BN

جسٹس نذیر غازی



زاغوں کا شوروغوغا سن کر عقاب جاگے


ایک تماشہ ہے جو شیطان نے اپنے حواریوں کو سجھا کر، سمجھا کر، پیٹھ ٹھونک کر برپا کروا دیا ہے اور بڑی خاموش آگ بھر دی ہے۔ مشرکین کے اندھے دماغوں میں اور فساد کی انجانی لہر اتار دی ہے کافروں کے خون میں۔ اور رہے منافق تو وہ بے چارے کبھی ڈرتے ہیں اور کبھی آنکھیں کھولتے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ منافق ہر جگہ اور ہر وقت اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ملت پاکستان، ملت اسلامیہ کی دفاعی اساس ہے۔ اس کی بنیاد اول وآخر لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ﷺ) ہے۔ اس کی
هفته 02 مارچ 2019ء

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز

هفته 23 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
اپنی اپنی بولی اور اپنا اپنا خیال، وقت گزرتا ہے، میلے کا رنگ بھرتا جاتا ہے۔ ہر حاضر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ شناخت کو عام کرتا ہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وجود اور یاد دوسروں کو شناخت دیتی ہے۔ پھر شام کے سائے، زندگی کے سفر کا آخری پڑائو اور موت کا پلیٹ فارم، پلیٹ فارم کے اس طرف شہر خاموشاں اور اس شہر کے نئے آبادکار، لواحقین اور غمزدہ دوستوں کے اداس جلوس کے ساتھ قبر میں جا آباد ہوتے ہیں۔ وجود قبر میں ہے اور یادیں پس ماندگان کے سینوں میں حکایات وفا اور پریم
مزید پڑھیے


ضعف کے مارے لوگوں کو ، آخر کب تک لوٹو گے

هفته 09 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
مقدمہ اہم ترین اس کمزور مخلوق کا ہے جس کی وکالت کے لیے ہر شخص تیار رہتا ہے لیکن حق وکالت ادا کرنے کو خوف کا پتھر اور بالکل جامد پتھر سمجھ کر ترک کردیا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، مکان، کپڑا، روٹی بہت بڑے اور ضروری حقوق ہیں۔ رعایا حسرت کی نگاہوں سے کسی چارہ گر کی تلاش میں ایک عرصے سے سرگرداں ہے۔ آزادی کو ستر برس سے زیادہ تلخ ایام بیت گئے۔ غریب کی سوئی ہوئی قسمت ابھی تک ضعف میں آنکھیں ملتی ہے۔ بیدار نہیں ہوتی۔گہرے اور شاطر خیالات کو سیاست اور اختیارات کے لباس میں اتنا
مزید پڑھیے


شاخ گل پر چہک و لیکن کر اپنی خودی میں آشیانہ

هفته 02 فروری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
حکمران اپنی معاون ٹیم میں گھرا رہتا ہے۔ بہت احتیاط سے سننا۔ پھر پوری دماغی قوت کو بیدار رکھنا اور اعتماد کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ فیصلہ مفید ہونا چاہیے۔ مخلوق سکھ محسوس کرے اور وہ پریشان نہ ہو۔ حق حکمرانی مل تو جاتا ہے‘ البتہ اس کا حق پہچاننا عمل ہی سے ثابت ہوتا ہے۔ نادان تلوار سے کھیلیں یا بچہ تخت پر بیٹھے۔ مخلوق کو راحت کہاں نصیب ہو گی۔ ایک مرتبہ کیا ہزاروں مرتبہ تاریخ میں اہل اور نااہل لوگ مل جل کر عوام کو ہانکتے رہے۔ نہ چین کا اچھا وقت آیا اور نہ ہی شر
مزید پڑھیے


مقتولوں کی آہیں تو فلک پار گئی ہیں

هفته 26 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
زندگی ہے تو اونچ نیچ ہوتی رہے گی۔ پھر موت سب کوبرابر کردیتی ہے۔ اچھی بری زندگی موت پر بھی اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ قوموں کی زندگی میں اچھائی اور برائی اوپر سے نیچے کو منتقل ہوتی ہے۔ راجہ کے درباری ہی کل سیدھی رکھتے ہیں اور بگاڑ فساد بھی یہی سکھاتے بتاتے ہیں۔ راجہ کے سنگھاسن کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی نشہ دربار چڑھا رہتا ہے۔ ہر کاروں کا نشہ ذرا دھیرے دھیرے بڑھتا ہے تو وہ راجہ کو بھی مات کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔ رہی بات کوتوال کی تو اس کو کون پوچھے کہ تیری
مزید پڑھیے




