BN

جسٹس نذیر غازی



ہر ادا پہ ایک ماتم چاہئے


ایک روز کسی دانشور نے جگرسوزی سے ایک درد مندانہ تحریری بھیجی ہے کہ ایک سناٹے دار موضوع پر توجہ فرمائیے۔ موضوع پر غور کیا تو واقعی احساس کو بھی سناٹا آ گیا۔ ہم بولتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ تبصرے کرتے ہیں اور پھر موضوع کو ترک کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں یا پھر کچھ وقت کے لئے تلملاتے ہیں‘ موضوع یہ ہے کہ اس ملک کے اشرافیہ اپنے بھاری بھاری حرموں کے ارتکاب کے باوجود بھی قابل احترام رہتے ہیں۔ عزت کی کلغی ان کی پیدائشی صفت اور وراثتی اثاثے کی طرح سمجھی جاتی ہے یہ اشرافیہ نجانے کس شرافت
اتوار 13 جنوری 2019ء

ترا یہ دعویٰ غلط ہے ساقی

هفته 05 جنوری 2019ء
جسٹس نذیر غازی
نظام کو بدلنے کے لیے شر اور خیر کی قوتیں مسلسل متصادم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تبدیلی کا دعویٰ رکھتے ہیں اور ہماری عملی قوت تبدیلی کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کردے گی۔ بظاہر تو یہ سوچ ایک ولولہ تازہ کو میدان عمل میں حرکت دیتی ہے لیکن جب نتائج معکوس ہوں اور جمود برقرار رہے تو ایک نئی مایوسی، نئی بے چینی اور نئی خرابی کا نیا راستہ کھلتا ہے۔ یہ ایک عمرانی اور فطری حقیقت ہے۔ فضول مباحث اور الفاظ کا الٹ پھیر ذرا دیر کے لیے تو ایک تسلی بخش ماحول پیدا کرتا ہے
مزید پڑھیے


کیسی بازی؟ یہ موت کی بازی

اتوار 30 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
سب آسانیاں اور سب مفادات تو عوام کے لئے ہوتے ہیں حکومت ان آسانیوں کو فراہم کرنے کا بندوبست کرتی ہے اور حکومت کے تمام کارندے عوام کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ ان خدمت گزاروں کو مراعات اسی لئے مہیا کی جاتی ہیں کہ وہ عوام کے مفادات کا تحفظ کریں دور جدید میں دنیا بہت سے سیاسی اور معاشی نظاموں کی پابند ہے۔ ہر نظام کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کی بہتری اور فلاح کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔وطن عزیز پاکستان مختلف ادوار میں مختلف نظاموں کے نفاذ اور ترویج کی تجربہ گاہ رہا ہے اور اس تجرباتی سفر
مزید پڑھیے


آستاں ہے یہ کس شاہ ذیشان کا!مرحبا،مرحبا

هفته 22 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
بندہ صحرائی کیا کرتا ہے؟ مرد کہستانی کا زور قوت کیا ہے؟ خیال ہے۔ یقین ہے یا اہل تجربہ کا تبصرہ ہے۔ سب خام ہے اور بغیر یقین کے توخام بھی بے سود ہے اور بے قیمت ہے۔ بندۂ حق ہے جو فطرت کے سفر میں فطرت کی طے کردہ منزل کی جانب گام در گام یوں بڑھتا ہے جیسے کسی نے ہرآن ایسی دستگیری کی ہے کہ کسی مقام پر ٹھوکر نہ لگے۔ یہ خیال و واہمہ تو ہرگز ہو ہی نہیں سکتا۔ خدائی وعدہ ہے کہ ایمان کی حفاظت میں، مقصد حیات کی تکمیل میں، کردار کی تعمیر میں اور
مزید پڑھیے


اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قوموں کے رویوں میں مستقل تبدیلی کے لئے اذھان کی تبدیلی ضروری ہے۔ اذھان کی تبدیلی تعلیم سے ہوتی ہے اور دلوں کی تبدیلی تربیت سے ہوتی ہے ایک مسلسل وقت درکار ہوتا ہے تب جا کر کہیں کچھ روشنی کے آثار امید دلاتے ہیں کہ اب تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ کبھی ممکن ہے کہ مردہ خانے کے باہر زندہ وجود کھڑے کرنے کے بعد توقع کر لی جائے کہ ہم نے مردہ خانوںمیں بھی زندگی کی روح پھونک دی ہے۔ بنجر زمین پر مصنوعی خوشنما پھول بوٹے سجا کر گیاکوئی عقل مند اعلان کر سکتا ہے کہ اس
مزید پڑھیے




