BN

جسٹس نذیر غازی



غنچۂ روح سے رحمت کی صبا کہتی ہے


لاکھ انکار کریں۔ بدفطرت، ہزار مزاحمتیں پیش آئیں اور اندھیرا ڈھیٹ ہو جائے تو قدرت کے قوانین ہرگز ہرگز تبدیل نہیں ہوں گے۔ بہت غلیظ طبیعت ہے ابلیس کی ، ھٹ سے باز نہیں آتا۔ جن کی فطرت میں شر راج کرتا ہے، وہ غافلین ہیں۔ آنکھ نہ کھلی تو پھر زمرۂ منافقین میں ان کو درجہ مل جاتا ہے۔ اپنی سی کرتے ہیں۔ خود ہی کو خود پوجتے ہیں۔ یہ لوگ کتاب آخر کی لغت قانون میں شر البریہ ہیں۔ محسن کش ہوتے ہیں۔ مالک سے بغاوت پر اتر آتے ہیں اور خالق سے طوطا چشمی کرنا ان کے
پیر 03 جون 2019ء

ہم بھی تخلیق میں اَحسَنِ تقویم ہوئے

پیر 20 مئی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
روز مرہ کا معاشرتی مشاہدہ ہے اور یہ مشاہدہ ماضی‘ حال ‘ مستقبل پر بے روک ٹوک احاطہ کئے ہوئے ہے۔ جس فرد نے بھی شعور درد کے ساتھ اس زندگی کو ٹٹولنا چاہا یہ مشاہدہ آخر میں کھڑا نظر آتا ہے مشاہدہ ہے کیا؟ یہی ہے کہ مصلحت کا سہارا لے کر آگے بڑھو یہاں تک کہ پہلے روز جو منزل مقصود طے کی تھی‘ وہ اتنی اوجھل ہو جائے کہ پریشان منزل پر نئی بات ‘ نئی عادت ‘ نئی نیت اورنئے ارادوں کو شامل سفر کرنا پڑے۔ قومیں وقت کو ہاتھ میں کر لیا کریں تو غلبہ
مزید پڑھیے


کالی رات کے بیوپاری، اب دن میں دھندہ کرتے ہیں

پیر 13 مئی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
دن گزر گیا، نیا دن نئی خبروں کو لے کر آیا، دھیان اچاٹ ہو گیا اور پہلے روز ہی سوگواری۔ داتا دربار کے باہر ایک بدبخت، بدعقیدہ نے انسانیت سوزی کے نصاب سے ایک بہیمانہ سبق دھرا دیا، وہی خودکش حملہ، گیارہ قیمتی انسانی جانوں کو لے گیا۔ پانچ پولیس والے تھے، باقی زائرین تھے۔ گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ یہ ماتم کی دریاں اب بہت دن تک بچھی رہیں گی۔ کسی دن کوئی وزیر جا کر نگارخانے میں نئی تصاویر کا اضافہ کرکے آ جائے گا۔ پھر وہ بے چارے اہل خانہ، بیوائیں اور بالکل ہی
مزید پڑھیے


تیری یاد کے جھروکوں سے زندگی کی کرن نصیب ہوئی

منگل 07 مئی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
وقت گزرتا ہے۔ گزرتا تو دکھائی نہیں دیتا ہے۔ کسی کی یاد میں وقت گزرنے کا اپنا الگ سے پیمانہ ہے۔ کبھی یہ پیمانہ سست روی سے اپنے نتائج بتاتا ہے اور کبھی لمحہ لمحہ ایسا عجلت میں نظر آتا ہے کہ وقت کے گھوڑے کی رفتار سمجھ سے بالا ہوتی ہے۔شاعر ہو یا غم و آلام کا مارا ہوا کوئی بچہ اپنے والدین کو یاد کرتا ہے تو نوائے دل دونوں کی یکساں ہی ہوتی ہے ؎ بربط سوز پہ مضراب الم پڑتی ہے اے خدا جب کہ جدائی کا بیاں ہوتا ہے شعبان المعظم کے
مزید پڑھیے


لڑکھڑاتی زبان‘ کیا کہنے

اتوار 28 اپریل 2019ء
جسٹس نذیر غازی
دانش کو صیقل کئے بغیر الفاظ کا استعمال مہمل ہوا کرتا ہے۔ اخلاص کا جوہر عنقا ہو تو شیطان زبان پر جھولتاہے۔ پرانی عادت ہے خود کو خدائی لہجے کا نمائندہ سمجھنے والوں کی کہ ہمارا فرمودہ فرمان امروز ہے۔ نشہ کیا ہی ہو‘ ہر وقت ڈانواڈول کئے رکھتا ہے۔ بد نشہ قوم سے مذاق کر رہے ہیں کسی کو کیا پرواہ کہ رات کسی غریب کا چولہا ٹھنڈا ہوا کرے‘ مزدور بھوک کے بھوت کا لقمہ بن جائے اور بچوں کے گلے کاٹ کر خود زہر پی لے۔ جوا بازوں کا نشہ اترنے میں نہیں آ رہا ہے۔ ڈھیٹ ہیں
مزید پڑھیے




