Common frontend top

ڈاکٹر احمد سلیم


’’ختم نبوت‘‘


ختم نبوت، فرقہ ورایت کا نہیں بلکہ اعتقاد اور ایمان کا اہم ترین اور بنیادی جز ہے۔ اس بارے میں ہمارا ایمان اور عقیدہ ذرا سا بھی متزلزل ہو جائے یا اس میں رتی برابر بھی تبدیلی پیدا ہو جائے تو ہم مسلمان ہی نہیں رہتے۔ اس کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیا اور رسول اللہ تعالیٰ کی جانب سے معبوث کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی ایسا شخص جو معبوث نہیں کیا گیا اس کے بارے میں ہم یہ عقیدہ یا خیال اختیار کر لیں کہ اسے کسی بھی شکل میں، کسی بھی حیثیت اور کسی
پیر 26 فروری 2024ء مزید پڑھیے

ہمارا کلچر ، ہماری ثقافت!

پیر 19 فروری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
مختلف پروگراموں میںہم ’’کلچر‘ ‘ کی بات کریں یا کبھی ’’ کلچرل ڈے‘‘ منا رہے ہوں تو ہماری سوچ کوئی صوبائی لباس پہن کر ایک آدھا لوک رقص کرنے سے آگے نہیں جاتی۔ا سی طرح پنجاب کی بات کی جائے تو ہمارا کلچر دھوتی کرتے سے شروع ہو کر ڈھول اور بھنگڑے پر ختم ہو جاتا ہے۔ ڈھول اور بھنگڑا بھی شاید ابھی تک صرف اس لیے بچا ہوا ہے کہ بھارتی فلموںمیں نظر آتا ہے۔ پنجابی زبان کی تو ایسی بد نصیبی ہے کہ پنجابی بھی اسکا ذکر کرتے ہوئے شرمانا فیشن اور جدت سمجھنے لگے ہیں۔
مزید پڑھیے


خواتین کا قومی دن!

پیر 12 فروری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
ہر برس آج کے دن پاکستان میں سرکاری طور پر ’’ خواتین کا قومی دن‘‘منایا جاتاہے۔ہر برس یہ دن خاموشی سے آتا اورگزر جاتا ہے۔ اس حوالے سے کہیں کہیں کچھ سنجیدہ تقریبات ہوتی ہیں لیکن میڈیاکوریج دینے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے جب گفتگو سنجیدہ ہو ، اور بات کرنے والیوں کو نہ تو عورت کی جسمانی ( مادر پدر) آزادی کی ضرورت ہو اور نہ ہی ان کی جسمانی مرضی اور پہناوا اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی حدود سے باہر نکلنے کے لیے بیتاب ہو، نہ کوئی بے ہنگم شور شرابا ہو نہ تنازعہ ، اور
مزید پڑھیے


’’ یوم یکجہتی کشمیر! ‘‘ــ

پیر 05 فروری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
پانچ فروری کے دن سرکاری طور پر ’’ یوم یک جہتی کشمیر‘‘ مناتے ہیں۔ عملی طور پر ہمارے لیے اس دن کی اہمیت اتنی رہ گئی ہے کہ اس روز چھٹی ہوتی ہے۔ یہ چھٹی اتوار کے ساتھ ا ٓ جائے تو سونے پر سہاگہ۔ اس دن کا پس منظر ہماری زندگی کی دوسری ذاتی مصروفیات کے پس منظر میں گم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ دن منانے کی تجویز سب سے پہلے 1990 میں قاضی حسین احمد نے دی تھی جس کے بعد اگلے برس مسلم لیگ نون کی حکومت نے کشمیر ی عوام کے
مزید پڑھیے


’’فری تھنکرز ڈے‘‘

پیر 29 جنوری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
آج 29جنوری کو ہر برس دنیا میں "Free Thinkers Day" منایا جاتا ہے۔ لفظ ’’ فری تھنکرز‘‘ کا اردو ترجمہ کرنے کی کوشش کی جائے تو کوئی ایسا لفظ نہیں ملتا جو اس لفظ کی مکمل اور درست ترجمانی کر سکے۔ جو پہلا اور قریب ترین ترجمہ ذہن میں آتا ہے وہ ہے ’’ آزا خیال‘‘۔ لیکن ان الفاظ کو جن معنوں میں ہم لوگ استعمال کرتے ہیں وہ اس اصطلاح کا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ لغت کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو سوچنے کے لیے لگے بندھے اصولوں کو چھوڑ کر کچھ نیا کچھ نئے انداز سے سوچتے
مزید پڑھیے



بلوچستان: فوری توجہ ضروری ہے!

