BN

جسٹس نذیر غازی



اللہ کے وعدے پر مومن کو یقین ہے


عالم کفر کو سانپ سونگھ گیا ہے بظاہر تو ایسا ہی نظر آتا ہے‘ لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑے جمود کے بعد فطرت اپنا متحرک پیغام دلوںمیں اتارتی ہے۔ جذبات بلند ترین سطح پر پہنچ کر آخری اور حتمی فیصلوں کا اعلان کرتے ہیں۔ مسلمان بہرحال مسلمان ہوتا ہے تاریخ آزماتی ہے۔ حالات اس کی زندہ حیثیت کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور پھر اس مسلمان کا اندر والا مسلمان جاگتا ہے۔ تاریخ کی آزمائشی گھڑی میں وہ اپنے بندھنوں کو توڑ کر برسر پیکار ہوتا ہے تاریخ رقم ہوتی ہے اور عالم کفر اپنی جملہ
هفته 07  ستمبر 2019ء

زندگی میں زہر گھلتا جا رہا ہے

اتوار 25  اگست 2019ء
جسٹس نذیر غازی
راستہ درست اختیارکرنا چاہئے تاکہ منزل آسان تر ہو۔ کسی بھی کالم نگار کواپنا فکری اثاثہ خوش نیتی کو بتانا چاہیے۔ حق بات کو پوری طرح سے اپنے خیالات گفتار‘ تحریر میں سمو کر ہی اپنے موضوعات کا تعین کرنا زاد عمل کو اور قوم کے رویوں کو مستحکم کرتا ہے۔ ہر صاحب قلم مقاصد کو نصب العین بنا کر اپنی آرا کو قوم تک پہنچاتا ہے۔ لیکن مقاصد کا تعین بسا اوقات دھڑے بندی کے اثرات اپنی ‘کج فکری کا زعم شدید یا کسی مالی قوت کی فراہمی کے باعث ہوتاہے جو نہایت درجہ مضرہے۔ ہمارے اکثر اہل قلم سیاسی
مزید پڑھیے


سانپ اور سنپولئے پھنکارتے رہ جائیں گے

هفته 17  اگست 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کیا یہ عارضی لہرہے کہ کشمیر‘ کشمیر اور ہر زبان پر بیان کا عنوان کشمیر ہے؟ یا ایک مستقل درد لادوا جو ایک طویل عرصے سے ملت اسلامیہ کو کس کروٹ چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا؟ ہر اخبار‘ ہر چینل ‘ ہر دانشور ہر جذباتی نوجوان اور ہر محب وطن عمر رسیدہ کشمیر کے فکر میں گم ہے۔ کشمیر کا قضیہ برصغیر ہی نہیں عالم اسلام اور صرف عالم اسلام ہی نہیں پوری دنیا کے سیاسی مزاج کو برہم کئے ہوئے ہے۔ بظاہر تو بھارت اور بھارت کے مسلم دشمن نیتا کشمیر میں انسانیت کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے
مزید پڑھیے


اندھیر نگری میں بسنے والو! خدا کو آخر حساب دو گے

اتوار 11  اگست 2019ء
جسٹس نذیر غازی
نہایت بے احتیاط‘ بے سلیقہ ‘ نہ کسی سمت کا تعین ہے نہ کوئی بڑی سوچ بس ایک اندھا دھند خواہش کا سیلاب دل و دماغ کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ خواہش ہے کہ بالکل بیمار۔ یاسیت کا شکار اور یاسیت اور خواہش مل کر عقل سے دشمنی کر رہی ہیں اسی لئے کوئی صحت مند خیال جنم ہی نہیں لیتا۔ ہر روز نئے خواب نئے ارادے بیمار ذہن اسی طرح کے حالات میں پروان چڑھتے ہیں۔ بیمار ذہن اپنی خواہشات کو اپنی انا کا امام کرتے ہیں۔ اردگرد نہیں دیکھتے، اگر دیکھتے ہیں تو کنکھیوں سے جائزہ لیتے ہیں
مزید پڑھیے


دامِ ہمرنگ زمیں بچھتا ہے

اتوار 04  اگست 2019ء
جسٹس نذیر غازی
دامِ وھمرنگ زمین بچھا دیا ہے، اس دشمن نے جو کسی طرح بھی مسلمانوں کے وجود کو برداشت نہیں کرتا۔ دنیا تو بہت رنگین سامان ہے۔ ہر رنگ کا فریب اتنا گہرا کہ فراست پر بھی دھندلاہٹ آ جاتی ہے۔ دانشور کیا کریں، جب دانش پر ہی پردے پڑ جائیں تو یقین کی قوت ہی دانش کو جھلا کرتی ہے اور ایمان کی بساط پر ہی نظریات کی حقیقت درست نظر آتی ہے۔ ایمان ہے کہاں؟ جب دل پر مادیت کی دلکش اور پرفریب سمتیں اس طرح سے چڑھی ہوئی ہیں کہ دل اور دماغ دونوں ہی اسیر عنبر ہیں۔ ہمارے
مزید پڑھیے




