ڈاکٹر حسین پراچہ


سبق سیکھنے کا وقت


ایک ہی دکھ بھری داستان بار بار سن کر انسانی اعصاب چٹخ جاتے ہیں۔ آج سوچا تھا کہ کورونا سے ذرا ہٹ کر بات کی جائے۔ ارادہ تھا کہ قارئین کے ساتھ درد دل شیئر کروں اور انہیں ان سرگوشیوں کے بارے میں بتائوں جو آج کل میرے اور گھر کے لان میں کھلے پھولوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ مرزا اسد اللہ غالب نے کہا تھا کہ: غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا تاہم اس باب میں میرا مسلک غالب سے الگ ہے۔ مجھے کسی صورت میں بھی انسانوں کی نہ ہی پھولوں
منگل 14 اپریل 2020ء

کورونا ڈاکٹرز: گارڈ آف آنر سے لاٹھی چارج تک

جمعرات 09 اپریل 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جہانبانی و حکمرانی ایک آرٹ ہے جس کے لئے طویل ریاضت اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم نے اسے بچوں کا کھیل سمجھ رکھا ہے۔ اس لئے ہم قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتے ہیں مگر غور و فکر اور تدبر اختیار کرنے پر مائل نہیں ہوتے۔کسی عرب بادشاہ نے ایک دانا بدوی سے درخواست کی مجھے نصیحت کرو۔ بدوی نے کہا یاد رکھو! حکمرانی پچاس فیصد خوش خلقی اور باقی پچاس فیصد انصاف پسندی ہے۔ اسے ہماری بدقسمتی ہی سمجھیے کہ ہمارے حکمرانوں میں یہ دونوں صفات ناپید ہیں۔ وہ انصاف پسندی کے بجائے خود پسندی اور رعب
مزید پڑھیے


کورونا کی آگ یا پیٹ کی آگ؟

منگل 07 اپریل 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سوال اتنا سادہ نہیں کہ پہلے کون سی آگ بجھانی ہے۔ کورونا کی آگ یا پیٹ کی آگ کیونکہ ع دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی جناب وزیر اعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کی بے پناہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کے لئے بہت سی رعائتوں کا اعلان کیا ہے۔ مگر یہ بڑا اعلان اس وقت ہوا ہے ،جب کورونا کی تباہ کاریاں ہر گزرتے دن کے ساتھ سارے پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔ اگر تعمیراتی شعبہ کام شروع کرتا ہے ،تو اس کے ساتھ منسلک درجنوں چھوٹی بڑی
مزید پڑھیے


کنفیوژن سے باہر نکلیں

جمعرات 02 اپریل 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک غلطی ہم کر چکے ہیں‘ دوسری غلطی کی گنجائش نہیں۔گزشتہ روز اسلام آباد میں مقیم طب کی دنیا میں شہرت یافتہ پاکستانی امریکن ڈاکٹر سے کورونا کی تباہ کاریوں کے بارے میں تفصیلی بات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت دردمندی اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پاکستان میں ہمارے پاس ضائع کرنے کو دن تو دور کی بات گھنٹے بھی نہیں۔ اگر خدانخواستہ اس وقت لمحوں نے خطا کی تو ہمیں اس کا ناقابل تلافی خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ عرض کیا ڈاکٹر صاحب حل کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ فوری ایکشن ماہر طبیب
مزید پڑھیے


قیدیوں کی بھی فکر کیجیے

منگل 31 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زنداں کے ساتھیوں نے قید خانے میں حضرت یوسفؑ سے خوابوں کی تعبیر پوچھی جو آپ نے وضاحت و صراحت کے ساتھ بتا دی۔ پھر قرآن کے الفاظ میں سنیے کہ حضرت یوسف نے کیا فرمایا۔پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا۔ اس سے یوسف علیہ السلام نے کہا’’اپنے رب(شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب(شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا۔ موت کا ذائقہ تو ہر انسان نے چکھنا ہے
مزید پڑھیے



سنجی پئی حویلی

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تنہائی ایک ایسی کیفیت ہے جس کی خواہش ہر بڑے شاعر‘ ہر بڑے فلسفی اور ہر سچے صوفی نے ضرور کی ہے۔ شاید اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا لینے کے لئے تنہائی ضروری ہے۔ مرشد اقبال نے کہا تھا ؎ دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب! کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو مرتا ہوں خامشی پر‘ یہ آرزو ہے میری دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو انگریزی کے سب سے بڑے شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپئر نے اپنے کسی صاحب مرتبہ درباری کردار کی زبانی سرکار دربار کی
مزید پڑھیے


صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

منگل 24 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مشکلات میں گھری کسی حکومت کے لئے اس سے بڑی کیا نعمت ہو گی کہ اپوزیشن مائل بہ تنقید نہیں مائل بہ تائید ہو۔ مگر اس کا کیا کیجیے کہ جب جناب وزیر اعظم کے اردگرد ایسی دانش اجتماعی پھیلی ہوئی ہو جس کا ایک ادنیٰ شاہکار ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے اس بیان میں دیکھا جا سکتا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے آپشنز ختم ہو گئے تو پھر لاک ڈائون ہو گا۔ اللہ نہ کرے کہ آپشنز ختم ہوں اور یہ مرحلہ آئے کہ ع صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا وزیر اعظم
مزید پڑھیے


حقیقت پسندانہ تقریر مگر تاخیر سے

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ شب جناب وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کا ٹیلی ویژن پر اعلان ہوا تو میں نے پاس بیٹھے ہوئے بیٹے سے ایک پیش گوئی کی۔ میری آدھی پیش گوئی تو بالکل درست ثابت ہوئی مگر باقی آدھی پوری نہ ہو سکی۔ دل سے صدا آئی اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی میں قارئین کے اشتیاق کا زیادہ امتحان نہیں لینا چاہتا میری پیش گوئی تھی کہ آج جناب عمران خان اپنی تقریر کو صرف کرونا وائرس تک محدود رکھیں گے ہو بہو سچ ثابت ہوئی مگر ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا
مزید پڑھیے


کرونا وائرس سے اخلاقی وائرس تک

منگل 17 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اس وقت ساری دنیا ڈری اور سہمی ہوئی ہے۔ بھیانک اور اچانک موت کا خوف انہیں اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ کیا گورے کیا کالے‘ کیا چینی کیا امریکی‘ کیا یورپی کیا ایشیائی غرضیکہ زمینی سیارے پر کوئی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ اللہ کی آخری کتاب میں واضح کر دیا گیا ہے کہ موت اٹل ہے نہ ایک پل آگے نہ ایک پل پیچھے۔ وہ اپنے معینہ وقت پر آئے گی اور اپنے ہدف کو اپنے ساتھ لے جائے گی۔ ذرا سورۃ نسا کی 78ویں آیت کا زور بیان دیکھیے۔ ’’تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آئے گی
مزید پڑھیے


کتابوں کا قرض

جمعرات 12 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کتابوں پر لکھنے کا ارادہ کیا تو معاً ڈاکٹر محمود احمد غازی یاد آ گئے۔ ڈاکٹر غازی صاحب علم بھی تھے صاحب ذوق بھی ۔کتاب بینی اور کتاب نویسی غازی صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ تھا۔ جب سعودی عرب سے واپس آ کر میں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ملازمت کا آغاز کیا تو غازی صاحب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے مگر افسری کے زعم سے تہی دامن تھے۔ ان سے قربت ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ پروفیسر غازی تقریباً ہفت زبان تھے۔ وہ اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی اور عربی میں مکمل روانی کے
مزید پڑھیے