BN

ڈاکٹر حسین پراچہ


استاد کے بارے میں ایک نیم سیاسی کالم


آج سیاست سے دل اچاٹ ہے۔موضوعات میرے سامنے قطار اندر قطار اذن باریابی کے لئے منتظر کھڑے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قلم و قرطاس کو لبھانے والا موضوع سیاسی آرڈیننس فیکٹری سے یکبارگی ڈھل کر آنے والے ایک دو نہیں پورے آٹھ آرڈیننس ہیں۔ اس کے بعد اسمبلیوں اور سینٹ پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اس پر اہل سیاست و اہل ریاست چاہیں تو غور فرما لیں۔ اپنی طبیعت تو آج سیاست کی طرف مائل نہیں۔ دوسرا موضوع ہے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی ڈوبتی ابھرتی نیا اور اپوزیشن
جمعرات 24 اکتوبر 2019ء

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور حکومتی رویہ

منگل 22 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
برسوں پہلے مولانا فضل الرحمن طائف تشریف لائے تب میں وہیں تھا۔ مولانا کے احباب نے طائف کی بلند ترین چوٹی الھداء کے شیرٹن ہوٹل میں ان کے اعزاز میں عصرانے کا اہتمام کیا۔ عصرانے میں مولانا نے خطاب کیا اور فقیر نے بھی چند گزارشات پیش کیں۔ تب مولانا کی داڑھی کا غالب حصہ ابھی سیاہ تھا۔ مولانا اس وقت ابھی In the makingاور سیاسی رہگزر میں تھے پس از خطاب انہوں نے سرگوشی میں پوچھا کیوں بھئی خطاب کیسا تھا؟ میں نے عرض کیا مولانا! چھوٹے موٹے خطیب تو ہم بھی ہیں اس لئے ولی راولی می شناسد۔
مزید پڑھیے


مشائخ کانفرنس برائے آزادی کشمیر

هفته 19 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ روز دو خوشگوار حیرتوں کا دل خوش کن تجربہ ہوا۔ پہلی حیرت تو یہ کہ جماعت اسلامی کے بارے میں بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ زاہدانِ خشک کی جماعت ہے مگر اہل جماعت نے جس عقیدت و محبت کے ساتھ جمعرات کو منصورہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے۔ مشائخ عظام کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے اس سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ ’’زاہدان خشک‘‘ اندر سے بریشم کی طرح نرم ہیں۔ یہ الگ بات کہ رزم حق و باطل میں یہ فولاد دکھائی دیتے ہیں۔اہل منصورہ کی خوئے دلنوازی سے محسوس ہوا کہ
مزید پڑھیے


عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا یہ فرمان کہ ’’عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگے‘‘ سن کر فیض احمد فیض کی غزل کا یہ مصرع نوک زباں پر آ گیا: مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ مراد یہ کہ انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے ہمیں یاد مت دلائو۔ اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے، ہمارے ہی نہیں حکومت کے مہرباں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ فواد چودھری صاحب بھی‘ شیخ رشید کی تقلید میں نیوز میکر بننے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ کبھی وہ چاند کے طلوع و غروب
مزید پڑھیے


ایران‘ سعودیہ تنازع:جنگ یا امن؟

منگل 15 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
20ویں صدی کے نصف اول میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم زیادہ تر یورپ کی سرزمین پر لڑی گئیں۔ ان دونوں جنگوں میں تاریخ انسانی کی سب سے ہولناک تباہی دیکھنے میں آئی۔ پہلی جنگ عظیم میں ساڑھے تین کروڑ فوجی اور شہری لقمہ اجل بنے اور دوسری جنگ عظیم میں تقریباً 5کروڑ انسان نیست و نابود ہو گئے۔ جنگ کے آخری مرحلے پر امریکہ نے جاپان کے دو ہنستے بستے شہروں ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو آن واحد میں ایٹم بم مار کر راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے نیست و نابود
مزید پڑھیے



