ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


شہر میرے گاؤں کی ویرانیوں کا نام ہے !


میرے گاؤں اور امریکا کی ترقی میں صرف ایک ہندسے کا فرق ہے کہ امریکا میں 1882ء میں بجلی سے جلنے والا بلب ایجاد ہوا تھا اور میرے گاؤں میں1982ء میں بجلی آئی تھی ۔کسی زمانے میں مَیں نے شہر اور گا ؤں کے فرق کے متعلق لکھا تھا کہ گاؤں سے شہر کا جتنا بھی فاصلہ ہے، شہر سے گاؤں کا فاصلہ اس سے بہرحال بہت زیادہ ہے۔،بقول شاعر: نہ جانے شہر کی گلیوں میں کیسا جادو تھا کوئی بھی قیس نہیں دشت میں دوبارہ
اتوار 20  ستمبر 2020ء

ذرا کان لگا کے!

منگل 15  ستمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
بچپن میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ کان صرف بڑے بوڑھوں کے کھینچنے یا اینٹھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ سکول اور لاک ڈاؤن میں احساس جاگا کہ یہ محض پکڑوانے کے لیے وجود میں لائے گئے ہیں۔ نوجوانی میں اندازہ ہوا کہ ان سے سُنی اَن سُنی کا کام بھی لیا جا سکتاہے۔ جوانی میں کانوں کا مصرف یہی دکھائی دینے لگا کہ صرف اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ ان پہ کسی طرح کی جوں نہ رینگنے پائے۔سیاست و حکومت میں یہی کان ایک سے سن کے دوسرے سے نکالنے کے کام آتے ہیں اور شادی کے
مزید پڑھیے


ریپ آف دی لاء

اتوار 13  ستمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یہ بات بار بار ہمارے مشاہدے میں آئی ہے اور آتی ہی چلی جا رہی ہے کہ کسی بھی گھر میں، کوئی بھی بچہ پیدا ہونے کے بعد ہمیں سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ یہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟پھر رفتہ رفتہ یہ سوال ، استفسار یا خواہ مخواہ کا لمحۂ فکریہ ہمارے، ذہن، اعصاب اور حواس پر اس شدو مد کے ساتھ سوار ہو جاتا ہے کہ اس کے چھوٹے ہونے کے احتیاط اور احتیاج کو ہم سرے سے فراموش کر دیتے ہیں۔ہم اس کے لیے مکان اور مقام کی فکر میں پڑ
مزید پڑھیے


سیاسی لطیفے!

منگل 08  ستمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ملکی سیاست کی سکرین پر مولانا فضل الرحمن اور مسرت شاہین والا ڈراما نہایت طمطراق سے کھیلا جا رہا تھا۔ مزے کی بات یہ ہر شہر میں مولانا کے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لیے بڑی سکرین پر مسرت شاہین ہی کی وہ قیامت خیزفلمیں دھڑا دھڑ دکھائی جا رہی تھیں، جن کی بنا پر پَشتو فلموں کو پُشتو فلمیں کہا جانے لگا تھا، مولانا کے حلقے کے لوگوں کو یہ آتی ہوئی نہیں جاتی ہوئی اچھی لگتی تھی۔ اپنے کسی مخالف فریق کا اتنا اچھا استعمال کسی مولانا کے ذہن ہی
مزید پڑھیے


کل دی گل اے!

اتوار 06  ستمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
وطنِ عزیز کے ادبی منظرنامے پر اس وقت جن لوگوں کی وجہ سے رونق میلہ لگا ہوا ہے، ان میں زیادہ تر وہ ہیں، جنھوں نے بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں پر پُرزے نکالے بلکہ ان میں بعض تو ایسے بھی ہیں جنھوں نے پر کم اور پُرزے زیادہ نکالے۔ مذکورہ ادبی اُفق کا ایک ستارہ، اُردو، پنجابی کا خوبصورت شاعر اور یاروں کا یار عمران نقوی بھی تھا، جو ایک معروف اخبار کے ادبی ایڈیشن کا انچارج بھی تھا۔ اس زمانے میں ادبی ایڈیشن کا انچارج ہونا معنی رکھتا تھا۔ کچھ لوگ تو اس ایڈیشن کی سیڑھی
مزید پڑھیے



