BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


مر جانا منٹو!


گزشتہ دنوں پاکستانی فلموں کے باکمال کامیڈین منور ظریف کی برسی تھی… ایسا اچھوتا فن کار کہ جس کا انداز، اسلوب، ٹھاٹ کسی سے چرایا بھی نہیں جا سکا۔ ایسا گُنی کہ کامیڈین ہو کے ہیرو کی کاٹھی پہ بیٹھتا رہا۔ وہ ہماری ثقافت کا غالباً پہلا ہنسوڑ تھا، جس نے اس شعبے کو توقیر کی پگڈنڈی پہ گامزن کیا، وگرنہ جُگت پانی کے اس عمل کو بالعموم بھانڈ میراثیوں ہی کا کام سمجھا جاتا تھا۔ منور ظریف سے متعلق مجھے سب سے زیادہ اس بات نے حیران کیا کہ وہ محض چھتیس برس کی عمر میںدنیا سے چلا گیا۔
منگل 11 مئی 2021ء

تُو قادر و عادل ہے…

اتوار 09 مئی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اے قادرِ مطلق! مَیں یہ بات بہ خوبی جانتا ہوں کہ تُو جس پہ مہربان ہو جائے اسے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے اور جس سے ناراض ہو جائے اس کا چھپر ہی پھاڑ دیتا ہے۔ اے آسمانوں کے، زمین کے، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ان سب کے رب! مَیں تیری بندگی کرتا ہوں اور تیری قدرتِ کاملہ پہ قانع بھی ہوں۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ جو لوگ پورے وثوق اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہمیشہ صرف اور صرف تجھی سے مانگتے ہیں، تُو نے انھیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ یہ بھی تسلیم کہ
مزید پڑھیے


وَبا کے دنوں میں تربیتِ اولاد

منگل 04 مئی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہم مغربی دنیا سے اس قدر مرعوب ہیں کہ کرونا جیسے موذی مرض میں بھی مجال ہے جو ہمارا دھیان کولمبین ناولسٹ گبریل گارشیا مارکیز کے سپینش زبان میں لکھے ناول ’وبا کے دنوں میں محبت‘ (Love in the Time of Cholera) سے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر ہوا ہو۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہماری پسند، ہمارا کریز، ہمارا کرش،حتّیٰ کہ ہمارا فیشن بھی ملکی سرحد کے باہر جا کے شروع ہوتا ہے۔ مغرب سے نظریں ہٹیں تو تھوڑی بہت توجہ راجندر سنگھ بیدی کے افسانے ’کورنٹین‘ پہ مرکوز ہو گئی۔ ہم اگر تھوڑا
مزید پڑھیے


ہم مسلمان ہوتے ہیں!

اتوار 02 مئی 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ ہمارے کالموں میں آئے دن اسلام، اسلام، اسلام کی تکرار دیکھ کے ایک دن اپنے ایڈیٹوریل انچارج جناب توصیف احمد خاں مرحوم پوچھنے لگے: ’’ تمھارے نزدیک ہمارے قومی اور ملکی مسائل کا واحد حل اسلام کا نفاذ ہی ہے؟‘‘ ہم نے فوراً سے بھی پہلے جواب دیا: جی سو فی صد!! جھٹ بولے: ’’کون سا اسلام نافذ کرو گے؟ مولوی فضل الرحمن کا اسلام یا قاضی حسین احمد کا اسلام؟… ساجد میر کا اسلام یا ساجد نقوی کا اسلام؟ … مفتی منیب کا اسلام یا طاہر اشرفی کا اسلام؟… طالبان کا اسلام یا
مزید پڑھیے


’بانگِ درا‘ سے جھانکتا اقبال (2)

منگل 27 اپریل 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شاعرِ مشرق جیسی ہمہ جہت اور اپنی زندگی ہی میں لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر جانے والی شخصیت کی بابت پڑھ سن کے نوجوان یا نیم خواندہ طبقے میں کئی طرح کا تجسسہر دور میں پایا جاتا رہا ہے کیونکہ شخصیات کی تاریخ میں اقبال، قادرِ مطلق کا ایک انوکھا، منفرد اور ناقابلِ یقین تجربہ ہے۔ وہ شاعر ہے تو اور طرح کا شاعر… وہ سیاست دان ہے تو مختلف نوعیت کا… وہ دانشور ہے تو اپنی طرز کا… وہ حسن پرست ہے تو سب سے الگ… وہ باغی ہے تو اپنے انداز کا … وہ عاشقِ رسول ہے تو
مزید پڑھیے



