Common frontend top

جاوید صدیق


ہم کس کے انتظار میں ہیں؟


حکومت نے خزانے پر بوجھ بننے والے محکموں اور ملازموں سے جان چھڑانے اور سرکاری اخراجات میں کمی لانے کیلئے پی ڈبلیو ڈی کا محکمہ ختم کرنے اور اس محکمے سے وابستہ ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔محکمے کو نکما محکمہ قرار دیا گیا ہے۔یہ اقدا م آئی ایم ایف کی ہدایت اٹھایا گیا ہے۔ جو تقاضا کر رہا ہے کہ سرکاری اخراجات کم کئے جائیں۔ صرف پی ڈبلیو ڈی ہی نہیں سینکڑوں ایسے وفاقی اور صوبائی محکمے ہیں جوبلا جواز ہیں ۔ ان میں لاکھوں نااہل اور بدعنوان افراد ہیں جو صرف تنخواہیں وصول کرتے ہیں
جمعه 07 جون 2024ء مزید پڑھیے

ایوب ، بھٹو اور ضیاء نے بھی کوشش کی !!

جمعه 31 مئی 2024ء
جاوید صدیق
پاکستان میں پریس کا گلہ گھونٹنے کی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔ لیکن کوششیں کا رگر ثابت نہیں ہوئیں۔ ایوب خان نے جب 1958 ء میں مارشل لاء لگایا تو موصوف نے اپنی حکومت پر تنقید کا راستہ بند کرنے کیلئے پریس پر پابندیاں لگانا شروع کیں ۔ 1963 ء میں ایوب حکومت نے پریس ایند پبلیکیشز آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت پریس اُس زمانے میں اخبارات اور جرائد ہوتے تھے۔نجی شعبہ میں ٹی وی چینلز کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس پی پی او کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے اخبارات نے کالا
مزید پڑھیے


سیاسی مفاہمت یا انا کی لڑائی؟

جمعرات 16 مئی 2024ء
جاوید صدیق
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کی منسوخی کے بارے میں تجزیہ کاروں کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ دورہ سعودی راہنما نے پاکستان کے داخلی حالات کے پیش نظر موخر یا منسوخ کیا ہے۔ توقع کی جارہی تھی کہ سعودی عرب کے دو اعلیٰ سطح کے وفود کے پاکستان کے دورے کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان مئی کے تیسرے ہفتے پاکستان آئیں گے ۔ اُن کی پاکستان میں موجودگی میں اربوں ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری پر دستخط ہوں گے۔جس سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی راہ
مزید پڑھیے


یہ کیا تماشہ ہے؟

پیر 06 مئی 2024ء
جاوید صدیق
سابق وزیراعظم شاہد خان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور دوسرے حکام جن پر نیب نے اس الزام میں ریفرنس دائر کیا تھا کہ انہوں نے آر ۔ این۔ ایل ۔جی ٹرمینل کاٹھیکہ رولز کے خلاف ایک کمپنی کو دے دیا جس سے قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا، اس مقدمہ کو گزشتہ دنوں نیب عدالت نے خارج کر دیا۔آر۔ این۔ایل۔ جی ٹرمینل کیس 2016ء میں بند کردیا گیا تھا ۔ لیکن جب 2018 ء میں عمران حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس کیس کو ری اُوپن کرایا گیا تھا۔ یہ دعویٰ کیا جا
مزید پڑھیے


صدر ابراہیم رئیسی اسلام آبادمیں

جمعرات 25 اپریل 2024ء
جاوید صدیق
ایرا ن کے صدر ابراہیم رئیسی ایسے وقت میں پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچے ہی جب کہ مشرق وسطی میں کشیدگی اپنی انتہا پر ہے۔ گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد جس سفاکی سے اسرائیل نے غزہ میں موجود فلسطینیوں کو بربریت کا نشانہ بنایا ہے اُس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ چنگیز خان، ہلاکو اور دوسرے ظالم درندہ صفت حملہ آور بھی اسرائیلی حکمرانوں کے مقابلے میں معصوم لگتے ہیں۔ اسرائیل پر حماس کے حملے کو اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور اُن کی کابینہ اور فوجی کمانڈر حماس
مزید پڑھیے



