BN

جسٹس نذیر غازی



اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی


قوموں کے رویوں میں مستقل تبدیلی کے لئے اذھان کی تبدیلی ضروری ہے۔ اذھان کی تبدیلی تعلیم سے ہوتی ہے اور دلوں کی تبدیلی تربیت سے ہوتی ہے ایک مسلسل وقت درکار ہوتا ہے تب جا کر کہیں کچھ روشنی کے آثار امید دلاتے ہیں کہ اب تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ کبھی ممکن ہے کہ مردہ خانے کے باہر زندہ وجود کھڑے کرنے کے بعد توقع کر لی جائے کہ ہم نے مردہ خانوںمیں بھی زندگی کی روح پھونک دی ہے۔ بنجر زمین پر مصنوعی خوشنما پھول بوٹے سجا کر گیاکوئی عقل مند اعلان کر سکتا ہے کہ اس
جمعرات 13 دسمبر 2018ء

دیکھتے رہیے‘ سوچتے رہیے

هفته 08 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہر دورِ حکومت میں متعلقہ ارباب بست و کشاد تعلیم پر بہت زور دیتے ہیں۔ ضرورت بھی بہت ہے کہ کوئی عاقل و دانا حکمران غفلت نہ برتے۔ غافل و دانا حکمران کوشش کرتے ہیں کہ ان کے مشیر تعلیم اپنے میدان کے ماہر ہوں۔ اور پھر بہت سے ماہرین اپنی خدمات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں بسا اوقات یہ جدوجہد میں بدلتی کوششیں سرخ فیتے کی نذر ہو کر بے سانس اور بے آس ہو جاتی ہیں۔ وزارت اور مشاورت کی کلاہ بلند تو انہیں نصیب ہوتی ہے جو کسی سیاسی گروہ کا حمایت یافتہ ہو یا
مزید پڑھیے


کس نے آ وازِ اذاں روکی ہے؟

هفته 01 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پوری قوت اور مکمل ارادے کے ساتھ وہ لوگ مصروف عمل ہیں جو چاہتے ہیں کہ فساد بھڑکے، حالات کشیدہ ہوں اور ایک عوامی تحریک چلے، نتائج کچھ بھی ہوں۔ موجودہ حکومت حق حکمرانی کا جواز کھو بیٹھے اور ان کے ارادوں کوفتح نصیب ہو۔ کسی بھی دور میں حالات خراب ہونے کے مواقع بہرحال موجود رہتے ہیں۔ دانا وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے جذبات کو، سوچ کو متوازن رکھے۔ نیب میں پورا اخلاص موجود ہو۔ زبان کا استعمال بے محل نہ کرے۔ ہر مشورے پر پوری طرح سے غور کرے۔ بار بار غور کرے۔ عارضی سیاسی مصالح کو اپنی
مزید پڑھیے


ہاں رہبرانِ قوم یہ تمہاری ادائیں ہیں

منگل 27 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
مشورہ تو بہرحال امانت ہے اور ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کا جوابدہ ہے۔ یہ دو سادہ سے اصول ہیں۔ یہ اصول معاشرے کی چھوٹی اکائی سے لے کر ارباب اقتدار تک کے لیے مستقل راہ نما ہیں۔ درست مشورے اور اپنی ذمہ داری کا احساس ہماری سوچ اور عمل کو از خود پابند کر دیتے ہیں۔ ملک کی جدید و تازہ صورتحال یہ ہے کہ عوام اور حکومت معاشی و انتظامی بحران سے نکلنے کے لیے سرگرم جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔ مزاحمت بہت شدید ہے۔ ہر طرز کی مزاحمت‘ ہر محاذ پر
مزید پڑھیے


آج میلاد النبی ؐ ہے کیا سہانا نور ہے

بدھ 21 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہدایت درکار ہے ہر لمحہ اور ہر جگہ پر انسان کو اور ہدایت کی ضرورت سے انکار کرنا گویا فطرت کی بنیادی اقدار کا منہ چڑانا ہے۔ روز اول ہی سے انسان اور انسانی معاشرے کی مصلحین اسی ہدایت کی شفاف روشنی کی تلاش میں ہیں۔ عقل ناقص کو چراغ راہ کرتے ہیں اور کبھی جذبات کی قوت کو اپنی منزل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عقل و جذبات کے توازن کے لیے اس انسان ضعیف البنیان کے لیے کوئی مستحکم ترازو ہے اور نہ ہی کوئی معتدل معیار طبیعت ہے، اسی بے بنیاد وجود اور لڑکھڑاتے فکر کے ساتھ
مزید پڑھیے