امیر خسرو سے ارطغرل غازی تک

منگل 01  ستمبر 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
امیر خسرو بے پناہ جدتوں،حدتوںاور شدتوں کا مارا ہوا شاعر تھا، اس نے چار بادشاہوں کا زمانہ دیکھا تھا اور شاید یہ چاروں صفات اس نے انھی سے درجہ بدرجہ اخذ کیں۔ خسرو کی شدتوںاور حدتوں کو تو ہم پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، فی الحال ان کی چند جدتوں پہ بات ہو جائے۔ آپ ذرا ان کا روا روی میں کہا گیا یہ فرمائشی شعر دیکھیے اور پھر اس کے تناظر میں اپنی الگ وطن حاصل کرنے کی جدو جہد سے لے کے گزشتہ پون صدی کی سیاسی بلاد کاری کو اس کے اوپر
مزید پڑھیے


دل میں کربل بپا ہے یادوں کی

اتوار 30  اگست 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
شاہین عباس کا ایک خوبصورت شعر ہے: موجۂ خون کی تحریر سے ڈر لگتا ہے شِمر کو آج بھی شبیر سے ڈر لگتا ہے حق و باطل کا معرکہ ہو یا نیکی بدی کی کشمکش، اس کا سلسلہ ازل سے جاری و ساری ہے اور قیامت تک اس کے خاتمے کے بظاہر کوئی امکانات نظر نہیں آتے کیونکہ اس زمین پر آدم ؑ کے ساتھ ابلیس بھی دندناتا ہوا چلا آیا تھا اور اس نے کسی مکروہ اپوزیشن کی طرح ہر اچھے کام میں ٹانگ اور مانگ اڑانا شروع کر دی تھی۔ اس کی کار گزاریوں کے سلسلے کا آغاز قابیل اور ہابیل
مزید پڑھیے


امّاں بعد !!

منگل 25  اگست 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ماں جی !آج آپ کو میری فانی زندگی سے اپنی دائمی حیات کی جانب روانہ ہوئے چھ برس بیت گئے۔ مَیں جانتا ہوں کہ ان چھ برسوں میں دو ہزار ایک سو بانوے دن، باون ہزار چھے سو آٹھ گھنٹے ، اکتیس لاکھ چھپن ہزار چار سو اسّی منٹ ہوتے ہیںلیکن مَیں آپ کو کیسے یقین دلاؤں کہ ان برسوں کا ایک ایک لمحہ مجھے اپنی زندگی کا وہ مشکل ترین سوال نامہ نئے سرے سے ترتیب دیتے گزرا ، جو مَیں آپ کی زندگی میں بھی بہت عرصہ جیب میں ڈالے پھرتا رہا ، اور جسے فردا پہ ٹالتے
مزید پڑھیے


اور طرح کی شاعری

اتوار 23  اگست 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
معمول میں تھوک کے حساب سے ہونے والی شاعری تو بعض شعرا کی حرکتوں اور خود نمائیوں کی بنا پر اتنی معمولی ہو چکی ہے کہ لوگوں نے نوٹس لینا ہی چھوڑ دیا ہے۔ پبلشرز بتاتے ہیں کہ ’افراطِ شر‘ کے اس دور میں لوگوں نے شاعری کی کتاب خریدنا ہی چھوڑ دی ہے۔ چھوٹے شہروں میں بھی لوگ مشاعرہ مشاعرہ کھیلتے ہیں لیکن لاہور میں آ کے تو عجب تماشا دیکھا کہ جس شاعر پر غلطی سے بھی دو مصرعوں کا نزول ہو جائے تو وہ اسے ماتھے پہ لگا کے جب تک آدھے شہر میں ڈھنڈورا نہ
مزید پڑھیے


مجرم اور پروٹوکول

منگل 18  اگست 2020ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مجرم کو پروٹوکول دینے کے سلسلے کا آغاز ابلیس سے ہوتا ہے، شیطانِ مردود کے لیے اختیارات کا یہ پروٹوکول اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھا، لیکن اس پروٹوکول کے اندر ایک تنبیہ، ایک آزمائش، ایک کشمکش بھی پوشیدہ تھی کہ جو بھی اس رجیم کے بہکاوے میں آکے اس کے راستے پہ چلے گا ، اسے جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے تک جب شرافت و عدالت کا احترام اور خدا کا تھوڑا بہت خوف لوگوں کے دلوں میں باقی تھا، شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں مجرم کے لیے ایک ہی پروٹوکول
مزید پڑھیے