یہ تو پہلے بھی ہوتارہا ہے

جمعرات 18 اپریل 2024ء
جاوید صدیق
ابھی بہاول نگر میں فوج اور پولیس کے درمیان تصادم کی خبر یں بھی چل رہی تھیں کہ بھارت کے شہر پونا میںبھارتی ٹریفک پولیس اور آرمی کے دو افسران کے درمیان ہاتھا پائی کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی ۔ بھارتی فوج کے دو افسران نے نوگو ایریا میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی کہ بھارتی ٹریفک پولیس نے اُن کو ناکے پر روک دیا جس پر بھارتی فوجی طیش میں آگئے اور اُنہوں نے اپنے مزید ساتھیوں کو کال کر کے بلایا ۔ تازہ دم بھارتی فوجیوں نے پولیس والوں پر حملہ کر کے اُن کی دلائی کر
مزید پڑھیے


چار اپریل اور ذوالفقار علی بھٹو!

جمعرات 04 اپریل 2024ء
جاوید صدیق
اپریل کا مہینہ آتا ہے تو ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر بھی ہوتاہے۔ چار اپریل 1979 ء کو اعلیٰ الصبح راولپنڈی کے جیل میں سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت دئے جانے پر سابق وزیرا عظم کو تختہ دار لٹکا دیا ۔چاراپریل 1979 ء سے پہلے چند ہفتوں تک یہ بحث ہو رہی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جائے گی یا نہیں ۔ دنیا کے ایک سو کے قریب ممالک کے سربراہوں نے بھٹو کی سزائے موت کو ختم کرنے اور اسے عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی۔اُس وقت کی پیپلز پارتی کی
مزید پڑھیے


افغانستان کا یہ روّیہ کیوں؟

پیر 25 مارچ 2024ء
جاوید صدیق
افغانستان پاکستان کا وہ واحد پڑوسی ملک ہے، جس نے قیام پاکستان کے بعد اسے ایک آزاد ملک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس واقعہ کے بعد کشیدہ ہونے شروع ہوگئے تھے۔ افغانستان نے برطانوی دور میںبرطانوی راج اور افغانستان کے درمیان طے ہونے والے بارڈر ڈیورنڈر لائن کو پاکستان کے ساتھ سرحد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بارڈر 1893 میں ایک برطانوی مسٹر ڈیورنڈ کی سربراہی میں ایک ٹیم نے طے کیا تھا۔ افغانستان کا مطالبہ یہ تھا کہ ڈیونڈر لائن کے آرپار رہنے والے پشتونوں کو
مزید پڑھیے


نئی حکومت کچھ کر پائے گی ؟

پیر 11 مارچ 2024ء
جاوید صدیق
وفاق اور صوبوں میں حکومتیں بن چکی ہیں۔ آٹھ فروری کے متنازعہ انتخابات کے بعد کئی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تحریک انصاف جو موجودہ سنی اتحاد کونسل کے نام سے اسمبلیوں میں موجود ہے ، غصے اور احتجاج کا اظہار کر رہی ہے۔ وہ وفاقی حکومت کو ایک جائز طورپر منتخب حکومت ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام بھی وفاقی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور اصرار کر رہی ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات فری اور فیئر نہیں تھے۔ جماعت اسلامی ، عوامی نیشنل پارتی پختون خواہ
مزید پڑھیے


انتشاربڑھتا جا رہا ہے

بدھ 21 فروری 2024ء
جاوید صدیق
پاکستان میں اس سے پہلے بھی انتخابات کے نتائج کو کبھی خوشی دلی سے تسلیم نہیں کیا گیا۔ انتخابات شفاف شاید کبھی نہیں ہوئے ۔1970ء کے انتخابات کو صاف شفاف قرار دیا جاتا ہے لیکن ان کے نتیجے میںملک ہی دولخت ہوگیا تھا۔ 1977 ء کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی خاطر ان انتخابات کو مشکوک بنا دیا تھا۔ مارچ1977ء کے قومی اسمبلی کے انتخابات متنازعہ ہوگئے اور اپوزیشن کے اتحاد نے اس قدر موثر احتجاجی تحریک چلائی کہ پی پی پی کی حکومت مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ اس تحریک کو
مزید پڑھیے








اہم خبریں