ڈاکٹر حسین پراچہ



دفعہ 370کا خاتمہ:پاکستان کیا جواب دے گا؟


میں تقریباً نصف کالم لکھ چکا تھا کہ یہ روح فرسا خبر آگئی کہ بھارتی پارلیمنٹ نے اپنے آئین سے 70سالہ پرانی کشمیری دفعہ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد سارا منظر نامہ ہی بدل گیا ہے لہٰذا پہلے سے لکھا گیا کالم مجھے قلم زد کرنا پڑا۔ دل و دماغ کی حیرانی ویرانی میں بدل گئی ہے۔ اس عالم میں سمجھ میں نہیں آتا کہ لکھوں تو کیا لکھوں۔ 90سالہ بوڑھے کشمیری مجاہد نے دو روز قبل مستقبل میں جھانکتے اور مکروہ بھارتی عزائم بھانپتے ہوئے اس امت مسلمہ کو پکارا تھا جس کے بارے میں حکیم الامت
منگل 06  اگست 2019ء

روشن ضمیر سینیٹر

هفته 03  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چیئرمین سینٹ کے غیر متوقع انتخابی نتائج آنے پر حکومتی پارٹی جشن جبکہ اپوزیشن سوگ منا رہی ہے۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ووٹ دینے والے اپوزیشن کے سینیٹروں کی روشنِِ ضمیری پر انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور میاں شہباز پارٹی سے بے وفائی کر کے حکومت کے حق میں ووٹ ڈالنے والے سینیٹروں کو ضمیر فروشی کا طعنہ دے رہے ہیں۔ سوال بڑا دلچسپ ہے کہ 14سینیٹرز روشن ضمیر ہیں یا ضمیر فروش؟ اس اہم سوال کا جواب ہم ضرور آپ سے شیئر کریں گے مگر پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ اگست 2019ء میں چیئرمین سینٹ
مزید پڑھیے


نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

جمعرات 01  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ غالباً 2006ء کی بات ہو گی کہ جب پارلیمنٹ لاجز میں میری عمران خان سے پہلی ون آن ون ملاقات ہوئی۔ عصر سے لے کر مغرب تک بے تکلف باتیں ہوئیں۔ خان صاحب کی لاج سے نکلا تو میں کپتان کی سادگی اور بے ساختگی سے بہت متاثر ہو چکا تھا۔ میرا اپنا بے ساختہ تاثر یہ تھا کہ یہ شخص اور کچھ کرے یا نہ کرے مگر یہ برسر اقتدار آ گیا تو خود ’’کشکول گدائی‘‘ تھام لے گا مگر کسی بچے کو ہاتھ پھیلانے دے گا نہ ہی کسی بچے کو ورکشاپوں ‘ ریستورانوں‘ دکانوں اور گھروں
مزید پڑھیے


عرفان صدیقی:کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

منگل 30 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سچی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی عرفان صدیقی کی جمعہ کے روز آدھی رات کو آناً فاناً گرفتاری سمجھ میں آئی اور نہ ہی اتوار کے روز بند عدالتیں کھلوا کر ان کی رہائی سمجھ میں آئی : کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے برادر عزیز عامر خاکوانی نے ایک کالم میں جناب عرفان صدیقی کے حوالے سے چند سادہ سے سوال پوچھے ہیں۔ برادر عزیز کو یقینا ادراک ہو گا کہ یہ ’’سادہ سوال‘‘ہی دراصل بہت مشکل سوال ہوتے ہیں جن کے جوابات ڈھونڈتے ہوئے اہل اقتدار کی جبینیں شکن آلود بھی
مزید پڑھیے


حکومت کی ایک سالہ کارکردگی

هفته 27 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
عمران خان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک خواب عوام کی ہی نہیں بہت سے خواص کی پلکوں میں بھی آویزاں کر دیے۔ خان صاحب کو کچھ غیبی دست شفقت بھی حاصل تھا۔ یوں انہوں نے بہت بڑی کامیابی سمیٹی تاہم اقتدار کے پہلے سال میں خوابوں کی پریشانی سے عوام بہت ہی پریشان حال ہیں مگر ابھی تک مایوس نہیں ہوئے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ اپوزیشن کی دی گئی۔ یوم سیاہ کی کال کے جواب میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے میں نہیں آیا۔ البتہ چاروں صوبوں میں عوام
مزید پڑھیے




