BN

جسٹس نذیر غازی


ظلم پھر ظلم ہے‘ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے


ہر روز کی نئی خبر محض خبر نہیں ہوتی‘ ایک پیغام ہوتی ہے یا تنبیہ اور کبھی دل کی آسودگی کا سامان یا کبھی دھمکی‘ بس ہم گزرتے جائیں۔ دھیان دیں یا نہ دیں خبر تو اپنے اثرات کو کو مہم جوئی کے انداز میں پھیلانے کا کام جاری رکھتی ہے۔ قوم کا ہر فرداپنی جگہ بیدار رہے۔ دشمن کی چال سے ہوشیار رہے۔ پھر اپنی اجتماعی قومی ترقی سے بیگانہ نہ رہے تو ہر پاکستانی کا ملی فریضہ ہے۔ لیکن اس فریضے سے غفلت کا ہم سب شکار ہیں۔ایک اہم خبر جو روز ہمیں پیغام دیتی ہے۔ بیدار کرتی
جمعرات 16 جنوری 2020ء

وقت بہت ہی نازک ہے

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک روایتی مشق جاری ہے ان لوگوں کی ذہنی عداوت کی، جن کا سرمایہ فکر الجھنا اور الجھانا ہے۔ دلائل کا انبار اور گفتگو کا پیرایہ بہت دلفریب ہوتا ہے۔ کاروبار معاش ہے‘ اسی پر جیتے ہیں۔ الفاظ کا تیور جلے بھنے کلیجے سے برآمد ہوتاہے۔ قارئین رنگ مزاح میں ایک عجیب طرز قوس قزح کا نظارہ کرتے ہیں۔ پھر ذرا دیربعد غروب آفتاب کا وقت ہو جاتا ہے۔ یہ ایک مستقل رویہ ہے ہمارے ان قلم بازوں کا جو روزانہ نئی جلوہ طرازی کو ایمان صحافت کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کے ہاں دادفن کا ایک اندازِ بلیغ ہے۔ بالکل
مزید پڑھیے


کچھ درد چاہیے‘ احساس چاہیے

هفته 14 دسمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک جھگڑے سے فرصت نہیں ملتی کہ دوسرے کی تلاش کا شوق فراواں دامنگیر رہتا ہے۔ عادت ہے یا پیشہ اہل فن کا کچھ سمجھ نہیں آتا۔ وطن ہے ‘ قوم ہے لیکن فساد کا دلدر گھر میں موجود رہتا ہے۔ پریشانی بڑھتی ہے اور پریشانی کو بڑھانے کے لئے بھی پریشان رہنا مزاج کا مستقل مشغلہ ہے۔ یہ مشغلہ دل ناصبور اپنی قلمرو کا رقبہ پر آن بڑھاتا ہے۔ کیا واعظ اور کیا دانشور اور کیا لکھاری عاقبت نااندیشی کے نشہ میں چور پریشانی سے بغلگیر ہونے کے لئے افتاں و خیزاں حرکت میں رہتے ہیں۔ دشمن بہت بیدار رہتا ہے۔
مزید پڑھیے


اب ذرا تو وقت کی رفتار دیکھ!

منگل 03 دسمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کبھی تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور کبھی ایسی بے حسی کی چادر لپیٹتے ہیں گویا سب ٹھیک ہے، یہ رویہ ہے ہمارے اساطین ملت کا، کبھی درد ہوتا ہے تو وہ قوم کے نام کرنا ان کا شریفانہ وطیرہ ہے۔ لکھنے والے اور بولنے والے مضامین نو سے بالکل عاری ہیں۔ ایسے ایسے جادوگر ہیں اہل سیاست کہ رشک بنگال و مصر کہلانے کے مستحق ہیں۔ کسی دور میں فرعون کے ہمنوا اور ہم رکابی میں ہوتے تھے ساحران وقت، لیکن اب زمانے کا الٹ پھیر ایسا کہ فراعنۂ وقت خود جادوگروں کو مات دیتے ہیں۔ فن فریب
مزید پڑھیے


کروں نام پہ تیرے جاں فدا

اتوار 24 نومبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
بہت آسان ہے کہ اپنی عقیدت کا اظہار کر کے اہل علم کو اپنے اعتبار علمی کا گواہ بنا لیا جائے اور الفاظ کی نشست و برخاست سے اپنی نگارشات کو وزن دار بنا کر حلقہ تحسین قائم کر لیا جائے۔ یہ عادت ہے قدیم سے ان لوگوں کی جو علم کو ذریعہ معاش، آلہ شہرت اور سبب عزت بنانے میں مصروف رہتے ہیں، اپنی ذات کی تمن داری کا احساس ان کی زندگی کا اہم ترین مسئلہ ہے، اسی لئے معاشرے کے دانشور، خطبائ، مبلغین اور مدعیان علم معاشرے میں اصلاح اور اشاعت علم کے نام پر منظم فکری گمراہی
مزید پڑھیے



