BN

اوریا مقبول جان



کرتار پور کاریڈور سے تلنگانہ الیکشن تک


امرتسر ایک ایسا شہر ہے جس کا ذکر میں نے بچپن میں اس قدر سنا ہے کہ ہمیشہ سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اگر میں وہاں گیا تو کوئی گلی محلہ یا عمارتیں دیکھی دیکھی محسوس ہونگی۔ پورا خاندان وہاں سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا‘ اس لئے میرے تمام بزرگ اس شہر کی ادبی‘ ثقافتی ‘ سماجی‘ سیاسی‘ مذہبی اور تعلیمی زندگی کا تذکرہ ایک سرد آہ کے ساتھ کرتے اور ایک ایسا نقشہ کھینچتے کہ سب کچھ ایک فلم کی طرح آنکھوں میں گھوم جاتا۔ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد میں جب اس
جمعه 14 دسمبر 2018ء

یہ نوے کون تھے؟

بدھ 12 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
جنگ کا جنون اور واحد عالمی طاقت کے مقام پر فائز رہنے کا خبط امریکہ کو آج جس مقام پر لے آیا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ لوگ جو خبر رکھتے ہیں‘ جن کے مطالعہ میں قوموں کے عروج و زوال کی کہانیاں آئی ہیں اور جن کی انگلیاں عالمی معیشت کی نبض پر ہیں‘ وہ سب امریکہ کے ایک ایسے ہی بدترین زوال کا منظر دیکھ رہے ہیں جیسا آج سے پچیس سال قبل دنیا کے افق پر دوسری بڑی عالمی طاقت سوویت کا ہوا تھا۔ سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ ہزاروں ایٹم بم‘ مستعد فوج‘ ٹینک
مزید پڑھیے


برتھ کنٹرول: پاکستان میں کیوں؟

پیر 10 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے دنیا بھر سے اعداد و شمار اکٹھا کر کے ہر سال ہر ملک کے حوالے سے اور عالمی معاملات کے بارے میں ایک ضخیم رپورٹ مرتب کرتی ہے جیسے ’’دنیا کے حقائق کی کتاب‘‘ (CIA World Fact Book) کہا جاتا ہے۔ اس میں دنیا کے بارے میں‘ اس کے سیاسی‘ سماجی‘ معاشرتی اور معاشی حالات کے متعلق اعداد و شمار ہوتے ہیں۔ آپ ان معلومات کو اب انٹرنیٹ پر جا کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سال یعنی یکم جنوری 2018ء کو اس سی آئی اے فیکٹ بک میں دنیا کے چھوٹے بڑے 232
مزید پڑھیے


قحط انسانی و تہذیبی زوال کی خشت اول

جمعه 07 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
تحریک آزادیٔ نسواں کے دلفریب پردے میں اخلاقی انحطاط اور خاندانی معاشرے کے زوال کی داستان کم از کم تین صدیوں سے بھی پرانی ہے۔ یہ تحریک یورپ میں اتحاد کی آوازوں تک محدود تھی۔ شروع شروع میں تو اسے غلاموں کی آزادی کی تحریکوں سے نتھی کیا گیا جو انیسویں صدی میں مقبول ہوئیں لیکن یورپ میں جیسے ہی جمہوریت نے اپنے قدم جمائے اور استحصال سے جنم لینے والے کارپوریٹ سرمایہ داری نظام نے اس کی پشت پناہی شروع کی تو جیسے اس تحریک کو پر لگ گئے۔ یوں تو اس کے بڑے خوبصورت مقاصد بیان کئے جاتے
مزید پڑھیے


جارج بش کے غرور سے ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست تک

بدھ 05 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
نپولین جب سینٹ ہیلنا کے قید خانے میں زندگی کے آخری ایام گزار رہا تھا تو ایک دن اس قید خانے کے انچارج نے ترس کھا کر اسے کہا کہ اگر تم ایک درخواست مجھے لکھ دو تو میں حکمرانوں سے کہہ کر تمہاری سزا میں تخفیف یا نرمی کی کوشش کروں گا۔ نپولین نے اپنے اسی تفاخر سے جواب دیا’’بادشاہ درخواست نہیں کرتے‘ حکم دیا کرتے ہیں‘‘ لیکن چند سرفروش‘ صاحبان ایمان اور پیکران عزیمت افغان طالبان کے جہاد کا ثمر اور نصرت کا عالم دیکھئے کہ گیارہ ستمبر2001ء کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد جدید دنیا
مزید پڑھیے