پیر 22 جنوری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
گزشتہ ہفتے کے دوران ایران اور پاکستان کے مابین جو کچھ ہواسب کے علم میں آ چکا ۔ پاکستان نے تو خیر ایک ’’نپی تلی ‘‘ جوابی کاروائی کی لیکن اس سے قبل ایران نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پاکستان کے خلاف جو غیر ضروری اور غیر دانشمندانہ جارحیت کی تھی اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ جس دن ایران نے پاکستانی سرزمین پر حملہ کیا عین اس وقت ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان میں موجود تھا اور ایران اور پاکستان کی بحری افواج مشترکہ فوجی مشقوں میں مصروف تھیں۔ پاکستان
مزید پڑھیے


۔۔۔۔۔یہ ’’ انکا ‘‘ پاکستان ہے!

پیر 15 جنوری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
ہماری تمام سیاسی پارٹیاں عوام کو جو سبز باغ دکھاتی ہیں، ان میں معیشت کی بہتری، کشکول توڑ دینے، کشمیر کی آزادی اور پاکستان کو دنیا کا لیڈر بنا دینے جیسے وعدوں کے ساتھ ساتھ ایک یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے کہ ہم وی۔آئی۔پی کلچر کا خاتمہ کر دیں گے۔ ان میں سے اکثر وعدوں پر عمل درآمد کسی پارٹی کے بس میں نہیں کیونکہ ان سب چیزوںکے تانے بانے عالمی معیشت ، سیاست اور حالات سے جڑے ہیں۔ لیکن ملک کے اندر موجود وی۔آئی۔پی کلچر بہر صورت پاکستان کااندرونی معاملہ ہے، جس کا تعلق صرف ہمارے رویوں سے ہے،
مزید پڑھیے


کتاب، کتب خانے اور ہم!

پیر 08 جنوری 2024ء
ڈاکٹر احمد سلیم
کوئی شک نہیں کہ گزشتہ کچھ دہائیوں میں ہم معاشرتی طور پر ترقی کی بجائے گراوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ کوئی اسکا ذمہ دار ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کو ٹھہرائے گا تو کوئی سماجی تبدیلیوں اور تعلیمی نظام کو، کوئی معاشی حالات کو تو کوئی میڈیا اور انٹرنیٹ کو۔ کئی لوگ کمزور ہوتے خاندانی نظام کی دھائی دیں گے تو کچھ یہ بھی کہتے ہیں سیاسی موحول اس سب کا ذمہ دار ہے۔ بلاشبہ یہ تمام عوامل اپنی اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ایک اور عنصر جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ ہے ’’ کتاب اور کتب
مزید پڑھیے


بلوچستان!

پیر 25 دسمبر 2023ء
ڈاکٹر احمد سلیم
پاکستان کا ر قبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا یہ صوبہ قیام پاکستان سے اب تک مسائل کا شکار ہے۔ اگر ہم چند الفاظ میں بلوچستان کے مسائل کی وجوہات کا احاطہ کرنے کی کوشش کریں تو ان میں احسن طریقہ حکمرانی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ سرداری نظام، معاشی بدحالی، غربت، احساس محرومی، پسماندگی تو اپنی جگہ ہیں لیکن عملی طور پر سب سے اہم اور بڑا مسئلہ بیرونی طاقتوں کا ہاتھ اور سازشیں ہیں۔انگریز سے پہلے بلوچستان
مزید پڑھیے


دسمبر 1971

پیر 18 دسمبر 2023ء
ڈاکٹر احمد سلیم
دسمبر 1971ء میں ہونے والی تیسری پاک بھارت جنگ کا انجام پاکستان کے دو لخت ہونے پر ہوا تھا۔ بلاشبہ اس سانحہ میں بھارت کی افواج نے کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن کیا یہ صرف ایک فوجی شکست تھی جس کا نتیجہ سکوت ڈھاکہ کی شکل میں سامنے آیا؟ اگر کھلے دل و دماغ کے ساتھ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سے ایسے تلخ حقائق بھی ملتے ہیں جن کا بغور مطالعہ، اور اس دوران کی جانے والی غلطیوں کو پہچاننا اور ان سے سبق حاصل کرنا نہایت اہم اور ضروری ہے۔ چاہے کوئی شخص ہو یا
مزید پڑھیے








اہم خبریں