آستینوں میں چھپے ہیں قزاق

هفته 19 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
کسی دور میں غریبوں کے آنسو پونچھنے کے لیے اہل قلم اپنا حق ادا کرتے تھے، اپنی نظموں سے، اپنی غزلوں سے، نثرپاروں میں غم دوراں کے ماتم میں وہ شریک ہوتے، بے چارگان کے لیے، بے نوائوں کی نوا شاعر خستہ دل ہوا کرتے تھے۔ لہو میں ڈوبی انگلیاں ظلم کی داستان خونچکاں رقم کرتی تھیں۔ تب بھی قصیدہ خوان دربار، فرعون صفت بادشاہ کوسایہ خدا ثابت کرنے کے لیے مبالغہ کلام کو شرمندہ کرتے تھے اور دنیائے بے وقعت کو قلب کی ترازو میں سجاتے تھے۔ نگری میں اندھیرا بڑھتا جارہا ہے۔ راجہ نجانے کہاں کہاں چوپٹ ہوئے خود اندھے
مزید پڑھیے


ہر ادا پہ ایک ماتم چاہئے

اتوار 13 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
ایک روز کسی دانشور نے جگرسوزی سے ایک درد مندانہ تحریری بھیجی ہے کہ ایک سناٹے دار موضوع پر توجہ فرمائیے۔ موضوع پر غور کیا تو واقعی احساس کو بھی سناٹا آ گیا۔ ہم بولتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ تبصرے کرتے ہیں اور پھر موضوع کو ترک کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں یا پھر کچھ وقت کے لئے تلملاتے ہیں‘ موضوع یہ ہے کہ اس ملک کے اشرافیہ اپنے بھاری بھاری حرموں کے ارتکاب کے باوجود بھی قابل احترام رہتے ہیں۔ عزت کی کلغی ان کی پیدائشی صفت اور وراثتی اثاثے کی طرح سمجھی جاتی ہے یہ اشرافیہ نجانے کس شرافت
مزید پڑھیے


ترا یہ دعویٰ غلط ہے ساقی

هفته 05 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
نظام کو بدلنے کے لیے شر اور خیر کی قوتیں مسلسل متصادم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تبدیلی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ہماری عملی قوت تبدیلی کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کردے گی۔ بظاہر تو یہ سوچ ایک ولولہ تازہ کو میدان عمل میں حرکت دیتی ہے لیکن جب نتائج معکوس ہوں اور جمود برقرار رہے تو ایک نئی مایوسی، نئی بے چینی اور نئی خرابی کا نیا راستہ کھلتا ہے۔ یہ ایک عمرانی اور فطری حقیقت ہے۔ فضول مباحث اور الفاظ کا الٹ پھیر ذرا دیر کے لیے تو ایک تسلی بخش ماحول پیدا کرتا ہے
مزید پڑھیے


کیسی بازی؟ یہ موت کی بازی

اتوار 30 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
سب آسانیاں اور سب مفادات تو عوام کے لئے ہوتے ہیں حکومت ان آسانیوں کو فراہم کرنے کا بندوبست کرتی ہے اور حکومت کے تمام کارندے عوام کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ ان خدمت گزاروں کو مراعات اسی لئے مہیا کی جاتی ہیں کہ وہ عوام کے مفادات کا تحفظ کریں دور جدید میں دنیا بہت سے سیاسی اور معاشی نظاموں کی پابند ہے۔ ہر نظام کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کی بہتری اور فلاح کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔وطن عزیز پاکستان مختلف ادوار میں مختلف نظاموں کے نفاذ اور ترویج کی تجربہ گاہ رہا ہے اور اس تجرباتی سفر
مزید پڑھیے


آستاں ہے یہ کس شاہ ذیشان کا!مرحبا،مرحبا

هفته 22 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
بندہ صحرائی کیا کرتا ہے؟ مرد کہستانی کا زور قوت کیا ہے؟ خیال ہے۔ یقین ہے یا اہل تجربہ کا تبصرہ ہے۔ سب خام ہے اور بغیر یقین کے توخام بھی بے سود ہے اور بے قیمت ہے۔ بندۂ حق ہے جو فطرت کے سفر میں فطرت کی طے کردہ منزل کی جانب گام در گام یوں بڑھتا ہے جیسے کسی نے ہرآن ایسی دستگیری کی ہے کہ کسی مقام پر ٹھوکر نہ لگے۔ یہ خیال و واہمہ تو ہرگز ہو ہی نہیں سکتا۔ خدائی وعدہ ہے کہ ایمان کی حفاظت میں، مقصد حیات کی تکمیل میں، کردار کی تعمیر میں اور
مزید پڑھیے