BN

اوریا مقبول جان


ایک نظریاتی جاسوس


آج کے دور میں کسی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو محض ایک جاسوس کہنا، اس کی شخصیت اور کام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت طاقت، قوت ، معیشت اور غلبے کی جو بساط بچھی ہوئی ہے اس کے پیچھے عالمی قوتوں کے خفیہ ادارے ہی متحرک ہیں ۔یہ تمام ادارے اپنی ایک آئیڈیالوجی رکھتے ہیں اور ہر ادارے کا سربراہ ایک ’’نظریاتی‘‘ شخص ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک زمانے تک آئی ایس آئی کو یہ اعزاز حاصل تھاکہ وہ ایک مکمل نظریہ رکھتی تھی ،پھر وقت کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی کاسہ لیسی میں اب
اتوار 14 مارچ 2021ء

مولانا ’’مظاہرہ‘‘

هفته 13 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
صرف آٹھ سال کے عرصے میں پاکستان کی چار جاندار تحریکیں ایسی ہیں، جن میں مجھے عملی طور پر ایک کارکن کی حیثیت سے حصہ لینے کا موقع ملا۔ بارہ سال کی عمر میں ایوب خان کے خلاف جلوسوں میں حصہ لینا شروع کیا تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی پر نظریاتی کیمونسٹوں کا غلبہ تھا۔اکبرعلی ایم اے ،کارل مارکس کی مشکل ترین کتابوں کو آسان لفظوں میں ڈھال کر چھوٹے چھوٹے پمفلٹ بنا کر تقسیم کرتے تھے اور پھر بہت ہی سادہ زبان میں سمجھاتے۔ عثمان فتح گجرات پیپلز پارٹی کے سربراہ تھے اور صاحبِ علم کیمونسٹ بھی۔ ان
مزید پڑھیے


وارننگ پر وارننگ

جمعه 12 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
ہم ایک بہت بڑے عالمی قحط کا شکار ہونے والے ہیں۔ کیا اس خوفناک وارننگ کا کسی کو اندازہ ہے جو گذشتہ چند مہینوں سے دنیا بھر کے سائنسدان، عالمی ادارۂ خوراک، ورلڈ بینک اور لاتعداد عالمی تنظیمیں دے رہی ہیں۔’’ کرونا‘‘کی وجہ سے جو خوراک کے ذخیروں میںجو کمی واقع ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں بھوکوں کی تعداد اسّی کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ کرونا سے پہلے یہ تعداد اندازاً تیرہ کروڑ تھی۔ ان اسّی کروڑ میں سے چوبیس کروڑ ایسے ہیں جو مکمل فاقہ زد گی کی وجہ سے موت کی آغوش میں
مزید پڑھیے


افغانستان: دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش

جمعرات 11 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
یوں تو یہ ایک خط ہے جو اس وقت دنیا کے نقشے پر اپنے آپ کو واحد سپر پاور سمجھنے والی قوت امریکہ کے وزیر خارجہ نے افغانستان کے صدر کو لکھا ہے۔ لیکن خط میں ایک جیتی جاگتی کہانی نظر آتی ہے، ایک تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی تصویرجس میں آپ کو افغان صدر اشرف غنی دست بستہ، سر جھکائے، کورنش بجائے نظر آئے گا، جسے اس کے ’’آقا ‘‘کا پیغام پڑھ کر سنایا جا رہا ہو۔ خط کے مندرجات پڑھنے کے بعد چشمِ تصور میں آنے والی اس تصویر کے پیچھے ایک تاریخ ہے جو انیس سال
مزید پڑھیے


اپنی ذلت کی قسم، آپ کی عظمت کی قسم

اتوار 07 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
عزت مآب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے جس دن سے اس مملکتِ خداداد پاکستان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر یہ کہا ہے، ’’لگتا ہے ہم پاکستان نہیں کسی گٹر میں رہ رہے ہیں‘‘، اس دن سے میں صحیح طور پر سو نہیں سکا۔ قاضی فائز عیسیٰ چونکہ نسلاً ہزارہ سے ہیں۔ان کے دادا قاضی جلال الدین افغانستان سے ہجرت کر کے ریاست قلات میں آئے تھے، اس لیے ہو سکتا ہے انہیں اپنی آبائی زبان فارسی ابھی تک بھولی نہ ہو،اس لیے میں شیخ سعدی کی وہ رباعی ان کی نذر کرنا چاہتا ہوں، جسے
مزید پڑھیے



