BN

ڈاکٹر حسین پراچہ


خدا کی بستی میں پولیس کا راج


جس دور میں بے آسرا لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا جائے اور اہل اختیار جب چاہیں انہیں مسل کر پھینک دیں اس دور کے سلطان سے چھوٹی موٹی نہیں بہت بڑی بھول ہوئی ہے۔ آج کے سلطان سے سب سے بڑی بھول یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے بڑے بلکہ بہت بڑے بڑے بول بولے تھے اور بطورمثال حضرت عمرؓ بن خطاب کے سنہری دور کا بارہا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے عمر بنؓ خطاب جیسے جلیل القدر خلیفہ کا یہ قول بھی بار بار دہرایا تھاکہ اگر فرات کے اس کنارے پر کوئی کتا بھی مر جائے تو عمر
هفته 07  ستمبر 2019ء

کیا ایک اور جنگ ستمبر ہو گی؟

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چند خوش قسمت لوگوں کو خبر اور نظر کی نعمتیں بیک وقت عطا ہوتی ہیں۔ ایک ایسے ہی اہل خبر اور اہل نظر سے ہماری یاد اللہ ہے۔میں گزشتہ دو تین روز سے ان کی تلاش میں تھا وہ ہمیشہ کال کا جواب دیتے ہیں‘ مصروفیات کی بنا پر بعض اوقات قدرے تاخیر سے۔ گزشتہ شب اسلام آباد سے ان کی کال آ گئی۔ وہ بات کو چبا چبا کر یا گھما پھرا کر کرنے کے عادی نہیں۔ سوال کا سیدھا جواب دیتے ہیں۔ میں نے دعا سلام کے بعد بغیر کسی تمہید کے پوچھا؟ کیا جنگ ہو گی؟ ان کا
مزید پڑھیے


دیارِ مجددؒ سے داتا نگرؒ تک

منگل 03  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زندگی صرف ایک بار ملتی ہے صرف ایک بار اسے ہر انسان نے گزارنا ہوتا ہے۔ زندگی نے بہرطور گزرنا ہوتا ہے۔ کوئی ساتھ دے یا نہ دے یہ کٹتی رہتی ہے۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی: غم حبیب! شکایت ہے زندگی سے مجھے ترے بغیر بھی کٹتی رہی‘ ذرا نہ رکی کون زندگی کو کیسے گزارتا ہے۔ یہ بات اہم ہے بعض لوگ نشان عبرت بن کر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور بعض اپنے پیچھے ایسے نقوش پا چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے بعدآنے والے افرادہی نہیں کئی نسلوں اور کئی قافلوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتے ہیں۔ مجھے
مزید پڑھیے


امتحان

هفته 31  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اندرون اور بیرون ملک سے پرجوش قارئین فون کالز اور ای میلز کے ذریعے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ پالیسی کا مجھے علم نہیں البتہ یہ بات میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی تحریک آزادی کو ہندوستان دبا سکتا ہے اور نہ پاکستان چھوڑ سکتاہے۔ پاکستانی اور کشمیری عوام حکومت پاکستان سے بڑے عملی اقدامات کی توقعات باندھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک پاکستان دنیا کو اپنا ایک سافٹ امیج اور اپنی امن پسندی اور قانون پسندی کا تاثر دے رہا ہے۔ توقع کے بارے
مزید پڑھیے


روٹی

جمعرات 29  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
منظر انقلاب فرانس کا ہو‘ ہندوستان کا ہو یا آج کے پاکستان کا ‘ انسانوں کی ساری دوڑ دھوپ ایک شے کے لئے ہوتی ہے جسے ’’روٹی‘‘ کہتے ہیں۔ جب اٹھارویں صدی کے آواخر میں فرانس کے عوام بادشاہ اور کلیسا کے گٹھ جوڑ کے خلاف پارلیمنٹ سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تھے تب ایک فرانسیسی شہزادی نے ایک جملہ کہہ کر عوام کے غیظ و غضب میں مزید شدت پیدا کر دی تھی۔ شہزادی نے کہا تھا کہ ان لوگوںکو روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کھائیں۔ عین اسی زمانے میں ہندوستان کے شاعر نظیر اکبر آبادی
مزید پڑھیے



