ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد لاڑکانہ اور اس کے گردونواح میں قبرستان کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے کچھ ہی برس کے بعد یعنی 80 کی دہائی میں اپنے آبائی قصبہ کو خیر آباد کہا۔ ضیا الحق کی آمریت کا دورلاڑکانہ اوراندرون سندھ میں جمہوریت کی بحالی کیلیے مظاہرے۔۔گرفتاریاں۔جبر کا ماحول— مزاحمت۔ غم و غصہ کے جذبات۔ انہی احساسات کے ساتھ میری زندگی کا اگلا سفر۔ منزل ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی وجہ تعلیم۔ ٹرین سے لاڑکانہ آئے کراچی کا یہ سفر مجھے بار بار ماضی میں دھکیل رہا تھا۔ میرے آبائی قصبہ منجوداڑو
پیر 23  ستمبر 2019ء