اوریا مقبول جان



امریکہ کے بعد کا پر امن افغانستان


پاکستان کا سیکولر، لبرل اور روشن خیال طبقہ جو خود کو آزادی، امن اور انسانی حقوق کا علمبردار بنا کر پیش کرتا ہے، اس طبقے کے دل میں آج کل ایک خواہش بہت شدت سے مچل رہی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ شکست خوردگی کی ذلت کی دلدل میں بار بار دھنستے ہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ پھر قلم ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں یا کیمروں کے سامنے آکر اپنے سینوں میں چھپی ہوئی خواہشوں کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یہ طبقہ مدتوں کیمونزم، سوشلزم اور کسان مزدور کی بادشاہت کے خواب دیکھتا رہا، لیکن اس کا اصل
بدھ 30 جنوری 2019ء

کیا یہ عالمی جنگ کے آغاز کا سال ہے؟

پیر 28 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
امت مسلمہ کی عمر کا اندازہ لگانا اور قرب قیامت کی علامتوں اور دور فتن کی دستک کے بارے میں علم حاصل کرنا مسلمان امت کے علماء کی روایت رہی ہے۔ ان کی تمام جستجو اور علم قرآن پاک کی آیات اور سید الانبیاء ؐکی احادیث کے دائرے میں گھومتا ہے۔ یوں تو ان چودہ سو برسوں میں لاتعداد بندگان خدا، اولیائ، اصفیاء اور اصحاب سیر ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ایسے مکاشفات ،الہام اور خواب بیان کئے ہیں جن میں اس دورِ آخر کے بارے میں اشارے ملتے ہیں۔ لیکن اس تمام علم پر عائد دو پابندیاں بہت
مزید پڑھیے


کیا یہ عالمی جنگ کے آغاز کا سال ہے؟

جمعه 25 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ بیس سالوں سے یہ دنیا جس تیزی کے ساتھ جنگ و جدل، قتل و غارت اور خوف و دہشت کے ماحول کی طرف بڑھی ہے، پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ بیسویں صدی، جو کہ دو عالمی جنگوں کے ساتھ ساتھ لاتعداد جنگوں کا شکار رہی، اس صدی میں بھی کبھی دنیا اس طرح مسلسل سلگتی نہیں رہی۔بلکہ ان جنگوں کے آغاز سے لے کر انجام تک مختلف ممالک کی افواج ایک دوسرے سے نبرد آزما تھیں اور پھر ایک دن ان دونوں میں سے ایک گروہ کو فتح حاصل ہو گئی۔ لیکن ان گزشتہ بیس سالوں
مزید پڑھیے


جدید معاشی و سیاسی تہذیب کے 26 مکروہ کردار

بدھ 23 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
سرمایہ دارانہ سودی معیشت سے جنم لینے والی ’’مقدس جمہوریت‘‘ ایک ایسا عالمی استحصالی نظام ہے جس کی کوکھ سے گزگشتہ پچاس سالوں میں غربت‘ افلاس، بھوک، بیماری، قحط، بے روز گاری، جنگ، دہشت، قتل و غارت، ہجرت، بدیانتی، رشوت، بے ایمانی، جنسی استحصال اور اغواء جیسی لاتعداد بلاؤں نے جنم لیا ہے۔ دنیا کا نقشہ اس جمہوری نظام کے سرمایہ دارانہ تسلط سے پہلے کبھی اس قدر خوفناک نہ تھا۔ خون چوسنے والے سودی بینکاری نظام سے جنم لینے والی مصنوعی کاغذی دولت کے انبار پر قابض کارپوریٹ دنیا کا خوش نما چہرہ، جمہوری سیاسی لیڈران، معاشی تجزیہ کار،
مزید پڑھیے


’’لائسنس ٹو کِل‘‘

پیر 21 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
ریاست مدینہ کا تو ذکر کرتے ہوئے کسی بھی سیاستدان کو ہزار مرتبہ اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے‘ وہ تو اللہ کی حاکمیت کا اعلان اور اس کے قوانین کے تابع آخرت کی جوابدہی کے تصور سے عبارت ایک معاشرہ تھا جس کے کسی ایک چھوٹے سے تصور کی جھلک بھی کسی ریاست میں نظر آ جائے تو لوگ پکار اٹھتے ہیں کہ وہ دیکھو انہوں نے اسلام کے اس قانون پر عمل کیا تو آج کس قدر سکون میں ہیں۔ اقبال نے جب اللہ کے حضور شکوہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پہ‘‘
مزید پڑھیے




