BN

جسٹس نذیر غازی



میاں جی کی باتیں یاد رہیں گی


ایک فطرت ہے کہ بچہ ہمیشہ ہی اپنی پناہ اپنے والدین کو سمجھتا ہے اور اس کی شخصیت پر اس کے والدین کے کردار اور ان کی تربیت کے اثرات اتنے انمٹ اور گہرے ہوتے ہیں کہ زمانے کے لاکھ تاثر بچے کو اپنی جانب مائل کریں لیکن کردار میں ودیعت کی ہوئی والدین کی تربیت ہمیشہ ہی جھلکتی ہے۔ سوچ، انداز، کلام، غم و خوشی میں اظہار سب ہی تو والدین کی تربیت کا پتہ دیتے ہیں۔ ازخود ان سے وابستگی کو بچہ خود بھی چاہتے ہوئے فراموش نہیں کرسکتا۔ نظام کائنات میں انسان کا وجود اور اس وجود کا تسلسل
هفته 06 اکتوبر 2018ء

ہر دور کے فرعون کو ذلت ہی ملی

اتوار 30  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قرار کسے آئے‘ وہ بے چارے جن کا کاروبار حیات اور سیاست کا دھندہ پیرائے مال سے جواں رہتا ہے۔ دل مضطر کو سر بازار لئے ہوئے ہیں کہ کوئی خرید لے نہ سلیقے کا تاجر میسر آ رہا ہے اور نہ ہی کوئی خیریت معلوم کرنے والا مزاج پرسی کی رسم دلبری ادا کرتا نظر آتا ہے۔ اب شیخ سیاست اوزار سازش کندھے پر لٹکائے کوچہ حسرت میں کھڑے بے دست و پا نظر آتے ہیں۔ کتنے ہی جفادری میں جو شرافت و عصمت کا بھیس بدلے اس قوم کے سادہ لوح شہریوں کو ہر موڑ پر چکمہ دینے کا برا
مزید پڑھیے


مجھ سے میرا حسینؓہے…میں ہوں حسینؓ سے

منگل 18  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
درد‘ دیوانگی ‘ کم علمی‘ جہالت‘ ان چار عناصر میں کیسے فرق کریں کہ خبر ہو جائے کہ مریض ہے یا ہٹ دھرم‘ خیر ہٹ دھرمی بھی تو ایک مرض بذذوقی کا دوسرا نام ہے۔ ایک کہاوت ادب میں معاشرت کو سنوارتی اور بیدار کرتی آئی ہے کہ راج ہٹ‘ بال ہٹ اور تریاہٹ بری ہوتی ہیں کہ اگرراجہ کو ضد ہو جائے تو وہ بستیاں اجاڑنے کو دل کا چین سمجھتا ہے اور اگر بچے ضد پر اتر آئے تو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر میا بابا کو جھکا لیتا ہے پھر عورت اپنی ضد کو پالے تو پورا گھر کا
مزید پڑھیے


اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقت دعا ہے

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پوری توجہ اور نہایت ایمانی ذوق کا تقاضا ہے کہ ملت کے اجتماعی دینی مسائل میں ملت کے تمام طبقات کے خیالات اور ان کی ہر طرز کی جدوجہد کو پیش نظر رکھا جائے۔ عالم اسلام کو جن بدترین مسائل کا سامنا ہے‘ ان میں ایک اہم مسئلہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ناموس مبارک کا تحفظ ہے۔ اور ناموس اقدس پر حملہ آور مغربی قوتیں اور ان کے زیر حمایت نام نہاد مسلمان جو دراصل منافقین خالص ہیں، اپنی پوری ابلیسی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ اہل اسلام کے ذرائع ابلاغ اور سفارتی محاذ بہت حد تک کمزور ہیں اس کے
مزید پڑھیے


یا رسول اللہ ﷺ،بدن میں ہے جاں تمہارے لیے

جمعرات 06  ستمبر 2018ء
جسٹس نذیر غازی
بہت سے مسائل ہیں‘ جو قوم کو بطور قوم درپیش رہتے ہیں۔ ہر قوم کا اجتماعی مزاج ان مسائل کی ترجیح کو طے کرتا ہے۔ مغرب اور مشرق میں ایک واضح فرق ہے کہ ان دونوں خطوں کی ثقافت میں اختلاف کے باعث مسائل کی ترجیحات میں بھی واضح فرق نظر آتا ہے۔ لیکن پوری دنیائے جدید کے اسلامی ممالک میں مسائل کی فہرست میں اولین مسئلہ ان کے مذہبی امتیاز کا تحفظ اور بقا ہے۔ اسلامی دنیا کے ہر دور میں ان کے دین کا امتیازی عقیدہ توحید و رسالت دیگر اقوام اور دیگر مقامی ثقافتوں سے ممتاز رہا ہے
مزید پڑھیے