غیر کی بولی بولنے والے

جمعرات 18 اپریل 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کفر اور کفر کے خاموش حاشیہ نشین اپنی ذلت کا سامان کر رہے ہیں عالم کفر میں ایک ہیجان ہے۔ منافق اپنی سرگرمیوں میں مگن اہل حق پر پوری طرح سے حملہ آور ہو گئے ہیں۔ نتیجہ تو بالآخر برآمد ہو گا۔ تاریخ کے روشن باب کھل جائیں گے اور حق و باطل کا معرکہ اپنے سرنامہ حسینیت کے نام پر زندہ رہے گا۔ کتنے ہی گمراہ کن موضوعات نے عصر حاضر میں مومن کو حصار میں لے رکھا ہے۔ کچھ موضوعات کو منافقین نے اچکا اور اپنی دین بیزار ذہنیت کا سہارا دے کر تہذیب بندی کا واویلا بلند کیا
مزید پڑھیے


ہر چال میں لاکھوں جال بچھے ہیں

بدھ 03 اپریل 2019ء
جسٹس نذیر غازی
مخلوق کو مخلوق پر حکمران بنایا گیا ہے۔ دونوں فریق امتحان گاہ میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ حکمران بننے کا شوق ایسا چور شوق ہے کہ اپنی ذات کی چوری میں سب سے پہلے اسی کو مجرم بتایا جاتاہے۔ روز نئی آفت‘ نیا مرحلہ غضب اور نئی خواہشات کا انجانا بوجھ اسے چھیڑ اسے ستا‘ یہ مشغلۂ حکومت ہوا کرتا ہے۔ پاکستان بہرحال پاکستان ہے‘ ایثار‘ قربانی‘ جدوجہد کے بعد ایک نظریاتی حقیقت اور جغرافیائی وجود ہے۔ ہوس کار فرنگی کی گود میں پلا مکار بنیا روز اول ہی سے اس پاک وطن کا دشمن ہے۔ اس مقدس وطن کے نظریے
مزید پڑھیے


حکمت مغرب کے تیور‘الامان

اتوار 24 مارچ 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کوئی شائبہ اب باقی نہیں رہا ‘مغرب کے مذہبی جنونی اپنی تاریخ کی پرانی سیاہی سے دہشت گردی کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ یہودیوں کی تاریخی زہرناکیاں اور نصاریٰ کی صلیبی جنگیں اپنی سیاہ ناکی کبھی بھی تاریخ کے اوراق سے محونہیں کر سکتی ہیں۔ دلوں میں دہشت ناک کی آگ اس طرح سے بھری ہوتی ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کا الائو کبھی بھی مدھم نہیں ہوتا۔ان کی حکومتیں ان کے دانشور اور ان کے سیاستدان اپنی سوچ کے محدود دائرے کے اسیر ہیں۔ دہشت گردی‘ قزاقی‘ مظلومیت‘ محرومیت کے مغربی پیمانوں میں مشرق اور مسلمان بہرحال
مزید پڑھیے


غیرت فقر کا انتظار ہوتا ہے

اتوار 17 مارچ 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ہر روز کی تازہ تحریر میںایک پرانا جملہ گردش کرتا ہے کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے اب یہ جملہ عمرانی ‘‘مسلمات ‘‘کا ایک مستقل مضمون ہوا چاہتا ہے خیر ایک نسیان زدہ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ تاریخ فروش جان بوجھ کر بھولنے کا سبق اپنی معرکتہ الارا تصانیف میں دھراتے ہیں۔ بدقسمتی کا یہ حصہ ہماری ملی تاریخ کو نصیب ہوا ہے۔ پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟ اور اس کی بقاء کے لئے‘ اس کی فکری و نظری ضرورت کو پیش نظر رکھنا کیوں واجب ہے؟ اور کیسے سفر بقائے وطن کا زاد راہ بچا کر اور بڑھا
مزید پڑھیے


دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

هفته 09 مارچ 2019ء
جسٹس نذیر غازی
بھانت بھانت کی بولیاں اس روز بھی تھیں جب بھارتی نیتائوں نے اپنی ناپاک نیت کو جھوٹ کے غلاف میں لپیٹ کر دن کی روشنی میں شور مچایا کہ ہم نے پاک فضائوں کو ملیچھ کیا ہے۔ تب ارض پاک میں چھپے ہوئے منافقین کے چہرے کھل اٹھے۔ چھٹانک بھر کی زبان سے وہ شور اٹھایا کہ محب وطن ذرا دیر کو پریشان تو ہوئے لیکن کسی بھی لمحے کے ہزارویں حصے کے برابر بھی دشمن سے مرعوب نہیں ہوئے۔ منافقین کا کردار عبداللہ بن ابی سے اپنا رشتہ تازہ رکھتا ہے۔ اہل ایمان حالات کی چیرہ دستی سے پیچ
مزید پڑھیے