روک کے رکھ اپنی زباں نشۂ سلطانی میں

جمعه 16 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہر جگہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے اور اگر احتیاط کا دامن کوئی بھی ذمہ دار چھوڑ دے تو حالات بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ روزانہ کی بنیاد پر فطرت کا خاموش احتساب تو بہرحال جاری ہے لیکن ہمارے ظاہری دشمن اور ہمارے دوست نما دشمن اپنی ہنر مندی سے پوری قوم کا راستہ کھوٹا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم پاکستان میں بسنے والے مسلمان اپنی زندگانی کی جملہ ترجیحات میں اہم ترین ترجیح اپنے ایمان اور عقیدے کے تحفظ کو قرار دیتے ہیں۔ طے شدہ اور سب سے مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ یہ وطن
مزید پڑھیے


خدا دیکھ رہا ہے

جمعه 09 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ان احتجاجی مظاہروں میں شریک صاحبان شعور بھی تھے، اہل علم و تجربہ بھی تھے اور جذبات کا شکار وہ نوجوان بھی تھے جو اپنی جان ہتھیلی پر دھرے تحفظ ایمان کے قانون پر نچھاور ہونے کے لیے برسر میدان تھے۔ اس احتجاج میں فرزانہ و دیوانہ دونوں طرح ہی کے افراد شریک تھے۔ کچھ وہ تھے جو دلیل سے بات کر رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو جذب و جنون میں ڈوبے اپنے ذوق کی آبیاری کے لیے احتیاط کی نعمت سے ہٹے ہوئے مجذوبانہ الفاظ استعمال کر رہے تھے۔ صورتحال بڑی واضح تھی کہ پوری امت
مزید پڑھیے


خدا دیکھ رہا ہے

جمعرات 08 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
حواس باختہ گروہ ہے جو انسانیت کی شرمندگی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ملت اسلامیہ کے آزار کا سبب بنا ہے اور اس کی مستقل کارستانیاں پاکستان کے استحکام پر آری چلانے میں مشغول ہیں۔ حکومت وقت کو قرار آ جائے تو تب ان دین بیزار لبرل گروہوں سے وابستہ عقل مار بے چینی کا کوئی دروازہ کھولنے پر آمادہ کار رہتے ہیں اور اگر کسی بھی سبب سے حکومت وقت انتشار کی رسی سے بندھ جائے تو یہ کرائے کے دانش مار ملک و ملت کے لیے ایک ناسور بن کر قومی سلامتی سے یوں کھیلتے ہیں گویا بندر
مزید پڑھیے


اب ہوش کے ناخن لو‘ ایمان ہے خطرے میں

جمعرات 18 اکتوبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ایک بڑا اور وسیع دائرہ فکر ہے جس میں انسانوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں علم ہے‘ خیالات ہیں اور جذبات ہیں اور جو شخص انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنے پر ذمہ داری محسوس کرتا ہے تو اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ ذمہ داری کے تقاضوں کا پوری طرح علم رکھتا ہو۔ انسانی خیالات کی نزاکت بھی اس کے آئینہ فکر میں منعکس ہونا ضروری ہے اور جذبات دل‘ جذبات ایمان کی حساسیت سے بہت زیادہ واقف ہونا ضروری ہے۔ ہمارے حکمران ہیں اور ان کے اردگرد مصاحبین اور درباریوں کا جھنڈ ہے۔ قرب
مزید پڑھیے


انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
گرمی ٔتماشہ کے خوگر اپنی عادت کو پوری قوم میں منتقل کرنے کی ضد کر رہے ہیں۔ چاند کھیلن کو مانگ رہے تھے کہ حالات کے ڈھلتے سورج کی زد میں آ گئے۔ سندھ‘ پنجاب میں ذرا بڑے اور روایتی تماشہ گروں نے اتنے دلفریب اور پر فریب لباس پہنے ہوئے ہیں جن کی قیمت اور افادیت کے بارے میں سادہ عوام کبھی بھی نہیں جان سکیں گے۔ خاندانی وراثت میں سیاست اور محکوم عوام بھی ورثہ خاص قرار پائے ہر جگہ اور ہر معاشرے میں ایسی بدبختی کے آثار بہرحال موجود رہتے ہیں۔ یورپ میں ایسا نظر نہیں آتا ‘
مزید پڑھیے