وزیر اعظم کا دورۂ امریکہ: وائٹ ہائوس سے جلسہ عام تک

جمعرات 25 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
22جولائی کو وائٹ ہائوس میں دو ایسی شخصیات کی ملاقات ہونے والی تھی کہ جن کے بارے میں دھڑکتے دلوں کے ساتھ ان کے دوست سوچ رہے تھے کہ خدا خیر کرے۔ سبب اس کا یہ تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان دونوں کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ وہ کچھ بھی غیر متوقع کہہ سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات بڑی خوشگوار رہی اور بڑی کامیاب رہی۔ ہماری طرف سے تو خیر ہی رہی مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کے حوالے سے ایک ایسا
مزید پڑھیے


ساغر صدیقی: دوستو! لوٹ کے آئے ہیں تمہاری خاطر

منگل 23 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تقسیم ہند سے پہلے 1944ء کا ذکر ہے۔ امرتسر میں ایک بہت بڑا آل انڈیا مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا۔ کسی صاحبِ ذوق نے مشاعرے کے منتظمین سے مل کر ایک پندرہ سولہ سال کے ’’لڑکے‘‘ کا نام بھی لکھوا دیا۔ لڑکے کو جب کلام سنانے کے لیے بلایا گیا تو اس نے اپنی پرسوز آواز میں ترنم کے ساتھ غضب کی غزل پڑھی اور مشاعرہ لوٹ لیا۔ یہ لڑکا آگے چل کر ساغر صدیقی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے اشعار مشاعروں، ایوانوں اور جلسوں میں گونجنے لگے۔ آج تک ساغر کے اشعار باذوق لوگوں کو ازبر
مزید پڑھیے


ٹرمپ‘عمران ملاقات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟

هفته 20 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان دورہ امریکہ سے پہلے پارلیمنٹ سے مشورہ کرتے یا کم از کم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی امور خارجہ کی قائمہ کمیٹیوں سے براہ راست ملاقات کر کے ان سے تجاویز حاصل کرتے۔ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے حتمی ایجنڈے اور بریف کو ترتیب دینے سے پہلے ان تجاویز کو مدنظر رکھا جاتا تاکہ اندرون ملک اور بیرون ملک یہ میسج جاتا کہ یہ کسی فرد واحد کا نہیں پاکستان کا قومی ایجنڈا ہے۔ چند ماہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ سرد مہری
مزید پڑھیے


لاہور میں طوفانی بارش اور نیا پاکستان

جمعرات 18 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ تین چار روز میں ایک بار پھر شہر اقتدار اسلام آباد اور اس کے گردو نواح میں تھا۔ میں نے وہاں محسوس کیا کہ معیشت اور وقت دونوں تیزی سے ہاتھ سے نکلے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے میری بڑی دلچسپ ’’فسٹ ہینڈ انفارمیشن‘‘ تک رسائی ہوئی جسے میں اپنے قارئین سے شیئر کرنے کے بارے میں ذہن بنا چکا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی کالم لکھتے ہوئے میں بالعموم کال اٹینڈ نہیں کرتا۔ تاہم ایک پرانے دوست کا نام اسکرین پر دیکھ کر میں نے کال وصولی کا بٹن آن کر دیا۔ دعا سلام کے بعد
مزید پڑھیے


سنکیانگ :کیا دس لاکھ مسلمان حراستی کیمپوں میں ہیں؟

منگل 16 جولائی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ چند سالوں سے سنکیانگ کے مسلمانوں کے بارے میں انسانی حقوق کی کچھ عالمی تنظیموں اور بی بی سی وغیرہ کی طرف سے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالی کی تردید کی گئی مگر اب معاملہ اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق تک جا پہنچا ہے جہاں مختلف ممالک کے دو گروپ سامنے آ چکے ہیں۔22 ممالک پر مشتمل گروپ میں یورپ کے جمہوری ممالک اور جاپان و کینیڈا وغیرہ شامل ہیں جو یو این او کے ذریعے سنکیانگ میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے انتہائی ناروا سلوک کی مکمل تحقیق کا مطالبہ کر رہے
مزید پڑھیے