قبر میں باپ کی روح کو تڑپایا ہے

هفته 11  اگست 2018ء
جسٹس نذیر غازی
جرأت بڑھتی جا رہی ہے، ان لوگوں کی جنہوں نے اپنی نیت اور ارادے میں پاکستان کو تباہ کرنے کا ایک مستقل پروگرام بنایا ہوا ہے۔ وہ پاکستان کی ہر حیثیت کو اتنا زیادہ متنازعہ بنانا چاہتے ہیں کہ لوگ پاکستان کے نام کو برداشت نہ کرسکیں۔ وہ اپنی شریرانہ نیت میں پاک وطن کا ایک ایسا تصور بٹھائے ہوتے ہیں جس تصور سے لوگ بیزار ہو جائیں۔ دشمنان وطن دور جدید کے وہ باکمال منافق ہیں جنہیں دیکھ کر منافقت بھی اپنی تعریف بھول جائے۔ ان دشمنان نے داخلی محاذ پر ایسے مہرے تلاش کئے ہیں جو چور بھی
مزید پڑھیے


اک نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے

هفته 04  اگست 2018ء
جسٹس نذیر غازی
روزانہ انتظار کرتے ہیں کہ عوام کے لیے آج اچھا دن آتا ہے۔ کوئی راہبر آئے گا اور وہ بگڑے ہوئے حالات کو سدھارے گا۔ الیکشن میں ان کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے کہ تبدیلی آئے گی اور قسمت کا ستارہ چمکے گا۔ الیکشن ہو جاتے ہیں۔ ستارہ تو کیا چمکے، کوئی نحوست کی گھڑیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ چوروں کو نئے شکار کی تلاش میں ایسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کہ اگر ادھر کا جہاں ادھر ہو جائے تو یہ چور، ڈاکو سارے نظام کوتلپٹ کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ایک پرانے دور کی بات ہے کہ
مزید پڑھیے


اس دیس پر مولا کا کرم ہو کے رہے گا

بدھ 01  اگست 2018ء
جسٹس نذیر غازی
الیکشن ہو گیا روایتی تنائو اور پھر تقاضا ہائے انتخابی روایت کا سامنا بھی ہوا۔مقامی اور قومی سطح پر شکایات کا اظہار بھی قولی اور تحریری طور پر جاری ہے البتہ ایک واضح تغیر جوماقبل از انتخابات نظر آتا تھا وہ وقوع پذیر ہوا۔ قومی سطح کے مشترکہ مسائل پانی‘ صحت ‘ امن و امان اور حکمران طبقے کی مراعات یافتہ زندگی ہمیشہ ہی شکایات کا باعث بنے ہیں۔10سال سے مسلسل اور 35سال سے وقفہ وقفہ سے حکمران جماعت کی شکایات کا ایک خاموش ردعمل بالآخر تبدیلی کی صورت میں رونما ہو۔ عوامی تجزیے میں عموماً لوگ نئی اور پرانی سیاسی
مزید پڑھیے


نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

هفته 28 جولائی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ایک اندازہ تھا، غلط ثابت ہوا۔ چوک میں دعوئوں کی دھجیاں اڑیں اور تکبر کی کشتی بے کنارہ ہو کر ڈوبی مگر بے اطمینان اور نادار طبیعت کو سکون کہاں، اب نئی گہما گہمی اور پرانے مکر کے سوداگروں کی خدمات پر نئی بولیاں دینے کو تیار۔ مان کیوں نہیں لیتے کہ ہم ابلیس کے گرائونڈ میں قوم ملک، سلطنت کو گیند، بلا، ہاکی بنا کر کھیل رہے تھے۔ ہم کبھی حلیف اور کبھی حریف بن کر سوانگ رچاتے تھے۔ سوانگ رچاتے رچاتے اتنے بائولے ہو گئے تھے کہ ہم کو لات مارنے کی عادت نے اپنا اسیر بنا لیا تھا۔
مزید پڑھیے


بے مطلب کی باتیں تیری ‘بے مقصد کی ذات

اتوار 22 جولائی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قومیں حالت جنگ میں حوصلوں کے سہارے سربلند ہوتی ہیں اور وقت کی ڈوری کو اپنے دست توانا میں مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں ہم بہرحال زندہ قوم ہیں‘ پائندہ قوم ہیں۔ قوم ‘ ملک‘ سلطنت کا حقیقی اثاثہ تو وہ عوام ہیں جوہر نازک موڑ پر اپنا سرمایہ حیات وطن پر نچھاور کرتے اور ہر سچی بات کو پسند کرتے ہیں صداقت کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ کار رہتے ہیں اگر کوئی مدعی خیانت کا ارتکاب کرے تو وہ نالاں ہو جاتے ہیں۔ اپنی ہمت اور زور کو تبدیلی کے لیے آزماتے ہیں یہی انداز ایثار ان کو
مزید پڑھیے