وہ وجودِ خیرو فلاح تھا

جمعه 26 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
محبت ایک مستقل معجزہ حیات ہے۔ ہر شخص کے مقدر میں ایک خاص وصف فطرت ودیعت کرتی ہے جو اس کی شخصیت کو ممتاز کرتا ہے جن لوگوں کی امتیاز صفات میں محبت کا سرمایہ ازلی موجود ہو تو ایسے لوگوں کو دوسرے لوگ اپنی حیات کے سفر میں مشعل راہ شمار کرتے ہیں۔ محبت کے ہزار رنگ اور ہر رنگ میں لاکھوں رچائو ہیں اور پھر کسی بھی محبت بردار شخص کی برکت رسانی اور جذب دروں کا فیضان معاشرے کو زندگی کی دعوت دیتا ہے۔ ازل سے یہ معجزہ اپنے تسلسل کو انسانی زندگی میں منتقل کرتا آ
مزید پڑھیے


خدا ہی جانے یہ منجدھار ہے کہ ساحل ہے

بدھ 17 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
باز نہیں آ کر دیتے، پریشانیاں پالنا اور پھر ان کو بڑھاوا دینا شری طبیعت کا وہ امتیازی خاصہ ہے جس سے بدبختی کو فروغ ملتا ہے۔ بدبخت ازلی ہوتے ہیں، لاکھ ٹھوکر لگے، یہ سنورنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ شاعر اپنی متاعِ درد کو جگانے میں صرف کرتا ہے اور جاگتے رہنا کی مسلسل صدائیں بلند کرتا ہے مگر بدبخت اپنی قوم کو ہی اپنی نحوست کی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ روزانہ اخبارات میں قائد آزادی، حریت کی تاریخ کے سرنامہ قائد اعظم کا قول چھپتا ہے۔ پھر بیداریٔ ملت کے عظیم نقیب اور آزادیٔ خیر کے علمبردار
مزید پڑھیے


کاذبیں پر ہیں خدا کی لعنتیں

منگل 09 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
مزاج میں امتزاج کی شرح تلاش کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ انسان کو خطا و نسیان سے مرکب بنایا اور پھر مزاج میں اضداد کا ایسا پر پیچ نظام وارد کر دیا کہ مدبراتِ امر بھی اپنی تنگیٔ داماں کا اعتراف کرتے ہوئے سبحان ذی الملک والملکوت کے ورد میں مشغول ہیں۔ کتنے مخاطب ہوتے ہیں ذہن میں۔ جب خامہ فرسائی کا عمل فکر سے تال میل کرتا ہے۔ روزانہ افکار نوک قلم سے پھسل کر سطح قرطاس کو شبنمی کرتے ہیں اور خواندہ و نیم خواندہ گروہ عاقلان ہوتا ہے، جو الفاظ کی چوبی روٹی کو اندر اتارتا ہے۔ بس
مزید پڑھیے


سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

پیر 01 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
پوری توجہ اور ایماندارانہ احتیاط چاہئے ہر اس فرد کو جو قوم سے مخاطب ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت کا خیال رہنا تو بہت ضروری ہے۔ اپنے منصب کی پہچان فراموش ہرگز نہ کرے۔ زبان، رویے، اشارے اور نیت کو بھٹکنے نہ دے۔ سب ہی ذمہ دار ہیں، جن پر لوگ اعتبار کرتے ہیں۔ جوابدہ وہ ہر شخص ہے، جس کی کفالت میں کچھ اور انسان ہوتے ہیں اور حیوان بھی زیرکفالت ہوں تو جوابدہی بڑھ جاتی ہے۔ سید انس و جاں ﷺ نے ایک قاعدہ عنائت فرمایا اسی پر کائنات کا توازن ہے۔ عدل طبیعت اور عدل حیات، دیگر اقسام عدل
مزید پڑھیے


اب رہنما کی جیب میں ‘قزاق چھپے ہیں

جمعه 14 جون 2019ء
جسٹس نذیر غازی
نصیحت بہت ضروری ہے بگڑتے حالات میں راہنمائی کا اخلاقی طریقہ ہے‘فرد سنور جاتا ہے اور معاشرے کو سدھار کا راستہ مل جاتا ہے۔ لیکن اس حس قرینہ کے ساتھ نصیحت کا عمل ہو کہ زخموں پر ٹھنڈا مرہم نظر آئے نہ کہ عمل جراحی کا احساس شدید ۔ احساس کی تبدیلی سے انکار کو نئی دنیا سے آشنائی ملتی ہے اور افکار جڑ پکڑ لیں تو عمل کا تنا مضبوط ہوتا ہے اور پھر شاخیں ‘ پھول ‘ پھل سب میں جڑ کا احساس برقرار رہتا ہے۔ شیریں پھلدار درخت اور تلخ زا اشجار کبھی بھی ایک قبیلے میں شمار
مزید پڑھیے