سید کی پکار اور مودی کے لئے ایوارڈ

منگل 27  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اللہ نے عربوں کو اسلام کے ذریعے دنیا میں سربلند کیا تھا اور انہیں اقوام عالم کی سربراہی کا اعزاز بخشا تھا۔ اب عربوں کے پاس دولت ہے مگر سیادت نہیں۔ آج عرب عوام کے دل امت مسلمہ کے ساتھ جبکہ عرب حکمرانوں کے دل امریکہ و انڈیا کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بات لمحہ موجود کی ہو رہی ہے مگر چند لمحوں کے لئے مجھے عظمت رفتہ کو آواز دینا ہو گی۔ محسن انسانیت ﷺ کے ظہور سے پہلے پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب پر دور وحشت کی تاریک رات چھائی ہوئی تھی ہر طرف انتشار ہی انتشار
مزید پڑھیے


آزادی کشمیر: عوام کو کیوں نہیں شامل کیا جا رہا؟

هفته 24  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چاہئے تو یہ تھا کہ آج جب مقبوضہ کشمیر میں بھوکے پیاسے کشمیری اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کرفیو توڑتے ہوئے باہر نکلتے تو اس وقت کراچی تا خیبر اور اسلام آباد تک مظفر آباد ان سے اظہار یکجہتی کے لئے ساری پاکستانی قوم سڑکوں پر ہوتی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کو بھی خبردار کیا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے آمنے سامنے کھڑی ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے آرمی چیف دو ٹوک الفاظ میں
مزید پڑھیے


رحمدلی : تشخیص سے تجویز تک

جمعرات 22  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اکثر سیاسی و معاشرتی معاملات کے بارے میں جناب عمران خان کی تشخیص لاجواب ہوتی ہے۔ دو تین روز پہلے کسی تقریب میں ریاست مدینہ کے خدوخال واضح کرتے ہوئے عمران خان نے دل لگتی اور خدا لگتی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو معاشرے رحمدلی سے خالی ہو جاتے ہیں وہ انسانوں کے نہیں جانوروں کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔ وحشیانہ ہلاکت کا کوئی دلدوز واقع سامنے آتا ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہہ ہم اندر سے کتنے وحشی ہو چکے ہیں اور سنگدلی کی انتہائی پستی میں جاگرتے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل بہادر آباد کراچی میں
مزید پڑھیے


کیا دنیا انصاف سے خالی ہے؟

منگل 20  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جب ہر طرف مظلوم ہی مظلوم دکھائی دیں تو لا محالہ یہ سوال نوکِ زباں پر آ جاتا ہے کہ کیا دنیا انصاف سے خالی ہے؟ تاریخ سے یہ سوال پوچھیں تو دنیا انصاف سے تہی دامن اور ظلم سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر تاریخ انسانی میں ایسے ایسے پیوند بھی دکھائی دیتے ہیں جب ہرطرف عدل و انصاف کا بول بالا تھا اور ظلم منہ چھپاتا پھرتا تھا۔ انصاف کا سب سے اولیں حقدار مظلوم ہے۔ مظلوم کی دادرسی میں تاخیر ظلم کو طول دینے کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ ظلم سے داغدار تاریخ کے دامن پر ریاست
مزید پڑھیے


منزل سے قریب

هفته 17  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میرا اپنے قارئین کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ ہے! معاہدہ یہ ہے کہ جب میری رسائی کسی دل کش اور فکر انگیز نئی کتاب تک ہو گی میں اسے اپنے قارئین کے ساتھ شئیر کروں گا۔ چند روز پہلے ڈاکٹر جاوید احمد نے بڑی محبت کے ساتھ مجھے جناب لالہ صحرائی کی نئی کتاب ’’منزل سے قریب‘‘ بھجوائی اس کتاب میں عالمی ادب کے معروف افسانوں اور سفرناموں کے تراجم پیش کئے گئے۔ ہر ادب پارے کا ترجمہ اپنی جگہ تخلیقی ادب کا خزینہ محسوس ہوتا ہے۔ جناب لالہ صحرائی کی نثر نگاری دراصل قلمی ساحری ہی ساحری ہے۔ ان
مزید پڑھیے