BN

جسٹس نذیر غازی



اندھیر نگری میں بسنے والو! خدا کو آخر حساب دو گے


نہایت بے احتیاط‘ بے سلیقہ ‘ نہ کسی سمت کا تعین ہے نہ کوئی بڑی سوچ بس ایک اندھا دھند خواہش کا سیلاب دل و دماغ کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ خواہش ہے کہ بالکل بیمار۔ یاسیت کا شکار اور یاسیت اور خواہش مل کر عقل سے دشمنی کر رہی ہیں اسی لئے کوئی صحت مند خیال جنم ہی نہیں لیتا۔ ہر روز نئے خواب نئے ارادے بیمار ذہن اسی طرح کے حالات میں پروان چڑھتے ہیں۔ بیمار ذہن اپنی خواہشات کو اپنی انا کا امام کرتے ہیں۔ اردگرد نہیں دیکھتے، اگر دیکھتے ہیں تو کنکھیوں سے جائزہ لیتے ہیں
اتوار 11  اگست 2019ء

دامِ ہمرنگ زمیں بچھتا ہے

اتوار 04  اگست 2019ء
جسٹس نذیر غازی
دامِ وھمرنگ زمین بچھا دیا ہے، اس دشمن نے جو کسی طرح بھی مسلمانوں کے وجود کو برداشت نہیں کرتا۔ دنیا تو بہت رنگین سامان ہے۔ ہر رنگ کا فریب اتنا گہرا کہ فراست پر بھی دھندلاہٹ آ جاتی ہے۔ دانشور کیا کریں، جب دانش پر ہی پردے پڑ جائیں تو یقین کی قوت ہی دانش کو جھلا کرتی ہے اور ایمان کی بساط پر ہی نظریات کی حقیقت درست نظر آتی ہے۔ ایمان ہے کہاں؟ جب دل پر مادیت کی دلکش اور پرفریب سمتیں اس طرح سے چڑھی ہوئی ہیں کہ دل اور دماغ دونوں ہی اسیر عنبر ہیں۔ ہمارے
مزید پڑھیے


وہ وجودِ خیرو فلاح تھا

جمعه 26 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
محبت ایک مستقل معجزہ حیات ہے۔ ہر شخص کے مقدر میں ایک خاص وصف فطرت ودیعت کرتی ہے جو اس کی شخصیت کو ممتاز کرتا ہے جن لوگوں کی امتیاز صفات میں محبت کا سرمایہ ازلی موجود ہو تو ایسے لوگوں کو دوسرے لوگ اپنی حیات کے سفر میں مشعل راہ شمار کرتے ہیں۔ محبت کے ہزار رنگ اور ہر رنگ میں لاکھوں رچائو ہیں اور پھر کسی بھی محبت بردار شخص کی برکت رسانی اور جذب دروں کا فیضان معاشرے کو زندگی کی دعوت دیتا ہے۔ ازل سے یہ معجزہ اپنے تسلسل کو انسانی زندگی میں منتقل کرتا آ
مزید پڑھیے


خدا ہی جانے یہ منجدھار ہے کہ ساحل ہے

بدھ 17 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
باز نہیں آ کر دیتے، پریشانیاں پالنا اور پھر ان کو بڑھاوا دینا شری طبیعت کا وہ امتیازی خاصہ ہے جس سے بدبختی کو فروغ ملتا ہے۔ بدبخت ازلی ہوتے ہیں، لاکھ ٹھوکر لگے، یہ سنورنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ شاعر اپنی متاعِ درد کو جگانے میں صرف کرتا ہے اور جاگتے رہنا کی مسلسل صدائیں بلند کرتا ہے مگر بدبخت اپنی قوم کو ہی اپنی نحوست کی لپیٹ میں لیتے ہیں۔ روزانہ اخبارات میں قائد آزادی، حریت کی تاریخ کے سرنامہ قائد اعظم کا قول چھپتا ہے۔ پھر بیداریٔ ملت کے عظیم نقیب اور آزادیٔ خیر کے علمبردار
مزید پڑھیے


کاذبیں پر ہیں خدا کی لعنتیں

منگل 09 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
مزاج میں امتزاج کی شرح تلاش کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ انسان کو خطا و نسیان سے مرکب بنایا اور پھر مزاج میں اضداد کا ایسا پر پیچ نظام وارد کر دیا کہ مدبراتِ امر بھی اپنی تنگیٔ داماں کا اعتراف کرتے ہوئے سبحان ذی الملک والملکوت کے ورد میں مشغول ہیں۔ کتنے مخاطب ہوتے ہیں ذہن میں۔ جب خامہ فرسائی کا عمل فکر سے تال میل کرتا ہے۔ روزانہ افکار نوک قلم سے پھسل کر سطح قرطاس کو شبنمی کرتے ہیں اور خواندہ و نیم خواندہ گروہ عاقلان ہوتا ہے، جو الفاظ کی چوبی روٹی کو اندر اتارتا ہے۔ بس
مزید پڑھیے




سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

پیر 01 جولائی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
پوری توجہ اور ایماندارانہ احتیاط چاہئے ہر اس فرد کو جو قوم سے مخاطب ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت کا خیال رہنا تو بہت ضروری ہے۔ اپنے منصب کی پہچان فراموش ہرگز نہ کرے۔ زبان، رویے، اشارے اور نیت کو بھٹکنے نہ دے۔ سب ہی ذمہ دار ہیں، جن پر لوگ اعتبار کرتے ہیں۔ جوابدہ وہ ہر شخص ہے، جس کی کفالت میں کچھ اور انسان ہوتے ہیں اور حیوان بھی زیرکفالت ہوں تو جوابدہی بڑھ جاتی ہے۔ سید انس و جاں ﷺ نے ایک قاعدہ عنائت فرمایا اسی پر کائنات کا توازن ہے۔ عدل طبیعت اور عدل حیات، دیگر اقسام عدل
مزید پڑھیے


اب رہنما کی جیب میں ‘قزاق چھپے ہیں

جمعه 14 جون 2019ء
جسٹس نذیر غازی
نصیحت بہت ضروری ہے بگڑتے حالات میں راہنمائی کا اخلاقی طریقہ ہے‘فرد سنور جاتا ہے اور معاشرے کو سدھار کا راستہ مل جاتا ہے۔ لیکن اس حس قرینہ کے ساتھ نصیحت کا عمل ہو کہ زخموں پر ٹھنڈا مرہم نظر آئے نہ کہ عمل جراحی کا احساس شدید ۔ احساس کی تبدیلی سے انکار کو نئی دنیا سے آشنائی ملتی ہے اور افکار جڑ پکڑ لیں تو عمل کا تنا مضبوط ہوتا ہے اور پھر شاخیں ‘ پھول ‘ پھل سب میں جڑ کا احساس برقرار رہتا ہے۔ شیریں پھلدار درخت اور تلخ زا اشجار کبھی بھی ایک قبیلے میں شمار
مزید پڑھیے


غنچۂ روح سے رحمت کی صبا کہتی ہے

پیر 03 جون 2019ء
جسٹس نذیر غازی
لاکھ انکار کریں۔ بدفطرت، ہزار مزاحمتیں پیش آئیں اور اندھیرا ڈھیٹ ہو جائے تو قدرت کے قوانین ہرگز ہرگز تبدیل نہیں ہوں گے۔ بہت غلیظ طبیعت ہے ابلیس کی ، ھٹ سے باز نہیں آتا۔ جن کی فطرت میں شر راج کرتا ہے، وہ غافلین ہیں۔ آنکھ نہ کھلی تو پھر زمرۂ منافقین میں ان کو درجہ مل جاتا ہے۔ اپنی سی کرتے ہیں۔ خود ہی کو خود پوجتے ہیں۔ یہ لوگ کتاب آخر کی لغت قانون میں شر البریہ ہیں۔ محسن کش ہوتے ہیں۔ مالک سے بغاوت پر اتر آتے ہیں اور خالق سے طوطا چشمی کرنا ان کے
مزید پڑھیے


ہم بھی تخلیق میں اَحسَنِ تقویم ہوئے

پیر 20 مئی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
روز مرہ کا معاشرتی مشاہدہ ہے اور یہ مشاہدہ ماضی‘ حال ‘ مستقبل پر بے روک ٹوک احاطہ کئے ہوئے ہے۔ جس فرد نے بھی شعور درد کے ساتھ اس زندگی کو ٹٹولنا چاہا یہ مشاہدہ آخر میں کھڑا نظر آتا ہے مشاہدہ ہے کیا؟ یہی ہے کہ مصلحت کا سہارا لے کر آگے بڑھو یہاں تک کہ پہلے روز جو منزل مقصود طے کی تھی‘ وہ اتنی اوجھل ہو جائے کہ پریشان منزل پر نئی بات ‘ نئی عادت ‘ نئی نیت اورنئے ارادوں کو شامل سفر کرنا پڑے۔ قومیں وقت کو ہاتھ میں کر لیا کریں تو غلبہ
مزید پڑھیے


کالی رات کے بیوپاری، اب دن میں دھندہ کرتے ہیں

پیر 13 مئی 2019ء
جسٹس نذیر غازی
دن گزر گیا، نیا دن نئی خبروں کو لے کر آیا، دھیان اچاٹ ہو گیا اور پہلے روز ہی سوگواری۔ داتا دربار کے باہر ایک بدبخت، بدعقیدہ نے انسانیت سوزی کے نصاب سے ایک بہیمانہ سبق دھرا دیا، وہی خودکش حملہ، گیارہ قیمتی انسانی جانوں کو لے گیا۔ پانچ پولیس والے تھے، باقی زائرین تھے۔ گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ یہ ماتم کی دریاں اب بہت دن تک بچھی رہیں گی۔ کسی دن کوئی وزیر جا کر نگارخانے میں نئی تصاویر کا اضافہ کرکے آ جائے گا۔ پھر وہ بے چارے اہل خانہ، بیوائیں اور بالکل ہی
مزید پڑھیے