دیکھتے رہیے‘ سوچتے رہیے

هفته 08 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہر دورِ حکومت میں متعلقہ ارباب بست و کشاد تعلیم پر بہت زور دیتے ہیں۔ ضرورت بھی بہت ہے کہ کوئی عاقل و دانا حکمران غفلت نہ برتے۔ غافل و دانا حکمران کوشش کرتے ہیں کہ ان کے مشیر تعلیم اپنے میدان کے ماہر ہوں۔ اور پھر بہت سے ماہرین اپنی خدمات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں بسا اوقات یہ جدوجہد میں بدلتی کوششیں سرخ فیتے کی نذر ہو کر بے سانس اور بے آس ہو جاتی ہیں۔ وزارت اور مشاورت کی کلاہ بلند تو انہیں نصیب ہوتی ہے جو کسی سیاسی گروہ کا حمایت یافتہ ہو یا
مزید پڑھیے


کس نے آ وازِ اذاں روکی ہے؟

هفته 01 دسمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پوری قوت اور مکمل ارادے کے ساتھ وہ لوگ مصروف عمل ہیں جو چاہتے ہیں کہ فساد بھڑکے، حالات کشیدہ ہوں اور ایک عوامی تحریک چلے، نتائج کچھ بھی ہوں۔ موجودہ حکومت حق حکمرانی کا جواز کھو بیٹھے اور ان کے ارادوں کوفتح نصیب ہو۔ کسی بھی دور میں حالات خراب ہونے کے مواقع بہرحال موجود رہتے ہیں۔ دانا وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے جذبات کو، سوچ کو متوازن رکھے۔ نیب میں پورا اخلاص موجود ہو۔ زبان کا استعمال بے محل نہ کرے۔ ہر مشورے پر پوری طرح سے غور کرے۔ بار بار غور کرے۔ عارضی سیاسی مصالح کو اپنی
مزید پڑھیے


ہاں رہبرانِ قوم یہ تمہاری ادائیں ہیں

منگل 27 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
مشورہ تو بہرحال امانت ہے اور ہر شخص اپنی ذمہ داریوں کا جوابدہ ہے۔ یہ دو سادہ سے اصول ہیں۔ یہ اصول معاشرے کی چھوٹی اکائی سے لے کر ارباب اقتدار تک کے لیے مستقل راہ نما ہیں۔ درست مشورے اور اپنی ذمہ داری کا احساس ہماری سوچ اور عمل کو از خود پابند کر دیتے ہیں۔ ملک کی جدید و تازہ صورتحال یہ ہے کہ عوام اور حکومت معاشی و انتظامی بحران سے نکلنے کے لیے سرگرم جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔ مزاحمت بہت شدید ہے۔ ہر طرز کی مزاحمت‘ ہر محاذ پر
مزید پڑھیے


آج میلاد النبی ؐ ہے کیا سہانا نور ہے

بدھ 21 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہدایت درکار ہے ہر لمحہ اور ہر جگہ پر انسان کو اور ہدایت کی ضرورت سے انکار کرنا گویا فطرت کی بنیادی اقدار کا منہ چڑانا ہے۔ روز اول ہی سے انسان اور انسانی معاشرے کی مصلحین اسی ہدایت کی شفاف روشنی کی تلاش میں ہیں۔ عقل ناقص کو چراغ راہ کرتے ہیں اور کبھی جذبات کی قوت کو اپنی منزل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عقل و جذبات کے توازن کے لیے اس انسان ضعیف البنیان کے لیے کوئی مستحکم ترازو ہے اور نہ ہی کوئی معتدل معیار طبیعت ہے، اسی بے بنیاد وجود اور لڑکھڑاتے فکر کے ساتھ
مزید پڑھیے


روک کے رکھ اپنی زباں نشۂ سلطانی میں

جمعه 16 نومبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ہر جگہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے اور اگر احتیاط کا دامن کوئی بھی ذمہ دار چھوڑ دے تو حالات بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ روزانہ کی بنیاد پر فطرت کا خاموش احتساب تو بہرحال جاری ہے لیکن ہمارے ظاہری دشمن اور ہمارے دوست نما دشمن اپنی ہنر مندی سے پوری قوم کا راستہ کھوٹا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم پاکستان میں بسنے والے مسلمان اپنی زندگانی کی جملہ ترجیحات میں اہم ترین ترجیح اپنے ایمان اور عقیدے کے تحفظ کو قرار دیتے ہیں۔ طے شدہ اور سب سے مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ یہ وطن
مزید پڑھیے