سوشل میڈیا کی لُتری

اتوار 25 اپریل 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ایک زمانے میں ہم نے ، احباب کی محفل میں روا رکھی جانے والی یاوہ گوئیوں، گرم گفتاریوں، بے دھڑک پھبتیوں، ذومعنی جگتوں کے سبب اپنے ایک لنگوٹیے یار کے خاکے کا عنوان ’’منہ پھٹ‘‘ رکھا،جس پر وہ منھ پھلا کے بیٹھ گیا۔ ہم نے اسے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ ہمارے پاس پہلی آپشن ’’بھونکا‘‘ کی بھی تھی، جسے سرِ عام افشا یا اختیار کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔ خیر دوست اچھا تھا، منھ پہ کڑوے سچ بولنے کا حوصلہ بھی رکھتا تھا، اس کی یہی ادا ہمیں بھاتی تھی، لہٰذا ہم نے تھوڑی رعایت کرتے ہوئے اپنی
مزید پڑھیے


’بانگِ درا‘ سے جھانکتا اقبال

منگل 20 اپریل 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ہمارے نزدیک ادبی تنقید کا اہم اور بنیادی مقصد و منصب، ادب کی تفہیم، فن پارے کے مقام و مرتبے کا تعین اور ان دونوں سے بھی بڑھ کے قارئین میں ادب کا ذوق پیدا کرنا ہے نیز لوگوں کو اچھے ادب کے مطالعے کی جانب راغب کرنا بھی اس کا متوقع و مستحسن فریضہ ہے۔ تنقید اگر یہ فریضہ ڈھنگ سے انجام نہیں دیتی تو وہ دانشوری ہو سکتی ہے، دوسری قوموں کی بھونڈی نقالی ہو سکتی ہے، اُلٹا سیدھا فیشن ہو سکتا ہے، ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہو سکتی ہے، اچھا خاصا تلا ہوا لُچ ہو سکتا ہے،
مزید پڑھیے


کُلیہ شرقیہ کے مدار المہام

اتوار 18 اپریل 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
پیارے م ۔ن! جہاں رہو، خوش رہو، جس سمت بہو، شدت سے بہو! میاں! جہاں تک مَیں جانتا ہوں، حیرانی تمھاری فطرت میں ایسے ہی کُوٹ کُوٹ کے بھری ہے، جیسے ہمارے تمھارے بچپن میںپرائمری سکول کے ماسٹر اور مسجد کے مولوی ننھے مُنے بچوں میں بہت ساری عادات و صفات کُوٹ کُوٹ کے بھرا کرتے تھے، لیکن اب تم اس بات پہ زیادہ حیران ہونے مت بیٹھ جانا کہ یہ مَیں ایک دم بیٹھے بٹھائے م ۔ن کیسے ہو گیا؟ ’’برخود‘‘ دار! سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہماری اُردو میں علی پور چٹھہ کے ایک قصباتی سکول کے منشی کا
مزید پڑھیے


اُردو مزاح کا نیا پراگا ……(2)

منگل 13 اپریل 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
جس طرح شاعر کے بقول، محبت کا نغمہ ہر ساز پہ نہیں گایا جا سکتا، بعینہ دنیا کے اور بہت سے دھندے بھی کسی نہ کسی مناسبت سے مختلف شعبوں اور پیشوں سے منسوب اور منسلک ہوتے چلے گئے۔ ایسی ہی بانٹ چونٹ میں ادب اور مزاح کو طبقۂ اساتذہ کی راجدھانی سمجھا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ دیگر مشاغل کے لوگ بھی اس میں داخل ہوتے چلے گئے۔ پہلے پہل صحافیوں کے ایک جتھے نے دھاوا بولا، دیکھا دیکھی وکیل اور جج بھی دندناتے چلے آئے۔اینکر اور بینکر بھی بے روک ٹوک قابض ہو گئے، فوج کے بعض اہل کار
مزید پڑھیے


اُردو مزاح کا نیا پراگا

اتوار 11 اپریل 2021ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مزاح سے مزاج کی فریکوئنسی کب ملی؟ کیوں ملی؟ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس بستی میں مسلسل پرواز کرنے کا لطف بہت آیا۔ جہاں تک مدعی کا اپنا حافظہ کا م کرتا ہے، اس چلبلے شعبے سے دل چسپی کی کئی صورتوں نے بچپن ہی میں ذہن و دل کو گدگدانا شروع کر دیا تھا۔ اس سے تعلق کا باقاعدہ آغاز کالجی زندگی میں مزاح کے شدید مطالعے سے ہوا۔ شدید اس لیے کہا ہے کہ اس زمانے میں کتاب حاصل کرنے کے لیے کالج لائبریری، دوست، فٹ پاتھیں، پرانی کتابوں
مزید پڑھیے








اہم خبریں