Common frontend top

BN

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک


چند تعلیمی لطیفے


گزشتہ صدی، نوے کی دھائی میںنجم نعمانی گورنمنٹ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، جو تمام عمر ’تاجدارِ حرم‘ والی نعت کے اصل خالق ہونے کے دعوے دار رہے۔ یہ وہی سکول ہے، جہاں کسی زمانے میں احمد ندیم قاسمی طالب علم اور ن م راشد کے والد فضل الٰہی چوہان ہیڈ ماسٹر ہوا کرتے تھے۔ قاسمی صاحب بتایا کرتے تھے کہ ان دنوں ن م راشد فارغ التحصیل تھے اور جب کبھی والد صاحب سے ملنے شیخوپورہ آیا کرتے، اعزازی طور پر کچھ کلاسز بھی پڑھایا کرتے۔ بات نجم نعمانی کی ہو رہی تھی، انھی دنوں تنخواہوں کا نظام
اتوار 29 جنوری 2023ء مزید پڑھیے

جعفر زٹلّی: اُردو مزاح اور صحافت کا ابتدائی دریچہ

اتوار 22 جنوری 2023ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
محمد جعفر، جس نے زٹلّی جیسا مضحکہ خیز تخلص اختیار کیا۔ اسی رعایت سے اپنے دیوان کا نام ’’زٹل نامہ‘‘ رکھا۔ زٹل، جس کے معنی جھوٹ، لغویات، پھکڑ وغیرہ کے ہیں۔ شاید اسی بنا پر اسے محض ہجو گو اور فحش نگار سمجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ حالانکہ وہ نہ صرف نظم و نثر دونوںمیں اُردو کا پہلا باقاعدہ صحافی اور مزاح نگار تھا بلکہ اگر اس کے کلام سے پوچ گوئی کو الگ بھی کر دیا جائے تو نہ صرف طنز و مزاح اور ضرب الامثال کی بہتر مثالیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
مزید پڑھیے


کوئی ہے؟؟؟؟

اتوار 15 جنوری 2023ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
کچھ عرصہ قبل معروف افسانہ نگار جمیل احمد عدیل کے مجموعے ’’بے خواب جزیروں کا سفر‘‘ میں ’’مزید تفتیش‘‘ عنوان کا ایک عجیب و غریب افسانہ نظر سے گزرا تھا۔ موضوع بڑا انوکھا اور گھمبیر تھا۔ کسی علاقے کی پولیس کو اطلاع ملتی ہے کہ شہر کے پوش علاقے کے ایک ڈرائنگ روم سے کوئی لاوارث لاش ملی ہے، جس کی وجہ سے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ پولیس کی ابتدائی چھان بین لوگوں کو مزید دہشت زدہ کر دیتی ہے، جب انھیں پتہ چلتا ہے کہ اس مردہ جسم کے تمام اعضا الگ الگ ہیں
مزید پڑھیے


بیٹا باپ سے بھی گورا

اتوار 08 جنوری 2023ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
تین چار سال کی عمر تک اس کی، جسامت ایسی ہی تھی کہ ایک نارمل آدمی کی ٹانگوں کے بیچ سے کھڑا کھلوتا نکل جائے۔ باتیں کرتا تو لگتا جیسے اس کا خمیر فلسفے کی راب میںگوندھا گیا ہے۔ ایک دن ایک جاننے والا مچھلیاں شکار کر کے گھر دے گیا۔ اس کی ماں بیٹھی ان کی چھیل چھال یا چیر پھاڑ کر رہی تھی۔ یہ سارا منظر چپکے سے دیکھتا رہا، پھر اچانک بولا: ’’ ماما مچھلی کے اندر جو کانٹے ہوتے ہیں، وہ مچھلی کو نہیں چبھتے؟‘‘ ایک دن دونوں بہن بھائی سرخ لباس پہنے میرے پاس آئے تو
مزید پڑھیے


ہنسنا ہنسانا، حسنات میں سے ہے!

اتوار 01 جنوری 2023ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مزاح کی سیدھی سادھی تعریف تو یہی بنتی ہے کہ اپنی کسی انوکھی نرالی بات، حرکت، اشارے، استعارے سے کسی کو خوش کر دینا۔ اپنے منفرد انداز یا الفاظ سے کسی کے دل کی کلی کھلا دینا۔ نئی بات، جھات یا گھات سے کسی کو اندر سے نہال کر دینا، اپنے مخاطبین و مصاحبین کو لب و لہجے کی وساطت سے مسرت بہم پہنچانا۔ تصویر کا دوسرا رُخ دکھا کے کسی کے اداس ہونٹوں پہ اچانک مسکراہٹ بکھیر دینا۔یہ بھی یاد رہے کہ مزاح، تخلیقی عمل یا تجربے کا وہ تمہیدی، تولیدی، تقلیدی، تہذیبی یا تسکینی پڑاؤ ہے، جہاں لفظ
مزید پڑھیے