خواہشات اور معیشت

هفته 12 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اسے یقینا چھوٹا منہ اور بڑی بات سمجھا جائے گا مگر میں یہ عرض کروں گا کہ اگر مجھے روٹی اور آزادی دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا جائے تو بلا تردد میرا ووٹ آزادی کے حق میں ہو گا۔ جناب عمران خان ایک سالہ دور حکومت میں عوام سے روٹی چھیننے کے بعد ان سے آزادی چھیننے کی فکر میں ہیں اور اسی کے لئے وہ نت نئے ماڈل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہیں مچل جاتے ہیں اور ان کے ہی ماڈل کو پاکستان میں اپنانے کی خواہش کا اظہار کرتے
مزید پڑھیے


بیٹا چوٹ تو نہیں لگی

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ہر روز ایک سے ایک دلفگار خبر سن کر ہم بڑے ’’سنگ دل‘‘ ہو گئے ہیں بلکہ ہماری رگ اشکبار پتھر کی ہو چکی ہے۔ تاہم بعض اوقات کوئی دل کو چھید دینے والی خبر نظر سے گزرتی ہے تو سنگ بستہ رگ اشکبار سے بھی لہو رنگ آنسو بہنے لگتے ہیں۔ دو تین روز پہلے ایسی ہی ایک خبر پڑھنے کو ملی جس کے مطابق چارسدہ کی بوڑھی ماں نے پریس کانفرنس میں فریاد کی کہ میرے مرحوم نے 5کنال اراضی میرے نام لکھی تھی۔ میرے اکلوتے بیٹے نے میری مرضی سے وہ فروخت کی جس سے 16کنال اراضی خریدی
مزید پڑھیے


کشمیر: جناب وزیر اعظم!What Next

منگل 08 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
قائد تحریک انصاف مانیں یا نہ مانیں یہ شعر ان پر صادق آتا ہے: ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر اگر کوئی ابہام محسوس کریں تو ’’ہوا‘‘کی جگہ ’’عوام‘‘ کر دیں تو بات بالکل واضح ہو جائے گی۔ اس وقت تینوںمعاملات میں پی ٹی آئی کی حکومت چاروں شانے چت دکھائی دے رہی ہے۔ ٭کشمیر ٭ معیشت ٭ گورننس سیاست کو جناب عمران خان نے عدم برداشت اور معیشت کو عدم حکمت و مہارت سے بے حال کر چھوڑا ہے۔ تاہم اس وقت جس مسئلے پر ہر پاکستان‘ ہر کشمیری اور شدت احساس
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کا نعرہ مستانہ

هفته 05 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جالو جالو آگن جالو والے مولانا عبدالحمید بھاشانی نے یکم جون 1970ء کو مشرقی پاکستان میں کمیونزم کی حمایت میں ایک زبردست ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان سن کر بانی امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے کمیونزم کے ردمیں مشرقی و مغربی پورے پاکستان میں ’’یوم شوکت اسلام ‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ مولانا کی اپیل پر ساری قوم نے لبیک کہا اور بڑے زور و شور سے تیاری شروع کر دی گئی۔ ’’یوم شوکت اسلام‘‘ کے لئے 31مئی 1970ء کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاکہ بھاشانی اور ان کے مٹھی بھر کے حواریوں
مزید پڑھیے


جو روٹی رات دی پوری کریندیاں شام تھی ویندی

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سرائیکی زبان میں شعر کہنے والا شاکر شجاع آبادی شدتِ احساس اور بے ساختگی اظہار کا شاعر ہے ۔ شاکر کی نوا غریبوں کی آواز بن گئی۔ شاکر اس بارے میں اپنے خدا سے بھی ہمکلام ہو کر شکوہ کرتا رہتا ہے اور کہا ہے کہ مالک تیری جنت کی دلفریت نعمتیں یقینا برحق ہیں مگر اپنی غریب مخلوق کو اس دنیا میں کیوں بھوکا ما رہا ہے۔ شاکر نے اپنے خالق دوجہاں کی بارگاہ میں بارہا نہ صرف شکوہ کیا بلکہ غریبوں کی بھر پور وکالت بھی کی حتیٰ کہ یہاں تک زاری کرتا ہے کہ مالک ایک بار
مزید پڑھیے