عمران خان صاحب:وزیر اعظم نہیں، لیڈر بنیں

پیر 03 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
قوموں کی تاریخ میں لاتعداد حکمران آتے ہیں اور ساحل کی ریت پر اپنا نام لکھ کر رخصت ہو جاتے ہیں، جسے آنے والی وقت کی لہر حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتی ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد کی منقسم دنیا کے دوسو کے قریب ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور موروثی بادشاہوں کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں، ان میں سے اکثر اپنے ملکوں میں بھی ایک بھولی بسری یاد کی طرح محو کر دیئے گئے۔ پاکستان میں وزرائے اعظم کی میوزیکل چیئر پر آپ تیسویں وزیر اعظم ہیں، لیکن اگر بازار میں گھومتے ہوئے عمر رسیدہ افراد
مزید پڑھیے


برتھ کنٹرول اور انسانی زوال

جمعه 30 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
آبادی کو کنٹرول کرنے کی انقلابی تحریک چلانے کا خواب ہمارے سادہ لوح اور عالمی سازشوں کی تاریخ کے مطالعہ سے تہی نابلد اصحاب عدل و انصاف نے ایسے نہیں دیکھ لیا اس کے پیچھے گزشتہ پچاس سالوں کا پراپیگنڈہ ہے۔ ایک خوف ہے جو دنیا بھر کے غریب اور پسماندہ ممالک پر مسلط کیا گیا ہے۔ برتھ کنٹرول کے اس پروگرام نے ساٹھ سالوں کے بعد جو حالات اب پیدا کئے ہیں۔ اس نے اس خوف کو ترقی یافتہ امریکہ اور یورپ کی جانب لوٹا دیا ہے جہاں اس وقت آبادی میں ہونے والی تیز رفتار کمی نے ایسے
مزید پڑھیے


برتھ کنٹرول اور انسانی زوال

بدھ 28 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
سپریم کورٹ کے ہال نمبر ایک میں اگر آپ کو جانے کا موقع ملے تو اس کی دیواروں پر گزرے زمانوں کے چیف جسٹس صاحبان کی تصویریں آپ کو آویزاں ملیں گی۔ اس ہال میں موجود روزانہ آنے والے سائلوں سے اگر آپ ان ماضی کے گرجتے برستے جج صاحبان کے بارے میں سوال کریں تو شاید ہی کوئی ایک دو کے بارے میں تھوڑا بہت جانتا ہو۔ آپ اسی سپریم کورٹ کے قد آدم دروازے کے سامنے رواں دواں سڑک پر لوگوں سے ان چیف جسٹس صاحبان کے بارے میں سوال کرنے لگیں جن کی تصویریں آپ نے وہاں
مزید پڑھیے


قرض واپس نہیں کریں گے:ایک تحریک کی ضرورت

پیر 26 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
صرف ایک انسان کی برپا کی گئی تحریک لاتعداد حکومتوں کو قائل کر سکتی ہے کہ وہ اپنے اوپر جو قرضوں کا بوجھ ہے اس کا تفصیلی جائزہ لیں‘ ایک ایک قرضے کی غرض و غایت اور نوعیت معلوم کریں اور اس قرضوں کے آڈٹ کے بعد اگر وہ محسوس کریں اور شواہد کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچیں کہ ان میں اتنے فیصد قرضہ ناجائز ہے۔ یعنی کسی حکمران کی خوشنودی‘ کسی رشوت زدہ پراجیکٹ کی تکمیل یا کسی ایسے معاہدے کے نتیجے میں لیا گیا جو اپنی ہئیت کے اعتبار سے عوامی مفاد کے خلاف ہے تو
مزید پڑھیے


عمران خان:اس حصارسے نکلو

جمعه 23 نومبر 2018ء
اوریا مقبول جان
کیا کسی کو علم ہے کہ جنوبی امریکہ کے مغربی ساحلوں پر ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا نام ایکوا ڈور (Ecuador)ہے۔ اس نے ایک دن اپنے ملک میں موجود ورلڈ بنک کے مستقل نمائندے کو نکال باہر کیا۔ اس کے مرکزی بنک کی عمارت میں آئی ایم ایف کے دفاتر تھے۔ انہیں حکم دیا کہ فوراً یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کرو۔ اور ورلڈ بنک کے 1966ء میں قائم کردہ عالمی سرمایہ کاری کے تنازعات حل کرنے والے ادارے International Center for Settlement of Investment Disuputesسے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن یہ کوئی پہلا ملک نہیں تھا اس
مزید پڑھیے