قائدِ اعظم، بہ زبانِ یوسفی

اتوار 25 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
مشتاق احمد یوسفی، اُردو مزاح اور نثر کا سب سے بڑا نام… ایسے ادیب کسی بھی زبان کو خوش قسمتی اور انعام کے طور پر نصیب ہوتے ہیں کہ جو زبان کی وجہ سے نہیں بلکہ زبان ان کی وجہ سے زندہ رہتی ہے۔ مزاح کی طرح ان کی شخصیات کا معیار بھی ہمالہ کی طرح بلند ہے ۔ اپنی زندگی میں جن شخصیات سے وہ سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں، اُن میں قائدِ اعظم کا درجہ سب سے اونچا ہے۔ جسکا ثبوت انکی پانچویں اور آخری تصنیف ’’شامِ شعر یاراں‘‘ کے ابتدائی بتیس صفحات پہ محیط قائدِ
مزید پڑھیے


آدھے دن کا کام تھا، مَیں نے پوری عمر بِتا دی (2)

اتوار 18 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
اُردو ادب میں بعض نسوانی آوازیں اپنی تاثیر اور گہرے احساس کی بدولت دیر تک اور دُور تک سنی جاتی رہیں گی۔ ہمارے ادب کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں ایسی آوازیں تسلسل کے ساتھ سُر اور لَے میں ڈھلتی رہی ہیں۔ کہیں فکشن کی دنیا میں خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے نقوش ثبت ہیں تو کہیں جمیلہ ہاشمی اور سائرہ ہاشمی کے ناولوں، افسانوں کی دھوم ہے۔ جوڑیاں تلاشنے یا تراشنے کے شوق میں بعض لوگوں نے کراچی سے ایک ساتھ مشاعروں میں توجہ حاصل کرنے والی شاعرات فاطمہ حسن اور شاہدہ حسن کو بھی ہم لاحقہ ہونے
مزید پڑھیے


آدھے دن کا کام تھا،مَیں نے پوری عمر بِتا دی

اتوار 11 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
وطنِ عزیز،اچھی شاعری اور معقول لوگوں سے ہماری محبت ہمیشہ شک و شبہ سے بالاتر رہی ہے۔ عشق کی طرح اچھی شاعری بھی احساسات و جذبات کے ایسے آتشیں دریا کی مانند ہے، جس میں ڈوب کر سفر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ شاعری دراصل اوسان اور اوزان کی بحالی کا نام ہے۔ حرف، ظرف اور شرف باہم ہو جائیں تو زندہ شاعری کی توفیق وجود میں آتی ہے۔ یہ شعار کو شعور کے ہم رکاب کرنے کا عمل ہے۔ وجدان کو زبان اور عزم کو نشان دینے کی کاوش ہے۔ ہواؤں میں چراغ جلانے اور انھیں لہو
مزید پڑھیے


ہمیں جو بھی دشمنِ جاں ملا…

اتوار 04 دسمبر 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
استادِ محترم جناب ڈاکٹر سجاد باقر رضوی جو اپنی طرز کے ایک منفرد شاعر، نقاد اور استاد تھے، زمانی و زمینی حالات پہ گہری نظر رکھتے تھے، وہ اکثر ایک شعر سنایا کرتے تھے: ہمیں جو بھی دشمنِ جاں ملا، وہی پختہ کارِ جفا ملا نہ کسی کی ضرب غلط پڑی ، نہ کسی کا وار خطا گیا اُس بے فکری کی طالب علمانہ زندگی میں ہمیں یہ شعر کسی کا ذاتی المیہ محسوس ہوتا تھا لیکن جیسے جیسے شعور کے ہیولے نے دھیان کی سیڑھیوں سے زینہ زینہ اترنا، وجدان کے پرندوں نے عملی زندگی کی فضا میں پر پُرزے نکالنا اور
مزید پڑھیے


چند اَدبی مُوشگافیاں

اتوار 27 نومبر 2022ء
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک
ادب کی مختصر ترین تعریف یہ ہے کہ اپنے جذبات و احساسات و مشاہدات کو خاص سلیقے کے ساتھ تحریری شکل عطا کر دینے کا نام ادب ہے۔ یہ خاص سلیقہ اپنے موضوع یا خیال کے لیے صنف کے انتخاب کا بھی ہو سکتا ہے اور علم بیان و بدیع کے حسنِ استعمال کا بھی۔ الحمدللہ! ہمارا اُردو ادب بے شمار فن پاروں اور بے پناہ فنکاروں سے بھرا پڑا ہے۔ اس کالم میں انھی فنکاروں سے متعلقہ لطافت اور شگفتگی کے انداز میں کی گئی،بعض انوکھی، نرالی باتیں شامل کی جا رہی ہیں، جو یقینا قارئینِ کے لیے دلچسپی
مزید پڑھیے








اہم خبریں