بنا ادب کے یہ گوہر نہیں ملتا

بدھ 13 نومبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
پوری انسانیت کا مسئلہ تو یہ ہے کہ انسانی زندگی کی حقیقت اور اس زندگی کی گزر بسر کا کامیاب طریقہ میسر رہے۔انسانی زندگی کب انسان کے اختیار میں ہے؟ اور نہ ہی کوئی ایسا طریقہ ابھی تک دریافت ہوا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو مستقل طور پر قابو کر لے۔ علم اور عقل کی روشنی میں جو حتمی حقیقت سامنے آتی ہے، اس کے مطابق زندگی کے نظام کو ایک تواتر اور توازن کے ساتھ چلانے کے لیے ایک مرکزی لا محدود اور نہایت با اختیار قوت ہے جو انسانی زندگی کی تخلیق اور اسباب حیات کو اپنی گرفت
مزید پڑھیے


میری زندگی کے روشن چراغ‘ کی باتیں

هفته 12 اکتوبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک عرصہ اور دنیا کی رنگینی پھر آخرت کا دھیاں‘ عجب تکون ہے۔ زندگی کی بسا اوقات بہت گہری سوچ دنیا سے دل اچاٹ کر دیتی ہے اور بسا اوقات سطور بالا کی حقیقت کو ماں کی گود سے بطور درس حاصل کیا اور پھر باپ کی شفقت کے سائے میں اس شجر درس کو اتنا بڑھاوا ملا کہ ساری زندگی میں حالات اور خیالات کی الٹ پلٹ میں تربیت کا یہ آئینہ زندگی کی منازلِ سفر کو دیکھتا رہا۔ مایوسی کی دھندلاہٹ کے سامنے بھی اس آئینہ تربیت کی چمک ماند نہ پڑ سکی۔اب معاشرے کی جواں توانائی ایک
مزید پڑھیے


کیا مار آستیں ہیں تیری نگاہ میں؟

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
دشمنی کوئی یکطرفہ تو نہیں چومکھی لڑائی ہے۔ افراد نہیں اقوام کا ٹکرائو ہے۔ محض ٹکرائو نہیں‘ جلتی ہوئی آگ کا طوفان بلاخیز۔ کشمیر ‘ فلسطین ‘ افغانستان ‘ تازہ واردات اچانک ہوتی ہے ۔زمین پر قبضہ‘ وسائل پر قبضہ‘ اور آزادی پر قبضہ ۔ہر جارح اور قابض ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے رقص ابلیس سے اسلامی کے وجود کو زدو کوب کر رہا ہے ایک دوسرے کی حمایت میں ہر حربہ اور چال ان کے نزدیک بین الاقوامی قانون سلامتی کا درجہ رکھتی ہے۔ مناسب حالات اور مناسب وقت پر وہ زخم خوردہ ملت اسلامیہ کو کچوکے لگاتے ہیں اور اپنی
مزید پڑھیے


تمام عمر سہارے فریب دیتے ہیں

جمعه 20  ستمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
شور اور پکار ہر سو سے برآمد ہو رہی ہے۔ بے یقینی اور مستقبل میں کسی بھی اچھی صورتحال کی امیدیں مایوسی میں لپٹتی نظر آتی ہیں۔ حکومتی حلقوں کی روایتی حاشیہ بردار نوکر شاہی کے جھتے اپنی پوری استعداد اور چالاک فکری سے حکومتی ذمہ داران کے گرد حلقہ بنائے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ملک میں ابھی تک انتظامی استحکام ندار دہے۔ نچلی سطح سے لے کر اوپر تک تبادلوں اور تعیناتی کی حکایت روزمرہ کی دلپذیر، دلچسپ اور خوفناک مصروفیت ہے۔ کام کرنے والے سہم کر رہتے ہیں زور آور کسی نہ کسی کی گردن پر بھاری
مزید پڑھیے


اللہ کے وعدے پر مومن کو یقین ہے

هفته 07  ستمبر 2019ء
جسٹس نذیر غازی
عالم کفر کو سانپ سونگھ گیا ہے بظاہر تو ایسا ہی نظر آتا ہے‘ لیکن حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑے جمود کے بعد فطرت اپنا متحرک پیغام دلوںمیں اتارتی ہے۔ جذبات بلند ترین سطح پر پہنچ کر آخری اور حتمی فیصلوں کا اعلان کرتے ہیں۔ مسلمان بہرحال مسلمان ہوتا ہے تاریخ آزماتی ہے۔ حالات اس کی زندہ حیثیت کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور پھر اس مسلمان کا اندر والا مسلمان جاگتا ہے۔ تاریخ کی آزمائشی گھڑی میں وہ اپنے بندھنوں کو توڑ کر برسر پیکار ہوتا ہے تاریخ رقم ہوتی ہے اور عالم کفر اپنی جملہ
مزید پڑھیے