دنیا بھر میں یکساں نظام تعلیم:کارپوریٹ غلامی کی تربیت گاہ

جمعه 18 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
جو لوگ ابھی تک لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم کا ماتم کرتے چلے آئے ہیں انہیں کچھ دیر کے لئے اپنے اس ماتم اور نوحہ و گریہ کو روک کر آج کے جدید نظام تعلیم کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے جس جدید مغربی تہذیب نے جنم لیا ہے‘ اس نے اپنی بقا کے لئے پوری دنیا میں یکساں نظام تعلیم مرتب کیا ہے۔ لارڈ میکالے کا نظام تعلیم دہرا معیار رکھتا تھا۔ حکمرانوں کے لئے علیحدہ اور محکوموں کے لئے مختلف۔ لیکن جدید
مزید پڑھیے


امریکہ کے 2020ء کے خواب

بدھ 16 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
امریکی حکومت کے بارے میں دنیا بھر کے سیاسی، اقتصادی اور عالمی امور کے ماہرین متفق ہیں کہ اسے نہ تو وائٹ ہائوس میں بیٹھنے والا صدر چلا رہا ہوتا ہے اور نہ ہی سینٹ یا ایوان نمائندگان میں منتخب ہو کر آنے والے اراکین۔ یہ تو دنیا بھر کو دکھانے کے لیے ایک جمہوری چہرہ ہے ورنہ آپ امریکی صدور یا ممبران سینٹ سے انٹرویو کر کے دیکھ لیں، ان میں سے اکثریت کو اس بات کا ادراک تک نہیں ہوگا کہ امریکہ کی خارجہ، داخلہ، یا دفاعی پالیسیوں کے مقاصد اور اہداف کیا ہیں۔ امریکہ ویت نام میں
مزید پڑھیے


یکساں نظام تعلیم کا نعرہ

پیر 14 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ چالیس سالوں سے پاکستان کے نظام تعلیم میں غیر ملکی کیکٹس کے خار دار پودوں کی طرح تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس ملک میں لاتعداد تعلیمی طبقات کو جنم دیا ہے۔ اس وقت چار واضح قسم کے تعلیمی ادارے‘ مختلف مقاصد‘ مختلف طریقہ ہائے تعلیم اور مختلف وسائل کے تحت چل رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو وہ دینی مدارس ہیں جو برصغیر پاک و ہند میں 1781ء میں قائم ہونے والے کلکتہ مدرسہ کی چھاپ ہیں۔ یہ پہلا خالصتاً دینی مدرسہ وارن ہیٹنگ نے قائم کیا تھا۔ اس سے پہلے برصغیر پاک و ہندمیں دینی
مزید پڑھیے


نہ خد اہی ملا‘ نہ وصالِ صنم

جمعه 11 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
سیکولر ‘ لبرل اور سود پرست جمہوری دانشوروں کا ایک طریق کار ہے جسے وہ اس وقت سے نبھا رہے ہیں جب سے 1947ء کی چودہ اگست کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایسی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا جو اسلام کے نام پر بنی تھی۔ انہیں کسی اور مذہب کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ریاست سے کوئی نفرت نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ عیسائیت کی بنیاد پر انڈونیشیا سے الگ ہونے والے خطے مشرقی تیمور کی بھی مخالفت کرتے۔ انہیں 9جولائی 2011ء کو عیسائیت کے نام پر سوڈان سے آزاد ہونے
مزید پڑھیے


خراب الھند من الصین(ہند کی خرابی چین سے)

بدھ 09 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ کہ جن کا سارا کاروبار سیاست و معیشت ہی غریب و پسماندہ ملکوں کو سودی قرضوں میں جکڑنے سے چلتا ہو‘ جنہوں نے آئی ایم ایف‘ ورلڈ بنک اور تجارتی بنکوں کے ذریعے پوری دنیا کو یرغمال بنایا ہو‘ اس مغربی دنیا کی عالمی طاقت امریکہ کا نائب صدر مائیک پینس(Mike pence)اچانک تڑپ کرکہتا ہے کہ سری لنکا کی مثال ان تمام ملکوں کے لئے ایک وارننگ ہے جو ایک بیلٹ ایک روڈ کے منصوبے کا حصہ ہیں‘ کیونکہ چین انہیں قرضوں کے جال (debt trap)میں پھنسا رہا
مزید پڑھیے