی ترقی۔ جبکہ اسکے برعکس یورپ میں یونیورسٹیاں بن رہی تھیں اور ہندوستان میں شالامار باغ اور تاج محل۔ لبرل سیکولر بیانیے کے اس بے بنیاد تاریخی جھوٹ پر پاکستان کے کئی دانشوروں اور کالم نگاروں کی دکانیں چلتی ہیں۔پاکستانی سیکولرلبرل طبقہ مسلمانوں کے ماضی، پاکستان کی اسلامی اساس اوراس خطے کی اسلامی تہذیب سے جنم
مزید پڑھیے


قائد اعظم کا سٹیٹ بینک،اب سودی معیشت کا اژدھا (آخری قسط)

جمعه 19 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
قائد اعظم کے اس دنیا سے چلے جانے کے ساتھ ہی پاکستان سٹیٹ بینک نے اپنی بنیادیں ان کی ہدایات کے برعکس, اسلامی اصولِ معیشت کی بجائے سودی مالیاتی نظام پر رکھ دی تھیں۔چونکہ اس نوزائیدہ ملک میں صنعتی پیداوار میں ترقی اور کاروباری دنیا کی وسعت زیادہ نہیں تھی، اس لیے پاکستان کا انحصار نہ تو غیر ملکی قرضوں پر تھا اور نہ ہی درآمدات برآمدات کیلئے فارن ایکسچینج کے اتنے بکھیڑے تھے، یہی وجہ ہے کہ سٹیٹ بینک کا کردار بہت محدود رہا۔پاکستان کے پہلے دس سال حیران کن معاشی ترقی کے سال ہیں۔ اس دور کی
مزید پڑھیے


قائدِ اعظم کا سٹیٹ بینک ،اب سودی معیشت کا اژدھا

جمعرات 18 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے بننے کے بعد سودی معیشت، مغربی مالیاتی نظام اور جدید مغربی طرزِ حکومت پر سب سے توانا اور جاندار آواز بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی۔یہ وہ دور تھا جب موجودہ مالیاتی نظام اور سودی بینکاری ابھی عہدِ طفولیت میں تھی۔امریکہ میں اڑتالیس ممالک کے بریٹن ووڈ (Bretton wood) معاہدے کے بعد ایک نئے عالمی مالیاتی نظام کے وجود میں آئے ہوئے ابھی صرف تین سال ہی ہوئے تھے۔ سودی معیشت کا خوشنما شکنجہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) یوں تو 27 دسمبر 1945ء میں ہی قائم ہو گیاتھا ،لیکن اس نے اپنے آکٹوپس والے
مزید پڑھیے








اہم خبریں