طبلِ جنگ

هفته 06 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
سودی معیشت سے تخلیق کردہ مصنوعی کاغذی دولت سے تعمیر کردہ جدید عالمی جمہوری سیاسی نظام اپنے ظلم اور قتل و غارت کو درست، جائز اور انسانیت کے لیئے ضروری ثابت کرنے کے لئے اسی سودی معیشت پر پلنے والے ’’بھونپو‘‘ (Megaphone,Amplifier) یعنی ’’میڈیا‘‘ کا سہارا لیتا ہے۔ آپ گذشتہ ایک سو سال کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں آپ کو ہر بڑی جنگ، ہر بڑے قتلِ عام یا ہر بڑی سرکاری دہشت گردی سے کچھ عرصہ پہلے میڈیا پر ایک پراپیگنڈہ مہم ضرور نظر آئے گی، جس کے ذریعے ثابت کیا جارہا ہوگا کہ اگر فلاں جگہ فوجی ایکشن
مزید پڑھیے


کوٹھے سے کوٹھی تک

جمعه 05 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
تین مارچ 2021ء کی شام ’’جمہوریت پرست‘‘ پاکستانی میڈیا کا ہیرو صرف اور صرف آصف زرداری تھا۔ کون تھا جو اس شخص کو پاکستان کی جمہوری سیاست کی شطرنج کا بہترین کھلاڑی نہیں کہہ رہا تھا۔ پاکستانی اشرافیہ جس میں سیاست دان، بیوروکریٹس، اعلیٰ بزنس مین، بڑے زمیندار، جج، جرنیل اور مالدار صحافی شامل ہیں، ان سب کے ’’عزائم بلند‘‘ اور شوق ’’نرالے‘‘ ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں جن کی صبحیں دولت سیمٹنے میں گذرتی ہیں اور راتیں رنگین ہوتی ہیں ۔ یہ اشرافیہ شوق ’’نئی منزلیں‘‘ تلاش کرتا رہتا ہے۔ آپ پاکستان کے پانچوں مراکزِ اقتدار
مزید پڑھیے


بھارت میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا

جمعرات 04 مارچ 2021ء
اوریا مقبول جان
لوگ صبح ہی سے ہمیں بتا رہے تھے کہ ہندو نوجوانوں کے جتھے کسی بھی وقت آپ کے گھر پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ میرے والد نے انتہائی پریشانی کے عالم میں میری والدہ اور ہم بہن بھائیوں کو آگرہ کے سب سے اچھے ’’مغل ہوٹل‘‘ میں منتقل کر دیا۔ چند گھنٹے وہاں گذارنے کے بعد، میری والدہ نے فیصلہ کیا کہ آخر کب تک ہم یہاں چھپے بیٹھے رہیں گے اور ادھر تمہارے والد بھی تو اکیلے ہیں، اس لئے ہمیں واپس جانا چاہیے۔ ہم دوپہر کے بعد واپس آگئے۔ پورے شہر میں بابری مسجد کی جگہ رام
مزید پڑھیے


امن نہیں: صف بندیاں بدلنے کی کوشش (آخری قسط)

اتوار 28 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی نہ کرنے کے 2003ء کے معاہدے کی پاسداری کے اعلان اور لدّاخ کے علاقے میں چین اور بھارت کی افواج کا زمانۂ امن کے مقامات کی جانب لوٹنا، یہ سب صرف جنوبی ایشیا کا ایک علیحدہ واقعہ نہیں ہے، بلکہ شمالی افریقہ کے ساحلوں سے لے کر آسٹریلیا کے میدانوں تک پورے خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں اور نئی صف بندیوں کی ایک چھوٹی سی علامت ہے۔ موٹروے پر جاتے ہوئے آپ کو اچانک یہ خیال آجائے کہ تھوڑا پیچھے رہ جانے والے ایگزٹ (Exit)سے راستہ بدل
مزید پڑھیے


امن نہیں :صف بندیاں بدلنے کی کوششیں …(1)

هفته 27 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
’’اگر کشمیر کا مسٔلہ حل کئے بغیرامریکہ افغانستان سے نکل گیا تو پھر دنیا بھر کے جہادیوں کو ایک ایسا متبال ٹھکانہ مل جائے گا، جہاں سے وہ اس پورے خطے میں بڑی آسانی سے دخل اندازی کرسکیں گے‘‘۔یہ محض ایک تجزیہ نہیں، بلکہ ’’وارننگ‘‘ ہے جو امریکی افواج کے سب سے بڑے پالیسی تھنک ٹینک نے وائٹ ہاؤس کے نو وارد امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دی ہے۔ امریکی افواج کی سمت متعین کرنے، موجودہ اور مستقبل کی قیادت کی رہنمائی کرنے اور دنیا بھر کی پیچیدہ جنگی صورتحال میں قائدانہ کردار ادا کرنے
مزید پڑھیے








اہم خبریں